ووٹر کا محدود اختیار
30 جون 2018 2018-06-30

انتخابی میدان میں اترنے کے لئے امیدواران کو کئی مراحل درپیش ہیں بادی النظر میں تو یہ اک ’’ پل صراط‘‘ پار کرنے کی مشق دکھائی دیتی ہے، تاہم احتجاج بغاوت اور دھرنے کے سائے میں ٹکٹوں کی تقسیم کا مرحلہ بالآخر مکمل ہوا اب ان میں سے کچھ کو نااہلی کا بھی سامنا ہے، اس سے نجات پانے کیلئے وہ آخری حد تک جانے کو تیار ہیں تاکہ انتخاب میں حصہ لینے کی خواہش پوری ہوسکے ۔ا س وقت امیدواران کی حالت ویسے بھی دیدنی ہے جنہیں اک طرف نیب کے دروازے پے حاضری دینی پڑرہی ہے تو دوسری طرف عدالت کے درپے دستک ۔اس سے زیادہ خفت تو انہیں اپنی انتخابی مہم کے دوران اٹھانا پڑرہی ہے جہاں عوام ان سے گذشتہ پانچ سالوں کا حساب کتاب مانگ رہے ہیں انہیں ووٹرز کی جانب سے جلی کٹی بھی سننی پڑرہی ہیں۔

یہ امیدواران اب عوامی دکھوں میں شریک ہونے کیلئے گھر سے نکل پڑے ہیں اس وقت ہرامیدوار اک دوسرے سے سبقت لینے کی کاوش میں مصروف اور منصوبہ بندی کررہا ہے کہ کس طر ح وہ کسی کی تعزیت میں بروقت پہنچے ،کسی کی شادی میں شریک ہو،کسی کی مدد کو دوڑ کر آگے لپکے، کسی پہ دست شفقت رکھے اور ساتھ ہی اپنی درخواست بھی پیش کرے گویا اس مہم کو ’’ اک پنتھ دو کاج‘‘ کی عملی شکل دینے میں مصروف ہے چونکہ متوقع انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہورہے ہیں اس لئے اس ’’ کارخیر ‘‘ میں پارٹی قائدین بھی شریک ہیں۔زیادہ سبکی تو ان امیدواران کی ہورہی ہے جنہوں نے گذشتہ انتخابات میں ووٹ لیکر پھر اپنے حلقہ کا رُخ نہیں کیا اب تو سندھ کے عوام نے بھی وڈیروں کی خبر لینی شروع کردی ہے۔اس سارے عوامی رویہ سے امیدواران کو یہ احساس تو ضرور ہوا ہوگا یہ اسی کی دہائی کا زمانہ نہیں۔دل پے پتھر رکھتے ہوئے اس رویہ کو برداشت کرنے کی بڑی وجہ میڈیا کی آزادی ہے کیونکہ انکی غیر معمولی حرکت فورا سوشل میڈیا کا حصہ بن جاتی ہے اس لئے تندوتیز جملوں اور تنقید کو برداشت کرنا ’’ بیچاروں ‘‘ کی اخلاقی مجبوری ہے۔ ہم نے جب ٹکٹوں کی تقسیم پر طائرانہ نظر دوڑائی تو ماضی کے دریچوں میں کھو گئے ہمیں وہی چند معدودے خاندان ہی اس سیاسی کھیل کے کھلاڑی دکھائی دیئے جن کے آباواجداد ساٹھ کی دہائی میں اس ’’ عوامی خدمت ‘‘ پے مامور تھے اب ان کے چشم و چراغ یہ فریضہ انجام دے رہے ہیں فرق اگر ذرا دکھائی دیتا تو صرف پارٹیوں کا ہے اگر چہ عوامی سطح پر اس عمل کو ناپسند کیا جارہا ہے لیکن اس کے سدباب کیلئے خود سیاسی جماعتوں نے کوئی متفقہ لائحہ عمل اختیار نہیں کیا جس امیدوار کو اپنی من پسند کی پارٹی ٹکٹ نہیں ملی وہ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے چلا ہے دوسری اہم بات جس کاتذکرہ سوشل میڈیا پر بھی ہے کہ بہت سے امیدوار اک سے زائد حلقوں سے قسمت آزمائی کررہے ہیں اک سے زائد حلقہ جات میں کامیابی کی بدولت ضمنی انتخابات میں اسکے اخراجات قوم ہی کو برداشت کرنے ہیں۔ بھارت میں اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے امیدوار زیادہ سے زیادہ دو حلقوں سے انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے ان انتخابات کی اہم بات یہ ہے کہ کسی بھی قابل ذکر جماعت کی جانب سے باقاعدہ سیاسی منشور کے تحت انتخابات میں شرکت نہیں کی جارہی وہی روایتی طفل تسلیاں قوم کو دی جارہی ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے اس غیر جمہوری رویہ ہی کی برکت ہے کہ انتخابات میں ٹرن آؤٹ بتدریج کم ہورہا ہے وہی روایتی چہرے ہر پارٹی کی ڈرائیونگ سیٹ پے براجمان ہوتے اور نئی پارٹی میں شمولیت پے نئے دعوی اور وعدے کرتے ہوئے عوام کو بیوقوف بنارہے ہیں اس ماحول نے انتخابات میں عوامی دلچسپی کو محدود کردیا ہے۔

انتخابات میں عوامی شرکت کااک نسخہ یہ بھی ہے کہ ووٹر کے محدود اختیار کو لامحدود میں بدل دیا جائے اسکے پاس آپشن موجود ہو کہ وہ اگر کسی امیدوار یا جماعت کو ووٹ نہیں دینا چاہتا تو الیکشن کمیشن بحیثیت شہری اسے یہ جمہوری حق استعمال کرنے کاموقع فراہم کرے اسی طرح کی روایات پوری دنیا میں رائج ہے حتیٰ کہ جنوبی ایشیاء میں مختلف شکلوں کے ساتھ نافذ العمل بھی۔ الیکشن کمیشن بیلٹ پیپر میں اک اضافی خانہ بنائے جس میں NOTAلکھا ہوا ہو جو None of the above کا مخفف ہے یا اردو میں لکھا جاسکتا ہے ’’ ان میں سے کسی کو بھی نہیں ‘‘ اس مشق سے وہ ووٹر بھی پولنگ اسٹیشن کا رخ کرے گا جو محض اس لئے گھر بیٹھا رہتا ہے کہ وہ اپنے حلقے کے کسی امیدوار یا پارٹی کو ووٹ نہیں دیناچاہتا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 2013ء میں الیکشن کمیشن نے یہ تجویز اس وقت کے وزیراعظم کو دی تھی تاکہ صدر کی منظوری کے بعد آرڈیننس کے ذریعہ فرمان جاری ہوجائے اور الیکشن کمیشن کیلئے اس پر عمل درآمد آسان ہوجائے لیکن ارباب اختیار نے اس تجویز کو اپنے لئے خطرہ محسوس کیا یہ داخل دفتر ہوگئی۔ فرانس ، چلی، یوکرائن، برازیل اور امریکہ کی چند ریاستوں میں اس طرز کی سہولت ووٹرز کو فراہم کی جارہی ہے

ہماری رائے میں اس عمل سے نہ صرف ٹرن آؤٹ بہتر رہے گا بلکہ جعلی ووٹوں کا عمل کافی حد تک رک جائے گا اور پھر عوامی رائے کی روشنی میں آئندہ سیاسی اور انتخابی راہ متعین کرنے میں آسانی ہوگی ، جمہوری عمل میں عوام کی بھرپور شرکت بھی۔ امیدوار اور سیاسی جماعتوں کو اپنی اپنی حیثیت کا اندازہ ہوسکے گا اور اسکے نتائج جمہوری کلچر کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوں گے۔الیکشن کمیشن بیلٹ پیپرز کی تیاری میں مصروف ہے اگر وہ شفاف ، صاف انتخابات کا داعی ہے تو اسکی ذمہ داری ہے کہ وہ پوری قوم کو انتخابی عمل میں شریک کرے۔ہمارے ہاں عمومی روایت یہی رہی ہے کہ عوام کی غالب اکثریت گھروں میں مقیم اورووٹ ڈالنے کے عمل میں شریک نہیں ہوتی اور کم ٹرن اور کے باوجو امیدوار کو عوامی نمائندگی کا حق تفویض کردیا جاتا ہے اور اس فعل ہی کو ’’ جمہوریت ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔اگرچہ انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں نے انتخابی اصلاحات کے لئے عملًا شریک ہوکر تجاویز الیکشن کمیشن کے سامنے رکھی تھیں لیکن موجودہ سیاسی ماحول، ٹکٹوں کی تقسیم ’لوٹا کریسی ‘‘ کو دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ متوقع انتخابات بھی روایتی طرز پر منعقد کیے جارہے ہیں نہ تو ووٹر کو لامحدود اختیار ہے نہ ہی سیاسی جماعتوں یا امیدواران کی کامیابی کے لیے ووٹوں کے حصول کی شرح مقرر کی گئی ہے اس نام نہاد جمہوری مشق سے صرف چہروں کی تبدیلی ہی ممکن ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ جو الیکشن کمیشن کی توجہ چاہتا ہے وہ سرکاری ملازمین کے ووٹ کا ہے ان کوووٹرز کو بھی محدوداختیار حاصل ہے محکمہ تعلیم ، صحت دوبڑے ادارے ہیں اس کے علاوہ دیگر محکمہ جات ہیں، علاوہ ازیں مسلح افواج، محکمہ پولیس ، سیکورٹی فورسز کے شعبہ جات ہیں ان میں سے غالب تعداد الیکشن ڈیوٹی پر متعین ہوتی ہے پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا عمل انتہائی غیر شفا ف ہے زیادہ مناسب تھا کہ الیکشن کمیشن اس ذریعہ کو فی زمانہ جدید تر بنانے کی سعی کرتااور بائیو میٹر ک کے ذریعہ اس کا اہتمام ا ور شفاف انداز میں لاکھوں کی تعداد میں ووٹ کاسٹ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے ،خدشہ ہے کہ مقتدر طبقہ اپنی خواہش کے مطابق حسب روایت اس ووٹ سے نتائج کو بدلنے کا فریضہ انجام دے گا حالانکہ سماج کا یہی پڑھا لکھا طبقہ ووٹ کے صحیح استعمال کا شعور رکھتا ہے۔اگر ماضی میں ووٹر کے اختیار کو محدود نہ کیا جاتا انہیں بیلٹ پیپر کے ذریعے مکمل اظہار رائے کی آزادی کا حق دیا جاتا تو آج انتخابی مہم کے دوران امیدواران کو شرمندگی کا سامنا نہ کرناپڑتا۔ نگران حکومت بیلٹ پیپرمیں اضافی خانہ کے ذریعہ ووٹر کو ہمہ قسم کے حق انتخاب کا موقع فراہم کرے۔


ای پیپر