انتخابی نتائج کے بعد بال کس کے کورٹ میں؟
30 جولائی 2018 2018-07-30

25 جولائی کو پورے ملک میں قومی انتخابات پرامن ماحول میں منعقد ہوئے۔پورے ملک میں صرف بلوچستان کے دارالحکومت کو ئٹہ میں ناخوش گوار اور خون ریز واقعہ پیش آیا۔ انتخابی ضا بطہ اخلاق کے مطابق کسی کو بھی رات سات بجے 07:00))سے قبل نتائج نشر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔جب انتخابی نتائج مقررہ وقت کے بعد نشر ہونا شروع ہو گئے تو الیکشن سے پہلے زیادہ تر سروے اور پول کے بر عکس نتائج آرہے تھے۔قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کو بر تری حا صل تھی۔مسلم لیگ (ن) کے گڑھ پنجاب میں شگاف پڑ چکا تھا۔سندھ میں پیپلز پارٹی پر عدم اعتماد کے کسی حد تک اظہار کے اثرات شروع ہو چکے تھے۔بلو چستان میں بھی اس دفعہ تحریک انصاف کو نشستیں مل رہی تھیں۔خیبرپختون خوا میں سروے اور پول کے بر عکس پی ٹی آئی کو بر تری حا صل تھی۔حالانکہ خیبر پختون خوا کی عوام نے کبھی بھی مسلسل دوسری مر تبہ کسی سیاسی جماعت کو حق حکمرانی دیا نہیں ہے۔لیکن 25 جو لائی کو ہونے والے عام انتخابات میں خیبر پختون خوا کے عوا م اور تحریک انصاف نے مل کر اس روایت کو بھاری اور واضح اکثریت سے بدل ڈالا۔
رات بارہ بجے (12:00 ) کے قریب مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں شہباز شریف نے پریس کانفرنس کر تے ہو ئے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا۔لیکن انھوں نے کوئی آل پارٹیز کانفرنس یا احتجاج کی کال نہیں دی۔اسی طر ح پیپلز پارٹی کے رہنماؤں فرحت اللہ بابر ،شیری رحمان اور میاں رضا ربانی نے بھی رات گئے انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا،لیکن انھوں نے بھی کسی احتجاج یا سیاسی جماعتوں کو اکھٹا کرکے مشترکہ لا ئحہ عمل کی کو ئی دھمکی نہیں دی۔جس وقت مسلم لیگ (ن) نتا ئج تسلیم نہ کرنے کا اعلان کر رہی تھی ،اس وقت وہ قومی اسمبلی میں دوسری بڑی پارلیمانی قوت کے طور پر مو جود تھیں،جبکہ ابھی بھی وہ قومی اسمبلی کی دوسری بڑی سیاسی طاقت ہے۔پیپلز پارٹی جس وقت نتائج تسلیم نہ کر نے کا اعلان کر رہی تھی ،اس وقت وہ قومی اسمبلی میں تیسری بڑی پارلیمانی طاقت تھیں،جبکہ ابھی بھی ان کی یہی پوزیشن بر قرار ہے۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے بعد متحدہ مجلس عمل کے سربراہ فضل الرحمان نے شدید غصے اور ڈرامائی انداز میں نتائج تسلیم نہ کرنے کا اعلان کیا۔لیکن مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کی طرح انھوں نے صرف نتائج تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا ،بلکہ اگلے روز آل پارٹیز کانفرنس بلانے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کی بھی دھمکی دے دی۔تین بڑی سیاسی جماعتوں کی طرف سے نتائج تسلیم نہ کرنے کے بعد اکثریتی پارٹی کے سربراہ عمران خان نے پیش کش کی کہ جہاں شکایت ہوں،ہم وہ حلقے کھولنے کے لئے تیار ہے۔لیکن متحدہ مجلس عمل کے سربراہ فضل الرحمان نے اس پیش کش کو انتہائی حقارت او ر بے دردی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے جواب دیا کہ ہمارا مطالبہ حلقے کھولنا نہیں بلکہ پورے انتخابی عمل کو کالعدم کرکے نئے انتخابات ہے۔
آل پارٹیز کانفرنس کی مسلم لیگ (ن) کے سربراہ شہباز شریف اور متحدہ مجلس عمل کے امیرفضل الرحمان نے مشترکہ طور پر صدارت کی ۔جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ،عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی،آفتاب شیر پاؤ،حا صل بزنجو اورفاروق ستار نے نما ئندوں سمیت شرکت کی۔اجلاس میں اس بات پر اصرار کیا گیا کہ جن پارٹیوں نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے ،ان کے منتخب ارکان حلف نہیں اٹھا ئیں گے۔یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں تیسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔اس تمام صورت حال کے بعد بعض سیاسی تبصرہ نگار مضطرب اور پریشان ہے کہ اگر فضل الرحمان نے احتجاج کا راستہ اپنا لیا تو وفاقی حکومت کا چلنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہو جائے گا۔ان دانشوروں کی رائے ہے کہ فضل الرحمان کے ساتھ وہ مخلص کارکن ہیں ،جوان کے ایک اشارے پر نامعلوم مدت تک سڑکوں پر رہنے اور حکومتی مشینری کو مفلوج کر سکتی ہے۔
لیکن اس وقت سب سے اہم اور بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا واقعی فضل الرحمان ڈرائیونگ سیٹ پر ہے ؟یایہ کہ بال شہباز شریف اور آصف زرداری کے کورٹ میں ہے؟ انتخابی نتائج کے بعد یہ بات بالکل واضح ہے کہ فضل الرحمان ہر گز ڈرائیونگ سیٹ پر نہیں،بلکہ بال شہباز شریف اور آصف زرداری کی کورٹ میں ہے۔پیپلز پارٹی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اب ان میں احتجاج کرنے کی سکت نہیں۔وہ یہ بھی جانتی ہے کہ پیپلز پارٹی وہ مچھلی ہے کہ جس کی بقا پارلیمان کا حلف لینے ہی میں ہے۔اگر پیپلز پارٹی حلف نہ اٹھا کر پارلیمنٹ سے اپنے اپ کو باہر کردیتی ہے تو آئندہ انتخابات میں ان کا وجود ختم ہو جائے گا۔ اس لئے پیپلز پارٹی کسی بھی طرح پارلیمنٹ کا حلف نہ اٹھانے کی غلطی نہیں کریگی۔احتجاج میں وہ فضل الرحمان کے ساتھ ضرور شریک ہو گی،لیکن سڑکوں پرکارکنوں کو جمع کرنے کی ذمہ داری متحدہ مجلس عمل کی ہو گی پیپلز پارٹی کی نہیں۔مفت کا مجمع ہو گا ،اس لئے پیپلز پارٹی کے رہنماؤ خطاب کرنے میں عار محسوس نہیں کریں گے۔
رہی بات مسلم لیگ(ن) کی تو شہباز شریف کبھی بھی یہ فیصلہ نہیں کریں گے کہ وہ دوسری بڑی پارلیمانی قوت ہوتے ہو ئے حلف اٹھانے سے انکار کر دیں۔ پنجاب میں اگر مسلم لیگ(ن) حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ٹھیک ورنہ وہاں پر وہ ایک مضبوظ اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔اس لئے کی ان کی نظر اب گزرے ہوئے انتخابات پر نہیں بلکہ آنے والے الیکشن پر ہے۔شہباز شریف بھی فضل الرحمان کے مفت کے مجمع سے خطاب کرنے میں عار محسوس نہیں کریں گے ،لیکن وہ حلف نہ اٹھانے کی غلطی ہرگز نہیں کریں گے۔
رہی بات اسفندیار ولی خان ،محمود خان اچکزئی، آفتاب شیرپاؤ،حا صل بزنجو اور فاروق ستار تو چند دنوں میں یہ سب جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں گے۔با قی رہے فضل الرحمان تو وہ سڑکوں پر آنے کی بجائے میڈیا کو ترجیح دیں گے۔مہینہ میں ایک بار سراج الحق اور لیاقت بلو چ کو دائیں ،بائیں بٹھا کر پریس کانفرنس کریں گے۔میڈیا اس پریس کانفرنس کو خوب کوریج دے گی۔اس لئے کہ فضل الرحمان کے انوسٹر بڑے تگڑے ہے۔ جیسا کہ طلحہ محمود،اکرم درانی اور غلام علی وغیرہ۔ انہی کا پیسہ ہوگا جس کی مدد سے فضل الرحمان میڈ یا میں زندہ رہیں گے۔رہی بات سراج الحق کی تو اس بار جماعت اسلامی احتجاجی سیاست کی ڈرائیونگ سیٹ پر کبھی بھی نہیں آئے گی۔اگر یہ حماقت جماعت اسلامی کر ڈالتی ہے ،تو اس کا مطلب ہو گا کہ لاہوری گر وپ کو بھی اس مرتبہ اسمبلی میں نہ پہنچنے کا شدید صدمہ ہے،جس کے لئے وہ سب کچھ داؤ پر لگانے کے لئے تیار ہے۔خاص کر جماعت میں جو اے ٹی ایم مشینیں ہیں۔ جس میں اسلام آباد کا میاں اسلم سر فہرست ہے۔خلاصہ یہ کہ جس احتجاج کو فضل الرحمان لیڈ کریں گے ،وہ احتجاج نہیں بلکہ اپنے لئے پانچ سالہ مصروفیت پیدا کرنے کا ایک بہانہ ہوگا۔جس سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو کوئی خطر ہ نہیں ہوگا۔اگر وفاقی حکومت اس دوران عوامی توقعات پر پورا اترتی ہے،تو فضل الرحمان کا میڈیائی احتجاج بھی اپنی موت آپ ہی مر جائے گا۔


ای پیپر