شعورِ جمہوریت
30 جون 2018 2018-06-30

نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے کہا ہے کہ شفاف اور پرامن الیکشن کرانا نگران حکومت کی ذمہ داری ہے۔ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے بعد کور کمانڈر اجلاس بھی ہوگیا جس میں واشگاف اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ملکی دفاع کیساتھ قومی ذمہ داری بھی فوج نبھائے گی۔ الیکشن کمیشن کی مکمل معاونت کی جائے گی۔ ایسے میں جب ملک کی دو اہم شخصیات تجدید عہد کرتی ہوئی نظر آرہی ہوں تو کم از کم انتخابات کے التواءکی افواہیں اور قیاس آرائیاں دم تو توڑتی نظر آرہی ہیں۔ بیلٹ پیپر کی چھپائی سے لے کر ترسیل تک تمام معاملات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ بیورکریسی میں انتہائی نوعیت کے تبادلے جس میں چیف سیکرٹری سے لے کر پولیس سٹیشن کے محرر تک ہر شخص کا تبادلہ بھی ہر شک کو ختم کررہا ہے۔ دوسری طرف انتخابات کے دن جوں جوں قریب آرہے ہیں سیاسی جماعتوں کے قائدین پر الیکشن کا دباو¿ بڑھتا جارہا ہے۔

لندن میں بیٹھے میاں محمد نواز شریف انتخابات کے انعقاد سے پہلے ہی اسے دھاندلی کے مترادف کہہ رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کو ٹریبیونل کے ذریعے نااہل کرانا ایک ہولناک سازش ہے۔ دانیال عزیز کی پانچ سال کی نااہلی جو دراصل ان کی زبان کی وجہ سے ہی ہوئی میاں نواز شریف کے بیانیے کے مطابق سب کچھ 'پری پلینڈ' ہے۔ ماں کی تیمارداری کے لیے گئی ہوئی ان کی صاحبزادی مریم نواز تو یہاں تک کہہ رہی ہیں کہ مسلم لیگ نون کے رہنماو¿ں کو ایک ایک کرکے نااہل کرنے سے بہتر ہے پوری مسلم لیگ نون کو ہی ایک بار میں نااہل کردیا جائے۔ میاں شہباز شریف کا بیانیہ بھی کچھ خاص مختلف نظر نہیں آرہا۔ ان کی باتوں سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ شاید نون لیگ کو ہی تختہ مشق بنایا جارہا ہے۔ لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے سندھ کے مین اسٹریم لیڈرز کی نااہلی جس میں منظور وسان، نثار کھوڑو اور کئی دیگر شامل ہیں پر بھی سیاسی مو¿قف آنا ضروری ہے۔

آپسی خلفشار کہیں یا انتشار یا پھر ٹکٹ کی تقسیم کے مکینیزم کی خرابی تینوں مین اسٹریم پارٹیاں مسلم لیگ نون، پاکستان پیپلز پارٹی یا پھر پاکستان تحریک انصاف ایک دوسرے سے مقابلہ کم اپنی اپنی جماعتوں کے اندر زیادہ جوج رہی ہیں۔ بلاول ہاو¿س ہو یا ماڈل ٹاو¿ن یا پھر بنی گالا ٹکٹوں کی تقسیم میں ناانصافی اور لوٹا لوٹا کے نعروں سے پارٹی سربراہوں کے گھروں کے گیٹ بجائے جارہے ہیں۔ کسی دروازے پر شنوائی ہو بھی رہی ہے اور اِکا د±کا فیصلے تبدیل بھی ہورہے ہیں۔ زیادہ تر پارٹی سربراہوں کا ماننا ہے کہ الیکشن ایک سائنس ہے اور اسے صرف الیکٹ ایبلز ہی نمٹ سکتے ہیں۔ نظریہ جائے بھاڑ میں موقف تو یہ دیا جارہا ہے یعنی کوئی بھی جماعت نئے تجربے کا رسک لینے کو تیار نظر نہیں آتی۔ کوئی شک نہیں الیکٹ ایبلز کی ایک اپنی اہمیت ہوتی ہے اور آزاد امیدوار اپنا کردار رکھتے ہیں۔ میڈیا الیکشن کی گہما گہمی میں اپنا لائحہ عمل بنا چکا ہے جو روز ہورہا ہے اسے رپورٹ کیا جارہا ہے۔ ایسے میں جب یہ سنتے ہیں کہ پاکستان کی تمام بڑی جماعتیں کاغذاتِ نامزدگی کی اسکروٹنی اور حلف ناموں کے ساتھ ساتھ اثاثوں کی تفصیلات کی فراہمی کے تکلیف دہ نئے تجربہ کی وجہ سے اپنے آپ کو ایک محاصرے میں پاتی ہیں یقین جانیے کانوں کو بہت بھلا لگتا ہے۔

ماضی میں اپنے اپنے لیڈروں کے اثاثوں کا ذکر لطیفوں کے طور پر کرنے والی عوام کو کہاں پتہ چلنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا بنی گالا کا گھر 300 کنال کا ہے جس کی مالیت 75 کروڑ روپے ہے۔ انکے ذرائع آمدن زراعت، بطور رکن قومی اسمبلی تنخواہ اور بینک منافع ہے جبکہ 168 ایکڑ زرعی زمین کے مالک اور فارن اکاو¿نٹس کے ہولڈر بھی ہیں۔ موصوف نے گذشتہ سال 3 لاکھ روپے زرعی ٹیکس ادا کیا۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین 75 کروڑ کے مالک ہیں جبکہ ملکی اور غیر ملکی جائیدادیں اس کے علاوہ ہیں۔ 349 ایکڑ زرعی اراضی، اسلحہ بھی رکھتے ہیں اور کروڑوں کا لائیو اسٹاک بھی ملکیت میں ہے۔ ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نہایت خوش قسمت ارب پتی ہیں ان کے پاس 5 کروڑ روپے نقد، متحدہ عرب امارات کے 2 اقامے اور دبئی میں وِلاز ہیں۔

مسلم لیگ نون کے قائد کی صاحبزادی مریم نواز جو ہمیشہ سے زیر سر پرستی رہی ہیں اس بار 84 کروڑ کی مالک نکلیں۔ ان کے پاس 1506 کنال کی زرعی زمین ہے، 5 ملز میں شیئر ہولڈر ہیں، ایک اور جگہ پر 168 ایکڑ زرعی زمین کی مالک ہیں۔ اثاثوں میں 14 جائیدادیں بھی ظاہر کی گئی ہیں۔ ہاں مگر 17 لاکھ 3 ہزار کا ٹیکس بھی ادا کیا ہے۔

احتساب کے عمل کی سختی کا یقین کہیں یا نااہلی کا خوف اس بار متعدد امیدواروں کے گوشوارے ماضی کے گوشواروں سے بالکل مختلف ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ عوام میں شعور کتنا اجاگر ہوا ہے۔

یہی جمہوریت ہے کہ عوامی نمائندوں سے ان کے حلقوں میں پوچھا جارہا ہے کہ جناب پانچ سال بعد اب کیا کرنے آئے ہو؟ پچھلے وعدوں کا کیا ہوا؟ پاکستان کے ہر صوبے کے ہر شہر اور گوٹھ میں جمہوریت کا یہ ثمر چکھا جارہا ہے کہ اب ووٹ لینے کا حقدار وہ ہوگا جو کارکردگی کی بنا پرحلقے میں آئے گا۔ پچھلے تین الیکشنز کا بغور جائزہ لینے کے بعد یقین ہو چلا ہے کہ شفافیت کے ساتھ انتخابات ہوئے تو یہ قوم کی عظیم توقعات کے عین مطابق ایک بڑا اور غیر معمولی بریک تھرو ہوگا۔

مقابلہ کوئی بھی ہو ایک فریق کی جیت اور ایک کی ہار ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن، عدلیہ، فوج، ایپلٹ ٹریبونلز اور نگران حکومت سب ہی اپنی اپنی حدود میں کام کرنے میں مصروف ہیں۔ بیرونی اور داخلی انتشار اپنی جگہ سیاسی اتحاد تشکیل دیئے جارہے ہیں۔ سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور سولو فلائٹ سمیت بڑی جماعتوں کی جانب سے واضح کامیابی کے دعوے بھی ہورہے ہیں۔ اپنی ہی جماعتوں میں گروپنگ، کارکنوں کی ناراضی، ٹکٹوں کی واپسی سے ہونے والی بدمزگی، احتجاج اور عارضی دھرنے سب ہورہے ہیں۔

لیکن ان تمام سرگرمیوں کا مقصد ایک ہی ہے کہ شفاف الیکشن کے ذریعے جمہوریت کا درخت مزیدپھول پھل بھی دے اور بھی۔


ای پیپر