عدلیہ کہاں کھڑی ہے
30 جون 2018 2018-06-30

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے جمعہ کے روز دارالحکومت کے اندر واقع حساس ادارے کے صدر دفتر کے سامنے تجاوزات ہٹانے کے مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو کوئی حق نہیں کہ کھلی عدالت میں ججوں کی تضحیک کریں۔۔۔ مذاق بنا لیا ہے کہ کسی کا چہرہ اچھا نہیں لگتا اور اس کی تضحیک شروع کر دیں۔۔۔ وہ ہماری عزت نہیں کریں گے تو ہمیں بھی اپنے ادارے کے دفات کے لیے جواب دینے کا حق ہے ۔۔۔ انہوں نے کہا میں چیف جسٹس سے درد مندانہ اپیل کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ انہیں حق حاصل ہے کہ وہ ہمارے قانون کے خلاف کیے جانے والے فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیں لیکن اس کا حق نہیں کہ کھلی عدالت میں ججوں کی تضحیک کر دیں چیف جسٹس ماتحت عدالتوں کی عزت نہیں کریں گے تو وہ بھی اپنے ادارے کا دفاع کے لیے جواب دیں گے۔۔۔ سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے حساس ادارے کے ہیڈ کوارٹرز کے سامنے والی شاہراہ کھولنے سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر سیکرٹری دفاع اور حساس ادارے کے سربراہ کو 4 جولائی کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے ۔۔۔ اس موقع پر جسٹس صدیقی نے ریمارکس دیے کہ آئین اور قانون کے سامنے تمام اداروں کو سرنگوں ہونا پڑے گا۔۔۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سب سے سینئر جج ہیں۔۔۔ بیباک فیصلے کرنے اور لگی لپٹی رکھے بغیر ریمارکس دینے کی شہرت رکھتے ہیں۔۔۔ توہین رسالتؐ کے بارے میں ان کا ایک علم آفروز فیصلہ کتابی شکل میں شائع ہو چکا ہے ۔۔۔ گزشتہ برس ماہ نومبر میں راولپنڈی کے مقام فیض آباد تھریک لبیک کے دھرنے جس نے جو کئی روز تک اس شہر اور وفاقی دارالحکومت کی زندگی مفلوج کر کے رکھ دیا تھااور پورے ملک کی توجہات اس کی جانب مبذول ہو کر رہ گئی تھیں تو اس ضمن میں جسٹس صدیقی کی جانب سے حساس اداروں کے کردار کے حوالے سے جرأت مندانہ اور چشم کشا ریمارکس دے کر آئینی سوالات پیدا کر دیے۔۔۔ جن کا آج تک تسلی بخش جواب نہیں مل سکا۔۔۔معلوم نہیں انہوں نے کس کس کی ناراضی مول لی ہے ۔۔۔
جسٹس صدیقی کو اپنے سرکاری گھر کی دینی مزاج کے مطابق ترتیب و تسوید پر خرچے کے بارے میں سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس درپیش ہے ۔ اس کے بارے میں ان کا بس اتنا مطالبہ ہے کہ ساری کارروائی کھلے عام ہو بند کمرے میں نہ کی جائے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے انہوں نے کس جرم کا ارتکاب کیا ہے تاہم عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار کے بارے میں ان کے تازہ ترین تبصرے کا تعلق غالباً اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے جو گزشتہ دنوں محترم چیف جسٹس کے ضلع لاڑکانہ کی ماتحت عدالت کے اچانک دورے کے دوران پیش آیا وہاں ڈیوٹی پر موجود ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ایڈیشنل جج گل ضمیر سولنگی کی غفلت کی بنا پر سخت غصے کے عالم میں سرعام سرزنش کر دی گئی اور میڈیا کے افراد کی موجودگی اور کیمروں کی روشنی میں جج کا سیل فون اٹھا کر میز پر پٹخ دیا، حکم دیا اسے چیمبر میں بند کر کے رکھو۔۔۔ واقعے کی متحرک فلم ٹیلی ویژن، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے پورے ملک کے اندر پھیل گئی۔۔۔ مذکورہ جج نے اسے اپنی توہین سمجھا۔۔۔ اخباری اطلاعات کے مطابق استعفیٰ دے دیا۔۔۔ جس میں لکھا وہ دباؤ کی حالت میں کام نہیں کر سکتے۔۔۔ اس کی وجہ سے پورے ملک کے قانونی حلقوں میں تشویش کی لہر پیدا ہو گئی۔۔۔ اسی تناظر میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے چیف جسٹس پر واضح کیا ہے کہ وہ ماتحت ججوں کی تضحیک کریں گے تو یہ بھی جواب کا حق رکھتے ہیں۔۔۔ اگرچہ محترم جسٹس ثاقب نثار صاحب نے اپنے رویے کے بارے میں جمعہ ہی کے روز فرمایا کہ مذکورہ ڈسٹرکٹ جج نے ایک روز کے اندرصرف دو عرضداشتوں کا فیصلہ کیا۔۔۔ یعنی اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت کا شکار ہوا۔۔۔ مگر کراچی بار ایسوسی ایشن نے اسی واقعے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے باقاعدہ قرار داد کے ذریعے جس پر بار کے صدر حیدر امام رضوی اور سیکرٹری جنرل اشفاق علی گلال کے دستخط ثبت ہیں، جناب چیف جسٹس کے رویے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔۔۔ قرار داد میں کہا گیا ہے اگرچہ چیف جسٹس کو حق حاصل ہے وہ ماتحت عالتوں کا اچانک دورہ کریں۔۔۔ ججوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔۔۔ اگر ان میں سے کوئی کوتاہی کا مرتکب ہو تو معاملے کو دستور کے مطابق جج کے اوپر کے حکام کے نوٹس میں لایا جائے انہیں محکمانہ سطح پر مناسب کارروائی کی ہدایت دی جائے۔۔۔ نہ کیمروں کے سامنے اور میڈیا کے افراد کی موجودگی جھاڑ پلا دی جائے۔۔۔ قرار داد کے مطابق اس طرح میڈیا میں ریٹنگ تو بڑھ سکتی ہے لیکن عدالتی کاموں میں بہتری نہیں آئے گی۔۔۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کی قرار داد میں باقاعدہ مطالبہ کیا گیا کہ عدالت عظمیٰ کا فل کورٹ اجلاس منعقد کیا جائے جس میں اس طرح کے طرز عمل اور عدالتی نظام پر اس کے منفی اثرات کا پوری طرح جائزہ لیا جائے۔ ایسے اقدامات تجویز کیے جائیں جن کی بنا پر ججوں کو ایسا ماحول دستیاب ہو جس کے اندر وہ پوری آزادی کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دینے کے قابل ہوں۔۔۔ اور عوام کے اندر عدلیہ کا اعتماد بحال رہے ۔۔۔ اس میں اضافہ بھی ہو۔
پاکستان کی عدالتی تاریخ کے اندر شاید پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے عدالتی منصب دار اور چیف جسٹس جیسی قابل احترام اور انتہا درجہ باوقار شخصیت کے رویے اور پیشہ ورانہ کردار کے بارے میں ہائی کورٹ کے ایک سینئر جج اور وکلاء کی نمائندہ بہت بڑی تنظیم کی جانب سے کھلے عام اعتراض کیا گیا ہے ۔۔۔ (کسی ایک بنچ کے رکن ججوں کی جانب سے اکثریتی فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھنا دوسری بات ہے )۔۔۔ان کے رویے کو ماتحت ججوں کے وقار اور عزت نفس پر ایسی حرف گیری کے مترادف گردانا گیا ہے جس سے ججوں کو آزادی کے ساتھ کام کرنے اور عام آدمی کو انصاف مہیا کرنے کی راہ میں رکاوٹیں پیش آ سکتی ہیں۔۔۔ صورت حال کا اس نوبت پر پہنچ جانا کہ ہائی کورٹ کے سینئر جج اور ملک کے وکلاء کے نزدیک قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے خطرے کا باعث بن جائے اور خطرے کو کسی باہر کی قوت سے نہیں اپنے ادارے کے سب سے بڑے اور محترم عہدیدار کے رویوں سے محسوس کیاجارہا ہو۔۔۔ یہ امر جہاں اعلیٰ قانون دانوں وہیں ملک کے ہر آئین دوست، جمہوریت پسند اور حصول انصاف کے باوقار ترین ادارے کے ساتھ فطری اور قومی وابستگی رکھنے والے باشعور شہریوں کے لیے بھی سخت تشویش کا باعث ہے ۔۔۔ اگر یہ جاری رہا تو عام آدمی کو بے لاگ انصاف کیسے اور کیونکر ملے گا۔۔۔ پیشہ ورانہ کارکردگی کے لحاظ سے اعلیٰ اور چھوٹی یا ماتحت سب عدالتوں کا مستقبل کیا ہو گا۔ صورت حال کی سنگینی صرف ایک واقعے تک محدود نہیں۔۔۔ پورے نظام کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی ہے ۔۔۔ جمعہ کے روز ہی ایک مقدمے کی سماعت کے دوران خود محترم المقام چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے کہ عدلیہ کے سربراہ کی حیثیت سے وہ اپنے ادارے کے اندر اصلاح احوال میں کامیاب نہیں ہو پائے۔۔۔ سپریم کورٹ کو یہ رپورٹ بھی موصول ہوئی ہے کہ حصول انصاف کے لیے 38205 درخواستیں اور متعلقہ کارروائیاں زیر التواء پڑی ہیں۔۔۔ ان پر ضروری کارروائی مکمل نہیں ہوئی یعنی متاثرہ لوگ اپنے اپنے معاملات اور قضیات پر فیصلوں کے منتظر ہیں جو وقت پر ہو نہیں پا رہے ۔۔۔ دوسرے الفاظ میں ہمارا عدالتی نظام
A justice delayed is a justice denied
کے عارضے کا شکار ہے ۔۔۔ اگر یہ سب کچھ درست اور حقائق کے مطابق ہے تو بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عالی مرتبت چیف جسٹس گزشتہ برس 15 دسمبر سے اب تک اپنے اصلی فرائض کی انجام دہی کے دائرے سے نکل کر آئین کی دفعہ 184(3) کی منفرد تشریح کے تحت وہ کام کیوں کیے جا رہے ہیں جو ان کی بجائے ملک کے چیف ایگزیکٹو کے ہیں۔۔۔ آئین و سیاست کی زبان میں منتخب یا نگران وزیراعظم کے ہیں ان کی حتمی منظوری عوام کی منتخب کردہ پارلیمنٹ کو دینی ہوتی ہے لیکن جناب چیف جسٹس جس طرح تھوک کے حساب سے ایک کے بعد دوسرا سوموٹو نوٹس لیے جا رہے ہیں اس سے ایک متوازی حکومت کا تاثر پیدا ہی نہیں گہرا ہوتا جا رہا ہے ۔۔۔ یہ سب کچھ اقامہ کے بہت ہلکے الزام کے تحت ملک کے تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کی عدالتی برطرفی کے بعد ہو رہا ہے ۔۔۔ ماضی میں نظریہ ضرورت کے باوا آدم ایک چیف جسٹس محمد منیر ہوا کرتے تھے۔۔۔ ان کی عدالت کے ایک رکن جسٹس کارنیلئس تھے۔۔۔ جنہوں نے مولوی تمیز الدین کیس پر اختلافی نوٹ لکھا تھا۔۔۔ آج لوگ جسٹس منیر کو کن الفاظ میں یاد کرتے ہیں اس سے ہر کوئی واقف ہے ۔۔۔ جبکہ جسٹس کارنیلئس بالاتفاق ہیرو ہے ۔۔۔ اس وقت بھی سپریم کورٹ کے ایک جج جسٹس فائز عیسیٰ قاضی نے فیصلوں پر اختلافی نوٹ رقم کیا ہے ۔۔۔ سات بنیادی سوالات اٹھائے ہیں۔۔۔ جن کا جواب نہیں دیا جا رہا۔۔۔ آنے والا عدالتی مؤرخ شاید جسٹس فائز عیسیٰ قاضی کو موجودہ عہد کا ہیرو قرار دے۔


ای پیپر