خدا کی قسم
30 جون 2020 (21:02) 2020-06-30

سعادت حسن منٹو:

ادھر سے مسلمان اور ادھر سے ہندو ابھی تک آجارہے تھے۔ کیمپوں کے کیمپ بھرے پڑے تھے۔ جن میں ضرب المثل کے مطابق تل دھرنے کے لیے واقعی کوئی جگہ نہیں تھی۔ لیکن اس کے باوجود ان میں ٹھونسے جارہے تھے۔ غلہ ناکافی ہے۔ حفظانِ صحت کا کوئی انتظام نہیں۔ بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ اس کا ہوش کس کو تھا۔ ایک افراط و تفریط کا عالم تھا۔ سن اڑتالیس کا آغاز تھا۔ غالباً مارچ کا مہینہ۔ اِدھر اور اْدھر دونوں طرف رضا کاروں کے ذریعے سے ’’مغویہ‘‘ عورتوں اور بچوں کی برآمدگی کا مستحسن کام شروع ہو چکا تھا۔ سینکڑوں مرد، عورتیں، لڑکے اور لڑکیاں اس کارِ خیر میں حصہ لے رہی تھیں۔ میں جب ان کو سرگرم عمل دیکھتا تو مجھے بڑی تعجب خیز مسرت حاصل ہوتی، یعنی خود انسان انسان کی برائیوں کے آثار مٹانے کی کوشش میں مصروف تھا۔ جو عصمتیں لٹ چکی تھیں۔ ان کو مزید لوٹ کھسوٹ سے بچانا چاہتا تھا۔ کس لیے؟۔ اس لیے کہ اس کا دامن مزید دھبوں اور داغوں سے آلودہ نہ ہو؟۔ اس لیے کہ وہ جلدی جلدی اپنی خون سے لتھڑی ہوئی انگلیاں چاٹ لے اور ہم اپنے ہم جنسوں کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ کر روٹی کھائے؟۔ اس لیے کہ وہ انسانیت کا سوئی دھاگا لے کر جب تک دوسرے آنکھیں بند کیے ہیں، عصمتوں کے چاک رفو کردے؟۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ لیکن ان رضا کاروں کی جدوجہد پھر بھی قابل قدر معلوم ہوتی تھی۔ ان کو سینکڑوں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ہزاروں کھیکڑے تھے جو انھیں اٹھانے پڑتے تھے کیونکہ جنہوں نے عورتیں اور لڑکیاں اڑائی تھیں، سیماب پاتھے، آج اِدھر، کل اْدھر، ابھی اس محلے میں، ابھی اْس محلے میں اور پھر آس پاس کے آدمی بھی ان کی مدد نہیں کرتے تھے۔ عجیب عجیب داستانیں سننے میں آتی تھیں۔ ایک لیا ڑاں افسر نے مجھے بتایا کہ سہارن پور میں دو لڑکیوں نے پاکستان میں اپنے والدین کے پاس جانے سے انکارکردیا۔ دوسرے نے بتایا کہ جب جالندھر میں زبردستی ہم نے ایک لڑکی کو نکالا تو قابض کے سارے خاندان نے اسے یوں الوداع کہی جیسے وہ ان کی بہوہے، اور کسی دور دراز سفر پر جارہی ہے۔ کئی لڑکیوں نے راستہ میں والدین کے خوف سے خود کشی کرلی، بعض صدموں کی تاب نہ لا کر پاگل ہوچکی تھیں، برآمدہ عورتیں آرہی تھیں، برآمدہ عورتیں جارہی تھیں۔ میں سوچتا تھا کہ یہ عورتیں مغویہ کیوں کہلائی جاتی تھیں؟۔ انھیں اغوا کب کیا گیا ہے؟۔ اغوا تو ایک بڑا رومانٹک فعل ہے جس میں مرد اور عورتیں دونوں شریک ہوتے ہیں۔ یہ تو ایک ایسی کھائی ہے جس کو پھاندنے سے پہلے دونوں روحوں کے سارے تار جھنجھنا اٹھتے ہیں، لیکن یہ اغوا کیسا ہے کہ ایک نہتی کو پکڑ کر کوٹھری میں قید کرلیا۔ لیکن وہ زمانہ ایسا تھا کہ منطق، استدلال اور فلسفہ بیکار چیزیں تھیں۔ ان دنوں جس طرح گرمیوں میں بھی دروازے اور کھڑکیاں بند کرتے سوتے تھے اسی طرح میں نے بھی، اپنے دل و دماغ کی بھی سب کھڑکیاں دروازے بند کردیے تھے، حالانکہ انھیں کْھلا رکھنے کی زیادہ ضرورت اسی وقت تھی۔ لیکن میں کیا کرتا۔ مجھے کچھ سوجھتا نہیں تھا۔ برآمدہ عورتیں آرہی تھیں، برآمدہ عورتیں جارہی تھیں۔ یہ درآمد اور برآمد جاری تھی۔ تمام تاجرانہ خصوصیات کے ساتھ! صحافی، افسانہ نگار اور شاعر اپنے قلم اٹھائے شکارمیں مصروف تھے۔ لیکن افسانوں اور نظموں کا ایک سیلاب تھا جو اْمڈا چلا آرہا تھا۔ فلموں کے قدم اْکھڑ اْکھڑ جاتے تھے۔ اتنے صید تھے کہ سب بوکھلا گئے تھے۔ ایک لیاڑاں افسر مجھ سے ملا، کہنے لگا۔

’’تم کیوں گْم سْم رہتے ہو؟ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے مجھے ایک داستان سنائی۔ مغویہ عورتوں کی تلاش میں ہم مارے مارے پھرتے ہیں۔ ایک شہر، ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں۔ پھر تیسرے گاؤں، پھر چوتھے۔ گلی گلی، محلے محلے۔ کوچے کوچے۔ بڑی مشکلوں سے گوہرِ مقصود ہاتھ آتا ہے۔ میں نے دل میں کہا۔

’’کیسے گوہر؟ تمہیں معلوم نہیں، ہمیں کتنی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، میں تمہیں ایک بات بتلانے والا تھا۔ ہم بارڈر کے اس پار سینکڑوں پھیرے کرچکے ہیں عجیب بات ہے کہ میں نے ہر پھیرے میں ایک مسلمان بڑھیا کو دیکھا۔ اْدھیر عمر کی تھی۔ پہلی مرتبہ میں نے اسے جالندھرکی بستیوں میں دیکھا، پریشان حال۔ ماؤف دماغ، ویران ویران آنکھیں۔ گردوغبار سے اٹے ہوئے بال، پھٹے ہوئے کپڑے، اسے تن کا ہوش تھا نہ من کا۔ لیکن اس کی نگاہوں سے یہ صاف ظاہر تھا کہ کسی کو ڈھونڈ رہی ہیں۔ مجھے۔ بہن نے بتایا کہ یہ عورت صدمہ کے باعث پاگل ہو گئی ہے۔ پٹیالہ کی رہنے والی ہے۔ اس کی اکلوتی لڑکی تھی جو اسے نہیں ملتی، ہم نے بہت جتن کیے ہیں اسے ڈھونڈنے کے لیے ناکام رہے ہیں۔ غالباً بلوؤں میں ماری گئی ہے لیکن یہ بڑھیا نہیں مانتی۔ دوسری مرتبہ میں نے اس پگلی کو سہارن پور کے لاریوں کے اڈے پر دیکھا، اس کی حالت پہلے سے کہیں زیادہ ابتر اور خستہ تھی۔ اس کے ہونٹوں پر موٹی موٹی پپڑیاں جمی تھیں، بال سادھوں کے سے بنے تھے۔ میں نے اس سے بات چیت کی اور چاہا کہ وہ اپنی موہوم تلاش چھوڑ دے۔ چنانچہ میں نے اس سے بہت سنگ دل بن کر کہا۔

’’مائی تیری لڑکی قتل کردی گئی تھی۔ ‘‘

پگلی نے میری طرف دیکھا۔

’’قتل؟۔ نہیں نہیں۔ ‘‘

اس کے بعد لہجے میں فولادی تیقن پیدا ہو گئی۔

’’اسے کوئی قتل نہیں کرسکتا۔ میری بیٹی کوکوئی قتل نہیں کرسکتا۔ ‘‘

اور وہ چلی گئی، اپنی موہوم تلاش میں۔ میں نے سوچا ایک تلاش اور پھر موہوم!۔ لیکن پگلی کوکیوں اتنا یقین تھا کہ اس کی بیٹی پر کوئی کرپان نہیں اٹھ سکتی۔ کوئی تیز دھار یا چْھرا اس کی گردن کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔ کیا وہ امر تھی یا اس کی مامتا امر تھی۔ مامتا توخیر امرہوتی ہے۔ پھر کیا وہ اپنی ممتا ڈھونڈ رہی تھی۔ کیا اس نے اسے کہیں کھو دیا۔ ؟ تیسرے پھیرے پر پھر میں نے اسے دیکھا۔ اب وہ بالکل چیتھڑوں میں تھی، قریب قریب ننگی، میں نے اسے کپڑے دیے۔ لیکن اس نے قبول نہ کیے۔ میں نے اس سے کہا۔

’’مائی میں سچ کہتا ہوں، تیری لڑکی پٹیالہ ہی میں قتل کردی گئی تھی۔ ‘‘

اس نے پھر اسی فولادی تیقن کے ساتھ کہا۔

’’تو جھوٹ کہتا ہے۔ ‘‘

میں نے اس سے اپنی بات منوانے کی خاطر۔

’’نہیں میں سچ کہتا ہوں، کافی رو پیٹ لیا ہے تم نے۔ چلو میرے ساتھ میں تم کو پاکستان لے چلوں گا۔ ‘‘

اس نے میری بات نہ سنی اور بڑبڑانے لگی۔ بڑبڑاتے بڑبڑاتے وہ ایک دم چونکی، اب اس کے لہجے میں تیقن فولاد سے بھی زیادہ ٹھوس تھا۔

’’نہیں میری بیٹی کو کوئی قتل نہیں کرسکتا!‘‘

میں نے پوچھا۔

’’کیوں؟‘‘

بڑھیا نے ہولے ہولے کہا۔

’’وہ خوبصورت ہے۔ اتنی خوبصورت کہ اسے کوئی قتل نہیں کرسکتا۔ اسے طمانچہ تک نہیں مار سکتا۔ ‘‘

میں سوچنے لگ

’’کیا وہ واقعی اتنی خوبصورت تھی۔ ؟ ہر ماں کی آنکھوں میں اس کی اولاد چندے آفتاب و چندے ماہتاب ہوتی ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ لڑکی در حقیقت خوبصورت ہو۔ مگر اس طوفان میں کون سی خوبصورتی ہے جو انسان کے کْھر درے ہاتھوں سے بچی ہے۔ ہو سکتا ہے پگلی اس خیال خام کو دھوکا دے رہی ہے۔ فرار کے لاکھوں راستے ہیں۔ دکھ ایک ایسا چوک ہے جو اپنے گرد لاکھوں بلکہ کروڑوں سڑکوں کا جال بْن دیکھا ہے۔ ‘‘

بارڈر کے اس پار کئی پھیرے ہوئے۔ ہر بار میں نے اس پگلی کو دیکھا۔ اب وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گئی تھی۔ بینائی کمزور ہو چکی تھی، ٹٹول کر چلتی تھی، مگر اس کی تلاش جاری تھی بڑی شدومد سے۔ اس کا یقین اسی طرح مستحکم تھا کہ اس کی بیٹی زندہ ہے، اس لیے کہ اسے کوئی مار نہیں سکتا۔۔ بہن نے مجھ سے کہا کہ

’’اس عورت سے مغز ماری فضول ہے۔ اس کا دماغ چل چکا ہے بہتر یہی ہے کہ تم اسے پاکستان لے جاؤ اور پا گل خانہ میں داخل کرادو۔ ‘‘

میں نے مناسب نہ سمجھا کہ میں اس کی موہوم تلاش جو اس کی زندگی کا واحد سہارا تھی، میں اس سے چھیننا نہیں چاہتا تھا۔ میں اسے ایک وسیع و عریض پاگل خانے سے، جس میں وہ میلوں کی مسافت طے کرکے، اپنے پاؤں کے آبلوں کی پیاس بجھا سکتی تھی، اٹھا کر ایک مختصر سی چار دیواری میں قید کرانا نہیں چاہتا تھا۔ آخری بار میں نے اسے امرتسر میں دیکھا۔ اس کی شکستہ حالی کا یہ عالم تھا کہ میری آنکھوں میں آنسو آگئے، میں نے فیصلہ کرلیا کہ میں اسے پاکستان لے جاؤں گا اور پاگل خانے میں داخل کرادوں گا۔ وہ فرید کے چوک میں کھڑی اپنی نیم اندھی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔ چوک میں کافی چہل پہل تھی۔ میں بہن کے ساتھ ایک دکان پر بیٹھا ایک مغویہ لڑکی کے متعلق بات چیت کررہا تھا، جس کے متعلق ہمیں یہ اطلاع ملی تھی کہ وہ بازار صبونیاں میں ایک ہندو بنیے کے گھر موجود ہے۔ یہ گفتگو ختم ہوئی تو میں اٹھا کہ اس پگلی سے جھوٹ سچ کہہ کر اسے پاکستان جانے کے لیے آمادہ کروں کہ ایک جوڑا ادھر سے گزرا۔ عورت نے گھونگٹ کاڑھا ہوا تھا۔ چھوٹا سا گھونگٹ۔ اس کے ساتھ ایک سکھ نوجوان تھا۔ بڑا چھیل چھبیلا، بڑا تندرست اور تیکھے تیکھے نقشوں والا۔ جب یہ دونوں اس پگلی کے پاس سے گزرے تو نوجوان ایک دم کھٹک گیا۔ دو قدم پیچھے ہٹ کر عورت کا ہاتھ پکڑ لیا، کچھ اس اچانک طور پر کہ لڑکی نے اپنا چھوٹا سا گھونگٹ اٹھایا لٹھے کی دھلی ہوئی چادر پہ چوکھٹے میں مجھے ایک ایسا گلابی چہرہ نظر آیا جس کا حسن بیان کرنے سے میری زبان عاجز ہے۔ میں ان کے بالکل پاس تھا، سکھ نوجوان نے اس حسن و جمال کی دیوی سے اس پگلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سرگوشی میں کہا۔

’’تمہاری ماں!‘‘

لڑکی نے ایک لحظے کے لیے پگلی کی طرف دیکھا اور گھونگٹ چھوڑ لیا اور سکھ نوجوان کا بازو پکڑ کر بھینچے ہوئے لہجے میں کہا۔

’’چلو!‘‘

اور وہ دونوں سڑک سے ادھر ذرا ہٹ کر تیزی سے آگے نکل گئے۔ پگلی چلائی۔

’’بھاگ بھری۔ بھاگ بھری۔ ‘‘

وہ سخت مضطرب تھی۔ میں نے پاس جا کر پوچھا

’’کیا بات ہے مائی؟‘‘

وہ کانپ رہی تھی۔

’’میں نے اس کو دیکھا ہے۔ میں نے اس کو دیکھا ہے۔ ‘‘

میں نے پوچھا۔

’’کیسے؟‘‘

اس کے ماتھے کے نیچے دو گڑھوں میں اس کی آنکھوں کے بے نور ڈھلے متحرک تھے۔

’’اپنی بیٹی کو۔ بھاگ بھری کو!‘‘

۔ میں نے پھر سے کہا۔

’’وہ مر کھپ چکی ہے مائی‘‘

اس نے چیخ کر کہا۔

’’تم جھوٹ کہتے ہو۔ !‘‘

میں نے اسم مرتبہ اس کو پورا یقین دلانے کی خاطر کہا۔

’’میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں، وہ مر چکی ہے۔ ‘‘

یہ سنتے ہی وہ پگلی چوک میں ڈھیر ہو گئی۔

٭٭٭


ای پیپر