Source : File Photo

چین کا حیرت انگیز کارنامہ
30 جولائی 2018 (22:59) 2018-07-30

بیجنگ: چین ٹیکنالوجی کے حوالے سے قطعاََ کسی ملک سے کم نہیں اور دنیا بھر میں اس نے اپنا لوہامنوایا ہے ،شب و روز محنت اور حکومتی سر پرستی نے چین کو عالمی منڈی میں ایک نمایاں مقام حاصل کروا دیا ہے جس کا خوف اب عالمی سپر پاور امریکہ کو بھی محسوس ہونے لگا ہے ۔اب چائنا نے ایک ایسا ہی شکار بنا ڈالا جو دیکھنے والے کیلئے کسی حیرت سے کم نہیں۔

 

 

آپ نے سائنس فکشن فلموں میں مصنوعی آبشار دیکھے ہوں گے لیکن اب چینی ہنرمندوں نے ایک طویل عمارت پر دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی آبشار قائم کیا ہے جو دیکھنے والوں کو حیران کرنے کے لیے کافی ہے۔ چین کے شہر گیوائی یانگ میں لائی بیان انٹرنیشنل پلازا کے ایک جانب اوپر سے پانی کو نیچے کی جانب بہا کر ایک آبشار بنائی گئی ہے جس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہورہی ہیں۔

تعمیراتی ماہرین نے اس عمارت کو ٹیکنالوجی کا شاہکار قرار دیا ہے جس کی اونچائی 108 میٹر یا 354 فٹ ہے جب کہ آبشار کی بلندی 100 میٹر ہے۔ لوگوں نے پہلے عمارتی آبشار کو بلڈنگ میں پائپ پھٹنے کی وجہ قرار دیا اور اس کے بعد انہیں یقین آیا کہ یہ انسانوں کا بنایا ہوا سب سے بڑا مصنوعی آبشار ہے۔ آبشار کا پانی مسلسل عمارت میں گھومتا رہتا ہے۔

نیچے گرنے والا پانی زیرِ زمین پانی کے ٹینکوں میں جمع ہوتا ہے اور وہاں طاقتور واٹر پمپ اسے اوپر کی جانب بھیجتے ہیں اور وہاں سے پانی دوبارہ نیچے گرتا رہتا ہے۔ اس کے اندر چار منزلہ انڈرگراو¿نڈ ٹینک اور پمپنگ سسٹم بنایا گیا ہے جو پانی کو پمپ کرنے کے ساتھ ساتھ ری سائیکل بھی کرتا ہے۔

کئی لوگوں نے عمارتی آبشار کو حیرت انگیز قرار دیا ہے جبکہ بعض افراد نے اسے وسائل اور دولت کا زیاں قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے کہا ہے کہ آبشار جاری رکھنے کے لیے فی منٹ بجلی کی بڑی مقدار ضائع کی جارہی ہے جس کر خرچ کم ازکم 120 ڈالر فی گھنٹہ ہے۔ 121 میٹر بلند لائبان انٹرنیشنل پلازا میں ہوٹل، دفاتر اور بازار قائم ہیں۔


ای پیپر