چار ایڈیٹر
30 جولائی 2020 (10:46) 2020-07-30

مجھے اپنی صحافتی زندگی کی تقریباً 3 دہائیوں کے دوران چار بڑے اور نامور ایڈیٹروں سے واسطہ پڑا ہے۔ آغا شورش کاشمیری مرحوم، اپنی زندگی میں لازوال پیشہ وارانہ عروج پانے والے مغفور مجید نظامی، جنگ کے ایڈیٹر جناب ارشاد احمد حقانی غفرلہ اور خدائے بزرگ و برتر انہیں تادیر سلامت رکھے برادر محترم و مکرم مجیب الرحمن شامی، آغا شورش کاشمیری کے ساتھ پیشہ وارانہ تعلق ہرگز نہ تھا… ان کے اپنے وقت کے ایک کے بعد دوسرا تہلکہ مچا دینے والے ہفت روزہ ’چٹان‘ میں باقاعدہ ملازمت بھی نہیں کرتا تھا… لہٰذا کسی قسم کی تنخواہ یا معاوضہ لینے کا سوال نہیں پیدا ہوتا تھا… لاہور کا مشہور و معروف کافی ہائوس اپنے وقت کا تھنک ٹینک بھی تھا اور روزانہ نت نئے جنم لینے والے سیاسی مباحث مستند اور غیر مستند خبروں کا مرکز بھی … یوں کہئے کہ آج کے سوشل میڈیا کی ضروریات پوری کرتا تھا… یہاں سے جنم لینے والی خبر یا افواہ پاکستان کے اکناف میں پھیل جاتی تھی… ایوان ہائے حکومت سے لے کر اخبارات کے دفاتر تک میں زیربحث آتی تھی اور حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی لن ترانیوں کے برعکس مال روڈ لاہور کے کافی ہائوس سے جنم لینے والی خبر کے ذرائع کہیں زیادہ مستند ہوتے تھے… صرف لاہور نہیں پاکستان بھر کے سربرآوردہ دانشور، صاحبان علم، ادیب و شاعر حضرات اور چوٹی کے صحافی جب فراغت کے لمحات پاتے یا انہیں لاہور آنے کا موقع ملتا کافی ہائوس میں آن بیٹھتے… چائے کے ہاف یا فل سیٹ کا آرڈر دیا جاتا… تازہ دم چائے اور سگریٹوں کے دھوئوں کے مرغولوں میں بے تکان شروع ہو جاتے… تازہ ترین معلومات کا انبار لگ جاتا… جاندار تجزیے پیش کیے جاتے… اس زمانے کے معمر دانشور تقسیم پہلے کی یادداشتوں کو تازہ کرتے اور یہ صاحبان علم و ذکا مل کر خوب رونق لگاتے… ملک بھر کی اعلیٰ اور سنجیدہ محفلوں میں باقاعدہ حوالہ دیا جاتا کہ یہ بات، خبر اور نکتہ یا اندر کی بات کافی ہائوس سے سننے کو ملی ہے… بس اسی ایک حوالے کو کافی حد تک مستند خیال کیا جاتا تھا کہ اس میں کوئی نہ کوئی صداقت کا پہلو ضرور ہو گا… ایک مرتبہ وزیراعظم کی حیثیت سے ذوالفقار علی بھٹو لاہور کے ہوائی اڈے پر اترے اور سامنے کھڑے منتظر صحافیوں سے طنزیہ لہجے میں یہ سوال کیا آج کل کافی ہائوس میں میری حکومت کے حوالے سے کیا خبر گردش کر رہی ہے… سنتے ہیں قیام پاکستان سے پہلے یہ ریسٹورنٹ انڈیا کافی ہائوس کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا تھا… تب بھی اس کی آب و تاب وہی تھی جو تقسیم ملک کے بعد پہلے چالیس برس تک کافی ہائوس کے نام پر رہی… ہر مکتب فکر کے دانشور اور صحافی و ادیب یہاں آ کر بیٹھتے تھے… ایک کونے میں نامور سوشلسٹ یا خود کو ترقی پسند کہنے والے کارکن دھواں دار بحثیں اور نکات اٹھا رہے ہوتے تھے اور دوسری جانب حلقہ ارباب ذوق سے تعلق رکھنے والے ادب برائے ادب یا ادب برائے زندگی کے علمبردار ایک دو میزوں کے گرد براجمان ہوتے تھے تیسری جانب اسلام پسندوں کی ایک چھوٹی سی ٹولی بھی آن بیٹھتی تھی… بقیہ کرسیوں پر مختلف سیاسی جماعتوں کے صف اوّل کے کارکن اپنی اپنی جماعت کا نقطہ نظر پیش کرنے کے لئے حاضر مجلس ہوتے تھے… ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں، مَیں نے پنجاب یونیورسٹی سے علم سیاسیات کا فائنل امتحان دیا… بے روزگار تھا… کافی ہائوس کی شہرت سن رکھی تھی… جی میں شوق چرایا چل کر وہاں کی محافل کے مزے لوٹیے… باخبر رہیے اور فکر و خیال کی آبیاری کیجیے… مجھے کوئی جاننے والا نہیں تھا ماسوائے ذوالقرنین نامی درویش صفت اور فقرمنش انسان کے… جو صاحب مطالعہ ہونے کے ساتھ بلا کی ذہانت کا مالک تھا… گفتگو کرتا تو الفاظ اور فقرے اس کی لونڈیاں نہیں ہوتے تھے بلکہ قوت استدلال اور فلسفیانہ لہجہ لئے ہوئے علم کلام کے نکات غلاموں کی طرح ہاتھ باندھے اس کے سامنے کھڑے ہوتے تھے… لب ہلاتا تو بڑے بڑے جغادری دانشوروں کو اپنا نقطہ نظر اور تجزیہ سننے پر مجبور کر دیتا… آغا شورش کاشمیری اس جواں عمر کے جو دانش کا آگ بگولہ تھا، بڑے قائل تھے… وہ بولتا تو ہمہ تن گوش ہو جاتے تھے… ورنہ ان کے آگے لب ہلانے کی کس کو مجال ہوتی تھی… ذوالقرنین مرحوم نے میرا تعارف آغا صاحب سے کرایا… مجھے بین الاقوامی امور پر طالبعلمانہ قسم کی دسترس حاصل تھی… میں کبھی کبھار ان کے بارے میں حالات حاضرہ پر اپنا تجزیہ پیش کر دیا تھا… قومی موضوعات کو بھی سمیٹ لیتا تھا… پھر ایسا ہوا آغا صاحب گاہے جب ان کے ہفتہ وار کی آخری کاپیاں تیار ہو رہی ہوتی تھیں مجھے اپنے ساتھ دفتر ’چٹان‘ لے جاتے… کافی پلاتے… کبھی کبھار آئس کریم بھی کھلاتے… پھر کہتے بین الاقوامی محاذ پر فلاں مسئلہ عالمی خبروں کا موضوع بنا ہوا ہے… اس پر تفصیلی نوٹ لکھ دو… قلم اور کاغذ میرے ہاتھ میں دے دیتے میں بخوشی تعمیل ارشاد کرتا… چٹان چھپ کر آتا تو ایک لفظ اِدھر کا اُدھر نہ ہوتا… میرا رقم کردہ تجزیاتی نوٹ حرف بحرف چھپ جاتا… میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوتا… والد مرحوم کو دکھاتا تو ان کی جانب سے شاباش ملتی…

یوں میری صحافتی زندگی کی اٹھان کافی ہائوس لاہور کی محافل اور آغا شورش کاشمیری کی جانب سے چٹان میں لکھنے کی حوصلہ افزائی سے ہوئی… انہی محافل کے

دوران اور غالباً ریگل مال کے نزدیک اس زمانے کے مشہور گارڈینیہ ریسٹورنٹ میں مجید نظامی مرحوم سے بھی ملاقات ہوئی… یہ خاموش طبع، سخت مزاج اور پختہ نظریات رکھنے والے نوائے وقت جیسے طاقتور روزنامہ کے چیف ایڈیٹر اور شورش کاشمیری کے قریبی دوستوں میں سے تھے… حمید نظامی کی وفات پر ان کی مسند پر آن بیٹھے اور پرچے کے نظریاتی وقار، اس کی ادارتی پالیسیوں کے رعب داب اور اشاعت میں خوب اضافہ کیا… نظریہ پاکستان سے وابستگی… آئین مملکت کی بالادستی اور جمہوریت کے تسلسل کو بھائی کی طرح اپنی رعب داب والی شخصیت اور اخبار کی پہچان بنایا… آغا شورش کی زبان قینچی کی طرح چلتی تھی… مگر مجید نظامی صرف چہرے پر ابھرنے والے تاثرات اور آنکھوں کی زبان سے ساری بات کہہ جاتے تھے… میں ان کی شخصیت سے خاصا متاثر ہوا… عالمی حالات پر ایک تجزیاتی مضمون لکھا ان کے پاس لے گیا… نظامی صاحب نے لفظ لفظ پڑھا کہنے لگے میرا نہیں خیال تھا تمہیں عالمی حالات پر اتنی گرفت حاصل ہے… ہمارے یہاں باقاعدگی سے لکھا کرو ہم تمہیں معقول معاوضہ بھی دیں گے… اسی وقت حکم دے کر روزانہ اخبارات کی فائل میرے نام جاری کرا دی میں ’نوائے وقت‘ جیسے اخبارات کا باقاعدہ لکھاری بن گیا… اس کے ادارتی صفحے پر یکدم جگہ مل گئی… میں انہیں جو بھی تجویز دیتا، مشورہ پیش کرتا فوراً مان جاتے یا کم از کم اس پر غور ضرور کرتے… لاہور میں میرے دوستوں کا حلقہ اس پر خاصا حیران ہوتا نظامی صاحب جیسے سخت مزاج ایڈیٹر سے کیسے اپنی بات منوا لیتا ہوں… یہاں تک کہ ایک روز میں نے مرحوم کو تجویزدی تھی اور یہ 1991ء کی بات ہے… بھارت میں انتخابات ہو رہے ہیں… اگر آپ اتفاق کریں تو وہاں چلا جائوں… انتخابات کے تازہ ترین جائزوں سے قارئین کو آگاہ کروں… نظامی صاحب کی بھارت دشمنی ضرب المثل کا درجہ رکھتی تھی… انہوں نے ضیاء الحق سے کہا تھا میں تو وہاں توپ کے دھانے پر جانا پسند کروں گا… لیکن مرحوم نے میری تجویز پر فوراً صاد کیا… اپنے خرچ پر بھارت بھیجنے پر آمادہ ہو گئے… خبر پھیلی تو لاہور کے صحافیانہ حلقوں کے لئے خاصے اچنبھے کی بات تھی… بہرصورت جس روز نظامی صاحب کے دفتر کی جانب سے لاہور تا دہلی اور واپسی کی ٹکٹ منگوائی گئی… اسی روز اندرا کے وارث راجیو گاندھی کے قتل کی خبر آ گئی… نظامی صاحب ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوئے یہی ارادہ اگر تم پہلے باندھ لیتے تو بھارت میں معلوم نہیں کیا کچھ ہو جاتا… بہرصورت میں دہلی روانہ ہو گیا… 15 جون 1991ء کو چنائو ہوئے… کانگریس سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی کے طور پر کامیاب ہو گئی… نرسیما رائو کو وزیراعظم مقرر کیا گیا… انتخابات کے اگلے روز میں کانگریس کے دفتر جا پہنچا… اپنا کارڈ اندر بھیجا… انہوں نے فوراً بلوا لیا… کہا ہمارے یہاں ’نوائے وقت‘ کی آراء کو بڑے غور کے ساتھ دیکھا اور پرکھا جاتا ہے… تم اپنے سوالات لکھ کر مجھے دیدو… میں عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد (دکن) کا فارغ التحصیل ہوں… اردو میں ہاتھ سے لکھ کر ہی جواب دوں گا… میں نے فوراً ان کے ساتھ والے کمرے میں بیٹھ کر سولہ کے قریب سوالات لکھ دیئے… اگلے روز گیا تو انہوں نے اندر بلا لیا… تحریری جواب موجود تھا… میری درخواست پر آف دی ریکارڈ گفتگو بھی ہوئی… کچھ سوالات انہوں نے مجھ سے کئے… اگلے روز یہ انٹرویو جلی سرخیوں کے ساتھ ’نوائے وقت‘ میں چھپ گیا… میں پاکستان یا بھارت کا پہلا صحافی تھا… جسے نومنتخب وزیراعظم کا انٹرویو کرنے کا موقع ملا… یوں میرے دورہ بھارت کو بہت شہرت ملی… اس کے بعد 12 دسمبر 1991ء کو جب سوویت یونین سپر طاقت کے حصے بخرے ہونے کا اعلان ہوا تو پروفیسر خورشید احمد کی آئی پی ایس اور مجید نظامی کے تعاون سے میں ماسکو میں موجود تھا… وہاں سے تاشقند، ثمرقند، بخارا اور تاجکستان گیا… اس سفرنامے کی تجزیاتی روداد میری بعد میں چھپنے والی کتاب سوویت یونین کا زوال میں موجود ہے جسے برادر عزیز و دانشور عظیم سلیم منصور خالدنے بڑی محنت اور محبت کے ساتھ شائع کیا… نظامی صاحب کا غصہ دیدنی ہوتا تھا… لیکن میرے ساتھ ہمیشہ شفقت اور احترام کے ساتھ پیش آئے… بہت کم ہوا کہ انہوں نے میرے تجزیے یا کالم کے کسی لفظ کو کاٹا ہو… حالانکہ میں ایسے خیالات کا اظہار بھی کر دیتا تھا جو انہیں پسند نہ ہوتے تھے…

یہاں میں اعتراف گناہ کرتا ہوں مجھے زیادہ پیسوںکی پیشکش ہوئی ’جنگ‘ میں چلا گیا… مگر نظامی صاحب کو باقاعدہ بتا کر اگرچہ وہ ناراض بہت ہوئے… ’جنگ‘ میں ارشاد احمد حقانی مغفور ریذیڈنٹ ایڈیٹر تھے… اپنی جگہ پر بڑا زعم رکھنے والی شخصیت تھے… انہیں اپنے خیالات کی اصابت پر بڑا یقین ہوتا تھا اس کا اظہار بھی شاعرانہ تعلی کی حد تک کرتے رہتے تھے… پہلے تو انہوں نے مجھے عام درجے کا لکھاری خیال کیا… فقرے کاٹنے پر اتر آئے… لیکن جب میں نے اپنی آراء پر اصرار کیا… ان کے حق میں دلائل دیئے اور اپنے کالم من و عن چھپنے پر اصرار کیا تو حقانی مرحوم نے شرافت نفس سے کام لیتے ہوئے میرے کالموں پر قلم چلانے سے احتراز کا طرز عمل اختیار کیا… ان کے دور میں، مَیں نے ’جنگ‘ کی طرف سے ایران کے ایک دو سرکاری دورے کئے… افغانستان اور پھر امریکہ گیا… 1993ء میں جنرل (ر) اسلم بیگ اپنے ساتھ چین لے گئے… تمام اسفار کی روداد حقانی صاحب خود پڑھتے… ہلکے لفظوں میں داد بھی دیتے اور شائع کرنے میں بھی تساہل سے کام نہ لیتے… آخر میں برادر عزیزو، محترم مجیب الرحمن شامی خدا انہیں سلامت رکھے، لمبی عمر عطا فرمائے… ہمارے عہد کی انمول شخصیت اور لمحہ موجود کے اندر پاکستان کے مقبول ترین صحافی ہیں… ہر حلقے کے اندر احترام کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں… میرے چیف ایڈیٹر تھے… میں ان کے ہفت روزہ ’زندگی‘ کا ایگزیکٹو ایڈیٹر تھا… تمام ادارتی اختیارات میرے پاس تھے… میرے ساتھ عزیز ترین بھائی کا سا سلوک کرتے تھے… میں اس سے کچھ زیادہ ہی ’’لبرٹی‘‘ لے جاتا تھا… وہ کچھ لکھ ڈالتا جو ان کے اپنے نظریات کے ساتھ لگائو نہیں کھاتا تھا… شامی صاحب سب کچھ برداشت کر جاتے حرف شکایت زبان پر نہ لاتے… ایک روز تو حد ہو گئی… انہوں نے وقت کے ایک گرم اور نازک موضوع پر اپنے قلم سے اداریہ لکھ بھیجا… میں نے اسے پڑھا تو اپنے نظریات کے بالکل برعکس پایا… پرچے کی کاپی جا رہی تھی… میں نے اسے ایڈیٹ کرتے وقت اور ٹائٹل سٹوری کی تیاری میں خالصتاً اپنے خیالات سے کام لیا تھا اب جو چیف ایڈیٹر کا اداریہ موصول ہوا تو سوچ میں پڑ گیا… دو منٹ کے تعمق کے بعد اللہ کا نام لیا اور اداریہ میں کانٹ چھانٹ کر کے اسے خاصا NEUTRALISEکر دیا… تاکہ اداریے اور پالیسی میں بڑا تضاد نظر نہ آئے… اگلے روز شامی صاحب نے اپنے اداریے پر نگاہ ڈالی تو بدلا ہوا زمانہ تھا… شامی صاحب فوراً دفتر تشریف لائے… غصے پر قابو نہیں پا رہے تھے… پھر جو کچھ کہا سو کہا… میں نے عرض کناں ہوا میں نے جو کچھ کیا سوچ سمجھ کر کیا… نتائج بھگتنے کو تیار ہوں آپ جو بھی فیصلہ کریں بخوشی قبول کر لوں گا… چیف ایڈیٹر صاحب کوئی جواب دیئے بغیر چلے گئے… میں نے سوچا نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا ہوں کوئی اور راستہ دیکھوں… اگلے روز علی الصبح موصوف کا ٹیلیفون موصول ہوا… ناشتہ میرے یہاں آ کر کرو… میں نے لمحہ بھر کی تاخیر نہ کی بھاگم بھاگ گیا… بھابھی جان محترم اپنے ہاتھ سے زیتون کے تیل کے پراٹھے بہت کرارے تیار کرتی رہیں جو ناشتے میں موجود تھے اور مجھے اپنی گاڑی کی پیشکش کی دفتر جانا چاہو تو اس پر چلے جائو… شامی کے اندر جو بڑا انسان تھا وہ پوری مسکراہٹ کے ساتھ ہم کلام تھا… شامی صاحب جتنا اچھا لکھتے ہیں اسی طرح کی مدلل گفتگو کے ساتھ ٹیلی ویژن پر سننے والوں کو مسحور کر لیتے ہیں… جگہ کم پڑ گئی ہے ان کے بارے میں بہت کچھ لکھنا باقی ہے…


ای پیپر