عیدالاضحی اور رب کی رخصتی
30 جولائی 2020 (10:44) 2020-07-30

یعنی کہ اس سال بھی پاکستان کا صدر، وزیراعظم ، وزرائے اعلیٰ ، سینیٹرز، گورنرز، وزراء ، سیاستدان ، بیوروکریٹس ،تمام اساتذہ ، ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلاء، جج صاحبان، صحافی، بزنس مین، علماء، تمام ٹھیکیدار، کلرکس اور عام لوگ جانوروں کو باندھ کر اللہ کا نام لے کر ذبح کریں گے لیکن ایسا بالکل نہیں سوچیں گے کہ اصل میں اس دن رب بہتا خون دیکھ کر راضی نہیں ہوتا بلکہ دلوں کے اندر موجود گند کی صفائی سے راضی ہوتا ہے ۔

یہ موقع یاد دلاتا ہے کہ ابراہیم علیہ سلام نے کس طرح عشق کو سہارا بنا کر رب کو راضی کیا۔

کہانی کا آغاز مدتوں سے ذہنوں میں بند اس تعصب سے ہوتا ہے جس نے نمرود کو جنم دیا اور اسی تعصب کو بنیاد بناکر نمرود نے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کی اور وہ بڑی غلطی خود کو خدا تسلیم کروانے کی کوشش تھی۔ یہ عارضی خدائی انسانی تاریخ میں ہر اس انسان سے سرزد ہوئی ہے جس کے سامنے ابراہیم کی صورت میں کائنات کی سب سے بڑی حقیقت موجود رہی۔ نمرود اور ابراہیم دو متضاد حقائق ہیں اور انہی حقائق کی وجہ سے پوری انسانیت دو گروہوں میں تقسیم ہے۔ ہم سوچنے کی ہمت نہیں کرپاتے ورنہ یقین کیجئیے ہمارے اندر یا تو ابراہیم کی خصلتیں ہوتی ہیں اور یا نمرود کی۔ یہ دین بھی اللہ ہی کی ہے کہ وہ کون سی خصلت کس میں پیدا کرتا ہے۔ لازمی یہ ہے کہ رب کی طرف حقیقی توجہ ہو اور یاد رکھئیے یہی توجہ ہی وہ پل ہوتا ہے جس کے ذریعے انسان انسانوں میں نایاب بن جاتا ہے۔ ہم ظاہری چیزوں میں رب کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ناکامی مقدر بنتی ہے اور وجہ جس کی یہ ہے کہ ہم میں کہیں نہ کہیں نمرود کی خصلتیں موجود ہوتی ہیں۔ ہم ان خصلتوں کو خود سے نکالنے کی حقیقی کوشش نہیں کرتے ورنہ شہ رگ سے زیادہ قریب ہی تو ہے ہمارا رب۔

آپ یقین کیجئے ہم یہ کوشش ایک پل کے لئے بھی نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ ہم ہر سال ہزاروں جانوروں کی قربانی کرتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ ایک بڑا جانور ہمارے اندر بھی موجود ہوتا

ہے جس کو مارنا ہی اصل کامیابی ہے ۔

اب دیکھئے نا ہر سال عیدالاضحی کے موقع پر اللہ اکبر کی صداؤں میں تیز دھار چھریاں جب جانوروں کے گلے کاٹتی ہیں تو ہر طرف خون ہی خون ابلتا ہے جس کے بعد بدقسمتی سے ہم فرض کرلیتے ہیں کہ ہم اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوچکے اور رب کائنات کو راضی کرلیا لیکن ایک پل کے لئے بھی ہمیں آس پاس بھوکوں کا جم غفیر ، محروموں کی مایوسی ، غریبوں کی آہ وزاریاں ، پل پل زندگی کے لئے ترسنے والوں کی نہ ختم ہونے والی سسکیاں ، بھائیوں کے درمیان بظاہر انتہا کی حد تک محبت لیکن دلوں کے اندر کدورتوں کا طوفان ، والدین کی نافرمانیاں ، ہزار انسانوں کے ہزار نظرئیے اور ان نظریوں میں ہر وقت قتل ہونے والے احساسات ، رشتوں میں دن بہ دن بڑھتا تناؤ، حکمرانوں کی بڑھتی ہوئی غیر سنجیدگی ، چاروں طرف حسد کی آگ میں جلتے انسان ،نہ ختم ہونے والی اقرباء پروری ، خود کو ہی مسیحا سمجھنے کا غلط رجحان ، کمزوروں پر بڑھتے مظالم اور دندناتے پھرتے ظالموں کا نہ ختم ہونے والا ظلم ، اسلام سے دوری اور لبرل ازم کے لبادوں میں لمحہ بہ لمحہ سرائیت کرتی سوچ ، قرآن پاک کو مدرسوں اور مسجدوں تک محدود رکھنے کا رواج ، پیسے کو ہی مذہب سمجھنے کا گناہ ، سود کی کھلے عام ترویج ، حقوق العباد کو پاؤں تلے روندنے کی رسم اور رب کو دلوں اور معاشرتی زندگی سے ارادتاً رخصت کرنے کی غلطی نظر نہیں آتی۔

اب آپ خود سوچئیے کیا ایسے حالات میں ایک بے زبان جانور کو باندھ کر ہم اس عظیم رب کو راضی کرسکتے ہیں جن کو خون کی ضرورت ہے نہ جانور کی۔ ہزاروں سال پہلے حضرت ابراہیمؑ سے رحمتوں اور محبتوں کا صلہ مانگ کر آزمائش میں ڈالا گیا۔ حکم ملنے پر اپنے جگر گوشے کو ہی قربان کرنے پر مستعدی دکھا کر اصل میں اطاعت رب کا عملی مظاہرہ کیا گیا تھا ہم مگر اب بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ رب کائنات دلوں کے راز خوب جانتا ہے۔ صرف جانوروں کی قربانی پر رب راضی ہوتا تو ہماری کایا اب تک پلٹ چکی ہوتی۔ نمرود نے اصل رب کی رخصتی چاہی تب ہی کھلے عام خود رب ہونے کا دعویٰ کیا۔ رب کی رخصتی کیا ہے بے جان پتھروں کے بنے مورتیوں کو سامنے رکھ کر یہ آہ و بکا کرنا کہ تو ہی میرا سب کچھ ہے۔ ہزاروں سال پہلے ببانگ دہل ایسا کیا گیا اور آج ہم الفاظ کا سہارا لئے بغیر اپنے اعمال سے ایسا کر رہے ہیں۔ ہماری ترجیحات کیا ہیں۔ قرآن پاک کو مسجدوں اور مدرسوں تک محدود کیا گیا ہے اور وہ بھی صرف تلاوت کے لئے جہاں تک عمل کی بات ہے تو ہم عملی طور پر اب بھی اسلامی تعلیمات اور اس رجحان سے کہ رب کی رضاء ہی اصل مقصد ہے سے بہت دور ہیں۔

مسجدوں میں نمازیں پڑھی جاتی ہیں لیکن نمازی مسجد سے باہر آکر یہ تک نہیں سوچتے کہ اندر مسجدوں میں جس رب کی کبریائی بیان کی اصل میں وہ رب دلوں کے راز خوب جانتا ہے اور جس دل کے اندر حسد ، تکبر ، منفی سوچ، کینہ اور انسانوں سے دشمنی کا جنون بھرا ہوا ہوتا ہے وہاں سے رب خود اپنی رخصتی کا بندوبست کرتا ہے۔

مجھے حیرت ہے ہمارے دلوں سے اور ہماری قومی زندگی سے ہم نے رب کو رخصت ہی کیا ہے۔ قومی زندگی اور انفرادی زندگی کے ہر موڑ پر ہم رب کس کو بناتے ہیں یہ حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ کبھی پیسے کو، کبھی دنیاوی مفاد کو، کبھی انسانوں کو، کبھی سیاست کو، کبھی معیشت کو اور کبھی سپر پاور کو۔ ہمارے تمام مسائل کی وجہ بھی یہ ہے کہ ہم نے اپنے تمام معاملات سے رب کو رخصت کیا ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دن بہ دن مسائل بڑھ رہے ہیں۔ رب کو راضی کیسے کیا جائے یہی کوشش اگر حقیقت میں کی گئی تو پھر عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی قربانی کا الگ مزہ ہوگا۔ ہم اس دن اگر صرف اپنے دلوں میں جھانکیں تو بھی ایک پل کے لئے یہ خیال ضرور آئے گا کہ دلوں کے اندر موجود گندگی جو رب سے دوری کا سبب بن رہی ہے کو کیسے دور کیا جاسکتا ہے۔اس دن رب کو واپس بلانا ہی بڑی کامیابی ہوگی۔ رب کو راضی کرنے کے آسان کام یہی ہے کہ دلوں کے اندر موجود سختیوں اور نفرتوں کو رخصت کیا جائے۔ یہ عید اصل میں قربانی ہی کی عید ہے کیوں نہ اس دن ہم اپنے اندر موجود اس دیوہیکل جانور کی قربانی دیں جس کی وجہ سے ہماری انسانیت پر سوالیہ نشان پڑ رہے ہیں۔


ای پیپر