نگران وزیراعلیٰ، پہلا ماہر تعلیم حاکم!
30 جون 2018 2018-06-30



پنجاب کے عوام پہلی بار اُس وقت حیرت زدہ ہوئے جب نگراں وزیراعلیٰ کے لیے ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کا نام سامنے آیا، اور دوسری بار اُس وقت حیرت میں ڈوب گئے جب الیکشن کمیشن نے نہ صرف اُن کا نام فائنل کردیا بلکہ انہوں نے نگران وزیراعلیٰ کا حلف بھی اٹھا لیا۔لیکن ا ب انہیں ذیادہ حیرانی اس وقت ہوگی جب ڈاکٹر عسکری پچیس جولائی کے بعد بھی اقتدار کی غلام گردشوں میں پائے جائیں گے ۔اُن کی تقرری اہلِ پاکستان کے لیے بھی حیرت کا باعث بنی ہے کیونکہ نگران سیٹ اَپ کے لیے حکومت اور اپوزیشن لیڈروں کی نظریں ریٹائرڈ ججوں، ریٹائرڈ بیورو کریٹس اور کاروباری اورسیاسی خاندانوں کے بظاہر نیم سیاسی افراد پر تھیں۔ وفاق اور چاروں صوبوں میں ایک ماہر تعلیم کا نام پہلی بار سامنے آیا تھا اور خیال تھا کہ مقتدر حلقوں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ نام قبول نہیں کیا جاسکے گا اور خود الیکشن کمیشن بھی کسی سابق بیوروکریٹ کے نام پر ہی یکسو ہوگا۔ بہرحال ملکی سیاست میں یہ ایک صحت مند تبدیلی ہے کہ اب وزیراعلیٰ جیسے اہم عہدے پر کسی ماہر ِ تعلیم کا نام سامنے آنے کے بعد قبولیت کی سند بھی پا چکا ہے۔ ورنہ تو صورتِ حال یہ ہے کہ تحلیل ہونے والی پوری قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں کوئی مستند ماہر تعلیم موجود نہیں۔ حد یہ ہے کہ سینیٹ میں ٹیکنوکریٹس کی نشست پر بھی کوئی مستند ماہر تعلیم ، کوئی سابق وائس چانسلر یا ہائر ایجوکیشن کمیشن کا کوئی چیئرمین نظر نہیں آتا۔سیاسی حلقوں میں انھیں کبھی اس قابل نہیں سمجھا گیا۔ ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کا نام تحریک انصاف کی جانب سے آنے سے لوگوں کو مزید حیرت ہوئی، کیونکہ ڈاکٹر صاحب لبرل نظریات کے حامل، ذوالفقار علی بھٹو کے گرویدہ اور پیپلز پارٹی کے سپورٹر سمجھے جاتے ہیں۔ اس لیے گمان گزرتا تھا کہ ناصر کھوسہ کا نام واپس لینے کے بعد تحریک انصاف نے سبکی سے بچنے اور محض خانہ پری کی خاطریہ نام پیش کیا ۔ ویسے یہ بات بھی
بہت دلچسپ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا نام تحریک انصاف نے بھی ماہر ِ تعلیم ہونے کی وجہ سے نہیں دیا۔ کیونکہ اگر کسی ماہر تعلیم ہی کا نام دینا تھا تو پنجاب میں شہرت، تجربے، ناموری اور خدمت کے لحاظ سے تعلیم کے شعبے میں ڈاکٹر عسکری سے بڑے نام موجود تھے۔ مثلا ڈاکٹر خیرات ابن رسا، ڈاکٹررفیق احمد، شیخ امتیاز ،ڈاکٹڑ نظام ،ڈاکٹر خالدآفتاب ،ڈاکٹرمیرا فیلبوس ،ڈاکٹر مجاہد کامران ،ڈاکٹر اکرم چوہدری ،ڈاکٹر بشری متین،ڈ اکٹر طارق صدیقی ڈاکٹر نجمہ نجم ، ڈاکٹر مغیث الدین شیخ،پروفیسر سجاد نصیر ،ڈاکٹر حسن صہیب مراداورڈاکٹڑ فاروق حسنات وغیرہ لیکن لگتا یہ ہے اور قرائن بھی یہی بتاتے ہیں کہ یہ نام کہیں اور سے آیا اور تحریک انصاف نے محض اسے پیش کرنے کا الزام اپنے سر لیا ہے۔
یہ بات انتہائی افسوس ناک ہے کہ نگران وزیراعلیٰ کے لیے صوبے کی دونوں بڑی جماعتوں نے پہلے سے کوئی ہوم ورک نہیں کیا ہوا تھا۔ انتخابات کے اعلان کے بعد بھاگا دوڑی میں جیسے تیسے جو بھی نام آئے کسی سنجیدہ غوروفکر کے بغیر پیش کردیے گئے۔ تحریک انصاف نے پہلے ناصر کھوسہ کا نام پیش کیا جس کے پیچھے بنیادی سوچ یہ کام کررہی تھی کہ وہ نوازشریف کے خلاف فیصلہ دینے والے بینچ کے اہم رکن جسٹس آصف سعید کھوسہ کے بھائی ہیں، اس لیے ازخود یہ تصور کرلیا گیا کہ وہ نوازشریف اور اُن کی جماعت کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے ہوں گے۔ تحریک انصاف کے اہم ترین ذرائع کے مطابق ناصر کھوسہ کا نام جہانگیر ترین نے کپتان کو دیا تھا، جہانگیر ترین جب وفاقی وزیر تھے تو اُس وقت ناصر کھوسہ اُن کی وزارت کے سیکرٹری تھے۔ بعد میں بھی دونوں کے درمیان تعلقات قائم رہے، وہ ایک دیانت دار اور اہل افسر تھے لیکن ان کے تعلقات کا حلقہ شہباز اور نواز کے ساتھ بھی تھا۔ چنانچہ اگر تحریک انصاف ان کے نام پر ڈٹی رہتی تو مسلم لیگ (ن) اس نام کو عملاً خوشی سے اور بظاہر مخالفت کے بعد قبول کرلیتی۔ پنجاب میں اپوزیشن لیڈرمحمودالرشید نے یہ نام کپتان کی ہدایت پر دیا تھا۔ نام پیش ہونے کے بعد پارٹی کے اندر اور دوسرے ذرائع سے اس نام پر تحفظات آنے لگے، چنانچہ کپتان کی ہدایت پر محمودالرشید نے یہ نام واپس لے لیا۔ اس دوران پارٹی اور کپتان کو سبکی سے بچانے کے لیے محمودالرشید پر پارٹی کے اندر سے یہ دباؤ ڈالا گیا کہ وہ میڈیا سے کہہ دیں کہ ناصر کھوسہ کا نام انہوں نے اپنے طور پر پیش کردیا تھا، پارٹی نے ہدایت نہیں کی تھی۔ محمودالرشید جہاندیدہ سیاسی کارکن ہیں، کونسلر سے لیڈرآف دی اپوزیشن تک اپنی محنت اور کام کی بنیاد پر پہنچے ہیں۔ وہ صورتِ حال کو بھانپ گئے اور انہوں نے قربانی کا بکرا بننے سے صاف انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی کو سبکی سے بچانے کے لیے اپنا طویل سیاسی کیریئر کیوں تباہ کریں! اس دوران اخبارات اور سیاسی حلقوں میں یہ بات بھی چلتی رہی کہ محمودالرشید اور میاں شہبازشریف کے درمیان اچھی انڈراسٹینڈنگ ہے اس لیے دونوں نے اپنی اپنی آسانی کے لیے ناصر کھوسہ کا نام دے دیا ہے جو قبول ہوجائے گا۔
حالانکہ یہ نام تو کپتان نے جہانگیر ترین کے کہنے پر دیا تھا۔ بعد میں جب پارٹی نے ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کا نام دیا تو محمودالرشید نے یہ نام پیش کردیا جو آخرکار الیکشن کمیشن کے ذریعے فائنل ہوگیا۔ خیال یہی ہے کہ تحریک انصاف نے یہ نام اپنی سابقہ بدنامی اور تنقید کے پیش نظر جلدی میں پیش کردیا، لیکن باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ بات اتنی سادہ نہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کا نام کسی مقتدر حلقے سے اس خیال کے ساتھ آیا تھا کہ ڈاکٹر صاحب مشکلات پیدا کرنے اور کسی کے ساتھ مڈبھیڑ یا ڈٹ جانے کے بجائے اپنا کام پورا کرکے گھر چلے جائیں گے۔ ڈاکٹر صاحب مزاجاً بھی لڑائی جھگڑے والے آدمی نہیں ۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات میں وہ مشاہد حسین سید اور ائر مارشل اصغر خان کے بیٹے عمر اصغر خان مرحوم کے ساتھی ہیں، اس شعبے کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ باہر کی یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل ہیں اور ریڈیو، پی ٹی وی اور دوسرے ٹی وی چینلز پر بطور سیاسی تجزیہ نگار آتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک وہ راقم کے ساتھ بھی ریڈیو پاکستان کے حالاتِ حاضرہ کے ایک پروگرام میں شریک ہوتے رہے ۔ وہ دھیمے مزاج کے اپنے نظریات پر قائم رہنے والے فرد ہیں اور جھگڑوں سے گریز کرتے ہیں۔ جب شعبہ سیاسیات کے سربراہ تھے تو ڈاکٹر صفدر بٹ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔ انہوں نے لوڈشیڈنگ کی وجہ سے دفاتر میں ہیٹر اور ائرکنڈیشنر چلانے کے اوقات مقرر کردیے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کی پروا نہ کی، شکایت ہوئی تو وائس چانسلر کو کہہ دیا کہ وہ سینئر پروفیسر ہیں اور ہیٹر یا ائر کنڈیشنر کے بغیر کام نہیں کرسکتے ۔ وائس چانسلر کا اصرار تھا کہ ضابطے کی پابندی سب کو کرنا پڑے گی۔ اس پر بات بڑھ گئی اور ڈاکٹر صاحب نے استعفیٰ دے دیا ۔ دعا کریں کہ اس بار اختلاف پیدا ہونے پر ڈاکٹر صاحب استعفیٰ نہ دیں بلکہ اپنے کام کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو دور کریں اور اپنا کام پورا کرکے ہی گھر جائیں۔


ای پیپر