سرمغیث الدین شیخ! ....(دوسری قسط)
30 جون 2020 2020-06-30

اپنے گزشتہ کالم میں، میں سرمغیث الدین شیخ کے اکلوتے صاحبزادے علی طاہر مغیث کے بارے میں عرض کررہا تھا، بلکہ دعا کررہا تھا اللہ کرے وہ اپنے والد محترم کا خلا پُر کرسکیں، ورنہ اکثر دیکھنے میں یہی آیا ہے ہمارے”بڑے لوگ“ بے اولاد ہی چلے گئے، قائداعظمؒکوئی قائداعظم پیدا نہ کرسکے، اقبالؒنے اقبال کو جنم نہ دیا، فیض احمد فیض، قدرت اللہ شہاب ، اشفاق احمد، مشتاق احمدیوسفی، مختار مسعود، منیر نیازی، احمدندیم قاسمی، احمد فراز، ملکہ ترنم نورجہاں، نصرت فتح علی خان، مہدی حسن، اور تقریباً ہر شعبے کے جتنے بڑے لوگ تھے وہ اپنے جیسی اولادیں پیدا نہ کرسکے، یا یوں کہہ لیں اپنے جیسی صلاحیتوں والی اولادیں پیدا نہ کرسکے، گویامیری نظر میں ایک طرح سے وہ ”بے اولاد“ ہی رہے۔ البتہ ہمارے اکثر سیاسی واصلی حکمران، انتظامی وعدالتی حکمرانوں کو یہ ”اعزاز“ حاصل ہے انہوں نے اپنے جیسی اولادیں ہی پیدا کیں جس کے نتیجے میں ملک کا بیڑا غرق ہوگیا....ویسے میں جب اپنے اکلوتے صاحبزادے کو یہ دعا دیتا ہوں ”اللہ کرے قابلیت میں تم مجھ سے آگے نکل جاﺅ ”وہ کہتا ہے“ نہیں بابا میں کسی شعبے میں، کسی حوالے سے آپ سے آگے نہیں نکلناچاہتا “....وہ شاید فرماں برداری یا باپ کے احترام میں ایسے کہتا ہوگا، مگر کون سا باپ ہے جو یہ نہیں چاہے گا اُس کا بیٹا اُس سے آگے نکلے؟ اولاد کو آگے نکلنا بھی چاہیے، اِس طرح والدین ہی کانام روشن ہوتا ہے، میرے ایک محترم ومحسن بھائی میاں عادل رشید کے دادامیاں رشید، اچھرہ لاہور کی ایک معزز شخصیت تھے۔ اچھرہ کا ایک معروف علاقہ رشیدپارک اُنہی کے نام سے منسوب ہے، وہ عمران خان کے والد محترم اکرام اللہ نیازی کے بڑے دوست تھے، وہ بتاتے تھے ”خان صاحب کے والد اکرام اللہ نیازی اکثر فرماتے ”والد اپنے بچوں کی پہچان ہوتا ہے پر مجھے دیکھ کر جب لوگ کہتے ہیں یہ عمران خان کا والد ہے تو میں چڑسا جاتا ہوں کہ میری اپنی کوئی شناخت نہیں ہے“ .... یہ بات وہ یقیناً ازرہ مذاق ہی کہتے ہوں گے ورنہ اولاد کے حوالے سے کب کوئی ایسے سوچتا ہے؟.... سرمغیث الدین شیخ ایک بڑے انسان تھے، وہ صرف اپنے علم کے اعتبار سے بڑے نہیں تھے یا صرف دوستیاں وغیرہ نبھانے کے اعتبار سے بڑے نہیں تھے۔ اُن کا زیادہ قد اُن کے اِس وصف نے بڑھا رکھا تھا وہ پاکستان کے ہرنوجوان کو ترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، شاید اِسی تڑپ نے ذہنی طورپر اُنہیں کبھی بوڑھا نہیں ہونے دیا۔ اِس مقصد کے لیے وہ اپنے شاگردوں کو گھنٹوں سمجھاتے .... اِس قدر جوش وجذبے سے کوئی باپ بھی شاید اپنے بچوں کو نہیں سمجھاتا ہوگا جیسے وہ سمجھاتے تھے، بلکہ باقاعدہ Motivateکرتے تھے، لائق شاگردوں کو وہ حد سے زیادہ عزیزرکھتے تھے، اُن کے ناز نخرے بھی اُٹھا لیا کرتے، اُن کی ہرلحاظ سے مدد فرماتے....میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں، سرمغیث الدین شیخ جب یوسی پی کے شعبہ صحافت کے سربراہ تھے، میں نے اپنے ایف سی کالج کے ایک لائق فائق سٹوڈنٹ کے لیے اُن سے سفارش کی، وہ یوسی پی سے ایم فل کرنا چاہتا تھا پر پوری فیس ادانہیں کرسکتا تھا، میں نے سرکو بتایا اُنہوں نے فرمایا اُسے ابھی میرے پاس بھیج دو، وہ اُن کے پاس گیا اُس سے پوچھنے لگے ”تم کتنی فیس ادا کرسکتے ہو؟، اُس نے بتایا ، کہنے لگے ”ٹھیک ہے کل آجانا ، اگلے دن وہ گیا سرمغیث نے اُس سے پیسے لے کر رکھ لیے۔ دوچار روز بعد اُسے رسید دی اُس میں پوری فیس جمع ہوئی تھی، یعنی فیس میں کوئی رعایت نہیں دی گئی تھی، اُس نے سر سے پوچھا فرمانے لگے ”باقی رقم یونیورسٹی انتظامیہ نے خود ادا کردی ہے“....جب دوسرے سمسٹر کی فیس ادا کرنے کاوقت آیا، سرمغیث اُن دنوں بیرون ملک تھے، اُسے فیس کا ووچر ملا،وہ یونیورسٹی کے متعلقہ شعبہ میںگیا اور اُن سے گزارش کی پچھلے برس کچھ رقم یونیورسٹی انتظامیہ نے خود جمع کروائی تھی، اس برس بھی یہ رعایت اُسے دی جائے، یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنا ریکارڈ چیک کیا تو یہ انکشاف ہوا پچھلے برس یہ رقم یونیورسٹی انتظامیہ نے نہیں سرمغیث نے خود جمع کروائی تھی۔ اللہ اکبر ....بات یہاں ختم نہیں ہوتی، سرمغیث جب واپس آئے انہوں نے اس سے پوچھا تمہاری فیس جمع ہوگئی ؟ اُس نے بتایا ” جی سر ہوگئی ، اور اس برس آپ چونکہ باہر تھے میرے ایک اور اُستاد نے اس ضمن میں میری مدد فرمائی، اُس نے اشک بھری آنکھوں سے سرمغیث کا شکریہ ادا کیا اور اُنہیں بتایا اُسے پتہ چل گیا ہے پچھلے برس اُس کی فیس میں جتنی رقم کم تھی وہ یونیورسٹی انتظامیہ نے نہیں آپ نے اپنی جیب سے جمع کروائی تھی، یہ داستان یہاں بھی ختم نہیں ہوتی، سرمغیث نے جیبسے کچھ رقم نکالی اُس سے کہا ” بہتر ہے یہ نیکی تم میرے کھاتے میں ہی پڑنے دیں، آپ نے اپنے جس اُستاد محترم سے پیسے لے کر فیس جمع کروائی یہ رقم واپس کردیں“.... اللہ جانے اس طرح کے کتنے واقعات ہوں گے، .... سرمغیث کی قابلیت اور انتہائی فعال شخصیت کا، ان کی علمی وصحافتی خدمات کا احاطہ صرف ایک آدھ کالم میں نہیں ہوسکتا۔ ایک آدھ کالم میں صرف گونگلو ﺅں سے مٹی ہی جھاڑی جاسکتی ہے۔ پر افسوس میڈیا انڈسٹری میں موجود اُن کے سینکڑوں لکھنے اور بولنے والے شاگردوں نے گونگلوﺅں سے مٹی بھی ابھی تک نہیں جھاڑی،.... مجھے ان کے باقاعدہ شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل نہیں، میں جب پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں تھا وہ پی ایچ ڈی کرنے امریکہ گئے ہوئے تھے۔ اس اعزاز سے محرومی نے کبھی میرے اندر یہ احساس پیدا نہیں ہونے دیا ” میں کوئی لائق فائق انسان ہوں “ نہ اپنے کسی عمل یا علم سے میں نے اپنے طالب علموں کو یہ احساس ہونے دیا، پر سرمغیث سے جو تعلق رہا، اس دوران جو تربیت انہوں نے میری کی، جوکچھ میں نے ان سے سیکھا، میری زندگی کا اک قیمتی اثاثہ ہے، جو وقتاً فوقتاً میرے کام آتا رہتا ہے، .... بظاہر وہ بڑی سنجیدہ اور رعب دارشخصیت کے مالک تھے، پر اندر سے بڑے نرم ورحم دل تھے۔ ایک بار میں نے اُنہیں اپنے والد محترم کی عظمت کا ایک واقعہ سنایا وہ اُس پر باقاعدہ روپڑے۔ مجھے اُٹھ کر گلے سے لگایا، کہنے لگے ”جتنا تم میں ادب ہے، جتنی عاجزی ہے، مجھے پہلے ہی یقین تھا تم ایک عظیم انسان کے بیٹے ہو، پھروہ ابوجی سے ملنے میرے گھر بھی آئے۔(جاری ہے)


ای پیپر