لوٹ جاتی ہے نظر ادھر بھی
30 جون 2018 2018-06-30

جب بیگم کلثوم نواز کی بیماری نے شدت اختیار کی تو اتفاق سے میاں نواز شریف اور انکی بیٹی مریم نواز جہاز میں ہی تھے، چند گھنٹوں بعد وہ بھی ہارے سٹریٹ پہنچ گئے، جہاں ان کے صاحبزادے حسین نواز اور حسن نواز اپنے عملے، ملازمین اور پارٹی وفاداروں کے ساتھ پہلے ہی سے موجود تھے۔ حالانکہ ترقی یافتہ ممالک میں تیمارداروں کے لاؤلشکر کی ضرورت ہوتی ہے نہ اجازت۔ تمام چینلوں پر ان کی بیماری کی خبر بریکنگ نیوز کے طور پر چلی ، آج تک میڈیا اپنے ناظرین اور قارئین کو لمحہ بہ لمحہ ان کی بیماری اور تیمارداروں کے متعلق آگاہ کر رہا ہے ۔ پاکستان کے تمام راہنماؤں حتیٰ کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے دوسرے راہنماؤں نے بھی ان کے لیے دعائیہ پیغامات بھیجے، قوم کو یہ سب کچھ اچھا لگا کہ سیاسی لڑائی اور ذاتی عناد میں فرق ہونا چاہیے۔ مسلم لیگ کے کئی راہنما بیگم کلثوم نواز کی عیادت کرنے لندن پہنچ گئے، گویا انہوں نے میاں نواز شریف اور مریم نواز کو اپنی وفاداری کا یقین دلایا۔ مساجد میں بھی بیگم کلثوم نواز کی صحت و تندرستی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ خصوصی دعائیہ محفلیں بھی منعقد کی گئیں۔ میڈیا میں اسکی تشہیر بھی ہوئی مگر جہاں سابقہ خاتون اوّل کے لیے اتنی دعائیں کی جا رہی تھیں۔ پوری قوم ان کی صحت کے لیے فکر مند تھی۔ وہاں اسی ملک میں جہاں ان کے شوہر تین بار وزیر اعظم رہے جہاں ان کا دیور طویل عرصہ پنجاب کی حکمرانی کرتا رہا جہاں ان کے سمدھی وزیر خزانہ رہے جہاں ان کے خاندان کے لا تعداد افراد ایم این ایز، ایم پی ایز اور وزراء رہے۔ لاتعداد افراد مناسب علاج نہ ہونے، دوائیاں نہ ملنے اور دوسری سہولتیں نہ ملنے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ رہے تھے۔ تھوڑی سی تعداد ہسپتال اور ڈاکٹرز کے پاس پہنچ جاتی ہے ۔ زیادہ تعداد سیانوں سے دم درود اور ٹوٹکوں کے ذریعے اپنے مریض کا علاج کروا کے اپنے آپ کو تسلی دے رہی ہوتی ہے ۔ ان کے پاس اتنے پیسے اور وسائل بھی نہیں ہوتے کہ وہ کسی سرکاری ہسپتال سے بھی اپنے پیاروں کا علاج کروا سکیں۔

الیکٹرونک میڈیا اور انٹر نیٹ پر ایسے مناظر عام طور پر پیش کیے گئے کہ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ ہولڈرز نے کئی کئی کالے بکروں کا صدقہ دیا، ایک صاحب نے اپنے ملازم کو رقم دی کہ وہ بازار سے پانچ کالے بکرے خرید کر لے آئے کہ انہوں نے بیگم کلثوم نواز کا صدقہ دینا ہے ۔ ملازم نے کہا کہ اسکی اپنی بیوی بھی بیمار ہے ، اگر یہ رقم اسے دے دی جائے تو اللہ تعالیٰ اسکی بیوی کی زندگی کے صدقے میں بیگم کلثوم نواز کو صحت دے دے گا، وہ صاحب غضباک ہو گئے۔ اسی دن میڈیا مین انہیں بکروں کا صدقہ دیتے ہوئے دکھایا گیا۔ بیگم کلثوم نواز کو اس وقت علاج کے لیے لندن بھیجا گیا کہ جب انہیں میاں نواز شریف کی نا اہلی سے خابی ہونے والی نشست کے لیے نامزد کیا گیا، ادھر لندن میں ان کا بہترین علاج ہوتا رہا۔ ادھر انکی صاحبزادی مریم نواز نے ان کی انتخابی مہم چلائی اور کامیابی حاصل کی۔ بیگم کلثوم نواز کے دونوں صاحبزادے بھی لندن میں ہی ہیں۔ کہ انہیں برطانوی شہریت بھی حاصل ہے ۔ ان کا کاروبار، جائیداد اور دولت بھی لندن میں ہی ہے ۔ دولت اور وسائل کی فراوانی کی وجہ سے انکا بہترین علاج ہوا۔ اور ہو رہا ہے ۔ مگر تصویر کا ایک رخ اور بھی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں اور طبی سہولیات کی کمی کی وجہ سے ہر سال ایک لاکھ سے زائد ایسے مریض یا نوزائیدہ بچے دم توڑ دیتے ہیں کہ جن کا علاج ممکن تھا مگر مہنگا تھا۔غربت کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھونے والوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سالانہ سے زائد ہے ۔ یہ تو سرکاری اعداد و شمار ہیں۔ شاید بہت کم خوش نصیب ایسے ہوں گے کہ جنہیں علاج معالجہ کی وہ سہولتیں میسر ہوتی ہیں۔ کہ جو امراء اور ارباب اختیار کو میسر ہیں۔ خیال تھا کہ میاں نواز شریف میاں شہباز شریف اور انکی پارٹی کے سرکردہ افراد بیگم کلثوم نواز کی بیماری کے بعد ملک میں علاج معالجے کے نظام کو درست کرنے کا اعلان کریں گے۔ انہیں احساس ہو گا کہ بیگم کلثوم نواز کی طرح ہر فرد اپنے خاندان، اہل خانہ اور پیاروں کے لیے کتنا اہم ہو گا مگر دکھ تو اس بات کا ہے کہ انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کے منہ سے بھی یہ الفاظ نہ نکلے کہ اللہ تعالیٰ بیگم کلثوم نواز کے ساتھ ان تمام مریضوں اور بیماروں کو بھی شفاء بخشے کہ اس وقت زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کسی کو آزمائش میں ڈالتا ہے تو اس میں اس کے لیے کئی خیر کے پہلو بھی ہوتے ہیں مگر یہاں صرف نفسا نفسی ہے ۔ اگرایک نظر ادھر بھی چلی جائے کہ جہاں آج بھی ہزاروں مریض موت کی چاپ سن رہے ہیں تو شاید ہمارے ملک کے تمام سرکردہ افراد کے منہ سے یہ دعائیہ الفاظ نکلیں کہ ’’ اے اللہ بیگم کلثوم نواز کے ساتھ ان لاچار، بے بس، بے کس اور بے سہارا مریضوں کو صحت و تندرستی عطا فرمانا جن کا تیرے سوا کوئی نہیں ہے ۔ جو باہر تو در کنار یہاں بھی اچھے ڈاکٹرز، سرکاری ہسپتالوں یا ڈسپینسریوں سے بھی علاج نہیں کروا سکتے۔ اللہ تعالیٰ غریبوں کی کلثوم نواز کو بھی صحت و تندرستی عطا فرمائے۔ آمین

شخصیت پرستی کے حصار میں مقید قوم کو اپنے اچھے اور بڑے کی بھی تمیز نہیں رہی ہے ۔

مریم نواز اور حسین نواز اپنی ماں کی بیماری کا بتاتے ہوئے ایک دوبار آبدیدہ بھی ہو گئے۔ جب کسی کا پیارا زندگی و موت کی کشمکش میں ہو تو اہل خاز پر کیا گزرتی ہے اس کا حال وہی جانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بیگم کلثوم نواز کو پڑنانی بھی بنایا مگر والدین کسی بھی عمر میں پہنچ جائیں اپنے بچوں کے لیے چھیر سایہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری و نجی ہسپتالوں

کے اندر و باہر ایسے مناظر عام نظر آتے ہیں، یہاں نازک حالت کے مریضوں کے بچنے کے مواقع بھی کم ہی ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے ہسپتالوں میں بھی لا تعداد پاکستانی ڈاکٹرز خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اگرا ن ڈاکٹرز کو پاکستان میں موافق اور سازگار حالات دیے جائیں، مناسب تنخوائیں اور حسب لیاقت پروٹوکول دیا جائے تو شاید کسی بھی اہم شخصیت کو علاج کے لیے بیرون ملک نہ جانا پڑے ان کے تیمارداروں کو لندن کی سڑکوں پر نہ بھاگنا پڑے، انکے علاج پر خطیر رقم نہ خرچ کرنی پڑے، مگر یہ سب کچھ اس وقت ہوتا کہ جب حکمرانوں کے اپنے بچے، جائیداد ، رقم اور کاروبار پاکستان میں ہوتے،پچھلے دنوں اسٹیٹ بینک نے تارکیں وطن کی جانب سے ملک میں بھیجی گئی ترسیلات زر کی تفصیل جاری کی ، بہت اچھا لگتا ہے کہ پاکستانی باہر جا کر محنت کر کے رقم کماتے ہیں اور ان ممالک میں جائیداد بنانے کی بجائے اپنے ملک میں زر مبادلہ بھیجتے ہیں۔ جس سے ملک کی معیشت کو بڑا سہارا ملتا ہے ۔ ہمارے حکمران اپنے ملک سے زرمبادلہ کما کر بیرون ملک بھجواتے ہیں۔ جہاں ان کی اولاد، کاروبار اور جائیداد ہوتی ہے ۔ شاید وہ اپنے آپ کو پاکستان میں تارکِ وطن سمجھتے ہیں۔ ایسا وطن جہاں سے دولت کما کر اپنے وطن بھیجنی ہے تاکہ ان کا بڑھاپا آرام کے ساتھ گزر سکے اور ان کی اولاد کو مالی تفکرات کا شکار نہ ہونا پڑے۔ ان کے اہل خانہ اور پیاروں کو ان ممالک میں تمام سہولتیں میسر ہوں۔ مگر یہ ساری باتیں ان ووٹروں اور سپورٹروں کو سوچنی چاہئیں کہ جو ان کے لیے اپنے جان و مال کاروبار حتیٰ کہ بعض اوقات ایمان کی بھی قربانی دے دیتے ہیں۔ مگر ہمارے انتخابی سیاستدانوں کو اچھی طرح علم ہے کہ عوام کو کیسے بیوقوف بنایا جا سکتا ہے ۔ کیسے گمراہ کیا جا سکتا ہے ۔ بیگم کلثوم نواز کی بیماری کی خبروں نے متوالوں کو اس حد تک متوحش کر دیا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ اور پیاروں کی بیماری بھول کر صرف سابقہ خاتون اول کی صحت کی دعا کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بیگم کلثوم نواز کے ساتھ تمام بے سہارا ، لاچار اور بے کس مریضوں کو بھی صحت کا ملہ عطا فرمائے۔


ای پیپر