راولپنڈی ، اسلام آباد۔۔۔ مسلم لیگی اُمیدواروں کی شکست!

30 جولائی 2018

ساجد حسین ملک

حالیہ انتخابات میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے قومی اسمبلی کے 9 (کل 10 حلقے بنتے ہیں ایک NA-60 میں حنیف عباسی کی نااہلی کی وجہ سے انتخابات ملتوی ہوگئے تھے)میں سے 9 حلقوں میں مسلم لیگ ن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جبکہ ان تمام حلقوں میں پاکستان تحریکِ انصاف کے اُمیدوار واضح اکثریت سے کامیاب رہے ہیں۔ اس کے ساتھ راولپنڈی کی صوبائی اسمبلی کی کل 15 نشستوں میں سے 15 پر بھی مسلم لیگ ن کو شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ ان 15 میں سے 13 نشستوں پر تحریکِ انصاف کے اُمیدوار اور دو PP-7 سے راجہ صغیر احمد اور PP-10 سے چوہدری نثار علی خان بطورِ آزاد اُمیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ حالیہ عام انتخابات کے یہ نتائج مسلم لیگ ن کے حامیوں اور پُر جوش کارکنوں کے لیے جہاں مایوسی ، صدمے ، غم اور پریشانی کا باعث بنے ہیں وہاں بعض عوامی حلقوں کے نزدیک بھی اچنبھے اور حیرانی کا سبب بنے ہیں۔ یہاں سے تحریک انصاف کی لہر (سونامی)کے چلنے کے امکانات کے باوجود اس کی 100 فیصد کامیابی کاامکان نہیں تھا اور عام خیال یہی تھا کہ مئی 2013ء کے انتخابی نتائج کا اعادہ ہو گا یا اُن میں سے کچھ اُنیس، بیس کے فرق کے ساتھ کامیابی اور ناکامی کا تناسب قائم ہو گا۔ مئی 2013ء کے عام انتخابات میں راولپنڈی اسلام آباد کی قومی اسمبلی کی کل 9 نشستوں میں سے 5 پر مسلم لیگ ن اور 3 پر تحریکِ انصاف اور 1 پر شیخ رشید احمد (عوامی مسلم لیگ) کو کامیابی ملی تھی۔ صوبائی اسمبلی کی 14 نشستوں پر بھی کامیابی اور ناکامی کا تناسب مسلم لیگ ن کے حق میں اس سے بڑھ کر تھا۔ مسلم لیگ ن نے 14 میں سے 9 پر اور تحریکِ انصاف نے 5 پر کامیابی کے پھریرے لہرائے تھے۔ اب انتخابی نتائج پہلے انتخابی نتائج کے تقریباً بالکل برعکس آئے ہیں تو اُن کے بارے میں اچنبھے یا حیرانی کا شکار ہونا فطری امر ہے لیکن اچنبھے یا حیرانی سے کیا ہو سکتا ہے برسرِ زمین حقیقت یہی ہے کہ مسلم لیگ ن کو یہاں سے بد ترین شکست (100 فیصد ناکامی) کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ آخر ایسا کیوں ہوا ہے ہر کوئی اس کی اپنے اپنے انداز اور اپنی اپنی فکر اور سوچ کے مطابق توجیح کر رہا ہے۔ میرے نزدیک بھی کچھ باتیں اور کچھ عوامل ایسے ہیں جن کا اس صورتحال کو وجود میں لانے میں کچھ نہ کچھ حصہ ہو سکتا ہے۔ لیکن پہلے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ ارضی اسباب و علل کے ساتھ سماوی (آسمانی) فیصلوں کا عمل دخل سب سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے اللہ کریم کی مرضی اور منشا کے مطابق ہوتا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ الہٰی ہے ’’یہ دن ہیں ، جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیا کرتے ہیں‘‘۔ پھر یہ فرمانِ ربانی بھی ہے ’’اے اللہ مالک الملک تو جسے ملک دے اور جس سے چاہے ملک چھین لے اور جسے تو چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے، تیرے ہاتھ میں تمام بھلائی ہے ، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ مطلب یہ ہوا کہ فتح اور شکست یا کامیابی اور ناکامی یا عزت اور ذلت جو بھی سامنے آئی ہے ایسا ہونا ہی تھا کہ امرِ ربی سے مفر ممکن نہیں اور سماوی فیصلے ہو کر ہی رہتے ہیں تاہم انسانوں کا عمل دخل بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے اسے ہم ارضی اسباب و علل کہہ سکتے ہیں ۔ ان کا جائزہ لینے میں کچھ مضائقہ نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پانامہ کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت، جے آئی ٹی کی تفتیش اور پچھلے سال 28 جولائی کو میاں محمد نواز شریف کو سپریم کورٹ کے پانچ رُکنی بینچ کی طرف سے آئین کی دفعات 62 اور 63 میں صادق اور آمین کی شرائط پر پورا نہ اُترنے کی بنا پر عوامی عہدے سے تاحیات نااہلی کی سزا ملنے کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف اور اُنکی بیٹی محترمہ مریم نواز شریف
نے جو بیانیہ اختیار کیا اور ریاست کے دائمی اداروں (عدلیہ اور فوج ) سے مزاحمت اور ٹکراؤ کی جس پالیسی کواختیار کیا اُسے بعض مسلم لیگی رہنماؤں، عہدیداروں اور ارکانِ پارلیمنٹ و اسمبلی نے پورے دل و جان سے قبول نہیں کیا اور شروع شروع میں اس کے خلاف آوازیں بھی اُٹھیں ۔ میاں شہباز شریف، چوہدری نثار علی خان اور کچھ دوسرے مسلم لیگی رہنماؤں خواجہ سعد رفیق یہاں تک کے سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے میاں نواز شریف کے بیانیے سے ہٹ کر خیالات سامنے آئے لیکن چوہدری نثار علی خان کے مخالفانہ مؤقف اور کچھ کچھ میاں شہباز شریف کے اختیار کردہ اُن سے ملتے جلتے مؤقف کے علاوہ دیگر مسلم لیگی رہنماؤں کی اُٹھنے والی آوازیں وقت گزرنے کے ساتھ مصلحتاً یا کسی اور بنا پر خاموش ہو گئیں یا مدھم پڑ گئیں اور ریاست کے دائمی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ اور مزاحمت کی پالیسی مسلم لیگ ن کی بطورِ جماعت پالیسی کا روپ اختیار کرگئی۔ اس سے بظاہر یہ تاثر ضرور اُبھرا کہ مسلم لیگی قائدین یا مسلم لیگ ن کے کرتا دھرتا میاں محمد نواز شریف کی اختیار کردہ ٹکراؤ اور مزاحمت کی پالیسی پر کاربندہو چکے ہیں لیکن اندرونِ خانہ مسلم لیگ ن کی صفوں میں بہر کیف اس پالیسی کے حوالے سے مکمل طور پر وہ یکسوئی اور عزم صمیم پیدا نہ ہوسکا جو عام روایات سے ہٹ کر اپنائی جانے والی اس انتہائی جاندار اور ایثار اور قربانیوں کا تقاضا کرنے والی پالیسی کی کامیابی کے لیے ضروری تھا۔ البتہ یہ نتیجہ ضرور سامنے آیا کہ ریاست کے دائمی اداروں کے ذمہ داران اور مسلم لیگی قائدین ( بلکہ پوری جماعت مسلم لیگ ن ) کے درمیان فاصلے اور کسی حد تک مخاصمت کو فروغ ملا۔ اس کے منفی اثرات بہر کیف سامنے آنے تھے ۔ عوام الناس میں یا تاثر پیدا ہوا کہ ریاست کے دائمی ادارے مسلم لیگ ن کو اگر آگے آنے سے روکنے پر تُلے بیٹھے ہیں تو پھر مسلم لیگ کے اس جہاز کی سواری فائدے کی بجائے گھاٹے کا سودا ہو گا۔ چنانچہ کئی مسلم لیگی ارکانِ اسمبلی (سابقہ) اور انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں نے مسلم لیگ ن کو خیر باد کہنا شروع کر دیاجس سے مسلم لیگ ن کی صفوں میں انتشار اورکمزوری کے اثرات ضرور ہویدا ہوئے۔ دوسری طرف عمران خان کے لیے (لاڈلے) کی گردان اور دائمی اداروں کے اس کے حق میں نرم پالیسی اختیار کرنے یا بے جا حمایت کرنے کا پراپیگنڈہ کرنے کے بھی منفی اثرات سامنے آئے اور ووٹرز کاوہ طبقہ جو کسی سیاسی جماعت یا اُس کے انتخابات کے حصہ لینے والے اُمیدواروں کے حق یا مخالفت میں فیصلہ کرنے کے لیے تذبذب کا شکار تھا اور جس کی تعداد کچھ معتبر اداروں کی طرف سے کیے جانے والے انتخابی جائزوں اور Survays میں تقریباً ہر حلقے میں 10 سے 15 فیصد ظاہر کی جاتی رہی ، اُس نے بھی بہتری اسی میں جانی کے وہ مشکل کے شکار پہلے سے آزمائے ہوؤں کو جن کو مقتدر حلقوں کی مخالفت کا سامنا بھی ہے کو آزمانے کی بجائے میدان سیاست میں تبدیلی کے دعویداروں کو جو دائمی اداروں کے چہتے ہونے کا مان بھی رکھتے ہیں آگے آنے کا موقع دیں۔ اس طرح تحریکِ انصاف کو اس غیر جانبدار طبقے کی ہمدردیاں ہی حاصل نہ ہوئیں بلکہ یہ طبقہ تحریکِ انصاف کے اُمیدواروں کو ووٹ دینے کے لیے گھروں سے بھی نکلا۔ راولپنڈی اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے دو تین حلقوں کو چھوڑ کر باقی حلقوں اور راولپنڈی کے صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے نتائج کو سامنے رکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگی ووٹرز اُس جذبے اور ولولے کے ساتھ گھروں سے نہ نکل سکا جو جیت کے لیے ضروری تھا۔ NA-59 اورNA-63 اوران کی ذیل میں آنے والے صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں مسلم لیگی قائدین کی ہدایت پر مقامی سطح کے مسلم لیگی رہنماؤں کا سارا زور چوہدری نثار علی خان کی مخالفت اور چوہدری نثار علی خان کو شکست سے دوچار کرنے کی بھاگ دوڑ میں لگا رہا جس کا فائدہ لامحالہ طور پر تحریک انصاف کے دونوں حلقوں سے قومی اسمبلی کے اُمیدوار سرور خان اور صوبائی اسمبلی کے اُمیدواروں کو پہنچا اور وہ بھاری اکثریت سے ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔
قدرت شاید ناراض تھی کہ محترمہ کلثوم نواز جو پچھلے نو، دس ماہ سے کینسر کی مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے لندن میں زیرِ علاج ہیں کو رمضان المبارک کے بعد دل کا شدید دورہ پڑا جس پر انہیں بے ہوشی کی حالت میں وینٹیلیٹر پر منتقل کرنا پڑا۔ میاں محمد نواز شریف اور محترمہ مریم نواز کو اُن کی شدید علالت کی وجہ سے لندن جانا پڑا۔ میاں شہباز شریف بھی کچھ دن لندن رہے اس طرح مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم اُس جوش و جذبے سے جاری نہ رکھی جا سکی جیسی ہونی چاہیے تھی۔ لندن سے واپسی کے بعد میاں شہباز شریف نے پوری سرگرمی اور مستعدی سے مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم سمیت تمام معاملات کو سنبھالنے کی کوشش کی ۔ اس دوران 7 جولائی کو احتساب عدالت نے میاں محمد نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی مریم نواز کو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں طویل قید اور بھاری جرمانے کی سزائیں سنا دیں۔ کیپٹن صفدر کو بھی نہ بخشا گیا اور اعانیتِ جرم میں ایک سال قید بامشقت کی سزا کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ یقیناًیہ سزائیں مسلم لیگی قیادت سمیت انتخابات میں حصہ لینے والے مسلم لیگی اُمیدواروں اور اُن کے حامی کارکنوں کے لیے بڑے صدمے ، رنج اور دُکھ کا باعث بنیں اور رنج اور غم کی اس کیفیت سے نکلنے اور سنبھلنے میں اُنہیں کچھ وقت لگا لیکن اس صورتحال کے منفی اثرات بہر کیف مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کی اُٹھان اورمسلم لیگی کارکنوں اور ورکرز کے مورال اور حوصلوں پر ضرور مرتب ہوئے۔ شاید کچھ محترم دوست اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن میرے خیال میں لندن فلیٹس کی خریداری اور اُن کی ملکیت کے بارے میں ابہام اورمیاں محمد نواز شریف اور اُن کے بیٹوں حسین نواز ، حسن نواز اور بیٹی محترمہ مریم نواز کے مختلف مواقعے پر اختیار کیے گئے متضاد اور مختلف مؤقف سے عام لوگوں کے ذہنوں میں میاں محمد نواز شریف کے بد عنوانی میں ملوث ہونے یا کم از کم منی لانڈرنگ کرنے کے حوالے سے کچھ شکوک و شبہات ضرور پید اہوئے ہیں جن کا مداوا نہیں کیا جاسکا۔ ذاتی طور پر میرا آج بھی یقین کی حد تک گمان ہے کہ میاں محمد نواز شریف قومی خزانے کی کسی لوٹ مار، بد عنوانی یا کرپشن میں ملوث نہیں رہے ہیں لیکن یہ افسوسناک حقیقت اپنی جگہ بہر کیف موجود ہے کے لندن فلیٹس کی خریداری کے حوالے سے منی ٹرانزیکشن یا وسائل کی دستیابی کے بارے میں ٹھوس شواہد اور دستاویزی ثبوت پیش کرنے سے وہ قاصر رہے ہیں۔ یقیناًاس سے بھی عوام الناس میں مسلم لیگ ن کے بارے میں ہمدردی کے جذبات اور حمایت میں کمی پید اہوئی جس کا خمیازہ مسلم لیگی اُمیدواروں کو شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا۔
یہ کچھ ایسے اسباب و علل ہیں جن کے بارے میں سمجھا جا سکتا ہے کے یہ پورے ملک میں مسلم لیگ ن کی مقبولیت میں کمی اور اس کی سب سے بڑی مخالف جماعت تحریکِ انصاف کی مقبولیت میں کسی حد تک اضافے کا باعث بنے ہیں لیکن بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی راولپنڈی اسلام آباد میں مسلم لیگی اُمیدواروں کی بد ترین شکست کے حوالے سے کچھ مزید عوامل بھی ہیں جن کا تعلق بڑی حد تک ان اُمیدواروں سے یا مقامی حالات سے جڑتا ہے ۔ انشاء اللہ اگلے کالم میں اس کا جائزہ لیا جائے گا۔

مزیدخبریں