’پاکستان بدل رہا ہے‘
30 جون 2018 2018-06-30

خواب غفلت سے جاگنا ، جگانا ،سوال کرنااور اپنے ’حق کے لئے آواز بلند کرنا ‘عوامی مسائل کے حل کی جانب پہلا قدم تصور کیا جاتاہے۔۔۔ مختلف معاشروں میں سوئے ہوئے لوگوں کو جگانے کے لئے لیڈر مختلف قسم کی تحاریک چلاتے ہیں، ببانگ دہل تخلیقی نعروں یا سلوگنز (Slogans) کا استعمال کیا جاتا ہے ۔لانگ مارچ کئے جاتے ہیں ، دھرنے دئیے جاتے ہیں ، جیلیں کاٹی جاتی ہیں ۔۔ سسٹم کی تطہیر کی جاتی ہے ۔۔تب جا کے کہیں’چمن میں دیدہ ور ‘پیداہوتاہے۔۔ ۔’ماوزے تنگ‘ Mao Zedong))بھی انہی لیڈرز میں سے ایک ہیں۔۔’ماوزے تنگ‘کے انقلاب اور ان کی پالیسیوں سے متعلق بین الاقوامی جامعات میں خصوصی لیکچرز دئیے جاتے ہیں جن میں عمومی طور پر ان کے مارکسی نظریات اورکمیونسٹ جماعت کے لیڈر کی حیثیت سے کامیابیوں کو اجاگر کیا جاتا ہے ۔لیکن تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے مجھے ان کی عوامی شخصیت ، انقلابی سوچ اورٹریڈمارک’ نعروں‘ کی گونج نے زیادہ متاثر کیا ہے ۔نظریاتی جماعتی اختلافات سے قطع نظر ’ماوزے تنگ‘ نے اپنے انقلابی نعروں اورجذباتی تقاریر کے ذریعے چین کے لئے جو تاریخی کارنامے انجام دیئے ہیں ان کے ثمرات کا فائدہ آج چینیوں کی نسلیں اٹھا رہی ہیں۔معروف مغربی لکھاری جوناتھن ڈی اسپینس (Jonathan D. Spence) کے مطابق چینی قوم افیون اور چرس کے نشے میں دھت اپنے مستقبل سے نابلدغفلت کی نیند سوئی ہوئی تھی۔نوجوان اپنے بڑوں کو سویا ہوا پاکر ان کے نقش پا کی تقلید میں پیش پیش تھے۔ ایسے میں انہیں ایک ایسے لیڈر کی ضرورت تھی جو انہیں بیدار کرتا اور اپنے ساتھ لے کر چلتا۔26دسمبر 1893میں پیدا ہونے والے ماوزے تنگ نے چینوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے لئے خوب محنت کی، اس مد میں عوامی نعروں ، لانگ مارچ اور دھرنوں نے خوب کام کیا۔جوناتھن ڈی اسپینس کے مطابق چین میں کمیونسٹ پارٹی 1921میں قائم ہوئی،اور حقائق یہ ہیں کہ تب بھی چین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ’کومنتانگ‘میں کمیونسٹ اکثریت میں نہیں تو خاصی بڑی تعداد میں موجود تھے۔۔1925 میں’کومنتانگ‘کے بانی’ سن یات سین‘ چل بسے توکمیونسٹوں کا مخالف جنرل کائی شیک پارٹی کا سربراہ منتخب ہوا ۔کائی شیک نے سینکڑوں کمیونسٹوں کو پارٹی سے نکال دیا اور ان کے خلاف متشدد اقدامات کرنے لگا ۔پارٹی بدر کمیونسٹس جنوبی چین میں واقع صوبے’جیانگشئی‘ میں اپنی جمہوریہ بنانے میں

کامیاب ہوگئے ۔ جنرل کائی شیک نے ان کو وہاں بھی نہ چھوڑا اور ان پر ہلہ بول دیا ۔’کومنتانگ‘ کی افواج تعداد اور اسلحے میں بہرحال پارٹی بدر کمیونسٹس سے برتر تھیں۔ چنانچہ 1934ء کے وسط تک انہوں نے کمیونسٹوں کو گھیر لیا ۔صورتحال اتنی دلچسپ ہوئی کہ کمیونسٹوں کا صفحہ ہستی سے مٹنا واضح نظر آنے لگا۔ اس زمانے میں کمیونسٹ فوج کا سربراہ، چینی شاہی فوج کا سابق سردارجنرل ’زوڈی‘ تھا ۔اس نے فیصلہ کیا کہ کمیونسٹ شمال کی جانب ہجرت کر جائیں تاکہ وہاں ازسرنو منظم ہو کر قوم پرستوںیعنی ’کومنتانگ‘ کے خلاف صف آراء ہوں۔اکتوبر 1934 میں تقریبا ایک لاکھ کمیونسٹ جیانگ شئی سے چل پڑے۔1934تک ’ماوزے تنگ ‘ ایک عام سا رہنما تھا جو ایک لاکھ کمیونسٹوں پر مشتمل اس لانگ مارچ کا حصہ تھا ۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جوں جوں تحریک زور پکرتی گئی ۔’ ماوزے تنگ ‘ ابھر کر سامنے آتا گیا ۔ جوناتھن ڈی اسپینس کے مطابق اس لانگ مارچ کے دوران ’ماوزے تنگ‘ نے چھوٹے موٹے عام سے رہنماوں کو آپس میں لڑوا کر اپنی جگہ بنائی اور اپنی جذباتیت اورقائدانہ تخلیقی صلاحیتوں کی وجہ سے لوگوں کے دلوں گھر کرتا گیا۔یہ وہی ’ماوزے تنگ‘ تھا جس نے چینی خانہ جنگی کے دوران چینی کمیونسٹ جماعت کی قیادت کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی اور یکم اکتوبر 1949کو بیجنگ میں عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی۔چین کا عہدہ صدارت سنبھالتے وقت کسی نے ماوزے تنگ سے پوچھا کہ آپ نے چین کو کیسے بدلا ۔ ماوزے تنگ نے کمال کاجواب دیا ۔بولے

’ہم شاید صدیوں تک سوئے رہتے کیونکہ ہم نے جاہلوں سے ووٹ اور سوال کا حق چھین لیا تھا، ہم نے انہیں جگایا اور خواب دیکھنا سکھایا ‘

قوم کو جگانے کی اس تحریک میں ’ماوزے تنگ‘ کے گیارہ شہرہ آفاق نعروں نے خوب کام کیا۔ بلا کی ذہانت اورتخلیقی صلاحیتوں کے حامل ماوزے نے ان نعروں کے ذریعے سوئی ہوئی قوم کی دکھتی رگوں کو جھنجھوڑ ڈالا۔ان کے شہرہ آفاق نعروں میں ’100پھول کھلنے دیں‘اور’چار بوڑھوں کو پاش پاش کرو‘ آج بھی زبان زدعام ہیں۔’سوپھول کھلنے دیں‘ جیسے نعرے نے لوگوں میں اختلاف رکھنے اور ببانگ دہل سوال کرنے کی جرات پیدا کردی۔لیڈر جہاں جہاں جاتے عوامی حلقوں میں انہیں آڑے ہاتھوں لیا جاتا۔اور عوامی کچہریوں میں ان کے اقدامات کا احتساب کیا جاتا۔’چار بوڑھوں کو پاش پاش کرو‘ کے نعرے نے اقبال کے مصرے ’جوانوں کو پیروں کا استاد کر‘ کا کام کیا۔ نوجوان نسل جاگی تو چین کا چہرا ہی بدل گیا۔کچھ ایسا ہی بدلاو آج کے پاکستان میں دیکھنے کو مل رہا ہے ۔آج سے پندرہ دن پہلے تک ناچیز کا خیال تھا کہ ہمارے ساٹھ فیصد یا دیہی علاقوں میں رہنے والے پاکستانی ابھی تک خواب غفلت میں محو ہیں۔ انہیں گلی محلے کے چوہدری صاحب ، جٹ صاحب ، جام صاحب یا بٹ صاحب نے ہائی جیک کیا ہوا ہے اور ملک میں بدلاو اس’ شیدے میدے‘ کے جاگے بغیر ممکن نہیں ۔ لیکن گزشتہ پندرہ دنوں میں عوامی حلقوں میں اپنے سیاسی رہنماوں اور انتخابی امیدواروں کی بیچ چوراہے دھلائی پر مبنی ویڈیوز نے تہلکہ مچا دیا ہے ۔ سوشل میڈیا ایک طاقت کے طو ر پر کام کر رہا ہے ۔نوجوان اختلاف کرتے ہیں ، اپنے رہنماوں سے کارکردگی کا حساب مانگتے ہیں ، سوال کرتے ہیں اور دیڈیو سوشل میڈیا پر پھیلا دیتے ہیں، اتنے بڑے لیڈر کی کھچائی پر مبنی ویڈیو الیکٹرانک میڈیا کو با امر مجبوری چلاناہی پڑتی ہے ۔ اب شیدے میدے کی سوچ بدل رہی ہے ۔ اقتدار کے مزے لینے والے عوامی رہنماجمال لغاری ، ناصر حسین شاہ ، مراد علی شاہ ، سرفراز بگٹی ،سلیم مزاری ، فاروق ستاراور خرم شیر زمان عوامی سوالات کی پوچھاڑ کا عتاب سہہ چکے ہیں۔ جو باقی رہ گئے ہیں وہ گھبرائے ہوئے ہیں۔یہ سوال کسی سے بھی پوچھے جاسکتے ہیں۔کسی کی بھی ویڈیو بن سکتی ہے ۔ عوام اپنا حق کبھی بھی مانگ سکتے ہیں۔یہی وہ بدلتا پاکستان ہے جس کا قوم پچھلے ستر سال سے انتظار کر رہی تھی۔یہ تحریک دوہزا ر آٹھ اور تیرہ میں اتنی شدت سے دیکھنے کو نہیں ملی جتنی دوہزار اٹھارہ میں دیکھنے کو مل رہی ہے ۔اس تحریک کا تمام تر کریڈٹ واحد اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے تخلیقی نعروں ، جلسوں ، میڈیا اور سوشل میڈیا کو جاتا ہے ۔بائیس سال پہلے لوگ عمران خان کو ایک اسپورٹس مین کی حیثیت سے زیادہ جانتے تھے ۔وہ ایک عام سے آدمی تھے۔۔ اب ان کی شناخت پاکستان کے سب سے زیادہ پاپولر سلوگن یعنی تبدیلی کے داعی سیاست دان کی حیثیت سے کی جاتی ہے ۔۔تحریکیں یونہی چلا کرتی ہیں۔’تبدیلی‘ گونواز گو اور’ روک سکو تو روک لو‘ کے نعروں نے عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ عمران خان پاکستان کے ’ماوزے تنگ‘سے کسی طور کم نہیں ہیں ۔ انہوں نے لانگ مارچ ، دھرنوں اور جلسوں کے ذریعے قوم میں جو شعور بیدار کیا ہے ۔وہ بھٹو کے بعد پاکستان کی تاریخ میں دیکھنے کو نہیں ملا۔۔۔’خان صاحب‘ قوم کو جگا چکے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ اقتدار ملنے کی صورت میں پانچ سال بعد قوم کے سوالات کی توپوں کا رخ ان کی جماعت کی جانب ہوگا۔ اب وہی پائندہ رہے گا جو کام کرے گا۔۔اب کوئی آئیں بائیں شائیں نہیں چلے گا ۔نوجوان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔باقی ماندہ’ شیدوں میدوں ‘ کو میڈیا اور سوشل میڈیا جھنجھوڑ رہا ہے ۔۔ماضی کے ڈسے ہوئے اس سوچ میں ڈوب کر قوم کو جگا چکے ہیں کہ منزل دور سہی پر صاف لگ رہا ہے کہ ’ پاکستان بدل رہا ہے ‘۔


ای پیپر