آدھی رات کے گیڈر

30 جولائی 2018

وکیل انجم

’’آپریشن مڈ نائٹ جیکال‘‘ جو بے نظیر بھٹو کی حکومت کو گرانے کے لیے ایک خفیہ ایجنسی کے دو اہلکاروں بریگیڈیئر امتیاز اور میجر عامر نے ترتیب دیا تھا اس منصوبے میں آئی جے آئی کے ایم این اے ملک نعیم اور کچھ اور لوگ بھی شامل تھے جس کا مقصد بینظیر بھٹو کو اس آپریشن کے ذریعے اقتدار سے محروم کرنا تھا مگر اندر کے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نواز شریف کو مقدمے میں پھنسانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ مگر اب معاملہ اور ہے۔ گورنر سندھ محمد زبیر عمر نے اپنا استعفیٰ پیش کرتے ہوئے تفصیل سے بتایا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ انتخاب کا سارا کھیل ایک پارٹی کو جتانے کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے انتخابی نتائج دینے والے آرٹی ایس سسٹم پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ ’’یہ سسٹم بیٹھا نہیں بٹھایا گیا ہے‘‘۔ یہ سارا کھیل تقریباً آٹھ بجے کے بعد شروع کیا گیا گنتی کے وقت پولنگ ایجنٹوں کو نکال دیا گیا یا انہیں دور بٹھا دیا گیا۔ یہ دھاندلی کا ایک نیا طریقہ ہے اس سے پہلے تھیلے بتدیل ہوتے تھے۔ پولنگ ایجنٹ کو رزلٹ نہیں دیا جاتاتھا۔ انتخاب کی ساکھ کو پرکھنے کے لیے دنیا بھر سے جو آبزور آئے انہوں نے پولنگ ڈے کو شاندار اور بین الاقوامی ضوابط کے مطابق قرار دیا مگر پری پول رگنگ کو تسلیم کیا وہاں الیکشن کمیشن پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ انتخابی مہم میں ایک جماعت کی مدد کی گئی۔ ایک جماعت کو دیوار سے لگایا گیا مگر رات کی تاریکی کا یہ پہلو سب نے دیکھا کہ فارم 45 پر جو رزلٹ مرتب کیا گیا اس پر گنتی کے عمل میں پولنگ ایجنٹ شامل نہیں تھا اُن کو بھگا دیا گیا یا وہ اتنا دور بیٹھا تھا کہ اس کو معلوم نہیں ہو سکا کہ کیا ہوا ہے۔ یہ کہانی خیبر سے کراچی تک تحریک انصاف کے سوا ہر جماعت کی ہے۔ ہر پولنگ اسٹیشن اور ہر حلقے کی ہے اپوزیشن جماعتیں ایک زبان ہو کر بول پڑی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) اور متحدہ مجلس عمل کی اے پی سی ہوئی جس کے تیور سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مستقبل کیسا ہو گا۔ مولانا فضل الرحمن نے جو لب و لہجہ استعمال کیا ہے عموماً وہ ایسا کیا نہیں کرتے۔ ایم کیو ایم سمجھتی ہے یہ تاریخ کی سب سے بڑی دھاندلی ہے تحریک انصاف کو حیرت اس بات کی ہے کہ پیپلزپارٹی تو کامیاب ہوئی ہے وہ کیوں اس احتجاج کا حصہ بن رہی ہے کراچی کے حوالے سے رزلٹ وہ نہیں ہیں مبینہ طور پر کہا جاتا ہے اگر تخت لاہور مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے تو تخت کراچی تحریک انصاف کو دے دیا گیا۔ اپوزیشن اس مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کرتی دھاندلی کے حوالے سے جس جانب اشارے ہو رہے ہیں وہ اس منظر نامے سے اب کافی پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ آنے والا سیاسی طوفان ایک بار پھر دستک دے رہا ہے۔ نیا پاکستان بنانے والے نشے سے بدمست ہیں۔ جہانگیر ترین کا جہاز آزاد امیدواروں کو شکار کر رہا ہے۔ الزام تو یہ بھی ہے بولی 5 سے دس کروڑ تک چلی گئی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کامیاب امیدوار مرضی سے آتے یہاں تو بھیڑ بکریاں سمجھ کر بولیاں لگ رہی ہیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم تو 1980ء کی دہائی میں دھکیل دیئے گئے ہیں۔ سب کچھ نظر آ رہا ہے مگر جمہوریت کا یہ چہر چیف جسٹس صاحب بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس صورت حال نے ناممکن کو ممکن بنا دیا ہے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے مذاکرات ہو گئے ۔ بہت سے فیصلے پیپلزپارٹی نے کر لیے ہیں۔ (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی نے حکمت کا مظاہرہ کیا ہے فیصلہ تو یہی ہے کہ پارلیمنٹ کا فورم نہیں چھوڑیں گے جمہوریت کی بالادستی کا فیصلہ ہے۔ اس پر گزرے کل اپوزیشن جماعتوں کا جو اجلاس ہوا ہے اس میں پارلیمنٹ کے اندر رہ کر نمبروں کا کھیل کھلیں گے ۔ خورشید شاہ کا یہ تبصرہ دلچسپی سے خالی نہیں ہے عمران خان نے اکثریت لی ہے تو حکومت بنائیں۔ اگر نمبروں کے اس کھیل کو دیکھا جائے تو تحریک انصاف کو قومی ہی نہیں چار صوبائی نشستیں بھی چھوڑنا پڑیں گی اس طرح تحریک انصاف کے پاس 106 ووٹ ہیں اور اسے اکثریت کے لیے 137 ووٹوں کی ضرورت ہے اگر چوہدری پرویز الٰہی قومی اسمبلی کی نشست برقرار رکھتے ہیں تو انہیں ایک قومی اور ایک صوبائی نشست چھوڑنا پڑے گی۔ اس طرح تحریک انصاف کے ووٹ 109 ہو جائیں گے۔ اگر گورنر کا عہدہ ایم کیو ایم کو ملے گا تو چھ ووٹ اس میں اور جڑ جائیں گے یوں سکور 115 ہو جائے جی ڈی اے کے سندھ میں 2 قومی ارکان کامیاب ہوئے ہیں ان کو وزارتیں ملیں گی تو حکومت میں آئیں گے ۔ اس طرح تعداد ایک سو سترہ ہو جائے گی۔ اگر دس آزاد ارکان مل جائیں تو یہ تعداد 127 ہو جائے گی۔ تین سردار مینگل اور تین ووٹ ’’باپ‘‘ کے اکٹھے ہو جائیں گے تو بھی باقی ووٹ کہاں سے آئیں گے؟ یہ بھی خبر ہے تحریک انصاف کے سربراہ دنیا بھر سے وزیراعظم بننے پر مبارک بادیں وصول کر رہے ہیں مگر وہ نمبر گیم میں بری طرح الجھے ہوئے ہیں۔ 8 چھوٹی بڑی جماعتوں کو ساتھ ملانے کے باوجود ان کے پاس وزیراعظم بننے کے لیے مطلوبہ تعداد نہیں ہے گرچہ پیپلزپارٹی نے مرکز میں حکومت بنانے کے کسی بھی طریقے کی مخالفت کی ہے۔ اب پیپلزپارٹی اپنا وزیر اعظم اس شرط پر لا سکتی ہے کہ وہ کامیابی کے بعد شفاف انتخابات چھ ماہ کے اندر کروا دیں گے۔ اگر آل پارٹیز کانفرنس نے اس کی منظوری دے دی تو آصف زرداری آسانی سے یہ نمبر پورے کر سکتے ہیں مگر یہ ماضی کا مسترد طریقہ ہے۔ نیا پاکستان بنانے والوں نے مبینہ طور پر خرید و فروخت کا کھیل شروع کیا ہے دوسرے کیوں نہ کریں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر ملک بھر سے سوالیہ نشان اُٹھ رہا ہے؟ تمام جماعتیں چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ فارم 45 نے توپورے الیکشن پر سوالیہ نشان اُٹھا دیا ہے۔
الیکشن کمیشن کو با اختیار بنانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ وہ الیکشن کو غیر جانبدار بنائیں گے مگر قوم کا 21 ارب خرچ کرنے کے بعد ایک دن کے لیے کام کرنا تھا وہ اس سے نہیں ہو سکا۔ اب اصل سوال تو یہ ہے کہ انہیں استعفیٰ دینا چاہیے یا نہیں۔ استعفیٰ کا مطالبہ تو کیا تھا بلاول بھٹو زرداری نے۔ اب اصل معاملہ تو یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے قوم کا ایک دن کی پر فارمنس پر جو خرچ کیا ہے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ پاکستان بھر میں سے 21 ارب کی رقم کے باوجود دھاندلی کی شکایات پر طوفان امڈتا آ رہا ہے۔ احتجاجوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اب اصل سوال تو یہ ہے کہ قوم کے سامنے فارم 45 رکھا جائے گا۔ فارم 45 الیکشن کمیشن کے پاس تو موجود ہے مگر یہ فارم امیداروں کے نمائندوں کو دیا ہی نہیں گیا یہی وجہ ہے فارم 45 اپ لوڈ کرنے کی بجائے پورے کے پورے ڈبے کھولے جائیں نادرا ہر انگھوٹھے کی تصدیق کرے اسی کا نام شفاف انتخاب ہیں تا کہ معلوم ہو سکے کہ ڈبوں میں کیا ہے اور فارم 45 پر کیا ہے اور یہ بات بھی عوام کے سامنے آ سکے کہ آدھی رات کے گیڈروں نے کس طرح نئی حکومت کی آمد سے پہلے ہیجان کی صورت برپا کر دی ہے۔ کپتان کو الیکشن کمیشن نے سرکاری نتائج کے ساتھ ہی وزیراعظم بننے کے لیے 137 ارکان کی ضرور ہے المیہ تو یہ ہوا کہ اشاروں پر بننے والی بلوچستان عوامی پارٹی بری طرح قومی اسمبلی میں شکست سے دو چار ہوئی ہے۔ اُن کے کھاتے میں دو ارکان کے علاوہ زبیدہ جلال کامیاب ہو سکی ہیں۔ وہاں سندھ میں قائم ہونے والا ڈیمو کریٹک الائنس قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر کامیاب ہوا ہے۔ شاہ محمود قریشی اندرون سندھ کی 2 قومی نشستوں پر اس بری طرح شکست سے دور چار ہوئے۔ غوثیہ جماعت کے کارکنوں نے ثابت کر دیا کہ وہ شاہ محمود کے سیاسی وژن کو مسترد کرتے ہیں جبکہ سابق وزیراعلیٰ بار بار وفاداریاں بدلنے والے لیاقت جتوئی اور اُن کا بیٹا عبدالکریم جتوئی پیپلزپارٹی کے لغاری اور جمالی کے ہاتھوں پٹ گیا۔ بلکہ اُں کے دو بھائی بھی صوبائی نشست سے ہار گئے۔ جیکب آباد سے دادو تک اندرون سندھ کا ایک حلقہ ایسا ہے جہاں سے محمد میاں سومرو جو نگران وزیراعظم رہے ہیں کامیاب ہوئے ہیں۔ ارباب غلام رحیم سابق وزیراعلیٰ کلین بولڈ ہو گئے ہیں۔ وہاں ممتاز بھٹو کا جانشین فریال تالپور کے ہاتھوں چاروں شانے چت ہو چکا۔ نفسیہ شاہ نے جی ڈی اے کے سابق وزیراعلیٰ غوث علی شاہ ن کے ہاتھوں شکست کھا چکی ہیں۔ جنوبی پنجاب متحدہ محاذ کے برج بھی وہ کامیابی نہ پا سکے جس کا انہوں نے دعویٰ کیا تھا۔ مخدوم احمد محمود کے دونوں بیٹے کامیاب ہو چکے۔ جن آزاد امیدواروں کو ساتھ ملانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے انہوں نے تو تحریک انصاف کے امیدواروں کو شکست دی ہے علی محمد مہر بھی انہی لوگوں کو ناکام بنا کر کامیاب ہوئے ہیں۔
کبیروالا سے فخر امام کے بھتیجے حسین جہانیاں گردیزی تحریک انصاف اور ہراج گروپ کو شکست دے کر کامیاب ہوئے تھے مگر کامیاب ہونے کے بعد 28 جولائی 2018ء کو فخر امام چل کر بنی گالہ پہنچ گئے۔ فخر امام ایک نفیس سیاست دان ہونے کے باوجود ان کی وفاداریاں تبدیل کرنے کا ریکارڈ اتنا مثالی نہیں ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ سیاسی حوالے سے کافی حد تک اپنی اہلیہ عابدہ حسین کے زیر اثر ہیں۔ انتخابی سیاست میں عابدہ حسین جھنگ سے مثالی ریکارڈ نہیں رکھتیں۔ وہ جھنگ سے تحریک انصاف میں شامل ہو کر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنا چاہتی تھی مگر نئی حلقہ بندی کی صورت حال ایسی تھی کہ غلام بی بی بھروانہ جو ختم نبوت کے ایشو پر (ن) لیگ اور قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئی تھیں اُن کو تحریک انصاف کا ٹکٹ مل گیا تو عابدہ حسین خود تو مقابلے سے دستبردار ہو گئی مگر غلام بی بی بھروانہ کے مقابلے میں اپنی صاحبزادی صغریٰ امام کو امیدوار بنا دیا۔ صغریٰ امام نے (ن) لیگ سے اپنے سیاسی کر یئر کا آغاز کیا تھا کیونکہ فخر امام اور عابدہ حسین (ن) لیگ میں شامل تھے جبکہ صغریٰ امام اس وقت ضلع کونسل جھنگ کی چیئرپرسن بن گئیں۔ نواز شریف کی حکومت کے زوال کے بعد مسلم لیگ (ن) سے جن لوگوں نے بغاوت کی تھی اس میں میاں اظہر، خورشید محمود قصور کی کے ساتھ ساتھ فخر امام اور عابدہ حسین شامل تھیں۔ جنرل مشرف کی خواہش پر مسلم لیگ (ق) کی تشکیل ہوئی تو میاں بیوی اس کا حصہ بن گئے فخر امام اور عابدہ حسین نے 2002ء کے الیکشن
سے آؤٹ ہونے کے باوجود ان کی صاحبزادی پرویز الٰہی کی کابینہ میں صوبائی وزیر بن گئیں بعد ازاں یہ خاندان مسلم لیگ قائداعظم یعنی (ق) لیگ کو چھوڑ کر پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہو گئے۔ 2008ء کے انتخابات میں سیدہ عابدہ حسین نے تو حصہ نہیں لیا مگر اُن کے بیٹے نے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر مسلم لیگ (ق) کے امیدوار کے ہاتھوں بڑے مارجن سے شکست کھائی۔ فخر امام بھی رضا ہراج سے شکست کھا گئے۔ طویل شکست کے بعد خانیوال کے سید خاندان کی کامیابی کی اہم وجہ یہ ہے کہ ان کے اپنے کزن سید خاور سے طویل عرصے کے بعد صلح ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کامیابی کا اعلان ہوے ہی انہوں نے بنی گالہ کا رخ کیا اور عمران خان کے ہاتھوں سیاسی بیعت کر لی۔ مصطفی کمال سمجھتے ہیں کہ ہم نے الیکشن سے 20دن قبل کسی کی خواہش کی تکمیل نہیں کی اس لیے ہم کو دھاندلی کے ذریعے شکست دلائی گئی کھل کر بات کرنی چاہیے اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں اشارے کر رہے ہیں اس ساری صورت حال نے پاکستان کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ فیصل صالح حیات بھی دہائی دے رہے ہیں مسلم لیگ (ن) ایک نئے مطالبہ کے ساتھ میدان میں آئی مطالبہ ہے ’’جوڈیشل کمیشن‘‘ کا مگر شرط یہ لگائی ہے کہ کمیشن میں نان پی سی او جج شامل ہو۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس نئی بحث میں عدلیہ کا سیاسی کردار بھی آئے گا اس کا آغاز اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنسنی خیز انکشافات سے ہو چکا ہے۔

مزیدخبریں