پیسہ،سیاست اور عوام
30 جون 2019 2019-06-30

ناروے کے شاعر ارنے گائبرک نے کہا کہ پیسوں سے ”ہم کھانا خرید سکتے ہیں لیکن کھانے کا شوق نہیں؛دوائی خرید سکتے ہیں لیکن صحت نہیں؛ نرم بستر خرید سکتے ہیں لیکن نیند نہیں؛ علم خرید سکتے ہیں لیکن دانش مندی نہیں؛ ظاہری خوبصورتی خرید سکتے ہیں لیکن باطنی خوبصورتی نہیں؛ تفریح خرید سکتے ہیں لیکن خوشی نہیں؛ واقف کار خرید سکتے ہیں لیکن دوست نہیں؛ نوکر خرید سکتے ہیں لیکن وفاداری نہیں۔

مگر پاکستان میں حساب کچھ اور طرح کا ہے۔ پاکستان کی سیاست کو دیکھیں تو پیسے کے بغیر آپ ملکی سیاست کیا گلی محلے کی سیاست بھی نہیں کر سکتے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پیسے کا بڑا عمل دخل رہا ہے اور پیسے لینے اور دینے کے حوالے سے پاکستان کے بڑے سیاستدان اس کھیل میں ملوث رہے۔ اپوزیشن کے ارکان کو خریدنا ہو یا اپنے حواریوں کی حمایت لینی ہو یہ پاکستان میں صرف پیسے سے ہی ممکن رہا ہے۔ ا±صولی سیاست کم اور کاروباری سیاست کی چھاپ زیادہ گہری نظر آتی ہے۔ جمشید چیمہ بہت محبت کرنے والے اور نفیس انسان ہیں۔ تحریک انصاف میں جو لوگ لاجیکل بولتے ہیں ا±ن میں چیمہ صاحب کاشمار ہوتا ہے۔ چیمہ صاحب نے این اے 127 سے الیکشن لڑا مگر کامیابی حاصل نہ کر سکے مگر وہ عملی طور پر سیاست میں بہت زیادہ متحرک ہیں۔ ا±ن کی ایک خوبی جو بہت بھاتی ہے وہ ہے ا±ن کا خدمت خلق پہ یقین۔ چیمہ صاحب چند دن پہلے دفتر تشریف لائے تو چائے کے کپ پر کافی سیر حاصل گفتگو ہوئی جس میں مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ چیمہ صاحب کہتے ہیں کہ رضوان دنیا کا نظام د±عا اور بد د±عا پر چلتا ہے اور کوشش کرو کہ لوگوں کی د±عائیں لو اور دوسری اہم بات کہ انسان کی معاشی زندگی کا آغاز تب ہوتا ہے جب وہ اپنا کاروبار شروع کرتا ہے سیلری والے بندے کی کوئی معاشی زندگی نہیں ہوتی۔ان باتوں کے بعد جمشید چیمہ صاحب نے توقف کیا اور پھر میں نے سوال داغ دیا کہ چیمہ صاحب آپ نے اتنا لیٹ سیاست کا آغاز کیوں کیا تو پھر پتا چلا کہ سیاست کے جراثیم زمانہ طالبعلمی سے ہی تھے جناب ایم ایس ایف اور پھر جمعیت کے ساتھ ایک عرصے تک وابستہ رہے۔ پھر چیمہ صاحب کو خیال آیا کہ سیاست میں عام آدمی تو بس ایندھن ہوتا ہے اور ا±س کے مقدر میں بس انجن کو چلانا ہوتا ہے تو جناب کیرئیر کی طرف آ گئے۔ کہتے ہیں کہ نعمت کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا اور وہی ہوا۔ ایک کمپنی کا مارکیٹنگ ہیڈ دیکھتے ہی دیکھتے ایک بہت بڑے زرعی گروپ کاچیئرمین بن گیا۔ چیمہ صاحب کا ماننا ہے کہ سیاست لوگوں کی خدمت کا جذبہ ہے اور ا±س کے لئے آپ کو مالی طور پر مستحکم ہونا چاہیے اور اگر آپ کرپشن کرتے ہیں تو تو سیاست کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد چیمہ صاحب تو چلے گئے مگر میں سوچتا رہا کہ پاکستان میں کتنے ہی ایسے لوگ ہوں گے جو اس طرح مثبت سوچتے ہیں۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والے جب اسمبلی کے ٹھنڈے ہالز میں پہنچتے ہیں تو عوام کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔ جو وعدے جن کی بنیاد پر وہ عوام سے ووٹ لیتے ہیں وہ منتخب ہوتے ہی ہوا ہو جاتے ہیں۔موجودہ چیمہ صاحب کی بات بالکل ٹھیک لگتی ہے کہ عام آدمی سیاست میں بس ایندھن کا کام کرتا ہے سیاست دان ا±ن کا کندھا استعمال کر کے اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں پھر بعد میں ا±سی عام آدمی کا کوئی پ±رسان حال نہیں ہوتا۔ عوام نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا کہ وہ ملک میں خوشحالی لائے گی یہاں س±کھ ہو گا ، خوشحالی ہو گی مگر یہاں تو ا±لٹی ہی گنگا چل رہی ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کا جینا کیا مرنا بھی مشکل کر دیا ہے۔ چینی سے لیکر کوکنگ آئل تک ہرچیز ایک عام آدمی پہنچ سے دور ہو چکی ہے۔ہر وقت ایک بے یقینی کی کیفیت ہے جس نے امیر سے لیکر غریب آدمی کو ایک ذہنی کرب میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ پچھلے دنوں گاو¿ں گیا تو سارے کسان مہنگائی سے بلبلا رہے تھے۔جو یوریا کھاد پہلے تیرہ سو کی تھی وہ اب انیس سو کی ہوگئی ہے اور ڈی اے پی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ نے کسانوں کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے اور رہی سہی کسر ڈیزل کی قیمت میں اضافے نے پوری کر دی ہے۔ ٹریکٹر کی ٹینکی جو پہلے نو ہزار میں ف±ل ہوتی تھی اب وہ بارہ سے تیرہ ہزار پہ جا پہنچی۔ المیہ یہ ہے کہ حکمرانوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی ا±ن لوگوں کے ساتھ مخلص نہیں جنہوں نے ان کو ووٹ دیے ۔ اپوزیشن بھی اپنا آپ بچاو¿ مہم پر ہے عوام کی محرومیوں اور مجبوریوں کو ان کو بھی احساس تک نہیں کہ عوام کس مشکل وقت سے گزر رہے ہیں اور ا±ن کے لئے سانسوں کو جاری رکھنا بھی ایک مشکل عمل بن چکا ہے دو وقت کی روٹی تو درکنار وہ مسلسل دو سانسیں بھی نہیں لے پا رہے۔ اپوزیشن کی اے پی سی میں فیصلہ ہوا کہ بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے اور اس سے پہلے بلاول سے لیکر شہباز شریف تک سب نعرے بلند کرتے رہے کہ یہ بجٹ عوام دشمن ہے اور کسی صورت منظور نہیں ہونے دیں مگر ان سب کی آنکھوں کے سامنے بجٹ منظور ہوگیا اور اپوزیشن کی کٹوتی کی ساری تحریکیں کثرت رائے سے مسترد ہوگئی۔ یہ ہے ان کے خلوص کا حال جو عوام کے مسیحا اور غم خوار بنے ہوئے ہیں اصل میں ان میں سے کوئی عوام نہیں ہے یہ سب خواص میں سے ہیں اور خواص کو عوام کے دکھ اور مسئلے کہاں نظر آتے ہیں مگر ان سب کو ا±س دن سے ڈرنا چاہیے جس دن یہ عوام اپنے بل بوتے پہ ا±ٹھے گی اور خواص کو خس± و خوشاک کی طرح بہا لے جائے گی۔


ای پیپر