شہر اچھے کہ بَن
30 مارچ 2018

جوں جوں کوئی شہر پھیلتا جاتا ہے اس کی عمارات ، بھیڑ ،گرد وغبار میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہی نہیں ٹریفک بھی وبالِ جان بن جاتا ہے۔ اسی لئے ہمارے پیارے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا ( کچھ یہی مفہوم ہے )کہ ” شہر حد سے زیادہ پھیل جائےں تو نئے شہر بساﺅ“۔
کیا فکر انگیز بات ہے ۔مگر ہم نے کبھی اس طرف توجہ نہیں دی اب تو بڑے شہر چاروں اور پھیل چکے ہیں ،جس سے بے پناہ مسائل جنم لے رہے ہیں ۔ ہمارے یہاں لاہور کی دھول اور ٹریفک سے نجات حاصل کرنا آسان نہیں لیکن پھر بھی موقع ملتے ہی میں فطرت کے حقیقی حسن کی تلاش میں لاہور سے نکل پڑتا ہوں۔اگرچہ ہمارے گاﺅں اور مضافات بھی زندگی کی جدید سہولیات سے آراستہ ہو چکے ہیںاور اب توگاﺅں میں بھی کچے مکانات ،کنویںکم کم ہی نظر آتے ہیں لیکن پھر بھی بعض علاقوں میں اب بھی فطرت کا جوبن دیکھا جاسکتا ہے۔مجھے وقت میسر آئے تو لاہور کی دھواں آلود فضا سے دور ہونے کی کوشش کرتا ہوں۔کبھی ویکنڈ پر بھی کسی علاقے میں جانے کا موقع مل جاتا ہے۔اس بار تو موسم بہار کی چھٹیاں بھی تھیںسو ہم نے لاہور سے اڑان بھری اور راولپنڈی،ہری پور،ہزارہ اور ایبٹ آباد کے آس پاس کے سر سبز و شاداب خطوں میں وقت گزارنے کا موقع ملا۔اسی خطے میں مرد درویش کا ایک تکیہ بھی”’ گوشہ عافیت “ کی طرح موجود ہے۔جہاں قرب وجوار کے سادہ دل، معصوم ،کھرے اور سچے افراد سے بھی ملاقات ہوتی ہے۔ان کی باتیں ، تجربات و مشاہدات اپنے اندر دانش کا ایک جہان رکھتے ہیں۔تکیہ ایک ایسی ہی جگہ ہے جہاں پہنچ کر دل کی کیفیات تبدیل ہو جاتی ہیں۔ہر طرف شادابی، انسانی احساسات کو بھی ترو تازہ کر کے رکھ دیتی ہے۔میرا دل تو ایسے ” بہاریا “ماحول میں بہت سکون محسوس کرتا ہے۔حکیم الامت علامہ محمد اقبال ؒ کی شاعری میں فطرت کے گُن بھی ملتے ہیں۔ایک غزل کے درج ذیل اشعار میں بھی فطرت کی عکاسی ملتی ہے۔مجھے اس خطے میں پہنچ کر یہ اشعار بہت یادآتے ہیں :
پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغِ چمن
پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار
اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیرہن
حسن بے پروا کو اپنی بے نقابی کے لےے
ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کہ بَن
شہروں سے دور پھولوں کے ایسے چمن اور شادابیاں بکھری پڑی ملتی ہیں۔ہری پور ہزارہ جائیں تو جگہ جگہ شادابی دکھائی دیتی ہے۔موٹروے اور سی پیک کی سڑکوں کی تعمیر سے ٹریفک کی سہولیات بھی بہتر ہورہی ہیں۔صوبہ خیبر کی حکومت کے کچھ اچھے اقدامات کی لوگ برملا تعریف بھی کرتے ہیں۔نوجوان بلال نے بتایا کہ صوبہ خیبر کے سکولوں کالجوں کی حالت بہت بہتر ہوئی ہے۔اب ہر مرض کا ماہر ڈاکٹر بروقت سرکاری ہسپتالوںمیںموجود نظر آتا ہے۔ہر شخص سرکاری پرچی کی فیس سے کسی بھی سپیشلسٹ ڈاکٹر سے علاج کرا سکتا ہے۔سکولوں میں اساتذہ کی حاضری اور پڑھائی میں بھی بہتری آئی ہے۔پولیس میں سیاسی مداخلت ختم ہو گئی ہے پھر بھی ابھی کچھ مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔پی ٹی آئی حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اساتذہ اور ڈاکٹرز حاضر تو رہتے ہیں مگر مناسب علاج کے لےے پھر بھی ان کے کلینکس پر بھی جانا پڑتا ہے۔ بعض حکومتی وزراءپر کرپشن کے الزامات بھی لگائے جاتے ہیں۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ صوبہ خیبر کے عوام ہر بار نئی سیاسی پارٹی کوموقع دیتے ہیں سو اس بار پی ٹی آئی کودوبارہ موقع ملنا دشوار ہے۔خیر یہ تو سیاسی باتیں تھی ہم تو فطرت اور بہار کو یاد کر رہے تھے۔ہمارے سامنے پھول ہی پھول تھے جن پر ہلکی ہلکی بوندا باندی پرایک خواب آور سماں معلوم ہوتا ہے۔جنوبی پنجاب سے آئے ہوئے سرفرازبلوچ نے بتایا کہ ہمارے علاقے میں تو ابھی سے شدید گرمی شروع ہوگئی ہے جبکہ یہاں تو اچھی خاصی خنکی ہے۔ہمارے ہاں تو لوگ بارش کو ترستے رہتے ہیں جس پر ایک بزرگ بولے ایک زمانے میں جب بارش نہیں ہوتی تھی تو ہم مساجد میں بچوں کو کھانا کھلایا کرتے تھے۔ یہ کوئی خیرات نہیں ہوتی تھی بلکہ سارے گاﺅں کے گھر وں سے مانگی ہوئی ہر قسم کی روٹی لسی ،اچار،چٹنی اور دال ساگ کی خوراک ہوا کرتی تھی۔بچوں کو مسجد میں بلا کر یہ کھانا کھلایا جاتا تھا۔ایسا کرنے سے شام تک بادل چھا جاتے تھے۔بعض اوقات کسی سخت مزاج خاتون یا مر د پر گھڑوں سے پانی پھینکنے کا رواج بھی تھا۔جس پر پانی پھینکا جاتاوہ غصے میں صلواتیں سنانے لگتا ۔اس طرح بھی شام تک بارش ہوا کرتی تھی۔کوئی مانے یا نہ مانے ،ہم نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھا ہے۔جس پر ایک اور آواز آئی بالکل اس میں کوئی شک نہیں ۔ہمارے علاقے میں سفید مٹی سے دیواریں لیپی جاتی تھیں اور کبھی کسی قریبی خانقاہ کے مزار کو غسل دیا جاتا ۔اس طرح برسات کے لئے دعا کی جاتی اور بارش آجاتی۔گاﺅں کی بڑی اچھی روایات ہوتی تھیں ۔گاﺅں کی مساجد میں مسافروں کے ٹھہرنے کا انتظام بھی ہوتا تھا۔باہر سے آنے والے مسافر کے لےے کھانے پینے کا بندوبست بھی نہایت خلوص سے کیا جاتا تھا۔گاﺅں کے سارے کام فصلوں کی کٹائی،گہائی سب مل جل کر ہوتے تھے۔ہر آفت مصیبت پر گاﺅں کے لوگ یکجا ہوجاتے تھے۔اب تو انہی گاﺅں میں انتخابات کے سبب لوگوں میں پھوٹ پڑی ہوئی ہے۔پارٹی بازی سے خاندانی دشمنیوں نے جنم لیا ہے۔سو اب تو دیہات میں بھی سیاست کی وبا اسی طرح پھیلی ہوئی ہے جس طرح شہروں میں ۔اب پھر الیکشن قریب ہیں اور سیاست عروج پر ہے۔ان سب باتوں کے باوجود بعض گاﺅں میں ابھی تک محبت ،ایثار،ہمدردی اور یکجہتی دیکھی جاسکتی ہے۔
اس علاقے کے دیہات کو دیکھ کر نصیر احمد ناصر کی نظم ” ہم بارانی لوگ ہیں“ یاد آجاتی ہے :
ہم بارانی لوگ ہیں
وہ نہیں جانتے
ہم اپنے اونچے نیچے کھیتوں
ڈھلمل موسموں اور جھاڑیوں بھرے قبرستانوں
کو کبھی نہیں چھوڑتے اور جڑی بوٹیوں کی طرح
فصل در فصل اگتے رہتے ہیں
وہ ہمیں تلف کرنے کے لےے
نت ،نئے سپرے چھڑکتے ہیں
ہم پھر اگ آتے ہیں
ہم پرخس و خاشاک مارنے
والے کیمیاوی زہر اثر نہیں کرتے
ہم جہاں جاتے ہیں
اپنی مٹی اور اپنی ہریالی ساتھ رکھتے ہیں


ای پیپر