حج نبویؐ اور مناسک!
30 جولائی 2020 (10:45) 2020-07-30

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۱۰ھ میں حج کے لیے مکہ تشریف لائے۔ مکہ میں داخل ہونے کے کئی راستے تھے۔ حضورپاکؐ بالائی جانب سے تشریف لائے اور باب بنی شیبہ میں سے بیت اللہ میں داخل ہوئے۔ اسی کے باہر آپؐ نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا۔ جب آپؐ کی نظر بیت اللہ پر پڑی تو آپؐ نے ہاتھ اٹھا کر اللہ سے دعا مانگی: اللّٰہُمَّ زِد ھذَالبیت تشریفًا وتعظیمًا وَتکرِیمًا ومھابۃً، وزد من عظّمہ ومن حجّہ واعتَمَرَہٗ تشریفًا وتَکریمًا ومھابۃ وَتعظِیْمًا وبِرًّا! اے اللہ اس گھر (بیت اللہ شریف) کے شرف وعزت، عظمت وبزرگی اور ہیبت وجلال میں اضافہ فرما اور جو کوئی حج اور عمرے کے لیے آئے اور تیرے اس گھر کی عزت وتکریم کرے تو اسے بھی عزت وتکریم، نیکی اور رعب وجلال سے نواز دے۔ (السنن الکبری للبیہقی ۵/۷۳) ۔

نبی اکرمؐ کی اس دعا کو خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے مسنون دعا کا درجہ حاصل ہے اور جونہی کوئی زائر خانہ کعبہ یعنی مسجد حرام کی عمارت اور میناروں کو دیکھے تو اولین نظر کے بعد یہ دعا مانگے۔ اس کے ساتھ وہ اپنی جائز اور نیک حاجات میں سے جس حاجت کو بھی اللہ سے طلب کرے، اللہ تعالیٰ اسے وہ عطا فرماتا ہے، کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کے حق میں اللہ سے دعا کی تھی۔ جونہی آنحضوؐر بیت اللہ کے دروازے سے اندر داخل ہوئے تو آپؐ نے پہلا کام یہ کیا کہ خانہ کعبہ کے اس کونے میں پہنچے جہاں حجراسود نصب ہے۔ وہاں سے آپؐ نے حجر اسود کا بوسہ لیا اور طواف کی نیت فرما کر طواف شروع کیا۔ صحابہ کرامؓ بھی آپ کے ساتھ اس عمل میں شریک تھے۔

تمام اہلِ ایمان خود کو سعادت مند اور خوش نصیب شمار کررہے تھے اور بلاشبہ ان کے خوش نصیب ہونے میں کوئی شک وشبہ بھی نہیں۔ ایک بندۂ مومن جب بھی اپنے دل کی آنکھ سے تصور کرتے ہوئے وہ منظر دل میں تازہ کرے تو جھوم اٹھتا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے خود خانہ کعبہ بھی اس روز اپنی قسمت پہ نازاں تھا۔ یہ قدسی صفت طائفین اللہ کی دھرتی پر اس کے محبوب ترین بندے تھے۔ ان کے امیر الحجاجؐ جیسا کوئی امیر اس سے قبل کسی قافلے کو ملا تھا نہ اس کے بعد کسی کارواں کو نصیب ہوسکتا ہے۔ اس جماعت جیسی پاکیزہ صفت جماعت چشمِ فلک نے نہ اس سے قبل دیکھی تھی نہ دھرتی کا سینہ اس کے بعد اس سے آشنا ہوسکتا ہے۔

آپؐ نے طواف شروع کرنے سے قبل اپنی چادر دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر اس کا سرا بائیں کندھے پر ڈال لیا۔ یعنی دایاں کندھا ننگا کردیا۔ چادر کو یوں پہننا اصطلاح میں اصطباغ کہلاتا ہے۔ پہلے تین چکروں میں آپؐ نے رمل کیا یعنی اپنے بازو اور شانے ہلاتے ہوئے تیز رفتاری سے یہ چکر مکمل کیے۔ اس طرح چلنے کو رمل کہتے ہیں اور طواف میں پہلے تین چکروں میں یہ مسنون ہے۔ آپؐ نے سات چکر مکمل کیے، حجراسود سے طواف شروع ہوا تھا اور اسی پر مکمل ہوا۔ طواف مکمل ہوتے ہی مقام ابراہیم پر تشریف لائے یہاں آپؐ نے سورۂ البقرہ کی آیت نمبر ۱۲۶ کا یہ حصہ پڑھا: وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاھِیْمَ مُصَلًّی۔ ابراہیمؑ جہاں عبادت کے لیے کھڑا ہوا، اس مقام کو مستقل جائے نماز بنالو۔ پھر آپ نے مقامِ ابراہیمؑ کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان میں رکھتے ہوئے قبلہ رخ ہوکر دو رکعت نوافل ادا کیے۔

زم زم اور صفا ومروہ کی ایک عظیم الشان اور ایمان افروز تاریخ ہے۔ یہ آپؐ کی دادی سیدہ ہاجرہؓ اور آپ کے دادا سیدنا اسماعیل ذبیح اللہؑ کی عظیم یادگاریں ہیں، جوصدیوں سے قائم ہیں اور تاقیامت ان کی برکات جاری رہیں گی۔ مقام ابراہیمؐ پر دوگانہ ادا کرنے کے بعد آپؐ آبِ زمزم پر آئے اور خوب پیاس بجھائی۔ یہاں سے آپؐ صفا ومروہ کی طرف بڑھے اور سیدھے صفا کے اوپر چڑھے اور یہ آیت پڑھی: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ ۔۔۔۔۔۔ (البقرۃ۲:۱۵۸) یقینا صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے، اس کے لیے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرلے اور جو برضا ورغبت کوئی بھلائی کا کام کرے گا، اللہ کو اس کا علم ہے اور وہ اس کی قدر کرنے والا ہے۔

صفا پہ کھڑے ہو کر آپؐ نے خانہ کعبہ پر نظر ڈالی اور یہ الفاظ ادا کیے جوفتح مکہ کے وقت بھی آپؐ کی زبان پر جاری تھے: لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ اَنْجَزَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَہَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے سلطنت اور ملک اور حمد وتعریف ہے، وہ مارتا ہے اور جلاتا ہے اور وہ تمام چیزوں پر قادر ہے، کوئی خدا نہیں، مگر وہ اکیلا خدا، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اس اکیلے نے تمام قبائل کی افواج کو شکست دی۔ (ابوداؤد،باب صفۃ حجۃ النبیؐ، وسنن ابن ماجہ، باب حجۃ رسول اللہؐ)

صفا سے آپؐ نے سعی شروع کی اور مروہ کی طرف گئے۔ جو مقام نسبتاً ہموار تھا وہاں پر آپؐ نے سعی کے دوران دوڑ لگائی اور پھر جب چڑھائی آئی تو آپؐ معمول کی چال چلنے لگے۔ یہ سعی بین الصفا والمروہ آپؐ کی دادی سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی سنت ہے۔ جب وہ اپنے شیرخوار بچے حضرت اسماعیلؑ کے ساتھ اللہ کے حکم سے یہاں چھوڑ دی گئی تھیں۔ جب ابراہیمؑ اپنی جوان بیوی اور اس دودھ پیتے بچے کو اللہ کے حکم کی اطاعت میں اس مقام پر چھوڑ کر جارہے تھے تو وہی جانتے تھے کہ ان کے دل پر کیا گزری اور پھر ماں اور بچے پر جو گزرنے والی تھی اس کا تو تصور بھی رونگٹے کھڑے کر دیتا اور دل کو تڑپا دیتا ہے۔ سیدہ ہاجرہؓ پانی کی تلاش میں اپنے بیٹے اسماعیلؑ کو اس مقام پر لٹا کر صفا کے اوپر چڑھی تھیں کہ شاید کہیں سے کوئی مدد ملنے کا راستہ نکل آئے۔ جب کچھ نظر نہیں آیا تو پھر مروہ کی طرف گئیں۔

معصوم بچہ ایڑیاں رگڑ رہا تھا اور بھوک پیاس کی شدت سے تڑپ رہا تھا۔ جب ماں ہموار جگہ پر پہنچتی تو ایک نظر اپنے بیٹے پر ڈالتی اور تیز تیز قدموں کے ساتھ آگے بڑھتی۔ ڈھلوان اور چڑھائی پر وہ آہستہ آہستہ چلتیں۔ اس طرح انھوں نے صفا سے مروہ کی طرف چار اور مروہ سے صفا کی طرف تین چکر لگائے۔ دونوں پہاڑیوں کی چوٹی سے آس پاس دیکھا تو مدد کی کوئی امید برنہ آئی۔ آخر واپس اپنے بیٹے کی طرف آئیں تو کیا دیکھتی ہیں کہ خشک اور چٹیل زمین پر اسماعیلؑ کے پاؤں رگڑنے کی وجہ سے پانی کا چشمہ پھوٹ نکلا ہے۔ ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ انھوں نے پانی کے گرد کنکریوں اور مٹی کی اوٹ کھڑی کی اور بے ساختہ زبان سے نکلا ’زمزم‘ (رک جا، رک جا)۔ یہ زمزم بھی اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ اس کا پانی بھوک اور پیاس کے لیے بھی کارگر ہے اور ہر بیماری سے شفا کے لیے بھی نسخۂ کیمیا ہے۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے میری دادی کی دعا قبول فرما کر اس پانی کو اس کے مقام پر روک دیا ورنہ یہ ایک چشمے کی صورت رواں دواں ہوجاتا اور دور دور تک پہنچتا۔ آپؐ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ اس پانی کو انسان جس جائز مقصد کے لیے بھی استعمال کرے، یہ اس میں فائدہ پہنچاتا ہے۔ مشہور تابعی اور عظیم عالم ومجاہد حضرت عبداللہ بن مبارکؒجب پہلی بار حج اور عمرے کے لیے مکہ آئے تو زمزم پیتے وقت دعا کی: اے اللہ تیرے سچے نبیؐ کا وعدہ ہے کہ زمزم ہر مقصد میں نفع پہنچاتا ہے، میں آج اسے پی رہا ہوں کہ یومِ حشر کی پیاس سے محفوظ ہوجاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دادی اماں کی اتباع میں صفا مروہ کے درمیان سات چکر لگائے۔ جاہلیت کے دور میں قریش اور دیگر عرب قبائل بہت سے مناسک کو بھول چکے تھے مگر صفا مروہ کے درمیان سعی کیا کرتے تھے۔

ایک روایت کے مطابق آپؐ نے اپنی اونٹنی پر ہی سوار ہو کر یہ سعی کی تھی۔ جب سعی مکمل ہوئی تو آپ ؐپھر زمزم کی طرف آئے اور پانی پیا۔ پھر آپؐ اپنی منزل پر تشریف لے گئے جہاں آپؐ کا خیمہ لگایا گیا تھا۔ اس مقام کا نام الابطح ہے۔ فتح مکہ کے وقت اور اس سے قبل عمرۃ القضاکے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجون کے مقام پر خیمے میں مقیم رہے۔ آپؐ سے کہا گیا کہ آپؐ اپنے گھر میں کیوں تشریف فرما نہیں ہوئے تو آپؐ نے فرمایا کہ عقیل بن ابی طالب نے ہمارا گھر کہاں چھوڑا ہے جس میں ہم مقیم ہوں۔ حجۃ الوداع کے موقع پر بھی آپ کسی گھر میں مقیم نہیں ہوئے، بلکہ ابطح کے مقام پر خیمے ہی میں قیام فرمایا۔ اس دوران آپؐ حرم کے اندر آکر قصر نمازیں پڑھتے رہے۔ (المغازی للواقدی، ج۲، ص۸۲۹)


ای پیپر