گورننس اور 7 نمبر کے جوتے
30 جولائی 2020 (10:45) 2020-07-30

آدھا سچ جھوٹ سے زیادہ خطرناک اور گمراہ کن ہوتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے مفاد اور بد نیتی کار فرما ہوتی ہے۔ شاعر انقلاب مرحوم حبیب جالب نے اپنے ضمیر کی آواز پر پیپلزپارٹی کی مخالفت میں اپنی مشہور غزل تحریر کی حالانکہ یہ وہی حبیب جالب تھے جنہوں نے مارشل لاء دور میں بے نظیر بھٹو کے حق میں فوج کے خلاف نظم لکھی تھی ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے… مگر حبیب جالب ایک عوامی شخصیت تھے جب انہوں نے دیکھا کہ بے نظیر عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں تو وہ جس بے نظیر کے لیے فوج سے ٹکرا گئے تھے اب اسی بے نظیر حکومت کے بارے میں غزل لکھی:

وہی حالات ہیں فقیروں کے

دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

ہر بلاول ہے دیس کا مقروض

پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

وہی اہل وفا کی صورت حال

وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے

مرحومہ بے نظیر بھٹو جالب صاحب کی اس نظم سے بوکھلا اٹھیں اور سخت دل برداشتہ ہوئیں۔ کیوں کہ جالب نے براہ راست بلاول اور بے نظیر کا نام استعمال کیا تھا اور حکومتی کرپشن کے سارے پردوں کی دھجیاں اڑا دی تھیں۔ اس موقع پر چوہدری اعتزاز احسن جیسے مصلحت کوش معاملے میں کود گئے اور بے نظیر کو مشورہ دیا کہ جالب کے یہ شعر آپ اگلے الیکشن میں اپنے حق میں استعمال کریں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پاؤں ننگے میں بے نظیروں کے چنانچہ ایسے ہی کیا گیا۔ یہ آدھا سچ تھا جو بے نظیر کے سیاسی دربار نے گھڑ لیا تھا ایسا ہر دور میں ہوتا آیا ہے۔

اب تاریخ کا ایک اور رخ دیکھیں جب ن لیگ کی حکومت جدہ جلا وطنی کے بعد آئی تو خادم اعلیٰ کا خود ساختہ لقب اختیار کرنے والے شہباز شریف عوامی جلسوں میں

حبیب جالب کی مشہور زمانہ نظم دستور کو ترنم کے ساتھ سنایا کرتے تھے کہ

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے

چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے

ایسے دستور کو صبح بے نور کو

میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

یہ بھی ایک آدھا سچ تھا جسے ن لیگ کے دربار میں پارٹی دانشوروں نے بڑی مہارت سے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ جو سینوں کے اندر ہیں وہ اندھے ہو جاتے ہیں۔ جو لوگ اقتدار کی مسند پر تخت نشین ہوتے ہیں ان کے اور عوام کے درمیان فاصلہ اتنا زیادہ ہوتا ہے اور ان کی آنکھوں پر بندھی ہوئی پٹی اتنی گہری ہوتی ہے کہ انہیں عوام کی تکالیف کا اندازہ نہیں ہوتا وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اپنی انتخابی جدوجہد میں انہوں نے عوام کو کیا کیا سبز باغ دکھا رکھے ہیں۔ وہ حبیب جالب کی اپنے خلاف فرد جرم کو اپنے لیے ایک اعزاز بنا کر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔

اب تاریخ ایک اور قدم آگے بڑھتی ہے یہ پاکستان تحریک انصاف کا دور ہے یہ وہ پارٹی ہے جو اپنی حریف جماعتوں کے بارے میں کہتی تھی کہ ان کو جائیدادیں اور کاروبار پاکستان سے باہر ہیں۔

عمران خان نے ہمیشہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کے بارے میں conflict of interest یا مفادات کے ٹکراؤ کی بات کی کہ مشکل وقت میں یہ لوگ ملک سے باہر چلے جاتے ہیں۔

حال ہی میں پی ٹی آئی نے اپنے معاونین خصوصی اور مشیروں کے اثاثے ڈیکلیئر کیے ہیں جس میں پارٹی کے آدھی درجن کے قریب وزیر اور مشیر ایسے ہیں جو باہر کی شہریت یا سکونتی حقوق رکھتے ہیں یہ وہی معاملہ ہے جس کی بناء پر سابق وزیراعظم نواز شریف کو ملک کے اعلیٰ ترین عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا مگر بجائے اس کے کہ ان وزراء اور مشیران سے استعفیٰ طلب کیا جاتا ۔ پی ٹی آئی دربار میں نقارے بجائے جا رہے ہیں کہ عمران خان نے عوام کے ساتھ کیا گیا ایک اور وعدہ پورا کر دیا ہے۔ اس سے بڑا آدھا سچ ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ کھلا مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ اثاثے ڈیکلیئر کرنا اچھی بات ہے مگر مفادات کے ٹکراؤ کا سدباب ناگزیر ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اثاثوں کی جو مالیت ظاہر کی گئی ہے وہ اصل سے بہت کم ہے مثال کے طو رپر ندیم افضل چن کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کا کہنا ہے کہ ان کی زرعی رقبہ جات کی جو مالیت ظاہر کی گئی ہے وہ جائیداد کی اصل قیمت کا 10 فیصد بھی نہیں وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اس قیمت پر میں ان کے یہ اثاثے خریدنے کے لیے تیار ہوں۔

اس حکومت نے فردوس عاشق اعوان کو وفاقی مشیر اطلاعات اور پختونخوا کے وزیر اطلاعات اجمل خان وزیر کو اشتہارات میں کمیشن کے الزامات پر عہدوں سے ہٹایا ہے مگر ان کے خلاف اور کوئی کارروائی نہیں کی گئی حالانکہ یہ سنگین بددیانتی اور مجرمانہ فعل ہے جو قابل سزا جرم ہے۔ حال ہی میں پنجاب کے ایک صوبائی وزیر آبی حیات کو بھی اختیارات کے غلط استعمال پر ہٹایا گیا ہے۔

گورننس بہت مشکل کام ہے اور پاکستان تحریک انصاف اس میں بری طرح پھنس چکی ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھئے کہ اگر آپ کے پاؤں کا سائز 9 نمبر ہے اور آپ 7 نمبر کا جوتا پہننے کی ضد کر رہے ہیں تو نتیجہ وہی ہو گا جو اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ اس کوشش میں پی ٹی آئی خود بھی مجروح ہوتی ہے چل بھی نہیں پا رہی اور گورننس بھی 7 نمبر کے جوتے کی طرح بری طرح پھٹ گئی ہے۔


ای پیپر