چیف جسٹس نے فریادی کہا تھا تو قائم رہنا چاہیے تھا : نواز شریف
30 مارچ 2018 (12:17) 2018-03-30

اسلام آباد:سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہاہے کہ ایک بات جانتا ہوں کہ سابق فوجی جنرل پرویز مشرف کا ٹرائل منطقی انجام کو پہنچے گا، اگر چیف جسٹس نے فریادی والی بات کی تھی تو انہیں اس پر قائم رہنا چاہیے تھا ، فریادی جیسے الفاظ چیف جسٹس یا کسی کو زیب نہیں دیتے، یہ انسانیت کی توہین ہے،اثاثے اثاثے کر رہے ہیں، کرپشن کا الزام لگایا ہے وہ ثابت کریں، حسن اور حسین نواز کبھی وزیراعظم رہے اور نہ ہی وزرا، تمام کیس صرف ہمارے فیملی کاروبار کے ارد گرد گھوم رہا ہے، نیب کے اسٹار گواہ وا جد ضیا نے تمام الزامات کی خود تردید کردی۔


احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کے دوران نواز شریف نے کہا کہ صرف حقیقت کی بات کر رہا ہوں احتساب سب کا ہو گا اور ہر صورت ہو گا، اب وقت وہ نہیں رہا اور حالات بھی وہ نہیں رہے، پرویز مشرف بیشک پیش نہ ہو مفرور رہے لیکن ایک دن آئے گا کہ انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔پرویز مشرف کے خلاف کیس کے بنچ ٹوٹنے کے سوال پر نواز شریف نے کہا کہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔


میاں نواز شریف کا کہنا کہ اگر چیف جسٹس نے فریادی والی بات کی تھی تو انہیں اس پر قائم رہنا چاہیے تھا ، فریادی جیسے الفاظ چیف جسٹس یا کسی کو زیب نہیں دیتے۔ چیف جسٹس کی جانب سے یہ بھی کہنا کہ وہ میرے پاس آئے تھے یہ بھی زیب نہیں دیتا، یہ انسانیت کی توہین ہے۔کیس تو1962 سے چل رہا ہے جب میں اسکول میں پڑھتا تھا ، اگر کسی جگہ کرپشن یا بد عنوانی سامنے آئی تو وہ پیش کیوں نہیں کررہے، اثاثے اثاثے کر رہے ہیں، کرپشن کا الزام لگایا ہے وہ ثابت کریں، حسن اور حسین نواز کبھی وزیراعظم رہے اور نہ ہی وزرا، مجھے آج تک نیب کا کوئی ایسا ریفرنس بتائیں جس میں کرپشن کا الزام نہ ہو اورپھر میرے والے ریفرنس کو دیکھ لیں اس میں کہاں کرپشن کا الزام ہے، تمام کیس صرف ہمارے فیملی کاروبار کے ارد گرد گھوم رہا ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ نیب کے اسٹار گواہ وا جد ضیا نے تمام الزامات کی خود تردید کردی، سزا دینا مقصود ہے تو میرا نام این ایل سی،ای او بی آئی، رینٹل پاور کیسز میں ڈال کر خواہش پوری کرلیں، میڈیا رپورٹ کررہا ہے کہ اس کیس میں کچھ نہیں، اسی طرح ہی یہ سارا ڈرامہ منطقی انجام تک پہنچ سکتا ہے۔


ای پیپر