’’شادی ۔یات‘‘ ۔۔۔
30 جون 2018 2018-06-30

دوستو۔۔جب کوئی عورت یہ کہے اس دنیا کے سارے مرد جھوٹے اور بے وفا ہیں کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا اس نے دنیا کے سارے مردوں کو آزما لیا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے جس شخص کو آزمایا وہ اکیلا اس کیلئے پوری دنیا کے برابر تھا۔۔اسی پرایک واقعہ یاد آگیا، ہمارے پیارے دوست اپنی گرل فرینڈ سے رومانٹک موڈ میں کہہ رہے تھے، مجھے تمہاری آنکھوں میں پوری دنیا نظر آرہی ہے۔۔پاس سے گزرنے والے نوجوان نے جو شاید فیصل آبادی تھا درمیان میں دخل درنامعقولات کرتے ہوئے بول پڑا۔۔ میری جوتی دیکھنا جو کل مسجد سے ’’گواچی‘‘ گئی تھی۔۔۔آج باتیں کچھ خواتین اور شادیوں سے متعلق کریں گے۔۔ کہاجاتا ہے۔۔خواتین کا میک اپ ایک ہونہار طالب علم کے سالانہ پیپرکی طرح ہوتا ہے ، تین گھنٹے بعد بھی پوچھو تو ایک ہی جواب ملتا ہے پانچ منٹ اور دے دیں بس۔۔

ایک صاحب سہمے ہوئے بیٹھے تھے‘ چہرہ پسینے میں تر تھا اور بار بار پانی پی رہے تھے۔ ہم نے ماجرا پوچھا تو کانپتی ہوئی آواز میں بولے۔۔رات بہت خوفناک خواب دیکھ بیٹھا ہوں، پتا نہیں بتانا بھی چاہیے کہ نہیں۔ ہمیں تجسس ہوا، تسلی دی اور پوچھا کہ کیا دیکھا؟ ۔۔ان صاحب نے پانی کا ایک اور گھونٹ بھرا اورصوفے پر تھوڑا قریب کھسکتے ہوئے بولے ۔۔کیا بتاؤں، رات خواب میں دیکھا کہ سنی لیون اور میری بیوی میں شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ دونوں اس بات پر جھگڑ رہی ہیں کہ۔۔شوکت میرا ہے۔۔ شوکت میرا ہے۔۔ہم نے حیرت سے شوکت صاحب کی طرف دیکھا ۔۔قبلہ! یہ خوفناک خواب کیسے ہو گیا، یہ تو انتہائی خوبصورت خواب ہے۔ اْنہوں نے ایک جھرجھری سی لی، کانوں کو ہاتھ لگائے اور دائیں بائیں دیکھتے ہوئے انتہائی رازدارانہ لہجے میں بولے۔۔خواب کا خوفناک حصہ تو آپ نے ابھی سنا ہی نہیں۔۔ میری بیوی جیت گئی۔۔یہ بالکل اسی طرح کا معاملہ جیسے بھری عدالت میں جب وکیل نے جرح کرتے ہوئے کٹہرے میں کھڑی خاتون سے سوال کیا۔۔ قتل کے وقت آپ کے شوہر کے آخری الفاظ کیا تھے ؟۔۔کٹہرے میں کھڑی خاتون نے جواب دیا۔۔ انہوں نے کہا کہ میری عینک کہاں ہے شہناز ؟۔۔وکیل نے حیرانی سے پوچھا، تو اس میں قتل کردینے والی کون سی بات تھی ؟۔۔خاتون نے اطمینان سے جواب دیا۔۔کیوں کہ میرا نام رضیہ ہے۔۔وہ مثل بھی آپ نے سنی ہوگی کہ رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی، اسی پر پڑوسی ملک نے گانا بھی بناڈالا۔۔لیکن کبھی کبھی انسان خود بھی پھنس جاتا ہے۔۔جیسے خاتون خانہ کو نصف شب جب پیاس لگی تو پانی پینے کے لیے اْٹھی ،اچانک ایک چڑیل کو دیکھ کر ڈر گئی ،اتنا ڈری کہ پورے ایک ہفتے تک بخار میں مبتلا رہیں۔۔ڈاکٹر چیک اپ کرنے آیا،میڈیسن دی۔۔اور جاتے ہوئے شوہر کو وارننگ بھی دیتے ہوئے کہا۔۔کچن میں لگا شیشہ اْتار لیں، اگر یہ پھر سے ڈر گئی تو اس کا بچنا نا ممکن ہے۔۔

ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے۔۔آج کل کی بیویاں خاوند کو اس طرح بلاتی ہیں جیسے چھوٹے بچے کو ۔۔اتنا بے تکلفانہ اندازہوتا ہے کہ بس دھوکا ہی ہوجاتا ہے، انجان بندہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ مخاطب شخص شوہر ہے یا کچھ اور۔۔ایک خاتون کہنے لگیں،میں اس ’’فہد‘‘سے بہت تنگ ہوں، پریشان کر رکھا ہے اس نے، اتنا گند ڈالتا ہے کہ کمرے کا حشر بگاڑ دیتا ہے۔۔ہم ہمدردی سے بولے، بس جی آج کل کی اولاد ہے ہی نالائق۔۔خاتون کے تیور اچانک خراب ہوگئے، غراتے ہوئے کہنے لگیں۔۔ہائے دماغ تو ٹھیک ہے؟؟ فہد اولاد نہیں،میری اولاد کا پپا ہے۔۔اب آپ ہی بتائیں اس میں ہمارا کیا قصور،ہمیں تو جو لگا،سو کہہ دیا۔۔ویسے آج کل کے میاں،بیوی انتہائی محبت کا اظہار کرتے ہوئے بات چیت بھی ایسے کرتے ہیں کہ اچھا خاصا بندہ بھی دھوکا کھاجائے۔۔معلوم ہی نہیں ہوتا کہ لاڈ بچوں سے ہورہا ہے کہ آپس میں ہورہا ہے؟؟۔۔مائے بے بی۔۔مائے شونا۔۔مائے سوئٹی۔۔شونومونو۔۔ایک بار ایک شادی کی تقریب میں ایک فیملی کی طرف ہماری پشت تھی۔ان میں سے ایک صاحب بار بار کہہ رہے تھے۔۔بے بی ، تم کھاناکھاؤ، مجھے پریشان نہ کرو۔۔ہم نے ازراہ ہمدری کہا، بھائی آپ کھانا کھا لیں، بے بی ہم پکڑلیتے ہیں۔۔ بس اچانک کمر پر گھونسا پڑا،اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔۔

ایک دراز قد لڑکی سے منگنی کیلئے گئے ہوئے لڑکے کو جب اس کے ہونے والے سسر نے حق مہر ایک لاکھ ریال بتایا تو وہ بول ہی پڑا۔۔ بابا، کتنے کی میٹر لگائی ہے تو نے اپنی لڑکی؟۔۔ایک ڈھول والا شادی میں ڈھول بجا رہا تھا ،ڈھول کے دونوں طرف دو مختلف عورتوں کی تصویریں تھیں۔۔یہ دیکھ کر ایک بزرگ نے اس سے پوچھا ۔۔خوبصورتی کے پجاری لگتے ہیں ۔۔ڈھول والا مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔پجاری جیسی کوئی بات نہیں۔۔ڈھول کے ایک طرف میری ساس کی تصویر ہے،دوسری طرف آپ سمجھ گئے ہوں گے، گھر میں یہ موقع نہیں ملتا، اس لئے یہاں دے دھنادھن۔۔۔ ساسوں سے متعلق یہ نظریہ عام ہے کہ انہیں اپنی بیٹیاں،بیٹیاں لگتی ہیں اور بہوئیں ’’غلام‘‘، ساس کبھی بہو کو بیٹی تسلیم ہی نہیں کرتی، (یہ ہم اکثریت کی بات کررہے ہیں) حالانکہ ساس بھی کبھی بہو تھی۔۔شوہروں سے پوچھوتو وہ بتاتے ہیں کہ ساس ہی اپنی بیٹی کو خوب سکھاتی ہے۔۔ایک ماں نے رخصتی کے وقت بیٹی کو نصیحت کرتے ہوئے کہا۔۔ دیکھو بیٹی شوہر کا خیال رکھنا اسے ناراض نہیں کرنا،اگر شوہر روٹھے تو رب روٹھے،اگر دوسری بار روٹھے تو دل ٹوٹے۔

اگر تیسری بار روٹھے تو جگ چھوٹے،اور اگر بابار روٹھے تو نکال ڈنڈا اور شروع ہو جا جب تک ڈنڈا نہ ٹوٹے۔۔۔ایک عورت نے ایک دن اپنے شوہر کا موبائیل چیک کیا،جس میں نام کچھ اس طرح ’’محفوظ‘‘ کئے گئے تھے۔۔آنکھوں کا علاج۔۔ہونٹوں کا علاج۔۔دل کا علاج۔۔بیوی نے نہایت غصے میں اپنا نمبر ڈائل کیا تاکہ اسے پتہ چلے کہ اس کا نمبر کس نام سے ’’سیو‘‘ کیاگیا ہے۔۔موبائل اسکرین پر ایک دم سے آیا۔۔لاعلاج۔۔

کنجوسی کے حوالے سے جیسے پنجاب میں شیخ مشہور ہیں اسی طرح کراچی میں میمن برادری بڑی شہرت رکھتی ہے۔۔شیخ صاحب نے اپنی بیگم سے خوش ہوتے ہوئے پوچھا۔۔ بتاؤ کیا تحفہ لینا ہے، نقد پیسے یا پھر میرا نیا موبائل؟۔۔ بیگم صاحبہ جانتی تھی کہ شیخ صاحب سے پیسے مانگ لیئے تو بات سو دو سو سے زیادہ نہیں بڑھنے والی، سوچ سوچ کر کہا۔۔ تم مجھے اپنا نیا موبائل دیدو۔۔ شیخ صاحب نے کہا۔۔ لکھ لو، صفر تین سو، سات تین چار 150 150 (شیخ صاحب کا نیا موبائل نمبر۔۔)۔۔۔کراچی میں ہمارے ایک میمن دوست نے گھر دعوت پر مدعو کیا۔۔دسترخوان بچھا،دیکھا تو صرف ابلے ہوئے چاول تھے۔۔کھانا شروع ہوا تو تھوڑی دیر بعد میمن کی بیوی نے دستک دی اور بولی مرغی لے آؤں؟؟ہمارے دوست نے کہا، ابھی نہیں۔۔ہمیں بہت برالگا، مروت کے مارے خاموش رہے۔۔تھوڑی دیر بعد پھر میمن کی بیوی بولی! مرغی لے آؤں ؟ ہم سے رہا نہ گیا،اپنے دوست کو کہا،آنے دو لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔۔چاول جب ختم ہوگئے تو میمن دوست نے خود آواز لگائی۔۔بیگم،اب لے کر آجاؤ مرغی۔۔جب مرغی لائی گئی تو دیکھا کہ زندہ مرغی ہے۔ ۔ہم حیران ہوگئے،پوچھایہ ماجراکیا ہے؟؟۔۔ ہمارے دوست کہنے لگے۔۔ یار، یہ دستر خوان سے گرے ہوئے چاول چننے کے لیے رکھی ہے۔ آپ جو سوچ رہے ہیں ایسا کچھ نہیں۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔ شدید گولہ باری کی وجہ سے لڑکی کی شادی ملتوی کرنا پڑی۔۔دوسری بار دولہا کا گھر تباہ ہو گیا تو شادی ملتوی کرنا پڑی۔۔پھر شادی بالکل ہی ملتوی ہو گئی کیونکہ دولہا شہید ہو گیا تھا۔۔۔ اور یہ صرف ’’شام‘‘ میں ایسا ہو تا ہے۔


ای پیپر