Source : Yahoo

پی آئی اے کے جہازوں پر قومی پرچم کی جگہ مارخور کی تصویر لگانے پر پابندی
30 جون 2018 (16:23) 2018-06-30

اسلام آباد:سپریم کوٹ نے پاکستان انٹرنیشل ایئرلائن ( پی آئی اے ) کے جہازوں پر قومی پرچم کی جگہ قومی جانور مارخور کی تصویر لگانے پر پابندی عائد کردی۔ساتھ ہی عدالت نے آڈیٹر جنرل کو پی آئی کا آڈٹ 10 ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے 10 روز میں ٹرم آف ریفرنس (ٹی او آر)مکمل کرنے کی مہلت دے دی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے پی آئی اے کے نقصانات سے متفرق کیسز کی سماعت کی، اس دوران آڈیٹر جنرل جاوید جہانگیر، سابق مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم اور دیگر پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر شجاعت عظیم کے وکیل مرزا محمود احمد نے بات کرنے کی کوشش کی، تاہم چیف جسٹس نے بات کرنے سے روکتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کا مقصد اپنی پوزیشن عوام میں صاف کرانا ہے، میں آپ کو ایک سیکنڈ بھی بات کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گزشتہ 10 برس میں کتنا نقصان ہوا ہے، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ پی آئی اے کا کل خسارہ 360 ارب روپے ہے جبکہ گزشتہ 10 سالوں میں 280 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس نقصان کی وجہ بھی ہوگی اور اس کا کوئی ذمہ دار بھی ہوگا، ہم نے اس بات کا تعین کرنا ہے، آج کی سماعت کا مقصد آڈٹ سے نقصان کا تعین کرنا ہے۔دوران سماعت عدالت میں موجود سابق مشیر ہوا بازی سردار مہتاب نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کے پاس ایئرلائن کا آڈٹ کرنے کی قابلیت نہیں ہے، آپ اس کا پروفیشنل آڈٹ کرائیں، انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن ( ایاٹا) ایئرلائن کا آڈٹ بہتر طریقے سے کرسکتا ہے۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سردار مہتاب آپ کا ایئرلائن چلانے کا کیا تجربہ ہے، آپ کیسے کہ سکتے ہیں کہ آڈیٹر جنرل کے پاس ایئرلائن کے آڈٹ کی اہلیت نہیں، آپ کو گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا پھر آپ کو جگہ دینے کیلئے مشیر لگا دیا گیا جبکہ اب آپ کو ٹکٹ بھی نہیں دے رہے۔

چیف جسٹس کے ریمارکس پر سردار مہتاب نے کہا کہ گورنر کا عہدہ میں نے خود چھوڑا تھا، مجھے ہٹایا نہیں گیا تھا، اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کرتا ہوں ایئر لائن کا ایک روپیہ بھی ضائع نہیں کیا، میں وزیراعلی اور وفاقی وزیر رہا ہوں۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایئر لائن منیجر چلاتے ہیں، وزیر یا مشیر کا متعلقہ شعبے سے ہونا لازمی نہیں۔دوران سماعت آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ رپورٹ کو دیکھتے ہوئے ٹی او آرز جمع کرادیتے ہیں، 360 ارب کو 4 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے معاملے کا تکنیکی جائزہ بھی لینا ہے، پالیسیاں بناتے وقت نیک نیتی اور بدنیتی کا تعین بھی کرنا ہے۔اس پر آڈیٹر جنرل نے کہا کہ اندرون ملک اور بیرون ملک اخراجات کا بھی تعین ہوگا، جس پر عدالت نے حکم دیا کہ آڈیٹر جنرل پاکستان کو 10 ہفتوں میں پی آئی اے کے آڈٹ مکمل کرنے کا حکم دیا، ساتھ ہی ٹی او آر کی تبدیلی کے لیے بھی 10 روز کی مہلت دے دی۔

اس موقع پر عدالت نے کہا کہ اگرچہ آج پیش کردہ ٹی او آرز جامع ہیں، تاہم ان میں ترامیم کی جاسکتی ہیں جبکہ ایم ڈی پی آئی اے تمام متعلقہ دستاویزات آڈیٹر کو دینے کے پابند ہوں گے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ غیر جانبدار اورآزاد آڈٹ ہونا ضروری ہے، اٹارنی جنرل نے بھی آڈیٹر جنرل سے آڈٹ کرانے کی حمایت کی ہے۔اس پر جاوید جہانگیر نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کو کام کرنے دیا گیا تو کام ہوگا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ موجودہ ذمہ داران کی موجودگی میں رکاوٹ پر اٹارنی جنرل کو ٹیم تبدیلی کا کہہ سکتے ہیں، عدالت کا مقصد کسی کو نشانہ بنانا نہیں، عدالت قومی ادارے کی بحالی چاہتی ہے۔اس موقع پر عدالت نے سابق مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل ) سے نکالنے کا مشروط طور پر حکم دے دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ شجاعت عظیم آڈیٹر جنرل کے بلانے پر ضرور پیش ہوں گے، اگر وہ پیش نہ ہوئے تو ان کی جائیداد ضبط کرلی جائے گی۔

دوران سماعت قومی ایئرلائن کے جہازوں پر مارخور کی تصویر لگانے کا معاملہ بھی زیر غور آیا، جس پرسپریم نے جہازوں پر قومی پرچم کی جگہ پر مارخور کی تصویر لگانے پر پابندی عائد کردی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئندہ کسی جہاز پر قومی پرچم ختم نہیں کیا جائے گا، اگر ایسا کیا گیا تو اسے عدالتی حکم عدولی سمجھا جائے گا۔اس موقع پر عدالت نے پی آئی اے کے موجودہ سی ای او مشرف رسول کی تعیناتی کے خلاف درخواست کابینہ ڈویژن کو بھجوادی۔چیف جسٹس نے کہا کہ یہ حکومت کی صوابدید ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں کہ مشرف رسول اس تعیناتی کے اہل ہیں کہ نہیں۔

ساتھ ہی عدالت نے پی آئی اے کے گزشتہ 10 سال کے سربراہان کو مشروت طور پر بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کو ملک سے زیادہ بیرون ملک کاروبار عزیز ہیں، آپ لوگ اپنے کاروبار کو وسعت دیتے رہے ہیں اور پی آئی اے کو تباہ کر دیا ہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 2 ہفتوں تک ملتوی کردی۔


ای پیپر