ملک ریاض کے ہاتھوں سیاستدان کھلونا
30 جون 2018 2018-06-30



سپریم کورٹ نے ملک ریاض کے بحریہ ٹاؤن کو پانچ ارب بطور گارنٹی جمع کرانے کی بھی ہدایت کی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ملک صاحب آپ سے پائی پائی کا حساب لیں گے۔ آپ کے سارے لین دین اور تعلقات کا علم ہے۔
یہ مقدمہ ایک ایسے تاجر کے خلاف ہے جس کے بارے میں تاثر عام ہے کہ اس نے اپنے بے پناہ خزانوں کی بدولت حکومت، افواج ، سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ کی بہت بڑی بڑی شخصیات کو خریدلیا۔ کسی اینکر نے درست کہا کہ ملک ریاض ملک کے ہر شخص اور ادارے کو بکاؤ مال سمجھ کر اس کا مول لگاتا اور اس سے کام لیتا تھا۔ یہ مقدمہ عدالت کیلئے چیلنج کی حیثیت بھی رکھتا ہے کہ عدالت پیسے کی طاقت سے پاکستان کے بڑے بڑے لیڈروں کو اپنا نوکر بناکر رکھنے والے ملک ریاض کو کیفر کردار تک پہنچا سکے۔ ملک ریاض کے خلاف تحقیقات ضروری
ہیں کہ اتنا پیسہ ملک ریاض کے پاس کہاں سے آیا۔ اس نے بحریہ کا نام کیسے استعمال کیا۔
اسی حوالے سے چیف جسٹس نے ماضی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گزشتہ الیکشن میں کیا ہوا یہ بھی جانتے ہیں۔ آپ پہلے کسی سے مل کر حکومت تبدیل کرا لیتے تھے۔ حکومتیں بنانے اور گرانے کا کام چھوڑ دیں۔ اب آپ کسی ایسی جگہ نہیں عدالت میں ہیں۔ آپ کو ڈان آپ کے عمل اور لوگوں نے بنایا۔ سب کچھ چھوڑ کر توبہ کر لیں۔
عدالت نے بحریہ ٹاؤن کو پندرہ دن میں پانچ ارب بطور گارنٹی جمع کرانے اور ملک ریاض ان کی اہلیہ اور بچوں کی تمام جائیدادضبط کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ بحریہ ٹاؤن الاٹیز سے وصول رقم کا بیس فیصد عدالت میں جمع کرائے اور اکاؤنٹ کی ماہانہ آڈٹ رپورٹ بھی پیش کرے۔ سپریم کورٹ نے نیب کو نظرثانی فیصلے تک بحریہ ٹاؤن کے خلاف کارروائی سے بھی روک دیا گیا ہے۔
اس سے قبل 4 مئی 2018 کو سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کراچی کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا تھا۔
ملک ریاض حسین کبھی ایک کلرک ہوا کرتے تھے لیکن اب وہ کھرب پتی بن چکے ہیں اور ان کا دولت کمانے کا سفر جاری ہے۔تریسٹھ سالہ ملک ریاض ایک ٹھیکے دار کے گھر پیدا ہوئے اور والد کے کاروبار میں خسارے کے بعد میٹرک پاس ملک ریاض حسین کو کلرک کی نوکری کرنا پڑی۔ بعد میں فوج میں ایک نچلے درجے کے ٹھیکے دار کی حیثیت سے کاروبار کیا۔
پاکستان میں نوے کی دہائی میں جب یکے بعد دیگرے جمہوری حکومتیں گرائی جارہی تھیں تب ملک ریاض نے یہ بھانپ لیا تھا کہ کاروبار میں فوج کا ساتھ بہت سود مند ثابت ہوگا۔کامیابی کا پہلا بڑا قدم وہ تھا جب نیوی نے راولپنڈی کے ہاؤسنگ پراجیکٹ سے توہاتھ کھینچ لیا لیکن وہ اپنا نام اس رہائشی سکیم سے واپس نہ لے سکی۔
ملک ریاض کا تیز دماغ ایک کے بعد ایک منصوبہ بناتا چلا گیا۔ ہاؤسنگ سکیم کے کسی بھی فیز یا سیکٹر کا اعلان ایسی صورت میں کیا جاتا رہا کہ اس سکیم کا زمین پر وجود ہوتا نہ کوئی نقشہ تک ہوتا۔ لیکن اس کے باوجود صرف درخواست فارم خریدنے کے لیے لوگ دیوانوں کی طرح لائن میں لگتے دھکم پیل کرتے اور لاٹھی چارج اور آنسوگیس کے باوجود ہٹنے کو تیار نہ ہوتے۔
سپریم کورٹ میں چلنے والے ملک ریاض کے 42 مقدمات میں سے ایک مقدمہ ڈی ایچ اے گارڈ کے قتل کا بھی ہے جبکہ 11 مقدمات زبردستی اراضی ہتھیانے کے ہیں۔ ڈی ایچ اے گارڈ قتل کے مقدمہ میں ملک ریاض اور اس کے بیٹے علی ریاض نے الزام لگنے کے بعد گارڈ کی بیوہ کو 80 لاکھ روپے کی ادائیگی کر کے زبردستی صلح کی اور اس پر مقدمہ واپس لینے کیلئے دباؤ ڈالا ۔ 11 مقدمات جو اراضی پر قبضہ کے متعلق ہیں ، کہا جاتا ہے کہ ملک ریاض نے یتیموں ، بیواؤں اور غریبوں کی اراضی کو ہتھیا کر بحریہ ٹاؤن کی بنیاد رکھی۔
وہ ملک ریاض جو معمولی سا ٹھیکہ لینے کے لیے دو دو روز تک کسی کیپٹن یا میجر کے دفاتر کے باہر بیٹھا رہتا تھا اب ان سے کہیں بڑے فوجی افسر اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ملک ریاض کے تنخواہ دار ملازم ہیں۔ انہوں نے نو سابق جرنیلوں کو اپنا ملازم بنا رکھا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ملک ریاض نے پاکستان کی مڈل کلاس کی ضروریات کو فوکس کیا اور ان کیلئے ایسی رہائشی سکیمیں بنائیں جو دیگر کے مقابلے میں بہت اعلیٰ معیار کی اور نسبتاً سستی ہیں۔وہ بے شمار لوگوں کی مالی امداد، غریبوں کے علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ بہت سے غریب بچے ان کے تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں۔پاکستان کے مختلف شہروں میں لوگوں کو مفت کھانا کھلانے کے لیے بحریہ دسترخوان لگائے جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ’حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ ہے‘۔ ناجائز طریقے سے کمائی دولت کا معمولی حصہ نیک کاموں پر خرچ کرنے کالا دھن سفید نہیں ہوجاتا۔


ای پیپر