کورونا وائرس اور حکومتی ہیرا پھیریاں
30 جولائی 2020 2020-07-30

وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر بڑے یقین سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جہاں وبا پر قابو پا لیا گیا ہے۔ اس گفتگو میں انھوں نے عوام کو بھرپور یقین دلایا کہ ان کی سمارٹ لاک ڈاو¿ن سمیت دیگر پالیسیوں سے کورونا وائرس کا زور دم توڑ گیا ہے۔ لیکن زمینی حقائق کو دیکھ کر یہ بات واضح ہے کہ یا تو وزیر اعظم قوم کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں یا پھر تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے ہیں۔کیونکہ اصل صورتحال حکومتی دعوے کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان وائرس کے شدید حملے کی زد میں ہے۔ محدود ترین ٹیسٹنگ اور اعداد وشمار میں تمام تر ہیرا پھیری کے باوجود اس وقت پاکستان دنیا بھر میں وائرس سے متاثر ہونے والے 215 ممالک کی فہرست میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث 12ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ محدود ترین ٹیسٹنگ کے باوجود اس وقت مریضوں کی تعداد وائرس سے شدید متاثرہ ممالک اٹلی، فرانس، بیلجیئم، جرمنی اور چین سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ اگر وائرس کا پھیلاو¿ یونہی برقرار رہا اور حکومت نے جھوٹے دعوے کی بنیاد پر ٹیسٹنگ بند نہ کر دی تو پاکستان آئندہ چند روز میں ایران اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کو پیچھے چھوڑ کر پانچویں نمبر پر پہنچ جائے گا اور اگر پاکستان میں امریکہ، برازیل، انڈیا، چلی اور ساو¿تھ افریقہ کی طرح بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ شروع کر دی گئی تو شاید ہم بھی لگ بھگ 22 کروڑ آبادی والے ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ جائیں۔ عالمی ادارے ورلڈ ان ڈیٹا کی جانب سے مرتب کردہ 215 متاثرہ ممالک کی فہرست کا بغور جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ مریض اور اموات ان ملکوں میں سامنے آئی ہیں جنھوں نے بلا تفریق وسیع تر پیمانے پر ٹیسٹنگ کی۔ ان 215 متاثرہ ممالک میں ماسوائے چین، انڈیا اور امریکہ کے تمام ممالک کی آبادی پاکستان سے کئی گنا کم ہے لیکن انھوں نے مریضوں کی تعداد حقیقتاً کم ہونے کے باوجود بھی ہیرا پھیری یا وائرس کنٹرول کرنے کے جھوٹے دعوے نہیں کئے بلکہ ہماری نسبت کئی گنا زیادہ ٹیسٹنگ کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ انھوں نے حقیقتاً عوامی تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کیا اور دوسرا یہ کہ ابھی خطرہ ٹلا نہیں۔ متاثرہ ممالک میں سب سے زیادہ مریضوں اور شرح اموات کے ساتھ امریکہ پہلے نمبر پرہے۔ 33 کروڑ آبادی والا ملک امریکہ اب تک پانچ کروڑ 24 لاکھ ٹیسٹ کر چکا ہے جس کے نتیجے میں 42 لاکھ سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں۔ دوسرے نمبر پر برازیل ہے، جس کی کل آبادی 21 کروڑ ہے اور اب تک تقریباً 50 لاکھ ٹیسٹ کر چکا ہے جس میں سے 23 لاکھ مریض سامنے آ چکے ہیں۔ تیسرے نمبر پر انڈیا جس کی آبادی ایک ارب 38 کروڑ ہے اور ایک کروڑ 54 لاکھ ٹیسٹ کر چکا ہے اور وہاں مریضوں کی تعداد تیرہ لاکھ سے زائد ہو چکی ہے۔ چوتھے نمبر پر 14 کروڑ 59 لاکھ آبادی والا ملک روس دو کروڑ 63 لاکھ ٹیسٹ کر چکا ہے اور 8 لاکھ پچاس ہزار مریضوں کی شناخت ممکن بنا چکا ہے۔ فہرست میں ساو¿تھ افریقہ پانچویں نمبر پر ہے، جس کی مجموعی آبادی پانچ کروڑ 93 لاکھ ہے اور اب تک 26 لاکھ سے زائد ٹیسٹ کر کے چار لاکھ اکیس ہزار مریضوں کو شناخت کر چکا ہے۔ چھٹے نمبر پر پیرو ہے جس کی مجموعی آبادی تین کروڑ 30 لاکھ ہے اور اب تک 22لاکھ سے زائد ٹیسٹ کر کے تین لاکھ 75 ہزار مریضوں کی شناخت کر چکا ہے۔ ساتویں نمبر پر آنے والا ملک میکسیکو ہے جس کی آبادی ایک کروڑ 29 لاکھ اور کئے جانے والے ٹیسٹوں کی تعداد 8 لاکھ 79 ہزار ہے جبکہ شناخت شدہ مریضوں کی تعداد تین لاکھ 70 ہزار ہے۔ چلی ایک کروڑ 91 لاکھ آبادی کے ساتھ آٹھویں نمبر پر ہے اور اب تک تین لاکھ 41 ہزار مریض شناخت کر چکا ہے۔ سپین آٹھویں نمبر پر ہے اور اب تک 63 لاکھ 20 ہزار ٹیسٹ کر کے تین لاکھ دس ہزار مریضوں کی شناخت کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ برطانیہ جو کہ دسویں نمبر پر ہے،اب تک ایک کروڑ 42 لاکھ ٹیسٹ کر کے دو لاکھ 97 ہزار مریضوں کو شناخت کر چکا ہے۔ ایران کا نمبر گیارہواں ہے جس کی مجموعی آبادی 8 کروڑ اور اب تک کئے گئے ٹیسٹوں کی تعداد 22 لاکھ سے زائد ہے جس کے نتیجے میں اب تک دو لاکھ 86 ہزار مریض شناخت ہو چکے ہیں۔ ایران کے بعد پاکستان بارہویں نمبر پر ہے جس کی مجموعی آبادی 22 کروڑ اور کئے گئے ٹیسٹوں کی کل تعداد تقریباً 19 لاکھ ہے اور مریض دو لاکھ 75 ہزار تک پہنچ چکے ہیں۔ یہاں چند ان ممالک کا ذکر بھی ضروری ہے جو وائرس کا پھیلاو¿ روکنے کے لئے ٹیسٹنگ کی اہمیت کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور پاکستان کی نسبت بہت کم مریض ہونے کے باوجود کئی گنا زائد ٹیسٹنگ کر چکے ہیں لیکن پھر بھی ٹیسٹنگ کا عمل نہ تو محدود کیا گیا ہے اور نہ ہی وبائ کے پھیلاو¿ میں کمی جیسے دعوے کئے گئے ہیں۔ یہ ممالک جانتے ہیں کہ اگر وائرس سے متاثرہ صرف ایک مریض بھی ہو تو چند روز میں ہی مریضوں کی تعداد سینکڑوں پھر ہزاروں اور اس کے بعد لاکھوں میں پہنچ سکتی ہے۔ ان ملکوں میں 8 کروڑ 38 لاکھ آبادی والا ملک جرمنی 18 ویں نمبر پر ہے، جہاں 74 لاکھ ٹیسٹ کے نتیجے میں اب تک دو لاکھ پانچ ہزار مریض سامنے آنے ہیں، پھر بھی ٹیسٹنگ محدود نہیں کی گئی۔ اسی طرح فرانس 19ویں نمبر پر ہے، آبادی چھ کروڑ پچاس لاکھ، ٹیسٹ 29 لاکھ اور مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار ہے۔ دنیا بھر میں بہترین طبی سہولیات والا ملک کینیڈا 21 ویں نمبر پر ہے، مجموعی آبادی تین کروڑ 77 لاکھ ہے اور اب تک 36 لاکھ ٹیسٹ کر کے ایک لاکھ تیرہ ہزار مریضوں کی شناخت کر سکا ہے۔ آج کے موضوع میں سب سے آخر پر اس ملک کا ذکر کرنا سب سے ضروری ہے جو سب سے پہلے وباءکا مرکز بنا، لیکن ساری دنیا کے مقابلے میں سب سے پہلے وائرس پر قابو پانے میں کامیاب ہوا۔ آبادی کے لحاظ سے چائنا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ چائنا کی مجموعی آبادی ایک ارب 43 کروڑ ہے اور آج تک سامنے آنے والے مریضوں کی کل تعداد 83000 ہے یعنی سات ماہ میں بھی وہاں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ تک نہیں پہنچ سکی۔ لیکن اس کے باوجود چائنا میں ٹیسٹنگ کا عمل نہیں روکا گیا۔ اب بھی شہریوں کے زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں۔ بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ اب تک پوری دنیا میں اپنے شہریوں کے سب سے زیادہ ٹیسٹ کرنے والا ملک بھی چائنا ہے جہاں دعوے کرنے کے بجائے سات ماہ میں 9 کروڑ 41 لاکھ ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ ان ملکوں کی نسبت ہماری حکومت کا معجزاتی کمال یہ ہے کہ اس صورتحال کا احساس ہوتے ہی ٹیسٹنگ کا عمل مزید محدود کر دیا گیا ہے۔ پاکستان اب تک مجموعی آبادی کے ایک فیصد کی بھی ٹیسٹنگ مکمل نہیں کر سکا اور جو ٹیسٹ کئے جا رہے تھے انھیں بھی کم کر دیا گیا ہے۔ جس کی واحد وجہ اپنی غلط پالیسیوں اور درست اعداد و شمار پر پردہ ڈالنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتی۔


ای پیپر