کو کو کوری نا ں۔۔۔!جیسے گیت دے کر نوجوانوں کے دل جیت لیے
30 جون 2020 (21:21) 2020-06-30

عزیز زہرا

میری طالب علمی کے زمانے میں احمد رُشدی کا ایک گیت ’’کوکو کورینا‘‘ جو جوان وحید مراد پر عکسبند ہوا تھا، موسیقی کے شائقین نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن بن گیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عموماً دھیمی طرز کے نغمے سرحد کے دونوں اطراف میں تخلیق کیے جارہے تھے جبکہ سہیل رانا نے پاپ (Pop) طرز کا یہ نغمہ تخلیق کیا۔ یہ نغموں کی تخلیق اور طرزوں کے مروجہ سٹائل سے انحراف تھا۔ سہیل رانا ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد آگرہ کے ایک مشہور شاعر رانا اکبر آبادی تھے۔ 1947ء میں رانا کا خاندان بھی ہجرت کر کے پاکستان آگیا تھا۔ سہیل نے یہاں آکر اپنی تعلیم جاری رکھی اور ڈی جے سائنس کالج کے ذریعہ بی اے کی ڈگری (ابتدائی) کراچی یونیورسٹی سے حاصل کی۔ بعد میں نیشنل کالج کراچی سے حتمی ڈگری حاصل کی۔

ایک روایتی خاندان سے تعلق ہونے کی بنا پر سہیل رانا کے لیے موسیقی کے شعبہ سے فُل ٹائم منسلک ہونا ایک کٹھن مرحلہ تھا۔ وہ اکثر موسیقی کے مخالفین سے یہ سوال کیا کرتے تھے کہ حضرت امیر خسرو نے موسیقی کے آلات ساز وغیرہ اور راگ کیوں تخلیق کیے؟ اسی طرح شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ جیسے صوفیائے کرام نے صوفیانہ کلام اور راگ کیوں تخلیق کیے؟ سہیل رانا لوگوں کے اس متضاد رویئے پر اعتراض کرتے تھے کہ لوگ قوالیوں اور غزلوں سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں اور پھر بھی وہ ان تخلیقی لوگوں کو کمتر مقام دیتے ہیں جو آرٹ کے اس شعبے کی جان ہیں یعنی گلوکار اور موسیقار۔ اس دہرے اور متضاد رویے کو غلط ثابت کرنے کے لیے سہیل رانا نے پرفارمنگ آرٹس کے اس شعبہ (موسیقی) کا اپنے لیے انتخاب کیا تاکہ موسیقاروں اور موسیقی کے بارے میں اس کمتر سوچ، گھٹیا رویے کے اثرات کو زائل کیا جاسکے۔ یہ ایک جرأت مندانہ قدم تھا۔

پاکستان میں بطور ایک کامیاب میوزک کمپوزر کئی سالوں تک فن موسیقی سے عملی وابستگی اور فنی خدمات کے بعد وہ کینیڈا چلے گئے۔ 14اگست 2011ء کو حکومت پاکستان نے انہیں سب سے بڑے سول ایوارڈ ’’ستارہ امتیاز‘‘ سے نواز ا۔ جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے زیراہتمام ایک شاندار میوزک کنسرٹ منعقد کیا گیا جس میں مشہور گلوکاروں نے ان کے تخلیق کردہ گیتوں کو دوبارہ گایا۔ ٹورنٹو (کینیڈا) میں بھی وہ ریٹائر زندگی نہیں گزار ی، وہاں 21مئی 2006ء کو سہیل نے ایک Anthem کی صورت میں اورنٹاریو کے عوام کے لیے ایک ’’میوزکل گفٹ‘‘ پیش کیا۔ یہ Mosaic فیسٹیول کے موقع پر پیش کیا گیا۔ یہ پہلا اور سب سے بڑا سائوتھ ایشین Multidiciplinary آرٹس فیسٹیول تھا جو وہاں کے ایک شہر Missisauga میں منعقد ہوا تھا۔ اتفاق یہ ہے کہ اورنٹاریو میں مئی کا مہینہ سائوتھ ایشین ہیرٹیج کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دیگر کئی کلچر سرگرمیوں کے علاوہ یہ اپنے بھرپور ثقافتی ورثہ کو متعارف کروانے کے لیے اس کے ساتھ کینیڈا میں مقیم تارکین وطن کی ایسی سرگرمیوں کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کرنے کا یہ بہترین موقع تھا۔ اس غنائیہ (Anthem) کا ٹائٹل تھا ’’ہم ہیں سات رنگوں، سات سُروں کی سرگم‘‘ اسے ’’Misher Mail‘‘ میں کمپوز کیا گیا تھا جس کا مطلب ہے مختلف راگوں کا امتزاج۔ یہ سائوتھ ایشین غنائیہ سُریلے گلوکار معصومی رائے کے زیرقیادت سہیل کے ذہین ترین سٹوڈنٹس کورس کی صورت میں پیش کیا تھا۔ آرکسٹرا عدنان رانا اور کی بورڈ پر لیوک، ایس رانا تھے۔ اس کے ذریعے سے جہاں شاندار ثقافتی ورثہ کی ترویج فروغ اور تعارف کا موقع ملا وہاں کینیڈا میں سائوتھ ایشین تارکین وطن کی کمیونٹی میں بھی باہمی یگانگت اور اتحاد بڑھانے میں مدد ملی۔ کینیڈا میں مقیم ان تارکین وطن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ مختلف قومیتوں اور ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا اپنے آبائی ملک سے رابطہ قائم اور مستحکم رہے۔ سہیل رانا اپنی اس پیشکش پر فخر محسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ غنائیہ دراصل پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال اور دُنیا کے تمام ملکوں کے لوگوں کے خراج تحسین اور اتحاد ویگانگت کا پیغام ہے۔

سہیل رانا کا نغمہ ’’آج جانے کی ضد نہ کرو‘‘ شاعر مسرور انور، گلوکار حبیب ولی محمد اور ان کے بعد فریدہ خانم نے گایا، بہت عمدہ کمپوزیشن تھی۔ یہ گیت پی ٹی وی کے پروگرام ’’میری پسند‘‘ میں میں نے بھی پیش کیا تھا۔ پروگرام کے پروڈیوسر خواجہ نجم الحسن تھے۔ میرے لیے یہ حیرت کی بات تھی کہ اس نغمہ کو آشا بھوسلے نے بھی گایا۔ اگرچہ Vocals اور آرکسٹرا کی کمپیوٹر ریکارڈنگ میں ہم آہنگی اور ان کے درمیان تال میل کی کمی کی وجہ سے آشا کے گائے ہوئے اس گیت کی خامی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ سہیل رانا کو گیت کی اس دُھن کا خالق تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ اس گیت کو طلعت عزیز اور جگجیت سنگھ (یہ گلوکار اب دُنیا میں موجود نہیں رہے) نے بھی گایا ہے۔ اس سے اس گیت اور اس کی دُھن کی مقبولیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ گیت بنیادی طور پر فلم ’’بادل اور بجلی‘‘ کے لیے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ انڈیا میں فلم ’’مون سون ویڈنگ‘‘ (Monsoon Wedding ) میں فریدہ خانم کی آواز کا یہ گیت سہیل رانا کی اجازت کے بغیر شامل کیا گیا تھا۔

سہیل رانا نے فلم اور ٹیلی ویژن دونوں کے لیے موسیقی اور گیتوں کی دُھنوں کی تخلیق کے لیے بڑا کام کیا ہے۔ برمنگھم یونیورسٹی میں طالب علمی کے دور میں میری سہیل سے ملاقات محمد ایوب کی سٹار ایجنسی کے آفس (برمنگھم) میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد میری ان سے ملاقات کراچی ٹیلی ویژن سٹوڈیوز میں بھی ہوئی تھی۔ فلم انڈسٹری کے لیے ان کی خدمات کے ذکر سے پہلے میں ان کی ٹیلی ویژن کی خدمات کا ذکر کروں گا۔ 1974ء سے 1976ء تک پی ٹی وی کارپوریشن کراچی سنٹر میں وہ بطور جنرل منیجر نیشنل آرکسٹرا تعینات رہے۔ اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ سہیل رانا نے کئی استادوں سے موسیقی کے اسرار ورموز دیکھے لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر انڈین میوزک ڈائریکٹر نوشاد علی کے شاگرد تھے۔ نوشاد نے سہیل رانا کی فنی مہارت کے بارے میں کہاتھا کہ سہیل کی کمپوزیشنز میں آرکسٹرا کے بہت عمدہ ٹکڑے اور گیت کے درمیانی وقفوں والے حصوں میں ان کی (نوشاد کی) نغمگی کے رنگ جیسی مشابہت پائی جاتی ہے۔

جب میں 1966ء لاہور میں یوای ٹی میں طالب علم تھا تو میں نے ایک پاکستانی فلم ’’ارمان‘‘ دیکھی تھی۔ زیبا، وحید مراد کی یہ فلم 18مارچ 1966ء کو نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی۔ یہ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کہانی تھی۔ مجھے ابھی تک آرکسٹرا کے چھیاسٹھ ٹکڑوں کی سماعت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی جذباتی کیفیت یاد ہے جس کا اثر بہت گہرا تھا، خصوصاً گیت کے کلائمکس پر گیت تھا ’’اکیلے نہ جانا‘‘ گلوکارہ مالا اور خوبصورت اداکارہ زیبا پر فلمایا گیا تھا۔ تکلف برطرف مجھے مالا کی آواز کبھی پسند نہیں تھی۔ اس کی وجہ ان کے لہجے کا نقص تھا کیونکہ بلند سُروں پر کچھ الفاظ کی ادائیگی میں ہم آہنگی نہیں پائی تھی لیکن اس گیت کی گائیکی اور فلم ’’نائیلہ‘‘ کے گیتوں کی گائیکی کے بعد ان کی گلوکاری بہت عمدہ لگنے لگی تھی لہٰذا اب وہ میری پسندیدہ آوازوں میں شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک کامیاب میوزک کمپوزر وہ ہوتا ہے جو ایک مخصوص گلوکار کی آواز اور گائیکی کے مخصوص لہجہ اور الفاظ کی ادائیگی سے مطابقت رکھتی ہوئی دُھن تخلیق کرے۔ یہ گیت سہیل رانا کے دل کی گہرائیوں سے نکلا ہوا اور گلوکارہ مالا کی گلوکاری کے لیے یقینا تمنا کا دوسرا اور آگے کی طرف بڑھتا ہوا قدم ثابت ہوا۔ اس فلم کے خوبصورت گیت سہیل رانا کے لیے نگار ایوارڈ اور گریجوایٹ ایوارڈ جیتنے کا باعث بنے۔ سہیل رانا کا ماسٹر پیس ترانہ ’’سوہنی دھرتی اللہ رکھے، قدم قدم آباد تھے‘‘ ابتدا میں شہناز بیگم، ان کے بعد مہدی حسن اور پھر ناہید اختر نے یہ گیت گایا اور اس گیت کو ایک قومی گیت کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ اسی طرح ان کا ایک اور مقبول گیت ’’جیوے جیوے پاکستان‘‘ یہ گیت بنگلہ دیش کے قیام سے پہلے کی تخلیق ہے۔ شہنازبیگم، فردوسی بیگم اور رونا لیلیٰ کی طرح بنگلہ دیش سے تعلق رکھتی تھیں لیکن ان کے یہ گیت آج بھی پاکستانی کلچر کی نمائندگی میں بہت ہی اہمیت اور مقبولیت کے حامل ہیں۔ وہ جب دوبارہ پاکستان آئی تھیں تو انہوں نے پی ٹی وی کے لیے ان گیتوں کو دوبارہ گایا اور خوب داد وصول کی۔ اسی طرح ایک اور گیت ’’میں بھی پاکستان ہوں‘‘ نے کامیابی اور مقبولیت کے جھنڈے گاڑھ دیئے۔ ایسی ہی نوعیت کے اور گیتوں میں یہ شامل ہیں۔ ’’سنگ سنگ چلتے رہنا‘‘، ’’دوستی ایسا ناطہ‘‘، ’’اللہ اکبر‘‘ اور ’’شاد ابھئی شادا‘‘۔

تعلیم یافتہ گھرانوں کے بچوں کی شائستہ آوازوں کی تربیت، ترویج اور فروغ کے لیے سہیل رانا کی کوششوں اور خدمات کا ذکر کرنا بھی ازحد ضروری ہے۔ 19سالوں تک نشر ہونے والے ان کے ہفتہ وار بچوں کے لیے پروگرام ’’کلیوں کی مالا‘‘ اور ’’سنگ سنگ چلیں‘‘ (1968-1987ء) بہت ہی قابل داد پروگرام تھے۔ ان پروگراموں کے لیے انہوں نے تقریباً دو ہزار سے زائد گانے تخلیق کیے۔ ان پروگراموں میں موسیقی کی تربیت کے نتیجہ میں گلوکار منظرعام پر آئے جن میں درج ذیل نام خصوصی طور پر شامل ہیں۔ محمد علی شہکی، امجد حسین، عالمگیر، مونا سسٹرز، بنجمن سسٹرز، عدنان سمیع، وسیم بیگ، نازیہ حسن، زوہیب حسن، افشاں احمد، نازنین وحیدی اور فاطمہ جعفری۔ ان میں سے کئی گلوکار بہت کامیاب اور مشہور ومقبول ہوئے۔ سہیل رانا اپنے زیرتربیت طالب علموں کو ایک اچھا مسلمان بننے کی تربیت بھی کرتے رہتے تھے۔ ان کا ایک نوعمر طالب علم انوار ابراہیم بہت خوش الحان نعت خوانی کرتا ہے۔ اس کی حمد وثناء پر مبنی بہت خوبصورت طرزوں میں دو کیسٹیں ’’جانِ مدینہ‘‘ حصہ اول اور حصہ دوم عوام الناس تک پہنچ چکی ہیں۔ ان دونوں کیسٹوں میں نعتیہ کلام سہیل رانا کے والد رانا اکبر آبادی کا ہے۔ یہ 1967ء کا زمانہ ہے۔ مہدی حسن نے موسیقی سے محبت رکھنے والوں کے دل جیت لیے ہیں۔ سہیل رانا کا گیت ’’اک نئے موڑ پر لے آئے ہیں حالات مجھے‘‘ (فلم ’’احسان‘‘) اس فلم نے سلور جوبلی کا اعزاز پایا اور اس کے دوسرے مقبول ومعروف نغمے تھے ’’اے میری زندگی، اے میرے ہم سفر‘‘ اور ’’دواکھیاں، یہ دوسکھیاں‘‘ اس طرح سہیل کے طرزِ موسیقی نے لوگوں کو عام سطح سے اوپر اُٹھایا۔ اس سے لوگوں کو تحریک اور ترغیب ملی۔ سہیل کے چند بے حد پسندیدہ اور مقبول گیت ’’یہ خوشی عجب خوشی‘‘، ’’جب سے دیکھا ہے تمہیں دل کا عجب عالم ہے‘‘، ’’سائے کی طلب کرنے والو‘‘، ’’بے تاب ہو اُدھر تم‘‘، ’’جب پیار میں دو دل ملتے ہیں‘‘، ’’میری قسمت کا بتا ہے میری کیا خطا‘‘، ’’اے میری زندگی اے میری ہمسفر‘‘، ’’وعدہ کرو ملو گے‘‘، ’’راتیں تھیں چاندنی‘‘ (حبیب ولی محمد)، ’’آشیاں جل گیا‘‘، ’’ہائے بے قرار تمنا، ’’تجھ جیسا داغاباز‘‘، ’’بانسری بجانے والے‘‘، ’’دھیرے دھیرے پائوں رکھ گوری‘‘۔

سہیل رانا کو پُروقار صدارتی ایوارڈ ’’پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔ انہیں فلم ’’ارمان‘‘ پر نگار ایوارڈ دیا گیا۔ ’’خیبر میل‘‘ جیسی البم کے لیے انہیں EMI کی طرف سے Gold Discs پیش کی گئی۔ یونائیٹڈ نیشن (UNO) پیس میسنجر ایوارڈ 1987ء میں نیویارک میں عطا کیا گیا۔ فلم ’’بادل اور بجلی‘‘ پُراثر موسیقی کی بدولت بہت کامیاب فلم تھی۔ اس فلم کے گیتوں کی تازگی آج بھی فلم بینوں کی یادوں کا اثاثہ ہے۔ ’’بنسی بجانے والے‘‘ (نورجہاں) اس کے علاوہ ان کی دیگر فلموں میں ’’پھر چاند نکلے گا‘‘ (1970ء) فلم ’’اُسے دیکھا اسے چاہا‘‘ (1971ء) شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ’’گڑیا پاگل‘‘ اور ’’ہلچل‘‘ ریلیز نہیں ہوسکیں لیکن دونوں فلموں کے مقبول کیسٹوں اور Eps پر دستیاب ہیں۔ سہیل رانا پر لکھے گئے ایک مضمون میں مضمون نگار انیس شکور لکھتے ہیں ’’ماشاء اللہ سہیل رانا کی ناقابل فراموش خدمات میں سے ایک یہ کہ وہ 1976ء سے 1978ء تک انہوں نے پاکستان منسٹری آف کلچر میں بطور ڈائریکٹر جنرل بطریق احسن خدمات سرانجام دیں۔

٭٭٭


ای پیپر