” رُل تے گئے آں پر چَس بڑی آئی اے“
30 جون 2019 2019-06-30

’ بجٹ پاس ہو گیا .... ‘ کے الفاظ سنے تو پرانے زمانے کی رنگ برنگی لاریوں پر لکھے ہوئے ’پپو پاس ہو گیا“ کے الفاظ یادآ گئے ، بھلا پپوکیسے پاس نہ ہوتا کہ اس کے اباجان تھانے دار تھے اور جب تک وہ تھانے دار ہیں تب تک پپو پاس ہوتا رہے گا اور پپو یہ بات کبھی نہیںمانے گا کہ ’ پپو یار تنگ نہ کر‘۔ ، جان اور مان لیجئے،’مدعی لاکھ بُرا چاہے تو کیا ہوتا ہے، وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے‘ اور ’ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی، نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا‘، بجٹ پاس ہونے پریہ تمام اشعار حسب حال ہیں اور لاریوں پر لکھے تمام فرمودات بھی، جیسے آپا فردوس عاشق اعوان کہہ سکتی ہیں ، ’ کوئی دیکھ کر جل گیا اور کسی نے دعا دی‘ اور ’ ہارن دے کر پاس کریں‘ اور ’پاس کر ورنہ برداشت کر‘۔ اپوزیشن نے ہارن تو دیا مگرپاس نہ کرسکی۔ سوا ل تویہ ہے کہ جب اپوزیشن کے پاس بجٹ کو پاس ہونے سے روکنے کی طاقت ہی نہیں تھی تو پھر مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری نے اپنی مشہور زمانہ ملاقات میں اس کا اعلان ہی کیوں کیا تھا، درست ہے ناں،’ جب پال نہیں سکتے تو پھر پیدا ہی کیوں کرتے ہو؟‘

بجٹ ایک سنجیدہ معاملہ ہے مگر مجھے ہنسی آرہی ہے کہ اس ہنسی ،مذاق کا اہتمام خود حکومت اور اپوزیشن نے کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بُزدار نے پنجاب کے بجٹ پر کہا ہے کہ انہوں نے ترقیاتی بجٹ میں سینتالیس فیصد اضافہ کردیا ہے جبکہ مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے مسلم لیگ نون نے اپنے سیکنڈ لاسٹ بجٹ میں ساڑھے پانچ سو ارب اورلاسٹ بجٹ میں چھ سو پینتیس ارب روپے کا ڈویلپمنٹ فنڈ رکھا تھا جبکہ بُزدار صاحب کا ٹوٹل ڈویلپمنٹ بجٹ ساڑھے تین سو ارب ہے۔ مجھے نہیں علم کہ تونسے میں حساب کے اتنے ماٹھے استاد ہوتے تھے یا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ہی بجٹ کا اپنے ہی بجٹ کے ساتھ مقابلہ کررہے ہوں کہ جو گزشتہ برس دو سو پینتیس ارب تھا۔ موجودہ حکومت کہہ سکتی ہے کہ اس کاناقص کارکردگی میں صرف اپنے ساتھ مقابلہ ہے۔ حکومت ٹیکس پر ٹیکس لگا کر ایک ایک روپیہ اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور چھ ارب ڈالر تین برسوں میں لینے کے لئے آئی ایم ایف کے پاو¿ں پکڑے بیٹھی ہے اور ہمارے ایک بزرگ صحافی کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف اورمریم نواز نے تین ارب ڈالر (جی ہاں ساڑھے چار، پانچ کھرب روپے) حکومت کوادا کر دئیے ہیں جبکہ مزیدتین ارب ڈالر ادا کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ اگر یہی صورتحال ہے کہ تو حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس ذلیل ہونے کی کیا ضرورت تھی مگر سوال یہ بھی ہے کہ کسی حکومتی وصولی میں یہ تین ارب ڈالر ظاہر نہیں کئے گئے ، کسی بدخواہ نے ہرزہ سرائی کی ، کیا باجی نے یہ ڈائریکٹ ہی تو نہیں پکڑ لئے؟

یہ مریم اور بلاول آخر چاہتے کیاہیں، نہیں نہیں، میرا اشارہ اے پی سی کی ان فضول تصویروں کی طرف ہرگز نہیں جسے دیکھ کر مجھے ایک ٹرک کے پیچھے لکھا ہوا شعر یاد آ گیا،’محبت کو زمانے میں گل نایاب کہتے ہیں، ہم آپ کو بیٹھنے سے پہلے آداب کہتے ہیں‘اور ’ فاصلہ رکھیں ورنہ پیار ہوجائے گا‘، بلکہ اسی اعلان کی طرف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ دونوں مل کے بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے مگر سنا ہے کہ اس اعلان کے بعد بلوچوں کے حقوق کے چیمپئن سردار مینگل ایک مرتبہ پھربلوچستان کی محرومی کا کوئی پانچ ارب روپوں میں علاج کر گئے جبکہ ایم کیو ایم کا مطالبہ تیس ارب کارہایعنی حصہ بقدر جُثہ۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ دونوں مل کر سینٹ کے غریب ارکان کی اگلی دیہاڑی چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے لگوائیں گے اوریوں حکومت کو دیوالیہ کر کے کہہ چھوڑیں گے ورنہ سوچئے بھلا سنجرانی جیسا بھلا مانس چیئرمین سینیٹ کہاں سے ملتا ہے۔ ایسے بھلے مانس بارے کیا پوچھنا جو گھر کے کونے میں بیٹھا دہی سے روٹی کھا رہا ہو، جی ہاں، دل برائے فروخت قیمت ایک مسکراہٹ۔

واپس لاریوں اور ٹرکوں کی طرف چلتے ہیں جہاں ملکی حالات کی بہترین عکاسی ہو تی ہے ۔حکومت نے مریم اور بلاول کے اعلان پر یہ نہیں کہا، ’ تُوں لنگ جا ساڈی خیر اے‘ بلکہ ثابت کیا، ’ کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاو¿ں گا،میں رکشے والا ہوں کٹ مار کے نکل جاو¿ں گا‘ اور یہ کہ ’ چلتی ہے گاڑی اڑتی ہے دُھول، جلتے ہیں دشمن کھلتے ہیں پھول‘۔ میں نے یہ پڑھا توعش عش کر اٹھااور ذوالفقار علی بھٹو سے نواز شریف تک بہت سارے یاد آ گئے کہ’ ڈرائیور کی زندگی بھی عجب کھیل ہے، موت سے بچ نکلا تو سنٹرل جیل ہے‘ سوشل میڈیا پر ایوب خان کے بعد نواز شریف کے لئے شور ہے، ’ تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد‘۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر چلنے والی سیاست پر فٹ بیٹھنا شعر ہے کہ ’ یہ جینا بھی کیا جینا ہے، جہلم کے آگے دینہ ہے‘۔بجٹ تیار حکمران کرتے ہیں اور اسے بھگتنا عوام کو پڑتا ہے ، بالکل ایسے، ’ تپش سورج کی ہوتی ہے جلنا زمین کو ہوتا ہے قصورآنکھوں کا ہوتا ہے تڑپنا دل کو پڑتا ہے‘۔بجٹ میں مہنگائی پر حفیظ شیخ کہہ سکتے ہیں، ’ قتل کرنا ہے تونظر سے کر تلوار میں کیا رکھا ہے، سفر کرنا ہے تو رکشے میں کر کار میں کیا رکھا ہے‘ کیونکہ وہ وقت جلدا ٓنے والا ہے جب سب کی کاریں بک جائیں گی۔ عوام کسی جہاز قسم کے ڈرائیور کی طرح خود کو کہہ سکتے ہیں، ’ اے راکٹ تجھے قسم ہے ہمت نہ ہارنا، جیسا بھی کھڈا ہو ہنس کر گزارنا‘ ۔ بجٹ پریہ بھی دیکھئے ، ’ میرے دل پر دکھوں کی ریل گاڑی جاری ہے، خوشیوں کا ٹکٹ نہیں ملتا غموں کی بکنگ جاری ہے‘ اور یہ کہ ’ ابھی سے پاو¿ں کے چھالے نہ دیکھو، ابھی یارو سفر کی ابتدا ہے‘۔ پی ٹی آئی کے ووٹر عمران خان سے محبت کرتے ہیں، اتنی محبت کہ کہتے ہیں، ’ ڈبے میں ڈبہ ڈبے میں کیک ہمارا خان لاکھوں میں ایک‘، مگر اسی خان کی حکومت ان کے ساتھ جو کر رہی ہے وہ کچھ یوں ہے، ’ ہم نے انہیں پُھول پھینکا دل بھی ساتھ تھا، انہوںنے ہم کو پھول پھینکا گملا بھی ساتھ تھا‘، اس پھول کے ساتھ آنے والے گملے نے سر پھاڑ کر رکھ دیا ہے تو کہہ سکتے ہیں، ہم باز آئے اس محبت سے اور کسی سیانے نے کہا ، ’ ہُن گھِن تبدیلی دے مزے ‘،ا س پیار کے جواب میں یہی وارننگ دی جاسکتی ہے ، ’ پیار کرنا مضر صحت ہے،و زارت عشق حکومت پاکستان‘۔

اب یہی دیکھ لیں، غضب کا سیاسی شعر ہے اگر اسے سمجھ سکیں،’ جن کے چہروں پر نقاب ہوتے ہیں ، ان کے جرم بے حساب ہوتے وہیں‘۔ عمران خان کی حکومت میں یہ بات قومی نعرہ بن گئی ہے ، ’ رُل تے گئے ہیں پر چس بڑی آئی اے‘ اور ہم خود کو تسلی دے سکتے ہیں، ’ نصیب سے زیادہ نہیں ، وقت سے پہلے نہیں‘۔ کچھ نے لکھاہوتا تھا ’ ماں کی دعا جنت کی ہوا‘ اور پھر یوں ہوا، ’ جس نے ماں کو ستایا اس نے رکشہ ہی چلایا‘ جدید صورت یہ بنی، ’ جس نے ماں کو ستایا اس نے بلے پر ٹھپا لگایا‘۔ ایک مرتبہ پھر سلیکٹڈ حکومت کے قیام پر یہی کہا جا سکتا ہے ، ’ وقت نے ایک بار پھر دلہن بنا دیا‘ اور اس تحریر کا اختتامیہ یہی ہو سکتا ہے ، ’ نماز پڑھئے اس سے پہلے کہ آپ کی نماز پڑھی جائے‘ اور’ بلے کو ووٹ کی معافی مانگ لیجئے ہو سکتا ہے یہ آپ کی زندگی کی آخری حکومت ہو‘۔ میری طرف سے ان تحریروں میں سے آپ کے لئے خاص طور پر ، ’ نیک نگاہوں کو سلام‘ اور ’ پاک فوج زندہ باد‘۔


ای پیپر