بین الاقوامی سرحدیں اور بھارت سے جڑے تنازعات
30 جون 2020 (19:12) 2020-06-30

منصور مہدی

جنوبی ایشیاء میں جغرافیائی طور پر تمام ہمسایہ اور سارک ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات،فوجی تنازعات اور آبی تنازعات میں الجھ کر تمام پڑوسی ممالک کو پریشان کرنے والا بھارت اب عوامی جمہوریہ چین کے تازہ ترین فوجی اقدام سے خود اس حد تک دبائو کا شکار ہو گیا ہے کہ بھارتی قیادت عجیب مخمصے میں مبتلا ہوکر اپنا کوئی سرکاری موقف پیش نہیں کر پا رہی جبکہ اس صورتحال میں خطے کی تمام اقوام اور چھوٹے ہمسایہ ممالک کو بھی ہندوستان کی دھونس دھمکیوں کو روکنے کا حوصلہ مل رہا ہے۔ خطے کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت دنیا کے ان چند ممالک میں سے جس کے اس کے سارے ہمسایہ ممالک پاکستان‘چین‘نیپال‘بنگلہ دیش اور میانمار سمیت دیگر کے ساتھ سرحدی تنازعات کئی دہائیوں سے چلے آرہے ہیں.

بھارت کی زمینی سرحد کی کل لمبائی15 ہزار106 کلومیٹر ہے، جو مجموعی طور پر5 ممالک پاکستان‘چین‘بنگلہ دیش‘میانمار‘نیپال اوربھوٹان سے لگتی ہے اس کے علاوہ 7 ہزار 16 کلومیٹر لمبی سمندری سرحد بھی ہے۔ اگرچہ بھارتی حکومت کا دعوی ہے کہ اس کی افغانستان سے بھی سرحد لگتی ہے مگر جغرافیائی اور قانونی طور پر نئی دہلی آج تک دعوی ثابت نہیں کرسکا کیونکہ اس کا یہ دعوی تنازعہ کشمیرکے سلسلہ میں ہے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ بھارت کی سرحد4ہزار96کلومیٹر ہے‘ پاکستان کے ساتھ3ہزار 323 کلو میٹر ، نیپال کے ساتھ1ہزار751 ‘ میانمار1ہزار643 جبکہ بھوٹان کے ساتھ 699 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جبکہ چین کے ساتھ3ہزار488 کلو میٹر،یہ سرحد جموں کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم، اور ارون آنچل پردیش سے ہو کر گزرتی ہے یہ تین سیکٹرز میں تقسیم شدہ ہے مغربی سیکٹر یعنی جموں کشمیر، مڈل یا درمیانی سیکٹر یعنی ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ اور مشرقی سیکٹر یعنی سکم اور ارون آنچل پردیش تاہم دونوں ملکوں کے درمیان اب تک پوری طرح سرحدیں طے نہیں ہوئی ہیں کیونکہ کئی علاقوں کے بارے میں دونوں کے درمیان تنازع ہے۔

بیرونی تنازعات کے علاوہاس وقت بھارت میں 67 آزادی و علیحدگی کی تحریکیں کام کر رہی ہیں، جن میں 17 بڑی اور 50چھوٹی تحریکیں ہیں۔ بھارت کے 162 اضلاع پر انتہا پسندوں کا مکمل کنٹرول ہے۔ ناگالینڈ ، مینر ورام ، منی پور اور آسام میں یہ تحریکیں عروج پر ہیں جبکہ بھارتی پنجاب میں خالصتان تحریک زوروں پرہے اور مقبوضہ کشمیرکا حال تو سب ہی جانتے ہیں۔

اب بھارت کے ہمسایہ ممالک سے سرحدی تنازعات کا جائزہ لیتے ہیں، سب سے پہلے بھارت چین کی بات ہو جائے، تو بھارت مغربی سیکٹر میں اکسائی چن پر دعویٰ کرتا ہے جو فی الحال چین کے کنٹرول میں ہے، بھارت کے ساتھ 1962 میں ہونے والی جنگ کے دوران چین نے اس پورے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا، وہیں مشرقی سیکٹر میں چین ارون آنچل پردیش پر اپنا دعویٰ کرتا ہے، چین کہتا ہے کہ یہ جنوبی تبت کا حصہ ہے، چین تبت اور ارون آنچل پردیش کے درمیان کی میکموہن لائن کو بھی نہیں مانتا وہ اکسائی چن پر بھارت کے دعوے کو بھی رد کرتا ہے۔ان تنازعوں کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان کبھی سرحدیں طے نہیں ہو پائی ہیں، تو زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سرحد کے لیے لائن آف ایکچول کنٹرول یعنی ایل اے سی کے نام سے پکارے جانے لگا، حالانکہ یہ بھی ابھی واضح نہیں ہے دونوں ملکوں کی ایل اے سیز بھی الگ الگ ہیں،اس ایل اے سی کے علاقے میں کئی گلیشئیرز، برف کے ریگستان، پہاڑ اور ندیاں موجود ہیں ،اس کے ارد گرد کے کئی ایسے علاقے ہیں جہاں سے اکثربھارتی اور چین کے فوجیوں کے درمیان کشیدگی کی خبریں آتی رہتی ہیں۔

سات دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن جموں کشمیر آج بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی مرکزی وجہ ہے، یہ علاقہ اس وقت ایک لائن آف کنٹرول کے ذریعے تقسیم شدہ ہے، جس کے ایک طرف کا حصہ بھارت جبکہ دوسرا پاکستان کے پاس ہے۔ 48۔1947 میںبھارت اور پاکستان کے درمیان جموں کشمیر کے معاملے پر پہلی جنگ ہوئی تھی، جس کے بعد اقوام متحدہ کی نگرانی میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، جس کے مطابق جموں کشمیر کا لگ بھگ ایک تہائی حصہ پاکستان کے پاس رہا جسے آزاد کشمیر کہا جاتا ہے، لگ بھگ دو تہائی حصہ بھارت کے تسلط میں ہے جس میں جموں، وادی کشمیر اور لداخ شامل ہیں، 1971 کی جنگ کے بعد شملا معاہدہ ہوا جس کے تحت جنگ بندی کی لکیر کو لائن آف کنٹرول کا نام دیا گیا، بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ کنٹرول لائن 740 کلومیٹر لمبی ہے ،یہ پہاڑوں اور رہائش کے لیے غیر معقول علاقوں سے گزرتی ہے، کہیں پر یہ ایک ہی گائوں کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے تو کہیں پہاڑوں کو ایل او سی پر تعینات دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان فاصلہ کچھ جگہوں پر صرف 100میٹر کا ہے تو کچھ جگہوں پر یہ پانچ کلومیٹر بھی ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پچھلے 50 سال سے تنازع کی وجہ بنی ہوئی ہے موجودہ لائن آف کنٹرول تقریباً ویسی ہی ہے ،جیسی 1947 میںبھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کے وقت تھی، اس جنگ کے دوران کشمیر کے کئی علاقوں میں جنگ ہوئی تھی، شمالی حصے میں بھارتی فوج نے پاکستانی فوجیوں کو کارگل شہر سے پیچھے اور سرینگر سے لیہ شاہراہ تک دھکیل دیا تھا، 1965 میں پھر جنگ ہوئی،اس کے بعد 1971 میں ایک بار پھر جنگ ہوئی،1971 میں مشرقی پاکستان ٹوٹ کر بنگلہ دیش بن گیا۔ اس وقت کشمیر میں کئی جگہ پر لڑائی ہوئی اور ایل او سی پر کئی مقامات پر دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی چوکیوں پر قبضہ کیا، بھارت نے تقریباً 300 مربع میل زمین حاصل ہوئی ،یہ ایل او سی کے شمالی حصے میں لداخ کے علاقے میں تھی، 1972 کے شملہ سمجھوتے اور امن مذاکرات کے بعد ایل او سی کو بحال کیا گیا، دونوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جب تک مذاکرات سے معاملات کو حل نہیں کیا جاتا تب تک زمینی حقائق کو برقرار رکھا جائے گا، اس وقت ایل او سی کو بحال کرنے کا عمل کافی دیر تک چلا،فیلڈ کمانڈروں نے پانچ ماہ میں تقریباً 20 نقشے ایک دوسرے کو دیے، آخر کار معاہدہ ہو،ا اس کے علاوہ بھارت پاکستان کی بین الاقوامی سرحد راجستھان، گجرات، جموں اور پنجاب سے لگتی ہے۔ سیاچن گلیشیر کے علاقے میں بھارت پاکستان کی صورت حال ’’ایکچول گراونڈ پوزیشن لائن‘ ‘سے طے ہوتی ہے 126.2 کلومیٹر لمبی’ ’ایکچول گرائونڈ پوزیشن لائن‘‘ کی حفاظت بھارتی فوج کرتی ہے،80 کی دہائی سے سب سے شدید کشیدگی سیاچن گلیشیئر میں چل رہی ہے، شملہ سمجھوتے کے وقت نہ بھارت اور نہ ہی پاکستان نے گلیشیئر کی سرحدیں طے کرنے پر زور دیا تھا، کچھ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ دونوں ہی ملکوں نے اس خوفناک علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔

یاد رہے کہ اس وقت بھارت کو چین سکم بارڈر،نیپال بھارت سرحد اور لداخ کے بیک وقت تین محاذوں پر زبردست دبائو کا سامنا ہے جبکہ بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کا کہنا ہے کہ یہ تینوں معاملات آپس میں باہم مربوط نہیں ہیں اور یہ سرحدی مسائل جلد حل ہو جائیں گے بھارتی میڈیا اور بھارت کے عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کو ایسا بیان نہیں دینا چاہیئے تھا جس میں بھارت کی کمزوری ظاہر ہو۔واضح رہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف اپنی فضائی کارروائی کے دوران بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ابھی نندن کی پاکستان میں حراست کے معاملے پر بھی ایسے ہی مضحکہ خیز بیانات داغے تھے جن پر دنیا بھر کے عسکری ماہرین نے بھی بھارت کا تمسخر اڑایا تھا۔

بھوٹان کے ساتھ بھارت کی بین الاقوامی سرحد 699 کلومیٹر لمبی ہے، مسلح سرحدی فورس اس کی حفاظت کرتا ہے، بھارت کی ریاستوں، سکم، ارون آنچل پردیش اور مغربی بنگال کی سرحدیں بھوٹان سے ملتی ہیں۔

دوسری جانب نیپال حکومت بھی بھارت کے سامنے ڈٹ گئی ہے ، بھارت اور نیپال کے مابین سرحدی علاقہ میں نئی سڑک کی تعمیر اور افتتاح پرتنازع کھڑا ہوچکا ہے۔کھٹمنڈو کے حکام نے نئی دہلی سرکار سے کہا ہے کہ وہ نیپال کے علاقے کے اندر کسی قسم کی سرگرمی کرنے سے باز رہے جبکہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ وہ مکمل طور پر اپنے علاقے میں سڑک تعمیر کررہا ہے۔ اس متنازع سڑک کی تعمیر اور افتتاح کیخلاف کھٹمنڈو میں شہریوں نے بھارتی سفارت خانے کے باہر مظاہرے بھی کئے تھے اورمقامی پولیس نے حفاظتی اقدامات کے تحت درجنوں مظاہرین کوگرفتار کرلیا تھا۔ نیپال حکومت کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے متنازعہ علاقے سے گزرنے والی جو نئی  سڑک کھول رہا ہے،یہ نئی سڑک ہندوستان اور نیپال کے مابین علاقائی تنازع کا باعث بن گئی ہے ، بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اس نئی لنک روڈ کاافتتاح کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ علاقہ بھارت کی ریاست اتراکھنڈ کے دھارچولہ کو لائن آف ایک چول کنٹرول (ایل اے سی) کے قریب لپو لیک پاس سے جوڑتا ہے جو چین کی سرحد سے متصل ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ اس نئی سڑک سے زائرین کیلاش کومانسوروور جانے کی سہولت ہوگی اور اس سڑک کی وجہ سے سفر کے دورانیہ میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ لیپو لیک کے جنوب کی سمت ، جسے کالاپانی علاقہ کہا جاتا ہے ،جوکہ ہندوستان اور نیپال کے مابین ایک عرصہ سے متنازع خطہ چلا آرہا ہے۔بھارتی وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے اس لنک روڈ کا افتتاح کرنے کے بعد اپنے ٹویٹ میں کہا تھا کہ انہیں اس اہم ترین سڑک کا افتتاح کرکے خوشی ہوئی ہے۔ تبت نے بھی چین کیساتھ سہ طرفہ اسٹرٹیجک جنکشن پر نئی دہلی کی طرف سے متنازعہ علاقے میں سڑک کے افتتاح پر افسوس کا اظہارکیا تھا جبکہ نیپال نے ہندوستان سے ’اپنی سرزمین‘ کے اندر  کسی بھی طرح کی سرگرمی کرنے سے باز رہنے کو کہا۔ لپو لیک پاس چین سے ملانے کیلئے بہت بڑی اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ہے۔مبصرین کاخیال ہے کہ ہندوستان کا اس سڑک کو کھولنے کے اقدام کا اصل مقصد چین کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ہے ۔ اتراکھنڈ، اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال اور سکم کی سرحدیں نیپال سے ملتی ہیں، بھارت نیپال بین الاقوامی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری بھی مسلح سرحدی فورس کی ہی ہے،دونوں ملکوں کی سرحد زیادہ تر کھلی ہوئی ہے اور اس میں کافی اتار چڑھائوبھی ہیں، حالانکہ اب سرحد پر تعینات سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، مشکل یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی سرحدوں کا تعین پوری طرح سے نہیں ہو پایا ہے، نیپال بھارت سرحد ی علاقوں میں مہاکالی (شاردا) اور گنڈک (ناراینی) جیسی ندیاں جن علاقوں میں سرحدیں طے کرتی ہیں وہاں مون سون کے دنوں میں آنے والے سیلاب سے تصویر ہی بدل جاتی ہے، ندیوں کا رخ بھی سال در سال بدلتا رہتا ہے کئی جگہوں پر تو سرحد طے کرنے والے پرانے کھمبے ابھی بھی کھڑے ہیں لیکن مقامی لوگ بھی انہیں نشانی کے طور پر تسلیم نہیں کرتے۔

میانمار کے ساتھ بھارت کی 1643 کلومیٹر لمبی بین الاقوامی سرحد ہے، اس میں 171 کلومیٹر لمبی سرحد کی حد بندی کا کام نہیں ہوا ہے، میانمار سرحد کی حفاظت کا ذمہ اسم رائفلز کے پاس ہے۔

بنگلہ دیش اور بھارت کی سرحد پہاڑوں، میدانوں، جنگلوں اور ندیوں پر مشتمل ہے، یہ گنجان آبادی والے علاقے ہیں اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری سرحدی سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی ہے، 50 سال کے بعد بھارت بنگلہ دیش ریل سروس بحال ہوئی ہے، بھارت‘ بنگلہ دیش سرحد پر بین الاقوامی سرحد کے اندر صرف ایک کلومیٹر تک کے علاقے میں بی ایس ایف کارروائی کر سکتی ہے، اس کے علاوہ تمام علاقے پر مقامی پولیس کا اختیار ہے۔

٭٭٭


ای پیپر