رونا ہے یہ سارے گلستاں کا
30 جون 2018 2018-06-30

جب استعماری مغربی طاقتوں نے مقبوضات کو آزادی دینی شروع کی اور بظاہر نوآبادیاتی نظام ختم ہوگیا۔ اس پر کئی نامور عالمی مفکرین نے کہا تھا کہ اگرچہ باضابطہ استعمارکا دور ختم ہوگیا لیکن یہ صرف شکل تبدیل ہوئی ہے ۔ اگرچہ ممالک آزاد کردیئے گئے لیکن اب یہ ریموٹ کنٹرول غلامی کا آغاز ہوا ہے ۔ کم خرچ، بالا نشین، ہینگ لگی نہ پھٹکڑی اوررنگ بھی چوکھا۔ 17ویں 18ویں صدی میں انسانوں اور قوموں کو غلام بناکر یہ مغربی بدنام بھی ہوئے تھے۔ مقامی (مسلم) آبادیوں میں غم و غصہ بصورت جہاد بار بار ابل پڑتا تھا۔ بندر بانٹ کے تحت لیبیا پر اٹلی، الجزائر، مراکش پر فرانس، شام مصر پر برطانیہ، فرانس ، انڈونیشیا پر ڈچ قابض رہے۔ اس دوران ان علاقوں پر اپنی زبان، ثقافت، تہذیب، عقائد مسلط کیے۔ افریقہ، ایشیا کے کمزور ممالک کے انسانوں کو غلام بنا کر جانوروں کی طرح بیچا خریدا۔ بھڑکتی جنگوں کی آگ میں ان آبادیوں کی سستی فوج بناکر استعمال کیا۔ جنگوں سے معاشی کمر ٹوٹنے اور نو آبادیات میں آزادی کے بلند آہنگ نعروں کے پس منظر میں ایک نیا نظام ترتیب پایا۔ یہ نیا استعماری نظام تھا (Neo-Colonialism)۔ گورارخصت ہوا۔ وہی پورا استعماری ڈھانچہ بھورا ہوگیا۔ وہی چھاؤنیاں، سول لائنز (بڑی بڑی اراضی پر گرجوں اور اب مقامی عیسائیوں سمیت) جم خانہ کلب، ہاؤسنگ کالونیاں، مراعاتی نظام مربع جاگیریں شان وشوکت کے ساتھ بھورے رنگ کا فکری، نظریاتی غلام (براؤن صاب) ان میں براجمان ہوگیا۔ پورا مفاداتی ، مراعاتی ، استحصالی نظام مقامی آقاؤں کے ہاتھ میں آگیا۔ عام آدمی آزادی کے پھر یرے لہراتا، اپنے جھنڈے، نئے قومی ترانے، پریڈ اور بینڈ باجے، مقامی پولیس فوج دیکھ کر خوش ہوکر نعرے لگاتا رہا دن مناتا رہا۔ مگرنہیں جانتا تھا کہ یہ ظاہر میں تو آزادی ہے باطن میں گرفتاری !حتیٰ کہ سالہاسال گورے آقا بطور مشیر، کمانڈر اور اعلیٰ سول افسر بھی موجود رہے۔ مغربی استعمار جو بڑی محنت سے خلافت عثمانیہ توڑ کر کٹھ پتلی نظام لایا تھا، ترکی میں اسلام کے سائے سے بھی خوفزدہ، اردوآن کے خلاف ارادے تمنائیں جھونکے بیٹھا تھا۔ اردوآن کی جیت میں مضمر سیکولرازم کی موت پر وہ تپے بیٹھے ہیں۔ اب یہ بظاہر مسلمانوں پر مسلمانوں کی حکومت تھی۔ لیکن ملک کے بنیادی ڈھانچے کے ستون، فوج، بیوروکریسی، عدلیہ، پولیس، پارلیمنٹ، میڈیا۔ سبھی پر گورے آقاؤں کی مکمل چھاپ تھی۔ اسی ٹکسال میں گھرے سکے تھے۔ یہ سب تازہ کرلینے کے بعد آئیے احوال وطن دیکھئے۔ انتخابات کی گھن گرج جاری ہے ۔ نئے پرانے اور آئندہ آنے والوں کا ایک ایکسرے خبروں کی صورت دیکھا جاسکتاہے۔ عوام کی حکمرانی۔ عوام کے لیے صرف ایک جھلک ملاحظہ ہو۔ صدر ممنون حسین قوم کو یومیہ 98لاکھ روپے میں پڑتے ہیں۔ چند جگہوں پر رسمی خطاب اور بعض کاغذات پر مہر لگانے کی خاطر صدر کا منصب چند خطابوں اور مہر کی سالانہ قیمت 1.3ارب روپے ہے جو ایک کم خرچ دفتر میں بھی، غریب قوم کا خون نچوڑے بغیر سرانجام دیا جاسکتا ہے ۔ اتنی مراعات کے باوجود پوتی کی شادی کے لیے صدر صاحب نے کراچی گورنر ہاؤس منتخب فرمایا۔ شادی ہال کا 10,15لاکھ کا خرچ بچا کر قوم کی جیب کاٹی گئی۔ یہ سادگی بھی دیدنی ہے ۔ (کچھ عرصہ قبل سادگی اور بچت کی مہم چلائی گئی تھی !) قبل ازیں شاہ محمود قریشی (تحریک انصاف : جو اب بس اقتدار میں آیا ہی چاہتی ہے ) نے اپنے بیٹے کی
شادی بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی کے میدانوں میں صرف 5ہزار کرایہ دے کر کی تھی۔ کیونکہ مہمان 25ہزار تھے، لہٰذا دو میدانوں کے مابین دیوار اور زنجیریں توڑ کر یہ شادی خانہ آبادی سرانجام پائی۔ میدان تباہ کرکے رکھ دیئے جس پر شدید غم وغصے کا اظہار ہواتھا۔ نجانے کیوں؟ حالانکہ قوم کی قیادت کے بیٹے بیٹیاں یہ حق تو رکھتے ہیں کہ اپنے باپ دادا کی جیب ڈھیلی نہ کی جائے۔ قوم کے چندے(ٹیکس) پر وہ بیاہے جائیں۔ چلیں ہماری طرف سے سلامی اداہوگئی ! اب چاردن کی چاندنی کے مزے لوٹنے کو نگران سیٹ اپ آیا ہے ۔ اس خبر پر’اپ سیٹ‘ (پریشان ) ہونے کی ضرورت نہیں کہ آتے ہی وزیراعظم ناصرالملک شاہانہ پروٹوکول کی بارات لے کر والدین کی قبر پر سوات فاتحہ پڑھنے گئے تھے (برا نہ مانیے۔ سرکاری مال پر فاتح پڑھی جائے گی تو بارات ہی کہلائے گی)۔ بعدازاں یہ بھی کلبلاتی خبر چھپی کہ چند قدم کے فاصلے پر قدم رنجہ فرمانے کو ناصرالملک 13گاڑیوں کا پروٹوکول ہمراہ لیے گئے۔ شہری اور پولیس اہلکار راستوں کی بندش پر گرمی میں پگھلتے، سلگتے، بگڑتے رہے۔ بے چارے عوام کالانعام ۔ جن کے نام پر حکومتیں آتی جاتی ہیں۔ ادھر عمران خان پر پیپلزپارٹی چلائی ہے کہ انہیں ابھی سے وزیراعظم کا پروٹوکول دیا جارہا ہے ۔ ان کی سکیورٹی کے لیے 300رینجرز اہلکار، ماہانہ ایک کروڑ سرکاری خرچ پر تعینات کئے گئے ہیں۔ (چھوٹے سے 300کنال کے غریب خانے پر 200رینجر کافی ہو جاتے!) پہلے یہ بھی سوال اٹھایا گیا تھا کہ عمران خان کا عمرے کا طیارہ فوجی اڈے سے کیوں اڑا ۔؟ کمال ہے یہ بھی کوئی سوال ہے جو پوچھا جائے، فوجی وزیراعظم سویلین اڈے سے اڑان کیوں بھرے؟ کس میں جرأت ہے کہ پوچھے ہم سے اڑنے، کا جواز ؟ اڑنے سے پہلے آخر اڑے بھی تھے بصورت دھرنا !اس اڑنے پر بھی تو پیچھے ایسے ہی ایک ایمپائر کی انگلی کارفرما رہی۔ جس پر انگلیاں اٹھتی رہیں۔ ان دنوں شائع ہونے والے سیاست دانوں کے اثاثوں کی دیگوں کے چند دانوں کی خبریں بھی ہوش ربا ہیں۔ میاں حسین (مظفرگڑھ) کے اثاثے 4کھرب سے زائد ہیں۔ بہت کچھ چھپا کر بھی (کہ عمران خان اور شہباز شریف کے پاس ذاتی گاڑیاں تک نہیں !قوم ترس کھائے۔ کریم / اوبر پر آتے جاتے ہیں ؟) امیدواروں کی جائیدادیں، کاروبار، آف شورکمپنیاں، قومی بین الاقوامی سطح کی ہیں !ناصرالملک بھی (عدلیہ والے سابق) سنگاپور اور برطانیہ میں جائیدادوں کے مالک ہیں۔ 10کروڑ بینک بیلنس ، سوات میں 23دکانیں، اسلام آباد میں 3 پلاٹ، سی این جی سٹیشن اور فلورملوں میں شراکت، غریب مقروض ملک کے امیر ترین اوپر والے !جرنیلوں کی بات کرتے تو سبھی کی گھگھی بندھتی ہے ۔ یادش بخیر ایک طبی شعبے کے جرنیل صاحب کی جائیدادوں کی ہوشربا طوالت کئی کاغذوں پر محیط کسی قانونی رہنمائی کے لیے دیکھنے والے نے دیکھی تو کئی دن سٹی گم رہی۔ کیونکہ طبی جنرل تو بیچارا مسکین ہی ہوتا ہے قیاس کن راگلستان من بہار مرا۔ ! یہ بہاریں گورا ہمارے لیے بو گیا تھا جو ہم 70سال بعد بھی کاٹ رہے ہیں۔ وہ مطمئن تھا کہ بانیانِ پاکستان تو چل دیئے اب پیچھے ملک غلام محمد، اور سکندرمرزا جیسے گورے آقا کے تربیت یافتہ سدھائے غلام چلے آئیں گے۔ تاریخ کے اوراق ہمیں ایک آزاد اسلامی مملکت کے ایسے کتنے ہی شرمناک، اذیت ناک کرداروں کی گراوٹ کی کہانیاں سناتے ہیں۔ سرکاری اثاثے فروخت ہوگئے۔ صنعتیں ختم ٹھپ، پانی بجلی غائب، لامنتہا قرضے انہی کے اللوں تللوں اور انہی سفید ہاتھیوں کو پالنے کی خاطر ہے ۔ عوام کا خون نچوڑ کر حاصل کردہ ٹیکس اور بیرونی قرضے بھی ان کی عیاشی کے لیے ناکافی ہیں۔ کروڑوں انتخابات میں خرچ کرکے ان کرسیوں تک پہنچنے کی دیوانگی اربوں بنانے ہی کی خاطر ہوتی ہے ۔ اسی دوران یہ خبر بھی تھی کہ حج پر پاکستان سے بھکاری اور جیب کترے بڑی تعداد میں جاتے ہیں۔ کیوں نہ جائیں، ملکی وسائل تباہ کرکے دنیا بھر میں کشکول اٹھائے پھرنے والوں کی نمائندگی یہی طبقہ کرتا ہے ۔ رہے جیب کترے۔ تو وہ بھی مذکورہ بالا احوال سے واضح ہے کہ انہیں بھی نمائندہ بن کر جانا ہی چاہیے۔ اب یہاں خلافت راشدہ میں حکمرانی اور مسلم حکمران کے اوصاف کی بات کیونکر ہو!بھینس کے آگے بین بجاکر کیا لینا۔ اسی لیے تو یہ شریعت کی حکمرانی کی بات پر لال پیلے نیلے ہو جاتے ہیں جانتے ہیں اس میں ان کا مقام کیا ہوگا! اللہ تمہیں احمق لوگوں کی قیادت سے اپنی پناہ میں رکھے۔ ایک شخص نے سوال کیا : یہ کون لوگ ہوں گے؟ نبیؐ : وہ حکمران جو اس وقت آئیں گے جب میں نہ ہوں گا۔ وہ نہ میری ہدایت کی پروا کریں گے نہ ہی میری سنت پر عمل کریں گے۔ چنانچہ جس کسی نے ان (احمق لوگوں) کے جھوٹ کی تائید کی اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کی وہ مجھ میں سے نہیں، نہ میں ان میں سے ہوں۔ اور انہیں روز قیامت میرے حوض کوثر پر آنے کی اجازت نہ ہوگی۔ اور جس کسی نے نہ تو ان کے جھوٹ کو مانا اور نہ ہی ظلم میں ان کی مدد کی تو وہ مجھ سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں۔ اور وہ روز قیامت حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ (احمد)
مرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کا
وہ گل ہوں، خزاں ہرگل کی ہے گویا خزاں میری


ای پیپر