چھاپے!
30 جولائی 2020 2020-07-30

برسات کا موسم ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار گزشتہ روز اچانک باہر نکل آئے، اُنہوں نے بغیر پروٹوکول کے آدھی رات کو لاہور کے مختلف علاقوں اورتھانوں کے دورے کیے، اچھی بات ہے وہ اکیلے تھے کوئی متعلقہ افسر اُن کے ساتھ نہیں تھا، اللہ کرے اس عمل سے ہی اُن کا کوئی رعب یا دبدبا قائم ہو جائے، اُنہوں نے شاید یہ پیغام دینے کی کوشش کی صوبہ وزیراعلیٰ کے بغیر نہیں چل رہا، پتہ نہیں لوگوں کو یہ یقین دلانے میں وہ کامیاب ہوں گے یا نہیں؟ پر میڈیاکوریج کے حوالے سے اُن کا یہ دورہ بڑا کامیاب رہا، شہباز شریف کو اس طرح کے دورے اکثر پڑتے تھے، اور زیادہ تر آدھی رات کو ہی پڑتے تھے، کیونکہ اِس عمر میں اُنہیں ایک مسئلہ نیند نہ آنے کا بھی تھا، لگتا ہے بزدار صاحب بھی رات کو نہیں سوتے، وہ شاید دن میں سوتے ہیں، یا ہوسکتا ہے دل ہی دل میں سولیتے ہوں، ہمارے اکثر سیاستدانوں کے پاس صرف ایک نیند ہی ”حلال“ ہوتی ہے، حکمران بننے کے بعد وہ بھی ”حرام“ ہوجاتی ہے، اس لیے نہیںکہ اُنہیں عوام کا کوئی درد ہوتا ہے، بلکہ اِس لیے کہ دوران نیند اُن کا عہدہ نہ اُن سے چھن جائے، وزیراعلیٰ بزدار انٹرویو وغیرہ دینے سے گریز ہی کرتے ہیں، اُن کے وزراءیہ تاثر دیتے ہیں وہ اِس معاملے میں بڑے شرمیلے ہیں، کاش دیگر کچھ معاملات میں بھی وہ ایسے ہی شرمیلے ہوتے اور ان سے بھی پرہیز کرتے، یہ بھی ممکن ہے ”مقبولیت“ میں اُنہیں خاص حد سے آگے جانے کی اجازت ہی نہ ہو، ہماری سیاست اور حکومت میں غیرضروری طورپر ”پرپُرزے“ نکالنے کی کوئی کوشش کرے اُس کی سب سے زیادہ تکلیف اُس کے اپنے ”باس“ کوہوتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان شاید ان معاملات کو اتنی سنجیدگی سے نہ لیتے ہوں، شریف برادران کا عمومی رویہ یہی ہے وہ اپنی جماعت کے کسی رہنما کو ایک خاص حدسے زیادہ مقبول ہوتے ہوئے دیکھتے ہی اس کی ٹانگیں کھینچنا شروع کردیتے، چودھری سرور کی مثال میرے سامنے ہے، وہ ان کے گورنر تھے، اپنی خوش اخلاقی کے باعث ان کی مقبولیت دن بدن بڑھ رہی تھی، یہ اُنہیں گوارا نہ ہوا، اُن کے لیے ایسے حالات پیدا کردیئے گئے اُنہوں نے استعفیٰ دے دیا، اُن کی جماعت کا کوئی ایم پی اے، ایم این اے یا وزیر وغیرہ زیادہ مقبول ہونا شروع ہو جائے میڈیا کو ”لفافے“ میں بند کرکے یا حکماً یہ ہدایت جاری کردیتے اُسے کوریج نہیں دینی، اپنے علاوہ کسی اور کی مقبولیت وہ برداشت ہی نہیں کرسکتے، اس سے اُن کے پیٹ میں عجیب طرح کے مروڑ اُٹھنے لگتے ہیں، افسروں کے حوالے سے بھی اُن کا یہی رویہ تھا، کوئی افسر اپنے کسی خصوصی کارنامے کے باعث تھوڑا مقبول ہوجاتا فوراً اُسے تبدیل کردیتے ، اپنے علاوہ اپنی پارٹی کے کسی اور رہنما کو بطور وزیراعظم یا وزیراعلیٰ بھی وہ برداشت نہیں کرسکتے، پانامہ کیس میں وہ جیل میں بھی رہے، تکلیفیں بھی برداشت کیں،جیل میں نوازشریف کو کھانا اور شہباز شریف کو ”دیگر لوازمات “ بھی اُن کی پسند کے ملتے رہے، یہ سب اُن کے لیے یقیناً بڑا تکلیف دہ تھا، پر اُن کی سب سے بڑی اذیت یہ تھی اپنے اقتدار، اپنی زندگی اور اپنی موجودگی میں اپنی پارٹی کے ایک رہنما شاہد خاقان عباسی کو اُنہیں وزیراعظم بنانا پڑ گیا، اپنی سیاسی وخاندانی روایات کے بالکل برعکس یہ فیصلے دل پر پتھر رکھ کر اُنہیں کرنا پڑا، اس کا زندگی میں اُنہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا، میں تو حیران ہوں اپنے ایک وفادار رانا مقبول کو اُنہوں نے سینیٹر کیسے بنادیا ؟ جس کا نام ہی ”مقبول“ ہو اُسے کسی عہدے سے ”نوازنا یا شہبازنا“شریف برادران کی اپنی زندگی میں شاید واحد ”اعلیٰ ظرفی“ تھی،.... انہوں نے تو صدر بھی اُسے بنایا تھا جس کا نام ”ممنون“ تھاتاکہ ساری عمر وہ اُن کا ممنون رہے، .... وزیراعلیٰ بزدار اخباری وٹی وی اشتہارات میں بھیاپنی تصاویر کم ہی لگواتے ہیں کہ کہیں تصویر ہی نہ بول پڑے اور ان کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا ہو جائے، گزشتہ رات اُنہوں نے لاہور کے دوتھانوں پر چھاپے مارے، یہ تقریباً اُسی طرح کے چھاپے تھے جو اکثر ایس ایچ اوز آدھی رات کو ملزمان وغیرہ کو گرفتار کرنے کے لیے اچانک مارتے ہیں، پہلے وہ تھانہ شادمان گئے، سنا ہے اُس کے ایس ایچ او کو صفائی وغیرہ مکمل ہونے پر اُنہوں نے شاباش دی، اُس کی خواہش پر اُس کے ساتھ تصویر بھی بنوائی، اُنہیں چاہیے یہ تصویر وہ سنبھال کر رکھیں تاکہ وزارت اعلیٰ ختم ہونے کے بعد وہ لوگوں کو خصوصاً اپنے عزیزوں کو یہ بتا سکیں جب وہ وزیراعلیٰ تھے ایس ایچ او اُن کے ساتھ تصویریں بنوانا اعزازسمجھتے تھے، پھر وہ تھانہ مغل پورہ گئے، جہاں انہوں نے گندگی اور ریکارڈ وغیرہ مکمل نہ ہونے پر ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کو معطل کردیا، شکر ہے اس سرکل میں ڈی ایس پی تھا، اے ایس پی ہوتا وہ اِس سرکل میں داخل ہونے کا رسک ہی نہ لیتے، معطل شدہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کے پاس ظاہر ہے بزدار صاحب کی کارکردگی جانچنے کا کوئی اختیار نہیں تھا ورنہ وہ بھی ان کے ساتھ وہی سلوک کرتے جو بزدار صاحب نے اُن کے ساتھ کیا، وزیراعظم خان صاحب ایک بار لاہور آئے۔ گورنر ہاﺅس میں اُس وقت کے آئی جی کے قریب سے گزرتے ہوئے وہ اُن سے کہنے لگے ”مزہ نہیں آرہا“ ....پہلے تو آئی جی سمجھے یہ بات وزیراعظم نے شاید اپنے ساتھ کھڑے زلفی بخاری یا مراد سعید سے کہی ہے ، جب اُنہیں یقین ہوگیا یہ بات وزیراعظم نے اُن ہی (آئی جی) سے ہی کہی ہے تو وہ افسردہ ہوگئے، کیونکہ وہ پولیس کا امیج بہتر بنانے کے لیے بڑی محنت کررہے تھے، ظاہر ہے وہ اس موقع پر چپ ہی رہے ہوں گے، میرے جیسے منہ پھٹ سے سے یہ بات وزیراعظم نے کہی ہوتی میں عرض کرتا ”سر جس طرح آپ کو میری پرفارمنس کا مزہ نہیں آرہا اُسی طرح عوام کو آپ کی پرفارمنس کا مزا بھی نہیں آرہا “ ....ہمارے ہاں منفی پہلوﺅں کو اُجاگر کرکے مقبولیت حاصل کرنے کا رحجان بڑھتا جارہا ہے، چنانچہ میڈیا میں صرف تھانہ مغل پورہ کی خرابیوں اور افسران کو معطل کرنے کی خبریں ہی سرکاری طورپر چلوائی گئیں، حالانکہ پولیس کا مورال بلند یا بیلنس کرنے کے لیے ضروری تھا تھانہ شادمان میں ریکارڈ مکمل ہونے اور ایس ایچ او کوشاباش دینے کی خبریں بھی ساتھ چلوائی جاتیں، پولیس افسران کو بھی اس کی شاید اجازت نہیں ملی .... ویسے ہمارے محترم وزیراعلیٰ بزدار کو اس طرح تھانوں کے اچانک دورے نہیں کرنے چاہئیں، اس سے لوگوں کو بھولا ہوا شہباز شریف زیادہ یاد آتا ہے، ممکن ہے یہ اچانک دورے اُنہوں نے عوام کو یہ پیغام دینے کے لیے شروع کیے ہوں وہ کسی معاملے میں شہباز شریف سے پیچھے نہیں، حالانکہ ہم یہ چاہتے ہیں کچھ معاملات میں وہ شہباز شریف سے پیچھے ہی رہیں، بلکہ ہم اُن سے یہی گزارش کریں گے وہ شہباز شریف بننے کی کوشش نہ ہی کریں، یہ اُن کے لیے بہتر ہے، یہ نہ ہو وزارت اعلیٰ سے علیحدگی کے بعد اُن کے ساتھ بھی وہی سلوک ہو جوکچھ معاملات میں وزارت اعلیٰ سے علیحدگی کے بعد شہباز شریف کے ساتھ ہوا۔ وہ تو اس ملک کی اصل قوتوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات کے نتیجے میں ساز باز کرکے اپنے بچاﺅ کا کوئی نہ کوئی اہتمام کرلیتے ہیں، بزدار صاحب کے لیے یہ ذرا مشکل ہو جائے گا، کیونکہ عام اطلاعات یہی ہیں اِس ملک کی صرف”اصلی قوتیں“ ہی نہیں کچھ ”نقلی قوتیں“ بھی اب اُس طرح اُن کے حق میں نہیں جس طرح پہلے تھیں !!


ای پیپر