عمران خان کے سر حکمرانی کا دمکتا تاج اور دہکتا تخت

30 جولائی 2018

فرخ سہیل گوئندی

بروز ہفتہ 28جولائی 2018ء میرے گزشتہ کالم بعنوان ’’جناب عمران خان کے نام!‘‘ میں اُن کی سیاست، انتخابی نتائج اور پاکستان کو درپیش مسائل اور اُن کی حکمرانی کے حوالے سے ایک جائزہ پیش کیا گیا تھا۔ آج تک انتخابی نتائج کے حوالے سے جو صورتِ حال ابھر کر سامنے آئی ہے، اس کو جاننے کے لیے انہی صفحات پر میرے عزیز دوست اور روزنامہ نئی بات کے کالم نگار جناب خالد بھٹی کا کالم ’’انتخابات کے بعد کا منظر‘‘ جو گزشتہ روز شائع ہوا، بڑا اہم ہے۔ اس میں انہوں نے تفصیل سے مختلف جماعتوں کی حاصل کردہ سیٹوں کو سامنے رکھ کر مرکز، پنجاب اور بلوچستان میں حکومت سازی کے معاملات کو پیش کیا ہے۔ قارئین، جناب خالد بھٹی کے کالم کو ضرور پڑھیں، جس سے قومی اسمبلی، پنجاب اور بلوچستان اسمبلی میں نتائج کو سامنے رکھ کر پاکستان کی آئندہ سیاست، حکومت اور خصوصاً عمران خان کے دعووں، اعلانات، عام لوگوں کی امیدوں اور پاکستان کے سیاسی مستقبل کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ عمران خان مرکز اور صوبہ پنجاب میں Minority Government ہی بنا پائیں گے۔ ایک ایسی حکومت جو سٹیٹس کو کو جاری رکھنے کے سوا کچھ نہیں کرپائے گی۔ معیشت کی چھوٹی موٹی معاشی مرمت اور نام نہاد اقتصادی اور سیاسی اصلاحات کرنے کے لیے بھی کچھ زیادہ طاقت حاصل نہیں ہوگی۔ عمران خان نے اپنے حامیوں، ووٹروں اور مداحوں کے لیے جو امیدوں کے پہاڑ کھڑے کیے ہیں، وہ ایسی حکومتیں سر نہیں کرسکتیں۔ پنجاب میں حکومت سازی کے لیے عدالتی نااہل سیاست دان جناب جہانگیر ترین اور نیب زدہ علیم خان ، آزاد امیدواروں کو جیسے ذاتی جہازوں پر لاد لاد کربنی گالہ میں جناب عمران خان کے ’’حضور‘‘ پیش کررہے ہیں، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک تباہ حال معیشت، پسماندہ ملک، قوم اور ریاست کو تبدیل کرنے والے لوگ ایسے نہیں ہوتے۔ عمران خان ایک ایسے پہاڑ کو سر کرنے چلے ہیں جو انہوں نے ازخود پچھلے دس سال میں کھڑے کیے۔
عمران خان کا سیاسی سفر بہت دلچسپ ہے۔ جنرل مجیب الرحمن اور حمید گُل جیسے سابق جرنیلوں کے آغاز سے لے کر علیم خان جیسے دولت مند لوگوں کے ساتھ تک۔ اس میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب اُن کی پارٹی میں معراج محمد خان جیسے پختہ کامریڈ بھی شامل ہوئے۔ اُن کی بائیس سالہ سیاسی زندگی میں انہوں نے ہر طرح کا سیاسی نظریاتی تجربہ کیا۔ آخرکار وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ سسٹم کے لوگ یعنی Electables ہی انہیں اقتدار کے ایوانوں میں لے جا سکتے ہیں۔ اُن کی سابقہ بیوی جمائما خان کا ٹوئٹر ایک عاشق کا ٹوئٹر پیغام ہے جس کو اُن کے مداحین نے بہت شیئر کیا ہے، جس میں عمران خان کی رومانوی انداز میں تعریف کی گئی ہے۔ایک عاشق کے تصورات اور رومان اور عوام کے مسائل اور حقائق بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ عمران خان نے اپنے اس سیاسی سفر میں کوئی جیل، قید، کوڑے، زندان اور عقوبت خانے عبور نہیں کیے۔انہوں نے مختلف سیاسی تجربات کیے ہیں جس میں 2002ء کے انتخابات میں King's Parties کے ایک غیراعلان شدہ اتحاد کا تجربہ بھی شامل ہے۔ تب وہ جنرل پرویز مشرف کے پسندیدہ تھے اور اسمبلی میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ اُن کی پرویز مشرف کے ساتھ قربت اور ملاقات کو جاننے کے لیے میرا ایک انٹرویو آپ یوٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں جو انہوں نے 2008ء میں میرے پروگرام میں دیا۔ یہ انٹرویو آپ یوٹیوب پر Goindi Media Network پر تلاش کریں اور جنرل پرویز مشرف کے ساتھ اُن کی ملاقات کی تفصیل سنیں۔ اس ملاقات میں پی پی پی کے پرانے اور اس وقت تحریک انصاف کے رہنما میاں ساجد پرویز ان کے ہمراہ تھے جس میں عمران خان ، بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کو ملک سے باہر رکھ کراس ملک میں قیادت کا خواب دیکھ رہے تھے۔ 2008ء میں انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کیے، مگر 2010ء کے سیلاب کے بعد ایک بڑے پرائیویٹ ٹی وی چینل نے امدادی کاموں کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا۔ اس امدادی مہم کے لیے اس بڑے ٹی وی چینل نے ’’پکار‘‘ کے نام سے پروگرام اور مہم چلائی۔ اس پروگرام سے اُن کی آج کی سیاست کا آغاز ہوا جس کے تحت اب وہ وزارتِ عظمیٰ کا تخت سنبھالنے چلے ہیں۔ ’’بڑے لوگوں‘‘ نے اس پروگرام سے اُن کی Image Building کا آغاز ایک نئے انداز میں کیا۔ اس کے تحت 30اکتوبر2011ء کا لاہور میں عظیم الشان جلسہ بھی منعقد ہوا جو اُن کی شہرت کا پہلا سنگ میل ثابت ہوا۔ یہیں سے اُن کی پارٹی کا ایک نیا جنم بھی شروع ہوا، پرانے لوگوں کی بجائے نئے لوگ۔ 2013ء کے انتخابات تک ان کا سفر جاری رہا اور وہ پاکستان کی تیسری بڑی پارٹی کی قیادت کرکے شہرت کے نئے زینے چڑھ گئے۔ 2013ء میں تیسری بڑی پارٹی بننے کے باوجود انہوں نے سیاست کا میدان اسمبلیوں کی بجائے سڑکوں کو بنایا۔ اسی کے تحت اسمبلیوں کے بائیکاٹ اور دھرنوں سے اپنی سیاست کا پرچم بلند کیے رکھا۔ 2018ء کے انتخابات تک پہنچتے پہنچتے وہ پاکستان کے اقتدار کے دروازوں کے حقیقی راستوں سے پوری طرح آگاہ ہوچکے تھے۔ اسی لیے "Electables" کو گالی کی بجائے فخر کے طور پر اپنے سینے سے لگا لیا۔ تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہونے کے لیے اُن کو جو پاپڑ بیلنا پڑ رہے ہیں، بعد از انتخابی سیاست آپ کے سامنے ہے۔ اب ہر Electedرکن اسمبلی کے در پر اُن کے دست راست جہانگیر ترین پہنچ رہے ہیں۔ یہ ہے وہ سیاست جسے اقتدار کی سیاست کہا جاتا ہے۔ اس میں سب کچھ جائز ہے۔ ایک عاشق سابقہ بیوی جمائما کے لیے یہ ایک Success Storyہے، اور میرے جیسے پاکستانی کے لیے یہ اقتدار کی ایک کہانی ہے۔ اور اُن کے اپنے ووٹرز کے لیے یہ امیدوں کا سفر ہے۔
کبھی وہ دن تھے جب عمران خان نے ورلڈکپ جیتا تو جگہ جگہ لوگ اُن کے سر پر سونے کے تاج سجاتے تھے، آج اُن کے سر پر اقتدار کا تاج رکھا جانے والا ہے جس کے لیے انہوں نے ہر وہ قدم اٹھایا ہے جو اُن کو اس تاج کے قریب کردے۔ چند روز بعد وہ اس تاج کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اُن کی عاشق بیوی (سابقہ) اور موجودہ کے لیے Story of Success، اُن کے ووٹرز کے لیے تبدیلی اور میرے جیسے ناقدین کے لیے اقتدار کی کہانی۔ اور اُن کے سر پر سجنے والا تاج جس قدر اُن کا سربلند کرے گا، اس کا اندازہ اُن کو اس تاج کو سر پر بندھنے کے بعد ہوجائے گا۔ وہ اس وقت جس کرسی پر براجمان ہوں گے، وہ کانٹوں کی سیج ہے۔ تب اُن کے سامنے کروڑوں لوگ امیدوں سے لبریز جذباتی چہرے لیے کھڑے ہوں گے۔ عاشقین اپنے محبوب کے سر پر تاج ِ حکمرانی دیکھ کر اُن کی قابلیت، حُسن اور عروج پر نازاں، اور کروڑوں بھوکے عوم اپنے مسیحا کی مسیحائی کے منتظر۔ جس کا انہوں نے پر بار اظہار کیا ہے۔ حتیٰ کہ اپنی کامیابی کی پہلی تقریر بھی مسیحائی تھی۔ جس میں ’’مَیں عمران خان ‘‘ سب سے نمایاں تھا۔ اقتدار کے تاج اور کرسی میں ہمارے ہاں بہت فرق ہے۔ تاج نظر آنے والے حکمران کے سر پر ہوتا ہے اور کرسی پر دکھنے والا شخص ہمارے حکمرانی کے ڈھانچے کو نظر تو آتا ہے مگر وہ وہاں موجود نہیں ہوتا۔ اور جب Electables سے Elected لوگوں کے مرہونِ منت تاج اور کرسی ملے تو پھر کیا ہوگا۔ کرکٹ ہویا فٹ بال، یہ سب کھیل ہیں، سیاست کھیل نہیں۔ کھیل اور سیاست دو مختلف چیزیں ہیں۔ عمران خان اپنے بائیس سالوں میں نہایت Pragmatic لیڈر ثابت ہوئے ہیں۔ مجھے بس یہ جاننا ہے کہ وہ تاج وتخت کے خواہاں تھے کہ اپنی ہی پھیلائی ہوئی عام لوگوں میں امیدوں کی تکمیل کے خواہاں تھے۔ قبل از انتخابات اور قبل ازحکومت سازی میرے جیسے کچھ کچھ علم رکھنے والے لوگ تو شاید اس راز کو سمجھ جائیں۔ ذرا تصور کریں جب یہ راز امیدیں لگائے کروڑوں لوگوں کے سامنے کھلے گا تو پھر کیا ہوگا۔ مخالفین کو جیل میں ڈالنے سے ہم اپنے سینے میں ٹھنڈ تو ڈال سکتے ہیں، مگر اس سے نظام نہیں پلٹ سکتے۔ ہاں اس سے ہم اپنے حامیوں کو بھی مطمئن کرسکتے ہیں کہ دیکھو ہم نے ولن کو پس زندان کردیا، اپنے مداحین کے ولن کو۔ لیکن نظام تب بدلتا ہے جب اس نظام کے ستون توڑ دئیے جائیں، یعنی سٹیٹس کو کے ستون۔ Electables۔ عمران خان صاحب آپ کے سر پر تاج ہوگا، آپ کے پشت تلے اقتدار کی کرسی۔ جب آپ اس پر بیٹھیں گے تو پھر معلوم ہوگا، یہ کرسی کس قدر مضبوط ہے۔ کرسی کس پر کھڑی ہے۔ کس سے بنی ہے۔ تاج سے دمکتا چہرہ لوگوں کے لیے۔ اقتدار کی کرسی کی حقیقت اور اس کی تپش۔ آپ کو اس لیے جلد معلوم ہوگی کہ آپ جن راہوں پر چل کر یہاں پہنچے ہیں، اس بارے میں آپ سے بہتر کوئی جانتا ہی نہیں۔ اور آپ کی پُرخلوص سیاسی خواہشات یعنی تبدیلی کی خواہشات کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ کون ہوگا، آپ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔ آپ کی اپنی پارٹی۔ وہ پارٹی نہیں جو 2008ء تک تھی، بلکہ وہ نئی پارٹی جس نے ’’پکار‘‘ پروگرام اور 30اکتوبر 2011ء کے بعد جنم لیا، جس کا جنم 2018ء کے الیکشن میں ٹکٹوں کی تقسیم اور بعد از انتخابات جیتنے والے اراکین اسمبلی سے پایۂ تکمیل کو پہنچا۔

مزیدخبریں