وزیراعظم کا دورہ امریکہ اور ہم اخبارنویس!
30 جولائی 2019 2019-07-30

گزشتہ سے پیوستہ....

سچ پوچھیں میری نظر میں وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ بڑا ”ناکام“ رہا ہے، اِس کی ایک وجہ تو یہ ہے وہ مجھے اپنے ساتھ امریکہ لے کرنہیں گئے۔ میں ذاتی طورپر کئی بار امریکہ جاچکا ہوں مگر وزیر اعظم کے ساتھ سرکاری دورے اور سرکاری خرچے پر امریکہ جانے کا اپنا ہی مزہ ہے، ماضی میں ہمارے کئی قلم کار اور صحافی یہ مزے لُوٹ چکے ہیں، میری چونکہ کسی سابق حکمران سے نہیں بنی لہٰذا میں نے یہ سوچا ہوا تھا بلکہ مجھے پکا یقین تھا ایک ذاتی تعلق کو خاطر میں لاتے ہوئے وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان اپنے ہر غیرملکی دورے پر مجھے ساتھ لے کر جایا کریں گے، سچ پوچھیں تو اُن کی اندھا دھند حمایت کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی، اکثر لوگ مجھ سے کہتے تھے یہ ایک ”بے دید“ انسان ہے اس سے کسی قسم کی توقع مت رکھنا، مگر میں نے کسی کی نہیں سُنی، اتنے سال میں اُن کی حمایت کرتا رہا مگر اقتدار میں آکر اُنہوں نے میرے ساتھ وہی سلوک کیا جو ” اپنوں“ کے ساتھ کرنے میں وہ مشہور ہیں، اب میرے پاس سوائے صبر کے کوئی چارہ نہیں، یا پھر میں اِسی پر خوش ہوں کم ازکم کسی حوالے سے تو اُنہوں نے مجھے ”اپنا“ سمجھا، ....گو کہ میں اِن دنوں یورپ، برطانیہ اور امریکہ کے ڈیڑھ ماہ کے دورے پر ہوں اور اِن دنوں یورپ میں اپنے مہربانوں اور میزبانوں کی مہمان نوازی سے بھرپور لُطف اُٹھا رہا ہوں، وہ میری خدمت میں، بلکہ ہرطرح کی ”خدمت“ میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے، مگر میری خواہش اور دعا تھی وزیراعظم عمران خان جن کا واٹس ایپ پر مجھ سے مسلسل رابطہ ہے، ایک مسیج ہی کردیتے کہ ”تم نے میرے ساتھ لازمی امریکہ جانا ہے ورنہ میں نے نہیں جانا“ ....ایسا کرنے سے اُن کا بھلا کیا جانا تھا مگر میرا دِل رہ جانا تھا، اہل صحافت عزیزوں اور دوستوں میں میری ”بلے بلے“ ہوجانی تھی، افسوس اُنہوں نے مجھے امریکہ ساتھ لے جانا تو درکنار اِس حوالے سے مجھے اعتماد میں لینا بھی مناسب نہیں سمجھا، حالانکہ دیگر کچھ اہم معاملات میں کبھی کبھار وہ مجھے اعتماد میں لے بھی لیتے ہیں، سچ پوچھیں میرا تو اُن سے اعتماد ہی اُٹھ گیا ہے، اِن حالات میں، میں اُن کے دورے کو ” کامیاب“ بھلا کیسے قراردے سکتا ہوں؟.... مجھے یقین تھا امریکہ جانے سے پہلے وہ مختلف اہم امور پر مجھ سے مشاورت کریں گے، یا کم ازکم پرانی محبت یا تعلق کو پیش نظر رکھتے ہوئے واٹس ایپ پر ہی مجھ سے پوچھ لیں گے” مجھے بتاﺅ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے میں نے کیا بات کرنی ہے؟ اور کیسے کرنی ہے؟، اُنہوں نے تو مجھے بالکل ہی منہ نہیں لگایا، لہٰذا میرا ”فرض“ بنتا ہے بلکہ ”قومی فرض“ بنتا ہے اُن کے دورہ امریکہ سے بھرپور کیڑے نکالوں، اور اگر کیڑے نہ ہوں تو پلے سے ڈال دُوں.... جیسا کہ ہمارے ایک محترم باریش قلم کار نے کیا۔ ” ریش مبارک“ کا جتنا ناجائز استعمال وہ کرتے ہیں شاید ہی کوئی اور کرتا ہوگا، خیر یہ ایک الگ کہانی ہے، ماضی میں اُنہیں کالم نویس یا اخبار نویس سے زیادہ تحریک انصاف اور عمران خان کے ذاتی ترجمان کی حیثیت حاصل رہی ہے، ....اگلے روز میں سوشل میڈیا پر اُن کا ایک بیان پڑھ رہا تھا کہ ”بے شک امریکہ میں وزیراعظم پاکستان نے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا مگر اُن کا خطاب وزیراعظم کا نہیں چیئرمین پی آئی اے کا تھا“....مذکورہ بالا ”اخبار نویسوں“ کے مسائل مجھ سے ملتے جلتے ہیں، وزیراعظم عمران خان اُنہیں بھی آج کل ویسے ہی منہ نہیں لگارہے جیسے مجھے نہیں لگارہے، اب چند لوگ ہی خوش قسمت ہیں جنہیں خان صاحب منہ وغیرہ لگالیتے ہیں، مراد سعید اُن میں شاید سرفہرست ہے، مذکورہ بالا کالم نویس یا ” اخبارنویس “ اب عمر کے اُس حصے میں ہیں جہاں اپنے گھروالے منہ نہیں لگاتے، لہٰذا اُنہیں چاہیے مختلف اقسام کے گلے شکوﺅں کو پیش نظر رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرنے کے بجائے صبر شکر کرکے کبھی کبھی اُن کی تعریف بھی کردیا کریں، ہوسکتا ہے کسی روز وزیراعظم

ہاﺅس سے بلاوہ آجائے اور وہ ایک بار پھر وزیراعظم عمران خان کو مہاتیر محمد سے آگے کی کوئی توپ قرار دینے لگیں، پرانے تعلقات کا کچھ لحاظ تو ہونا چاہیے، اُن کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے اُن کے تعلقات اتنے ذاتی نوعیت کے تھے وزیراعظم اکثر اوقات اپنی ضروریات وغیرہ پوری کرنے کے لیے ان سے اُدھار تک لے لیا کرتے تھے، ایک نجی محفل میں وہ بتارہے تھے” ایک بار وزیراعظم کو دولاکھ روپے کی ضرورت پڑی تو اُنہوں نے صبح سات بجے ہی اپنا ڈرائیور میرے گھربھجوا دیا، میں نے اُنہیں فون کیا ”اوئے اللہ دے بندے کم ازکم بینک تو کھل لینے دیتے“....اب پتہ نہیں وزیراعظم نے اُن کے دولاکھ روپے واپس کیے یا نہیں، اگر نہیں کیے تو جہانگیر ترین یا علیم خان کو حکم جاری کریں اُن کی طرف سے یہ رقم فوری طورپر اُنہیں ادا کردی جائے، بلکہ ہوسکے تو کچھ اضافی رقم بھی اُس میں شامل کردیں، .... جہاں تک وزیراعظم کے دورہ امریکہ کا تعلق ہے ہماری اپوزیشن جماعتیں ایک یہ نقطہ اعتراض بھی اُٹھانا بھول گئیں کہ اِس دورے کی ”ناکامی“ کا ایک سبب یہ بھی ہے اُنہوں نے شلوار قمیض( قومی لباس) پہنی ہوئی تھی، پاﺅں میں حسب معمول وہی پشاوری چپل تھی جو وہ گھر میں بھی پہنے رکھتے ہیں“ ،....ویسے وزیراعظم بن کر جہاں اُن میں اور بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں وہاں ایک تبدیلی یہ بھی آئی ہے پہلے وہ بیرون ملک (برطانیہ وغیرہ) جاتے ہی پینٹ کوٹ وغیرہ پہن لیا کرتے تھے، میں اکثر اُن سے کہتا تھا ”آپ پاکستان میں شلوار قمیض پہنے رکھتے ہیں بیرون ملک بھی یہی قومی لباس پہنا کریں“، وزیراعظم بننے کے بعد اُنہوں نے جتنے غیرملکی دورے کیے سب میں پاکستانی لباس پہنا ہوا تھا، اُن کا بس چلتا تو امریکی صدر ٹرمپ کو بھی حکم جاری کردیتے کہ میرے ساتھ ملاقات کرنی ہے تو شلوار قمیض پہن کر آنا“،....بہرحال وہ کچھ بھی پہن لیں اصل مسئلہ اہلیت اور غریب، بے بس اور مظلوم عوام کی خدمت کا ہے جو کسی بھی لباس میں کی جاسکتی ہے، قائداعظم ؒ شلوار قمیض نہیں پہنتے تھے، یا بہت کم پہنتے تھے مگر پاکستان بنا کر جو کارنامہ اُنہوں نے کیا اس کا پھل اب ” نیاپاکستان“ بنانے والے بھی کھارہے ہیں، عوام کے مقدر میں شاید ”چھلکے اورگٹھلیاں“ ہی لکھی ہیں (جاری ہے)


ای پیپر