عوام کا باشعور ہونا کتنا اچھا لگا
30 جولائی 2018 2018-07-30

سچ پوچھیں کچھ شرمندگی سی محسوس ہو رہی ہے کہ جس قوم کو ہم ذہنی غلامی کا شکار ہونے کے طعنے دیتے رہے ، وہ تو ایسی نہ تھی۔ بس قوم کو کسی نے جھنجوڑ کر جگایا تو پھر کھڑی ہو گئی۔ بڑے بڑے سورماؤں کو ’’ جگ کا ہاسا ‘‘ بنا کر رکھ دیا۔کس کس کا ذکر کریں۔مولانافضل الرحمان کی اسلام آباد میں بلائی گئی اے پی سی ( All parties conference) ملک کے شکست خوردہ سیاستدانوں کا ایک انبوہ تھا۔ اس کے اختتامیہ میں مولانا کی پریس کانفرنس حواس باختگی کا ایک شاہکار تھی۔ مولانا کی جھنجھلاہٹ اور غصہ دیکھ کر ہنسی چھوٹ رہی تھی۔انکی شکست خوردگی اور کرب کا اندازہ تو ہر دیکھنے والی آنکھ کوہو رہا تھا۔اس پریس کانفرنس میں ہر سو شکست خوردہ سیاستدانوں کے چہرے نظر آرہے تھے۔ان کے چہروں کو دیکھ کر واضح ہو رہا تھا کہ شکست کتنی خوفناک ہوتی ہے، یہ لوگوں کے چہروں کی ہیئت ہی بدل دیتی ہے۔اس میں موجود اسفند یار ولی خان ، محمود اچکزئی ، فاروق ستار ، مولانا سراج الحق، لیاقت بلوچ، سابق وزیراعظم عباسی ، آفتاب شیرہاؤ ،سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ درانی اور بے شمار دوسروں کے چہروں سے شکست ٹپک رہی تھی۔ ان میں سے کافی نے تو اپنے بیٹوں کو بھی الیکشن کے میدان میں اتارا ہواتھا ۔اس ملک کی حکمرانی کو تو اب انھوں اپنے خاندانوں کی میراث سمجھ لیا تھا۔ ان کے چہروں کا یہ حشر کس نے کیا ، ایک جاگی عوام نے ۔ اس ملک کے تمام سیاستدانوں کو اس اے پی سی کی اختتامی پریس کانفرنس کی گروپ فوٹو اپنے اپنے گھروں میں کسی نمایاں جگہ پر ضرور ی لٹکانی چاہیے۔ یہ ان کے لیے بہت مفید ہوگی۔ جب بھی اس پر نظر پڑے گی اس میں موجود چہروں کی یاسیت ، اداسی ، اور شکست خوردگی انہیں عوام کے غیض و غضب کا ادراک فراہم کرے گی۔ ہم سمجھ بیٹھے تھے کہ اس ان پڑھ اور غربت کی ماری قوم میں اچھے اور برے رہنماؤں میں تفریق کرنے کی صلاحتیں ہی مفقود ہو چکی ہیں، حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ حالات نے کچھ ایسے لوگوں کاتسلط ان پر قائم کر دیا تھا کہ ان کے خلاف آواز اٹھانا تو درکنار ان کے خلاف لوگ سوچنے سے بھی گھبراتے تھے۔پرویز مشرف کے این آر او(NRO) کے نتیجے میں اس قوم پر محترم زرداری کی سربراہی میں پیپلز پارٹی نے پورے پانچ سال حکومت کی۔
پھر چارٹر آف ڈیموکریسی پر عمل کرتے ہوئے اس قوم کے اگلے پانچ سال شریف خاندان کے حوالے ہوئے۔یوں اس ملک پر خاندانوں کی حکومتیں چل نکلیں۔دونوں خاندانوں نے اس ملک کی دولت کچھ یو ں لوٹی کہ پوری دنیا میں چرچے ہونے لگے ۔ دونوں خاندانوں نے اپنے لواحقین ، دوستوں اور مصاحبین پر اس غریب قوم کے وسائل انتہائی فراخ دلی سے لٹائے۔ ان دونوں خاندانوں نے تمام ملکی ادارے تباہ کرکے رکھ دیئے۔عدلیہ کے فیصلے ٹیلیفون کالز پر ہونے لگے ۔ سفراء کی تقرریاں اپنے قصیدہ گو صحافیوں میں بانٹی جانے لگیں ۔ اور اب تو اس ملک کی حکمرانی کو موروثی شکل دینے کا آغاز بڑے زور شور سے جاری تھا۔ قوم عجیب سی گھٹن اور بے بسی میں مبتلا تھی کہ ایسے میں ایک سر پھرے نے ان دونوں کی حقیقت برسرعام عوام کے سامنے اچھالنی شروع کر دی۔اس کی شخصیت کے کچھ خد وخال ایسے تھے کہ قوم اس کی طرف متوجہ ہونے لگی ۔مثلاً دیانتداری ایسی کہ دشمن میں بھی انگلی اٹھانے کی ہمت نہ ہو ۔جس کا نہ کوئی بیٹا ،بھائی یا رشتہ دار ایساجو اس ملک میں جاری موروثی حکمرانی کے لیے تیار بیٹھا ہو۔اس نے انتہائی دلیری سے ان دونوں خاندانوں کی لوٹ مار اور اس ملک میں جاری بوسیدہ موروثی نظام کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا ۔ اس ملک کی نوجوان نسل اور پڑھا لکھا طبقہ کچھ یوں اس کی طرف کھنچا کہ اس کی پارٹی کا سمبل بن گیا جیسے کسی زمانہ میں فیکٹری مزدور، کھلیانوں میں کام کرنے والے کسا ن اور کچی آبادیوں میں رہنے والے بھٹو کی جماعت کا سمبل بن گئے تھے۔اور پھر قوم جاگ اٹھی۔جب کوئی قوم جاگ اٹھتی ہے تو اس کا اظہار وہ کچھ یوں کرتی ہے کہ تاریخ رقم کر دیتی ہے ۔ اس شخص نے موجودہ الیکشن میں پانچ مختلف حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور گھٹن کی ماری لیکن اب جاگی قوم نے تاریخ رقم کر دی ۔ پانچوں سیٹوں سے کامیاب قرار پایا۔ سعد رفیق کو یقین نہ آیا ، دوبارہ گنتی کی درخواست داغ دی ۔اسے کیا معلوم جب کوئی عوام کے دلوں میں بس جاتا ہے تووہ دوبارہ گنتیوں سے نہیں ہارتا۔کیا اب بھی اس کے مخالفوں کو کوئی شک ہے کہ وہ دلوں پر قبضہ کرنے کا فن نہیں جانتا ۔ اس کی یہ خوبی جو اسے اس ملک کے تقریباً سب سیاستدانوں سے ممیز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ساری قوم کو یقین ہو چکا ہے کہ وہ ان کی دولت نہیں لوٹے گا۔ اگرآپ بغور اس کی شخصیت کا جائزہ لیں تو آپ کو واضح نظر آئیگا کہ وہ کوئی عوامی شخصیت نہیں ہے۔ اس کا تعلق اس ملک کی اشرافیہ سے ہے۔ تو قدرتی طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں قوم نے اس قدر وارفتگی سے اپنی محبت اس پر نچھاور کر دی۔ دراصل اس کا کریڈٹ زرداری اور شریف خاندانوں کو جاتا ہے جنہوں نے سیاست کو ایک لوٹ مار کرنے والا پروفیشن بنا کر رکھ دیا ۔ ان دونوں خاندانوں نے سیاست کے شعبہ کو جو کسی وقتوں میں عزت و تکریم والا پروفیشن سمجھا جاتا تھا ، لو ٹ مار کا سمبل بنا کر رکھ دیا۔اب تو بطور سیاستدان تعارف بھی ایک منفی تآثر چھوڑتا ہے۔ لیکن مجھے ایک مختلف سا خوف لاحق ہو رہا ہے اور و ہ یہ ہے کہ ہماری جذباتی قوم نے عمران خان سے بہت ساری توقعات وابستہ کر لی ہیں ۔اس قوم کابہت بڑا حصہ عمران خان سے محبت میں مبتلا ہو چکا ہے۔محبت کے جذبے میں ایک فطری shortcoming ہوتی ہے کہ محبت کرنے والے کو اپنے محبوب میں کوئی کمی نظر نہیں آتی۔اگر اس جذباتی قوم کی توقعات پوری نہ ہوئیں تو یقینااس کی امیدیں ٹوٹیں گی، نتیجہ مایوسی اور ڈیپریشن نکلے گا ۔ جب قومیں مایوس ہو جاتی ہیں تو ان کی ترقی کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں۔ قوم کو اپنے موجودہ ملکی حالات کو صحیح تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ جن ملکی حالات میں عمران خان کو حکومت مل رہی ہے وہ سب کے سامنے ہیں ۔ محترم اسحاق ڈار ملکی و غیر ملکی قرضوں کے ہمالیہ کھڑے کر گئے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذ خائر ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچے ہوئے ہیں۔ہر ادارہ تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ایسے میں عمران خان ، جن کا حکمرانی کا کوئی تجربہ نہیں۔انہیں خیبر پختونخواہ صوبہ کی حکومت ملی بھی تو انھوں نے عملی طور پر اس کی ایڈمنسٹریشن میں کوئی حصہ نہ لیا۔اور پھر اس ملک کی تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں اور سیاستدان ان کی مخالفت میں یکجا ہو چکے ہیں۔پنجاب میں اگر پی ٹی آئی کی حکومت بن بھی گئی تو انہیں مضبوط اپوزیشن کا سامنا ہوگا اور یہی حال وفاق میں ہوگا ۔حکومتوں میں مضبوط اپوزیشن کا ہوناتو ایک اچھی بات ہوتی ہے لیکن اپنے ملک میں جس طرح کی اپوزیشن ہوتی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ عمران خان کو بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا لیکن باعث تشفی یہ ہے کہ اسے چیلنجز سے نبٹنے کا کافی تجربہ ہے۔وہ ان کھلاڑیوں میں سے ہے جن کی ساری صلا حتیں سامنے بھی تب آتی ہیں جب انہیں غیرمعمولی چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ لمبے عرصوں کے بعد یاسیت کے بادل چھٹنے لگے ہیں ۔
لگتا ہے اس کائنات کے مالک ارض پاک پر مہربان ہو گئے ہیں۔پہلے قوم کو ایک بے لوث ، بے دھڑک ، دلیر اور عام آدمی کا درد رکھنے والے چیف جسٹس عطا ہوئے۔ پھر نیب کو ایک نڈر چیئرمین ملے جن کے خوف سے اس ملک کے کرپٹ مافیا ز کی روحیں کانپتی پھرتی ہیں۔ ہر طرف روشنی کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں سوائے صوبہ سندھ کے ،جہاں اب بھی کئی راؤانوار دندناتے پھرتے ہیں ۔ نہ جانے سندھ کے باشیوں کو نجات دلانے کے لیے کب کوئی وہاں پہنچے گا ۔ خان کو بن مانگے کراچی اور سندھ کے لوگوں نے ووٹ دئیے ہیں ۔ نہ جانے کب وہ بنی گالا کی سحر آفریں وادی کو چھوڑ کر سندھ کے بے بس لوگوں کا سہارا بنیں گے۔


ای پیپر