”سَتر سَال کم تو نہیں ہوتے “
30 مارچ 2018

میرا پچھلا کالم پڑھ کر میری چھوٹی بہن کا ایسا غصّے سے بھر پُور فون آیا، کہ مُجھے لگا شاید اب تک ہم سب غلط فہمی کا شکار رہے، دَر اصل میں چھوٹا ہُوں، اور وہ مجھ سے بڑی ہیں۔ ایسا مجھے اِس لیے محسوس ہوا۔ کہ وہ بات بہت بڑی کر رہی تھیں۔ لگتا تھا کہ یہ مُدت سے غصے میں بھری بیٹھی ہیں، اور غصہ نکالنے کا موقع اُنہیں پہلی دفعہ ملا ہے، اسی لئے پھٹ پڑی ہیں، وہ کہتی جا رہی تھیں، اور میں چپ چاپ ہاں میں ہاں مِلا رہا تھا، بہر حال اُنکا کہنا یہ تھا کہ ہم صرف کہنے کی حَد تک قائد اعظم ؒ کو بابائے قوم کہتے ہیں، مگر ہم ایسی ناخلف اور نافرماں بردار قوم ہیں کہ باپ کے کِسی فرمان پر عمل نہیں کرتے، میں نے پُوچھا کہ کِس بات پر نافرمان برداری کی ہے؟ کہنے لگیں کہ پاکستان کے دارالخلافے کو کراچی سے راولپنڈی لے جانا نافرمانی نہیں تھی؟ ویسے تو ہر اخبار کی پیشانی پہ فرمانِ قائد لکھے ہوتے ہیں، مگر نہ تو حکمران اس فرمان پہ عمل کرتے ہیں اور نہ ہی عوام۔
ہم ایک غریب ملک کے باسی ہیں ، ذرا آپ تصور کریں کہ پورے ملک کے اِداروں کو کراچی سے منتقل کرنے پر کتنے اخراجات اُٹھے ہونگے؟ میں نے باتوں کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ اب دوبارہ سب دفاتر اور ان کی بلند و بالا عمارتوں کو کراچی منتقل کرنا بھی تو نا ممکن ہے کیوں کہ ہم ستر سال بعد بھی تو غریب کے غریب ہی تو ہیں۔ اور میں اللہ سے دعائیں مانگتا رہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے ایسا علم عطا فرما جو میری بہن کے غم کی شدت میں کمی کر سکے۔
ویسے میری میرے قائین کی آپس کی بات ہے کہ اگر کراچی ہی دارالحکومت ہُوتا، تو متحدہ و متفقہ کا وجود ہی نہیں ہوتا، اور مشرف دُور میں جو سینکڑوں ہزاروں اسلحے کے کنٹینر رُوزانہ کراچی پہنچتے تھے، اور جنہیں کراچی زیر ِزمین تہ خانوں اور مکانوں میں چھپایا گیا ہے، جِسے رینجرز کے جوان شب و روز کی محنت کے بعد نکالتے ہیں اِن قباحتوں اور خباثتوں سے ہمارا ملک محفوظ رہتا ۔
آزادی کے بعد ستر سالوں میں اے کاش یہ نہ ہوتا کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت قصور ، حافظ آباد فیصل آباد، اور مردان سمیت دُوسرے شہروں میں قوم لُوط میں بدل جاتی۔ اس کا آسان ترین حَل ، اور سد باب جو ترکی کے حکمران طیب اُردوان نے سوچا ہے کہ جو بھی اِس عصمت دری کے جبراً واقعات میں ملوث پایا جاتا ہے اُس کو جنسی صلاحیت سے ہی محروم کر دیا جاتا ہے۔ کیوں نہ ایسے لوگوں کو ترکی سے پشاور دَرآمد کرلینا چاہئے، وہاں آئے روز جو ان پر ظلم و ستم ہوتا ہے۔ اب تک پشاور میں 55 خواجہ سراﺅں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ ترکی کے ہیجڑے ، آنے سے اور اُن کو ”افرادی“ مَدد ملنے سے ” آفریدی “ بھی پہاڑوں سے نہیں اُتریں گے کیونکہ بقول سید مظفر شاہ اس ملک کے سینئر ترین جج
رات کی سیاہی میں
غرض کی چڑیلوں نے
شہرِ آگہی کو اک
خوف کی فضا دی ہے
لوگ کتنے سہمے ہیں
سانس تک نہیں لیتے
درد کی پکاروں پر
کان ہی نہیں دھرتے
کیونکہ اِس ملک میں سینکڑوں لوگوں کا قاتل راﺅ انوار سپریم کورٹ بھی پہنچ جاتا ہے اور راﺅ کو وی آئی پی پروٹو کول بھی دیا جاتا ہے، اور اِسی مُلک میں معصوم بچی زینب کے قاتل عمران، عمران لکھنے پہ میں معذرت خواہ ہوں، ابھی تک کروڑوں انسانوں کے دِلوں پہ مونگ دل رہا ہے، کیونکہ ہماری قوم انتہائی ماڈرن اور ”جدید ترین سہولیات “کی عادی ہے، ملالہ یوسف زئی کے مُلک میں کسی کو پھانسی دینا کیا اتنا آسان کام ہے، یہاں مجرم آزاد ہو جاتے ہیں، اور ڈپٹی کمشنر پھانسی کے پھندوں میں پھنسا دیے جاتے ہیں۔
میری طرح آپ کو بھی یاد ہو گا کہ ہم نے بڑی منتوں اور التجاﺅں سے کراچی میں سٹیل مل لگائی، اور رُوس نے اِس حوالے سے یاد گار کردار ادا کر کے سٹیل مل لگانے کا احسان کیا یہ پاکستان کی واحد حکومتی مِل اگر جنرل عبدالقیوم صاحب کے دُور میں منافعے میں جاسکتی ہے، تو اِسے ایک دفعہ پھر جنرل عبدالقیوم کے حوالے کیوں نہیں کر دیا جاتا، وہ انتہائی مخلص شخص مُحبِ وطن ، دیانت دار اور پر وقار شخص ہیں، اور اُنہیں ”مِل“ چلانے اور مِل بیٹھنے کا تجربہ بھی ہے، اور مکمل واقف حال بھی ہیں۔
مجھے شادمان سے کینٹ منتقل ہوئے تقریباً بیس سال ہونے کو ہیں، ہر مہینے منگل والے دن 9 بجے صبح سے 2:30 بجے تک بجلی بند رہتی ہے، ایک اشتہار چھپتا ہے کہ ”بجلی بند رہی گی“ تقریباً آدھے صفحے کا اشتہار ہوتا ہے ، اور آدھے لاہور کی بجلی بند رہتی ہے، بے شک بجلی کی طلب زیادہ ہوگئی ہے، مگر رَسد کو اُس کے مطابق کیوں نہیں بنایا گیا، ستر سالوں میں ہم سے یہ بھی نہیں ہوسکا، کبھی بھارت اور کبھی ایران ہمیں بجلی مہیا کرنے کی پیشکش کرتا ہے۔
پاکستان تو اللہ کے فضل سے بن گیا، مگر اِسے ” ہندو اَستھان “دِل سے تسلیم کرنے پر تیار نہیں، اور پاکستان کو زک پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، ایل اُو سی پہ آئے دن شہری آبادی پہ گولیاں چلا کر وہ ہمارے نہتے شہریوں کو خاک و خون میں غلطاں کرتا رہتا ہے۔ پاکستان میں سابقہ ہائی کمشنر جس کا نام ہی ”بمبار“ تھا، اُس کو ہر دوسرے ، تیسرے دن ہمارا دفتر خارجہ احتجاج کیلئے بلا لیتا تھا، اب اُس روش پہ موجودہ بھارتی کمشنر گامزن ہے، اِسے بھی پاکستان احتجاج کیلئے بُلاتا رہتا ہے، بہتر تو یہ ہے کہ ہمارا دفتر خارجہ اُسے اپنی وزارت میں یہی رہائش مہیا کر دے ، تا کہ وہ دلجمعی سے اپنا کام سر انجام دے سکے، مجھے اب تک یہ سمجھ نہیں آئی، جس طرح اشفاق احمد صاحب کو یہ سمجھ نہیں آئی تھی، کہ کرکٹ کھیلتے ہوئے ، اور چُوکا چھکا لگاتے ہوئے اتنی تیزی سے آئی ہوئی بال کھلاڑی کو کیسے نظر آجاتی ہے۔
مگر مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ کسی بھی مُلک کی دُوسرے مُلک سے جنگ ہو رہی ہوتی ہے، تو وہ یہ کیسے گنتی کر لیتے ہیں کہ دُشمن کے سات، آٹھ، یا دو تین فوجی ہلاک کر دیے گئے ہیں، شاید ہم نے اِس مغالطے سے بچنے کیلئے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ جوابی کارروائی کر کے دُشمن کی چوکی ہی تباہ کر دی ہے تا کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ، میجرجنرل آصف غفور ڈاکٹر ائن کی بات کرتے ہیں، کوئی اپنے نظریے کی بات پر زور دیتے ہیں، اور کچھ بیانیے پہ بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ،ناتفاقی کے اِس دور میں کچھ پانے کی بجائے ہم نے بہت کچھ کھو دیا ہے۔
مگر ہمیں اتنا ضرور پتا ہے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ جو اُسامہ ، صدام حسین ، معمر قذافی کو خفیہ اور پوشیدہ ، اور محفوظ ترین پناہ گاہوں اور خندقوں سے نکال کر پھانسی کے پھندوں تک پہنچا دیتا ہے، مگر اُسے اِس بات کا علم نہیں ہوتا، کہ دُنیا کا کوئی مُلک ایٹم بم بنا رہا ہے۔ یا ایٹمی ٹیکنالوجی کے حُصول کے لیے سر گرمِ عمل ہے۔
اِس ضمن میں اس کے فارمولے، شیطانی ذہن اور خباثت زدہ منصوبے میں محض ایک ہی چیز شامل ہوتی ہے، کہ متحارب و متصادم ملکوں کے درمیان بغض و عناد پر اپنے مفاد میں چشم پوشی اختیار کر کے ، اور دونوں ممالک کو ایٹمی طاقت بنا کر اپنا روایتی اسلحہ بیچ کر اربوں کھربوں ڈالر کمائے جائیں۔ جیسے شمالی کوریا، جنوبی کوریا، پاکستان ، بھارت ، ایران اور اُس سے پہلے عراق ، اور اب علانیہ سعودی عرب ، مگر ایران کے ساتھ خفیہ معاہدے کر کے خلیجی ریاستوں کی سلامتی اور خلیجی خطے کے تحفظ کو مشکوک بنا دیا گیا ہے، اور اگر ایسی صورت حال جاری رہی تو خلیجی ممالک مل کر جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہو جائیں گے۔ امریکہ کی سیاست کو سمجھنا اگرچہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن اس لئے نہیں کہ اُس کی سیاست اور سفارتکاری کسی اصول اور ضابطے کے تحت نہیں بلکہ اپنے مالی مفادات کے تحت ہوتی ہے۔ گزشتہ ستر سالوں میں دُنیا نے دیکھا کہ ہم پتھر اور دھات کے دُور والی سوچ کے عوام ہیں، عالمی اَمن کو تہ و بالا کر دیا گیا ہے ،” آج کی ملائلہ“ مستقبل کی پاکستان کی وزیر اعظم کی تربیت بڑے سالوں سے جاری ہے، اور اِس کا ”شاندار“ مظاہرہ مُستقبل قریب و بعید کے انتخابات میں فرشتہِ غچہ باز اور سہولت کار بڑی بیدردی سے کریں گے، وی آئی پی پروٹوکول ملالہ کو کس خوشی کی بنا پر دیا گیا جبکہ ہمارا وزیر اعظم تو امریکہ بغیر پروٹوکول کے گیا تھااُس کی داد رسی کس نے کی؟ کروڑوں عوام کی مرضی کے خلاف جو تیل کی قیمتیں بڑھواتے ہیں، دوائیوں کی قیمتوں سمیت سبزی ، مرغی، گھی آٹا اور دالوں ، اور ٹماٹر اور سیب کی قیمت ایک جیسی کر دیتے ہیں۔
خیر چھوڑیں اِس بات کو ستر سال کے بعد اگر اشرف غنی ہمیں مذاکرات کی دعوت ، جسے وہ ” دعوت گناہ “ سمجھتا تھا، دے دے تو ہم خوشی سے بغلیں بجانا شروع کر دیتے ہیں! ستر سال میں خاک ترقی ہوئی ہے۔ ملالہ کے پروٹو کول پہ چیف جسٹس نے از خود نوٹس کیوں نہیںلیا؟


ای پیپر