مسلم لیگ ن کا بیانیہ
30 جون 2018 2018-06-30

سوال یہ نہیں ہے کہ

آپ نواز شریف اور پاکستان میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ انگوٹھے اور انگلی میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ ووٹوں اور لوٹوں میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ ووٹوں اور نوٹوں میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ ووٹ کی عزت اور ووٹ کی ذلت میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ زمینی مخلوق اور خلائی مخلوق میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ رفاحی ریاست اور سکیورٹی ریاست میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ جمہوریت اور آمریت میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ آزادی اظہار اور جبر کے پرچار میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ اپنے حکمران چننے اور اپنے اوپر حکمران مسلط کرنے میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ اپنی مرضی سے زندگی جینے اور اپنی زندگی یرغمال بنانے میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ اپنے مائنڈ کی آزادی اور ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے درمیان کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ مذہبی رواداری اور مذہبی منافرت کے درمیان کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ احترام آدمیت اور فرقہ واریت میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے۔

آپ امن اور تحفظ اور دہشت گردی کے درمیان کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ صلح کل اور قتل و غارت کے درمیان کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ معاشی ترقی ، خوشحالی اور غربت و بد حالی کے درمیان کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ موٹر ویز ، جدید شاہراہیں ، ایئر پورٹس ، بندر گاہوں اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور کچے راستوں کے درمیان کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ بجلی پروڈکشن اور لوڈ شیڈنگ کے درمیان کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ گیس کی فراہمی اور عدم فراہمی کے درمیان کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ چلتے کارخانوں اور دھواں اگلتی چمنیوں اور تالہ بند فیکٹریوں اور ہڑتالوں کے درمیان کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ سڑکوں پر دوڑتی گاڑیوں اور پٹرول پمپوں پر لگی لمبی قطاروں میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ جدید ہسپتالوں ، یونیورسٹیوں اور فرسودہ سہولتوں کے درمیان کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ تانگوں ، چنگچیوں اور اوبر ٹیکسیوں اور الکریم گاڑیوں میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ ذلت آمیز ویگنوں ، ٹوٹی پھوٹی بسوں ، رکشوں اور ایئر کنڈیشنڈ میٹرو بسوں اور جدید آرام دہ ، سبک رفتار اورنج ٹرین میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ جدید، ایئر کنڈیشنڈ اور صاف ستھرے شاپنگ پلازوں اور پرانے فرسودہ تجارتی مراکز کے درمیان کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ تیز ترین کاروباری سرگرمیوں اور نیچے گرتی معیشت میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ ابھرتی معیشت والے پہلے دس ممالک میں شمولیت اور برباد ہوتی معیشت کے درمیان کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ 24 ارب ڈالر ذر مبادلہ اور گرتے ہوئے زر مبادلہ میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ 5400 ہزار تجارتی انڈیکس اور زوال پذیر انڈیکس میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے آپ ایک محفوظ ملک اور گرے ایریا کے درمیان کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ سی پیک کے میگا پروجیکٹس اور سی پیک کی تباہی کے درمیان کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ چین کی 64 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور آئی ایم ایف کے قرضوں میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ امریکہ کی غلامی اور شنگھائی تعاون تنظیم میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ علاقائی امن اور کشت و خون میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ سیاسی استحکام اور عدم استحکام میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے آپ قانون کی عملداری اور قانون کی بے حرمتی کے درمیان کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ سیاحت اور ذلالت میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے آپ شمالی علاقوں کی سیر اور خوف کے درمیان کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ سکون ، خوشی اور خوف ، بے چینی میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ قلم کتاب اور بندوق میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے آپ کھیلوں کے آباد میدانوں ، انٹرنیشنل کھلاڑیوں اور بے رونق اسٹیڈیمز میں سے کسے منتخب کریں گے۔

سوال یہ ہے

آپ جھوٹے ناقابل عمل وعدوں ، جاگتے خوابوں اور عملی شکل اختیار کرتے منصوبوں کے درمیان کسے منتخب کریں گے۔

اور سوال یہ ہے

آپ جنرل مشرف کے ججوں ، چمچوں اور سازشوں اور ان کے خلاف مزاحمت کرنے والوں میں سے کسے منتخب کریں۔

اور سوال یہ ہے

آپ سول سپریمیسی اور کنٹرولڈ ڈیموکریسی میں سے کسے منتخب کریں گے۔

اور سوال یہ ہے۔ آپ ایک پری پلانڈ دھاندلی زدہ الیکشن اور ایک آزاد اور صاف شفاف الیکشن میں سے کسے منتخب منتخب کریں گے۔

اور آخری سوال یہ ہے۔ آپ الیکشن ڈے پر ووٹ ڈالنے اور گھر بیٹھے رہنے میں سے کسے منتخب کریں گے۔


ای پیپر