25 جولائی
30 جولائی 2019 2019-07-30

ٹھیک ایک سال قبل یعنی 25 جولائی کو پاکستان میں اگر کوئی سب سے زیادہ با اختیار تھا تو وہ عوام تھے۔ ان کے ہاتھ میں آئین پاکستان نے وہ طاقت دی تھی جو وہ اپنی تقدیر بدلنے کے لیے استعمال کررہے تھے۔ وہ طاقت، وہ اختیار دراصل ووٹ کا حق تھا۔ یعنی عوام کا فیصلہ عوام کے ہاتھوں آرہا تھا کے اگلے پانچ سال ان کی امیدوں اور خواہشوں کا محور وہی شخص ہونے جارہا ہے جس کو انہوں نے ووٹ کی طاقت سے مسند پر بٹھایا اور پھر ہوا بھی یوںپاکستان تحریک انصاف کو مرکز اور دو صوبوں میں حکومت بنانے کا موقع اورامتحان دونوں مل گئے۔ اور ایک سال بعد منظر پھر کچھ یوں بدلا کہ ہمارے سیاستدان پھر عوام میں ہیں۔ کوئی جشن منانے کو کہہ رہا ہے اور کوئی سوگ۔ ناجانے عوام کو کس کی ڈفلی پر ناچنا ہے۔ حکومت نے 25 جولائی کے دن کو یوم تشکر کے طور پر مناتے ہوئے باور کروایا کہ یہی وہ دن تھا جس دن پاکستان تحریک انصاف کی تئیس سالہ جدوجہد کا ثمروزارت عظمیٰ کی شکل میں ایک کروڑ 68 لاکھ ووٹ کے ذریعے عوام نے دیا۔ پھر تو جشن منانا بنتا ہے نا۔کہتے ہیں نا کاغذ پر لکھے گئے لفظ 6 کو اگر دوسری جانب سے پڑھا جائے تووہ 9 دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے اور وہ بھی جمہور ہی دکھا رہی ہے۔ کیونکہ اپوزیشن نے 25 جولائی کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ احتجاج بھی کئے، جلوس بھی نکالے اور سہارا ہمیشہ کی طرح پھر عوام کا ہی لیا۔ ایک سال بعد تمام اپوزیشن اس آواز کے ساتھ سڑک پرآئی ہے کہ 2018ءکے الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی تھی۔ وزیراعظم الیکٹڈ نہیں ”سیلیکٹڈ“ ہیں۔ تمام صوبائی دارالحکومتوں لاہور، کراچی، پشاور اورکوئٹہ میں اپوزیشن کے بڑے بڑے لیڈر عوامی اجتماعات سے خطاب کررہے تھے۔ایک سال پہلے نون لیگ کی قیادت کو چور چور کہنے والے بلاول کا جلسہ کراچی میں تھا۔ مولانا فضل الرحمن پشاور میں رنگ جماتے ہوئے نظر آئے۔ ”تیر کوووٹ دو گے تو بلے کو جائے گا اور بلے کو ووٹ دو گے تو تیر کو جائے گا“ کہنی والی نے کوئٹہ میں کمان سنبھالی۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ہمیشہ کی طرح اداروں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ادارے ’نالائق اعظم‘ کی ناکامیوں کو بوجھ اٹھا کر عوام سے ٹکر نہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ ’آپ عوام کے ادارے ہیں، آپ عمران خان کے ادارے نہیں ہیں، جس نے پاکستان کو تاریخی ناکامی سے دوچار کیا، آپ وزیراعظم کے نمائندے نہیں ہیں‘۔ اس مشورے سے پہلے انہوں نے یہ بھی نہیں سوچا وہ تو کسی اسمبلی کی نمائندہ بھی نہیں ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اپنے سابقہ تخت لاہور میںاپوزیشن کی آواز بلند کرتے ہوئے نظر آئے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پاکستان کو تباہ کر دیا، احتساب کے نام پر بدترین انتقام لیا جارہا ہے۔ تین مرتبہ کا وزیراعظم جیل میںقید کیوں ہے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ جیلیں بھر دیں گے لیکن حکومت کو نہیں مانیں گے۔ وہ اس بات پر بضد ہیں کہ جولائی 2018 کے انتخابات دھاندلی زدہ تھے۔ حکومت کے وفاقی مشیر ہوں یا صوبائی ان سب کا ماننا ہے کہ اپوزیشن کسی نہ کسی طریقے سے این آر او کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ عمران خان صاحب کہتے ہیں کے مریم اور بلاول کو دراصل عوام کا درد نہیں بلکہ اقتدار کا درد کھائے جارہا ہے۔ اور یہ دونوں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو مبینہ الزامات اور سزاو¿ں سے بچانے کے لیے حکومت اور اداروں پر دباو¿ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ امریکا ہو یا پاکستان وہ اس عزم کو بھی دہرا چکے ہیں کہ وہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ بقول ان کے قوم کا پیسہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی قیادت نے ہی لوٹا ہے۔ اور قوم کے یہ پیسے لوٹانے تک کسی قسم کی ڈھیل اور ڈیل کی توقع نہ کی جائے۔ ویسے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ تھپکی سے اندازہ لگانے میں بھی کوئی مشکل نہیں ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کا ارادہ مزید مسمم ہوگیا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کی مضبوطی کا عالم یہ ہے کہ 2022ءمیں پہلا پاکستانی خلا میں بھیجنے کا پلان بن چکا ہے،شکر ہے بات ابھی چاند سے نیچے کی ہے۔ لیکن 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے والے اکثر سیاسی رہنماو¿ں سے جب میں نے سوال کیا کہ یوم سیاہ تو آپ نے منا لیا تو اب کیا ہوگا؟ تو کسی نے بھی کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ جب میں نے پوچھا کہ اس احتجاج کو اپوزیشن جماعتیں کسی تحریک میں ڈھال پائیں گی؟ تب بھی جواب آئیں بائیں شائیں ہی تھا۔ بہرحال جب عوام سے بات ہوئی تو لاہور کی حد تک غم و غصہ صاف نظر آرہا تھا۔ بہت بڑی نہیں لیکن تعداد تو آئی تھی۔ بے بسی اور مایوسی ان کے چہرے سے صاف جھلک رہی تھی۔ شاید سوچ رہے تھے مہنگائی اور بلوں سے تنگ آکر ہم چیئرنگ کراس تک تو پہنچ گئے ہیں کیا ہمارے اس احتجاج کا کوئی فائدہ ہوگا۔نیم دلی سے مہنگائی کے خلاف ان کے بلند نعرے مجھے تو کلمہ حق لگ رہے تھے۔ ان کو دورہ امریکا سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو اپنے بیمار کی دوا سے سروکار تھا، یہ وہ لوگ تھے جنہیں بچوں کی سکول فیس دینے میں بہت دشواری ہورہی تھی، سواری کا اور پیٹ کا فیول بھرنا مشکل ہوگیا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو بجلی اور گیس کے بل پرانی قیمتوں پر چاہ رہے تھے۔اگر ملک میں جمہور ہے تو ان ستائے لوگوں کی آواز سننا ہوگی۔اگر میں یہ کہوں کہ کپتان کی امریکی اننگ نے پی ٹی آئی میں نئی جان ڈال دی ہے تو غلط نہیں۔ لیکن پی ٹی آئی کا اصل امتحان عوام کا اطمینان ہے۔اگر انہیں کہیں ریلیف نہ ملا تو صرف اور صرف اپوزیشن کے لیے راستہ ہموار ہوگا۔


ای پیپر