تمہیں حال پوچھنا نہیں آتا
30 جون 2018 2018-06-30

پاکستان پیپلز پارٹی نے اب جب عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ تو اپنا انتخابی منشور پیش کر دیا ہے۔ جس میں اس کا پرانا نعرہ روٹی کپڑا اور مکان بھی شامل ہے ۔ علاوہ ازیں اس میں ٹریڈ یونین پر سے پابندیاں ہٹانے کا بھی ذکر کیا ہے صحت، انصاف ، خود انحصاری اور لانگ ویج کا پیکج بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ زراعت میں بہتری لانے سے متعلق درج ہے کہ اسے بہتر بنانے کے لیے اقدامات کئے جائیں گے۔ اس منشور کے صفحہ دوم پر چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے ایک پیغام بھی دیا ہے کہ آزادی کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے یعنی تفریق سے آزادی، استحصال سے آزادی، محرومیت سے آزادی ، ان آزادیوں کا تحفظ ہو تو ہی قومیں خوشحال ہو سکتی ہیں۔!

بظاہر پی پی پی کا ‘‘منشور‘‘ عوام دوست دکھائی دیتا ہے۔ اور اس سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ پی پی پی نئے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ عوام کو غربت ، بے روزگاری اور جہالت کے عنبور سے چھٹکارا دلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ شاید اسے احساس ہو چکا ہے کہ موجودہ دور میں عوام کو کچھ دینا لازم ہو گیا ہے۔ اور اگر اس پہلو سے چشم پوشی اختیار کی جاتی ہے تو عوامی ردعمل شدید ہو سکتا ہے۔ جس کی جھلک وہ پی پی پی کے امیدواروں کے اپنے حلقوں میں داخل ہونے پر ان کی خاطر تواضع کی شکل میں دیکھ رہی ہے۔ لہٰذا اس نے سوچا ہو گا کہ جب تک عوام کو مطمئن نہیں کیا جاتا ان کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ نہیں دی جاتی وہ ان کو اپنے دل میں جگہ نہیں دیں گے۔ سو ضروری ہے کہ انہیں چند سہولتیں اور کچھ حقوق دے دیے جائیں۔ تاکہ وہ ایک بار ان کی آنکھوں کا تارا بن جائے۔۔۔ مگر معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ لوگوں میں اس کے لیے ہمدردی کے جزبات کا زبردست فقدان ہے ۔ کیونکہ وہ اس صوبے میں عوامی خدمت کی مثالیں قائم نہیں کر سکی اگر کی ہیں تو اسے منظر عام پر لائے جس سے معلوم ہو سکے کہ وہ ایک عام لوگوں کی جماعت ہے اور ان کے لیے متفک رہے۔۔۔ مگر نہیں حاصل معلومات کے مطابق وہ ہاریوں مزارعوں اور کمی کمینوں کی حالت تبدیل کرنے میں کانام رہی ہے۔ مشکلات ان کی بدستور موجود ہیں۔ انہیں انصاف کی ایک بوند بھی فراہم نہیں کی گئی۔۔۔ ان پر وہی رعب دار لہجوں کے مالک وڈیرے سائیں اور سردار مسلط ہیں جو پہلے تھے وہ ان کے ساتھ جانوروں جیسا برتاؤ کر تے ہیں اور جبراً ان سے ووٹ لیتے ہیں وہ چونکہ خود کو بے بس لاچار اور مظلوم تصور کرتے ہیں۔ لہٰذا سر جھکا کر تیر پر مہر لگا دیتے ہیں۔ حیرت یہ ہے کہ آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور ان کے رفتاء اسے عین جمہوریت کہتے ہیں۔۔۔ جناب خورشید شاہ جو جمہوریت کے لیے تڑپ اٹھتے ہیں اپنے ووٹروں سے کس طرح مخاطب ہوتے ہیں اور انہیں کس قدر عزت و احترام دیتے ہیں۔ بتانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ وہ خود ہی کسی ٹی وی پروگرام میں بتا دیں تو ان کی مہربانی ہو گی۔۔۔؟ سوال یہ بھی ہے کہ جب پی پی پی بھٹو والی تھی تو وہ روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو عملی جامہ نہیں پہنا سکی تو اب جبکہ عالمی معاشی حالات جو وطن عزیز پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں کیسے عملی جامہ پہنائے گی۔۔۔ چلیے ہو سکتا ہے اس کے پاس کوئی الادین کا چراغ ہو ۔۔۔ پھر اپنے عمران خان کے پاس بھی یہ چراغ ہو گا اسی تناظر میں وہ کروڑوں نوجوانوں کو نوکریاں دینے کا اعلان کر چکے ہیں لہٰذا عوام ادھر کا رخ کیوں نہ کریں اب تو انہوں نے آٹھ ہزار ارب اکھٹا کرنے کا بھی میزائل داغ دیا ہے۔ عجیب مزاج پایا ہے کپتان نے۔۔۔ تنہا پرواز کے خواہاں ہیں۔مخلوط حکومت بنانے کے حق میں نہیں جبکہ کوئی بھی اکیلا حکومت سازی کی پوزیشن میں نہیں ۔۔۔ ان کے ذہن میں یہ بات ہونی چاہیے کہ اگر ان کے سیاسی مخالفین نے مخلوط حکومت بنا لی تو پھر وہ کہاں کھڑے ہوں گے۔۔۔ مگر وہ بولتے پہلے ہیں سوچتے بعد میں ہیں اسی لیے انہیں سخت دشواریوں کا سامنا ہے۔۔۔پہلے وہ دھڑا دھڑ موسمی پرندوں کو ’’پنجرے‘‘ میں بند کرتے رہے اب جب وہ پھڑ پھڑائے ہیں تو انہیں پریشانی لاحق ہو گئی ہے ۔ بہت سے حلقوں میں تحریک انصاف کے کارکنان تقسیم ہو گئے ہیں۔ اس طرح تحریک انصاف کی واضح کامیابی مشکل ہے ۔ شاید اسی لیے کپتان نے حکومت سے متعلق کہا ہے۔۔۔ یہاں میں جاوید خیالوی کا نقطہ نظر بھی پیش کرنا چاہوں گا کہ اب عمران خان کے لیے ان کے منشور کے مطابق کچھ کرنا ممکن نہیں رہا، کیونکہ ان کے ہاں ہوس زر کے شیدائیوں کا جھمگٹا لگ گیا ہے۔ ان کی سوچ غیر عوامی ہے لہٰذا وہ ڈبل شاہ ک پیروکار لگتے ہیں، جو اپنی دولت میں اضافہ چاہیں گے۔۔۔ اگرچہ عمران خان کہتے ہیں کہ لیڈر ہی روشن مستقبل کی راہیں متعین کرتے ہیں اور مخلوق خدا کی فلاح کے لیے فیصلے صادر کرتے ہیں مگر یہ ان کی خوش فہمی ہے وہ جذباتی دنیا کے باسی ہیں انہیں خیالوں میں آگے بڑھنا آتا ہے لہٰذا وہ غلطی کر چکے ہیں۔ جس کا ازالہ کرنا ان کے لیے انتہائی اذیت ناک ہو گا‘‘

بات کا رخ دوسری طرف مڑ گیا پی پی پی کی قیادت کو سمجھنا چاہیے کہ یہ عوام جو اس وقت پختگی کے عمل سے گزر رہے ہیں اکہتر برس میں انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے اور سہا ہے لہٰذا اس سے یہ توقع کہ وہ اس کی ’’ منشوری حکمت عملی‘‘ کا شکار ہو جائیں گے تو یہ پرے درجے کی حماقت ہے یا سادگی ہے لہٰذا اسے جتنی نشستیں ملنی ہیں وہ سندھ اندروں سے شہری حلقوں میں بھی اس کے کامیابی کے امکانات ہیں مگر وہ مٹھی بھر ہوں گی۔۔۔ کیونکہ جی ڈی اے اسے متاثر کرے گا۔۔۔ اسے یہ خیال بھی رکھنا چاہیے کہ پی پی پی اب عوامیت۔۔۔کے مدار سے باہر جا چکی ہے۔۔۔ اس میں حقیقی بھٹو بھی نہیں یہ منشور تو ایک کارروائی کے طور سے پیش کیا گیا ہے۔۔۔ اس پر جہاں عمل نہیں ہو سکتا وہاں یقین بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اب تک زرداری سیاست میں پیچ و خم ہیں وہ قوم کے پکے ثابت نہیں ہوئے۔۔۔ ہاں اگر وہ بلاول کو آزاد کر دیتے تو پھر کہا جا سکتا تھا کہ پی پی پی میں واقعی تبدیلی آ چکی ہے۔ مگر ایسا نہیں ہو سکا۔۔۔ وڈیرا سوچ اس پر غالب ہے جو کسی صورت عوام کو ان کے حقوق دینے کو تیار نہیں ۔۔۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ وہ انہیں انسانوں کا درجہ نہیں دیتی۔۔۔ لہٰذا صورت حال ماضی کی نسبت مختلف ہے مگر نجانے کیوں بلاول جو اب کافی سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ، کو اس امر کا ادراک نہیں کہ وقت کے پنچھی نے اڑان بھر لی ہے۔ اور وہ دھیرے دھیرے ان سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ آ خر کار وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہو جائے گا؟

بہر حال خواب دیکھنا اور دکھانا ہر کسی کا حق ہے لہٰذا پی پی پی کے سربراہ بھی ایسا کر رہے ہیں۔ مگر ’’ اعتماد و یقین ‘‘ عوام پر منحصر ہے جو ضروری نہیں وہ کریں کیونکہ ان کے سامنے پی پی پی کے دس سالہ دور کی ایسی مثالیں موجود نہیں جو ان پر خوشگوار حیرتوں کے در وا کرتی ہوں ۔ لہٰذا ’’ منشور ‘‘ اپنی تمام تر خوبصورتی کے باوجود ایک کونے میں پڑا رہے گا۔۔۔ عوام کی نگاہ اس پر نہیں جم سکے گی۔۔۔ کیا خوب کہا آفتاب جاوید نے ’’ میں کتنے آنسو بہاؤں کہ تمہیں سمجھ آئے کہ تمہیں حال پوچھنا نہیں آتا ‘‘۔


ای پیپر