اپوزیشن اور میڈیا ایکسپوز ہوئے ۔۔
30 جون 2020 2020-07-01

” پاکستان غیر معمولی اقتصادی بحران میں دھنس چکا ہے، شرح ترقی منفی، قرضے اور خسارہ بے قابو، ٹیکس اکٹھا نہیں ہورہا، ڈویلپمنٹ بجٹ میں سات سو بیس ارب روپے کی کٹوتی۔ یہ صورتحال کسی بھی ذی شعور کا ہوش اڑانے کے لئے کافی ہے۔ اس تباہی کی لہر کا رخ کون موڑے گا۔پی ٹی آئی والے تین نام دیں جو اس کا رخ موڑیں گے“۔ یہ الفاظ میرے نہیںبلکہ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے مرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال کے ہیں جو پروفیسر کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں اورحکمران جماعت کے ٹرولنگ کرنے والے انہیں دیسی ارسطو کہتے ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ پی ٹی آئی والوں کے پاس ایک بھی ایسا نام نہ ہو جو تباہی کی لہر کا رخ موڑنے کی اہلیت رکھتا ہو کیونکہ وہ اپنے ارسطو اسد عمر کو وزارت خزانہ سے ہٹا چکے اور اب خزانہ پرویز مشرف اور آصف زرداری کے دور کے خزانے کے انچارج کے پاس ہی ہے اور میرا خیال ہے کہ اگر کسی کے پاس کچھ وقت ہو اور وہ ان تینوں ادوار میں پاکستان کے لئے گئے قرضوں کی تفصیلات اکٹھی کر سکتا ہو تو وہ آسانی سے حفیظ شیخ صاحب کا نام ریکارڈ قرضے لینے والے اکلوتے شخص کے طور پر گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں لکھوا سکتا ہے۔

پاکستان واقعی غیر معمولی اقتصادی بحران میں دھنس چکا ہے جس کے اعداد و شمار کوئی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ حکومت اپنے ہی جاری کردہ اقتصادی سروے میں اعتراف کر چکی ہے کہ اس نے نواز دور کے ساٹھ مہینوں ( یعنی ایک پارلیمانی مدت) کے برابر قرض اٹھارہ سے انیس ماہ میں لے لیااور اس کے کریڈٹ پر کرتار پور راہداری کے سوا کوئی میگا پراجیکٹ بھی نہیں ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ جس جماعت کا سیکرٹری جنرل یہ سوال کر رہا ہے اس کی اپنی جماعت بجٹ کی منظوری کے وقت کہاں تھی۔ کیا یہ تباہ کن اعداد و شمار سرکاری اور اپوزیشن ارکان اسمبلی کے سامنے نہیں آئے کہ قومی اسمبلی میں دھواں دار تقریریں ہوئیں اور خوب دادیں وصول کی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جس وقت بجٹ کی شق وار منظوری جاری تھی تو اس وقت کی گئی گنتی کے مطابق اپوزیشن کے اڑتیس ارکان کم تھے جبکہ حکومت کی حمایت کرنے والوں کی تعداد میں گذشتہ برس کے مقابلے میں سترہ ارکان کا اضافہ ہوچکا تھا یعنی ایسے ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ اضافی ارکان ایوان میں موجود تھے جو حکومت کو اس کارکردگی پر شاباش دے رہے تھے۔حکومت کو یہ کامیابی اس وقت ملی جب بلوچستان کی بی این پی مینگل اس سے الگ ہوچکی ہے اور چودھری برادران ،وزیراعظم عمران خان کے عشائیے میں جانے سے صاف انکا ر کرچکے تھے ۔ بظاہر یہی نظر آ رہا تھا کہ حکومت کو بجٹ کی منظوری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یعنی بجٹ منظور ہو بھی جاتا تو گذشتہ برس کی اکثریت کم ہوجاتی مگر اس کے سو فیصد برعکس ہوا۔

میں لاہور میں سرکاری ملازمین کے اس احتجاج میں موجود تھا جس میں وہ اپنی تنخواہیں نہ بڑھانے پر رو پیٹ رہے تھے۔ میں ان سے پوچھ رہا تھا کہ جب عوامی نمائندوں کی واضح اکثریت کو بجٹ پر کوئی اعتراض نہیں تو پھر آپ عوام کو کیوں ہے کہ وہ نمائندے آپ سے زیادہ سیانے ہیں، زیادہ ملک و قوم کا درد رکھتے ہیں یا کم از کم انہوں نے منتخب ہوتے وقت اپنی تقریروں میں یہی بتایا تھا اور ہم نے ان کی بات پر یقین کیا تھا۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ پٹرول کی قیمت میں بجٹ کی منظوری سے دو روز قبل پچیس روپے کا خطیر اور تاریخی اضافہ کیا گیا ۔ کیا وہ نہیںجانتے کہ پاکستانیوں کی فی کس آمدنی بھارتیوںور بنگلہ دیشیوں سے سینکڑوں ڈالر نیچے آچکی۔ میں ارکان اسمبلی کا موازنہ اگر سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے کارکنوں سے کروں تو وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم پچیس روپے کی خاطر پچیس برس جدوجہد کرنے والے عمران خان کو چھوڑ دیں، یہ ممکن نہیں ہے، یہی وہ لوگ ہیں جو پٹرول کی قیمت میں ایک، ڈیڑھ روپے اضافے پر آسمان سر پراٹھا لیا کرتے تھے۔ یہاں سوال جناب نواز شریف سے بھی بنتا ہے جو لندن میں خاموشی سے بیٹھے تماشا دیکھ رہے ہیں اور وقت کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب ان کا داو¿ لگتا ہے اور وہ ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بننے کے لئے واپس آتے ہیں اور دوسری طرف شہباز شریف ہیں جو عین بجٹ کے موقعے پر قرنطینہ ہوئے مگر وہ بھی ارکان کی حاضری کو یقینی نہیں بنا سکے،سچ بات تویہ ہے کہ شہباز شریف نے اس عرصے میں اپنی لاچاری اوربے بسی سے اپنی اہمیت کھوئی ہے۔

بات صرف اپوزیشن کے ایکسپوز ہونے کی نہیں جو ایک پریس کانفرنس کر کے اور ایک جلوس نکال کے سرخرو ہو گئی۔ ان میں اتنی ہمت اور جرات نہیں کہ اپنے غدار ارکان اسمبلی کا پتا چلاسکیں کیونکہ ایسی کوشش پریہ خود دھر لئے جائیں گے۔ یہاں بات میڈیا کی بھی ہے جس نے خوب بے پر کی اڑائیں۔ ہمارے ایک دوست جو شہباز شریف کے خاص ہوا کرتے تھے اور ان کی پہچان ہے کہ ان کا سر بہت زیادہ چمکدار ہے۔ وہ بجٹ کی منظوری سے چند گھنٹے پہلے کہہ رہے تھے کہ کچھ روز قبل پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی کے پنجاب میں دو گروپ بنے، ایک گروپ میں پانچ اور دوسرے میں آٹھ ارکان ہیں یوں یہ تیرہ بنے اور اب ان کی تعداد اٹھارہ ہو چکی ہے۔ یہ لوگ میاں نواز شریف سے رابطے میں ہیں اور یہ سب بجٹ کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے مگر یہاں دو لطیفے ہوئے کہ ثابت ہواکہ میاں نواز شریف نے حکومتی ارکان سے کیا رابطے میں ہونا تھا وہ بے چارے تو خود اپنے ارکان سے بھی رابطے میں نہیں ہیں، بالکل اسی طرح، جیسے وہ وزیراعظم ہوتے ہوئے ارکان سے بہت فاصلے پرہوا کرتے تھے اور ایک طاقتور گروپ ان کی ملاقاتیں کروایا کرتا تھا اور اسی طرح کا ایک طاقتور گروپ مریم نواز شریف کے گرد بھی ہے جس میں ان کے دو کزن بھی شامل ہیں اور حمزہ شہباز کے ساتھ بھی۔ اللہ تعالیٰ نے ملاقاتوں کے عوض ان لوگوں کی روزی روٹی کا اہتمام کر رکھا ہے ، بہرحال، کہنا یہ تھا کہ خوبصورت چمکیلے سر والے صحافی دوست کے مطابق اٹھارہ حکومتی ارکان نے بجٹ کا بائیکاٹ کرنا تھا جن کے بارے وہ پکا منہ بنا کے کہہ رہے تھے کہ اگر کسی نے چیلنج کیا تو وہ ان کے نام بھی دے دیں گے، بالکل ایسے ہی، جیسے ایک جعلی سپیرا کہتا ہے کہ اگر کوئی قریب آیا تو وہ پٹار ی سے سانپ نکال لے گا۔ میرا خیال ہے کہ اب وہ اپوزیشن کے ان اٹھارہ ارکان کے نام دیں گے جنہوں نے حکومت کا ساتھ دیا ۔ ہمارے دوسرے دوست جن کے خوبصورت بال ہیں، اسی موقعے پر دس سے بارہ حکومتی ارکان کی بغاوت کی گواہی دے رہے تھے۔ مجھے اپنے ایک اور دوست یاد آ گئے جنہوںنے دعوے کیے تھے کہ گذشتہ برس مارچ میں عثمان بزدار اور پھر عمران خان فارغ ہو جائیں گے۔ جب ا ن سے ملاقات ہوئی اور ان کے مشہور زمانہ دعووں کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرینک انداز میں بتایا کہ انہوں نے ’ ٹیوے ‘ لگائے تھے جو پورے نہیں ہوئے اور اگر ہوجاتے تو ماضی کی طرح ان کی بلے بلے ہوجاتی۔ بات تو درست ہے کہ صحافت، صحافت کم رہ گئی ہے ،ر طوطافال زیادہ ہوگئی ہے۔

زمینی حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے اپوزیشن اور میڈیا کے’ ٹیووں‘ کی ایسی تیسی کرتے ہوئے نہ صرف نمبر گیم پوری کی بلکہ گذشتہ برس کے مقابلے میں سترہ مزید ارکان کی حمایت حاصل کر لی جس کے بارے میں جناب اسد عمر نے اپنی ٹوئیٹ میں انکشاف کیا اور بھرپور داد حاصل کی۔ کون کہتا ہے کہ پاکستان کے معاشی اعداد و شمار کے منفی ہونے پر کسی کو تشویش ہے یا یہ کوئی فکر کرنے والی بات ہے لہٰذا غیر جانبداری اور حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ حکومت کوبجٹ کی اس شاندار منظوری پر مبارکباد پیش کی جائے کہ وہ ابھی تک دو برس پرانے جولائی والے جوش اور جذبے سے محنت کر رہے ہیں۔


ای پیپر