دہشت گردیا شہید....مفلسی ہے رُوگ ایسا
30 جون 2020 2020-07-01

قارئین محترم، کیا آپ بھی میری طرح اس مخمصے اور مغالطے کے شکار ہیں، کہ صرف ہمارے ملک مملکت خداداد پاکستان، یا اسلامی جمہوری ملک میں دنیا بھر کے ممالک کی طرح جمہوریت رچی بسی ہے ۔

مگر میں خداکے حضور سربسجود ہوکر بھی کہنے کو تیار نہیں، کہ دنیا ابھی پتھر اور دھات کے زمانے میں بس رہی ہے، اسی لیے تو امریکن اور یورپین یونین کے مفکران ملک وملت یہ کہتے نہ تھکتے کہ ہم Darvintheoryکے قائل ہیں، کہ انسان پہلے لنگور، یا بندر اور بن مانس تھے، اور وقت کے ساتھ اپنی ہیت اور شکل تبدیل کرتے کرتے وہ اب انسانی شکل اختیار کر گیا ہے، مگر وہ بے وقوف ، اتنا ذہن لڑانے کی کوشش نہیں کرتے، کہ کیاوجہ ہے، کہ دنیا بھر کے جنگلوں، اور دنیا کے سرکسوں اور چڑیا گھروں میں جو یہ جانور یعنی بندر، لوگوں، اور خضوصاً بچوں کا دل بہلانے کے لیے بند ہیں، ان کو کیا تکلیف ہے کہ انہوں نے اپنی شکل تبدیل کیوں نہیں کی؟ باہر والوں واقعی ” باہر والوں، کا یہ فلسفہ لگتا ہے، ورنہ یہ تو اسلامی نقطہ نظر کے صریحاً خلاف ہے، کیونکہ ہمارے خالق ومالک، اللہ سبحانہ و تعالیٰ، اور ان کے بھیجے ہوئے راہبر کامل اور عبداکمل تو بقول سید مظفر علی شاہ یوں فرماتے ہیں،

خلعت تطہیر ہے، انعام نسل پاک کا

تاابد مینارہ نور، ساکن غار حرا!

ہم مسلمانوں کا تو ایمان ہے کہ انسانوں کے باپ اور ماں، حضرت آدمؑ اور اماں حواؓتھیں، اور اس طرح سے دنیا جس کے بارے میں قرآن پاک میں ارشاد گرامی ہے، کہ پہلے آسمان ، اور زمین کو علیحدہ کرنے کے لیے ایک زور داردھماکہ ہوا، اور اس طرح دنیا وجود میں آگئی، یہ نظریہ چودہ سوسال پرانا ہے، جس کی تصدیق اور تائید بعد میں دنیا بھر کے متفقہ طورپر سائنسدانوں نے کی، میں بات کررہا تھا، اس غلط فہمی کی، کہ دنیا میں جمہوریت کا دور دورہ ہے، دنیامیں اب بھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فارمولا نافذ ہے، اور نجانے کب تک یہ نافذ العمل رہے گا، آپ کا کیا خیال ہے، کہ پاکستان بنے پون صدی ہوگئی، مگر کیا کوئی بھی حکمران سوائے حضرت قائداعظمؒ کے کوئی خود اپنے زوربازو پہ برسراقتدار آیا ہے؟ محمد علی جناحؒ کا عرصہ حکمرانی قدرت کی طرف سے اتنا کم تھا، کہ وہ اپنی مطلوبہ اصلاحات اور احکامات کو بھی حتمی شکل نہ دے سکے، اور اس طرح ہمارے وطن ابھی تک ٹامک ٹوئیوں میں غلطاں ہیں، چونکہ میں بات کررہا تھا، کہ اسلامی نظریہ حکومت کا، اور اس یقین کا کہ جیسے اس ملک کے عوام ہوتے ہیں، ویسے ہی حکمران مسلط کردیئے جاتے ہیں، اس کی خوب صورت ترین وہ مثال ہے، کہ ہمارے بازاروں میں ریڑھیوں پہ بکتے ہوئے خوب صورت اور چمکتے ہوئے، سیب اور دیگر پھل ہوتے ہیں، اور جن کو دیکھتے ہی گاہکوں کے منہ میں پانی آنا شروع ہو جاتا ہے، اور خاص طورپر جب کیلے لے کر ہم گھر آتے ہیں، تو اس وقت تازہ نظر آنے والے پھل آدھے گلے ہوئے ہوتے ہیں، جسے رومال سے چمکا چمکا کر دوکان داروں نے سجا رکھا ہوتا ہے، اور اس طرح سے وہ اپنی منہ مانگی قیمت بھی وصول کرلیتا ہے، اور اپنا سودا بھی بیچ دیتا ہے۔

ہمارے موجودہ وزیراعظم بھی کنٹینر والے دراصل ریڑھی والے ہی تھے جنہوں نے مفلس اور غریب عوام، میں غربت کا لفظ دانستاً استعمال کررہا ہوں کہ ہمارے عوام تو خط غربت کی لکیر سے بھی انتہائی کم پر ہیں اور ہرحکمران نے ہماری اس کمزوری ، بلکہ دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھ کر، اور خصوصاً موجودہ وزیراعظم نے بائیس سال تک مسلسل، ملک میں خوبصورت ترامیم ، اور قانون کوخوشنما اور چمکدار بنانے کے لیے نہ صرف لفاظی کی، بلکہ اپنی باتوں کو چمکانے کے لیے مخالفین کو غیر اخلاقی القابات سے بھی نوازا، اور اس طرح سے وہ عوام کو جل دینے میں کامیاب رہے۔

مگر میرا مطمع نظر اس وقت اتنا بتانا ہے کہ اس تبدیلی کے پیچھے ایسے حساس ادارے ہیں، کہ ہم جیسے حساس لوگ، ان کا نام لیتے ہوئے ، مزاح حس کے سمندر میں ڈبکیاں کھاتے ہوئے محسوس کرتے ہیں ، اب اسامہ بن لادن، کو شہید کہنا یا دہشت گرد کہنے سے پہلے صرف میرے ایک سوال کا جواب دیں، کہ کیا ایک مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کو جان سے مارسکتا ہے؟ اور وہ بغیر قصورکے اس حوالے سے عمران خان کا حالیہ بیان، اور سات روپے پٹرول سستا کرنے کے بعد چالیس روپے مہنگا کردینا، کیا عمران خان نے خود کیا ہے، یقیناً ان بادشاہ گردوںنے کرایا ہے، جو ٹرمپ جیسوں کو بھی لائے تھے، کیونکہ سابق صدر اوبامہ کے دور میں بھی مفلسی چھا جانے پہ لوگ بھارت کی طرح فٹ پاتھوں پر آگئے تھے بقول شاعر نیر

مفلسی ہے، روگ ایسا، مستقل رویوں کو

کس قدر بدلتا ہے

بات اگرچہ سچی ہو، چاہے کتنی اچھی ہو

معتبر نہیں ہوتی

ہرسحر کی خنکی میں، دوپہر کی گرمی میں

شام کے دھندلکے میں رات کی سیاہی میں

ایک درد ایسا ہے ، کچھ کمی نہیں، جس میں


ای پیپر