عمران خان پرقدرت مہربان ہے
30 جولائی 2018 2018-07-30

جناب عمران خان پر قدرت مہربان ہے ۔ کرکٹ میں کامیابی کو ہسپتال کے لیے استعمال کیا اور ہسپتال کے لیے کرکٹ کی کامیابی کو بنیاد بنا کر چندہ جمع کر کے ہسپتال بنایا جو ایک قابل ستائش اور قابل تقلید عمل ہے ۔ کامیاب ہسپتال کی بنیاد پر سیاست کا رخ کیا اور یہ دونوں راستے جنرل ریٹائرڈ حمید گل مرحوم نے دکھائے اللہ رب العزت ان کے صغیرہ کبیرہ گناہ معاف کرے اور مغفرت فرمائے، انہوں نے میاں محمد نواز شریف کو ایجنسیوں کا فخر قرار دیا اور بے نظیر شہید کے خلاف آئی جے آئی بنانے کا بار بار اعتراف کیا اور کارنامہ قرار دیا۔ جس کے لیے فنڈز کی ترسیل کے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمران خان عملدر آمد کا مطالبہ کرتے رہے۔ بہت عرصہ پہلے جب ایک معروف کالم نگار سے پہلی ملاقات غالباً 94/95 میں ہوئی تو انہوں نے کہا ’’میرے مطابق‘‘ سیاست میں مستقبل حمید گل اور عمران خان کا ہے ۔ میں نے کہا کہ بی بی بے نظیر کے ہوتے ہوئے یہ ممکن ہی نہیں بی بی 2007 ء میں شہید کر دی گئیں اس پر میں نے ایک کالم لکھا میاں صاحب کو مد مقابل کی تلاش جس میں کہا گیا کہ آپ بی بی شہید کو برا بھلا کہہ کر اپنا سیاسی قد بڑا کرتے رہے۔ اب دوسرے آپ کو بُرا بھلا اور ہدف تنقید بنا کر اپنا قد اُنچا کریں گے۔
بی بی اتنی مقبول تھیں کہ لوگوں نے ان کی قربانی اور کفن کو ووٹ دے دیے۔ گیلانی وزیر اعظم بنے یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ زرداری کے حصے میں بد نامی آئی ورنہ وہ وفاق میں بے اثر تھے البتہ سندھ میں بندر بانٹ کر کے نوکری کرتے رہے محض اس ضد میں کہ پانچ سال پورے کر لوں، گیلانی صاحب نے پیپلز پارٹی برباد کر کے رکھ دی جبکہ شہباز شریف نے بڑے صوبے میں بہت کام کیا کہ 2013 ء کے انتخابات آ گئے ۔ عمران خان پر قدرت مہربان تب بھی تھی مگر ڈرون گرانے کی ضد نے میاں صاحب کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کر دی۔ حسب توقع میاں صاحب کی قدرت سے نہ بن پائی چہ جائے کہ دوریاں کچھ عرصہ بعد شروع ہوتیں چند دن بعد ہی ہندوستان کے دورے سے قدرت نواز شریف سے نالاں اور عمران خان پر مہربان ہوتی چلی گئی۔ عمران کے دھرنوں میں قدرت نے بہت ساتھ دیاحتیٰ کہ قانون اور آئینی حدود سے تجاوز کرنا عام لوگوں کے لیے جو جرم تھا وہ عمران خان کے لیے کارنامہ بن گیا۔ عدالتی اشتہاری ہونے کے باوجود سپریم کورٹ سے ریلیف ملا اور میاں نواز شریف نا اہل ہوئے۔ قدرت کی مہربانی کی ہوا سارے ملک میں چل گئی اور تمام سیاسی جماعتوں کے الیکٹیبلز اور اینکرز جن کا اردو ترجمہ ممتاز صحافی جناب اشرف شریف نے موروثی لوٹے کیا۔ تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔جنہیں کبھی اللہ کا خوف نہ آیا وہ انجانے خوف اور اکثریت کی خواہش میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے البتہ یہ بات طے ہے کہ مقبولیت کرکٹ سے لے کر چلتے لمحے تک عمران خان کا مقدر رہی ہے ۔ عمران کی ہر دعا قبول ہوئی خواہش کی کہ مشکل فیصلے پٹرول، بجلی اور ڈالر مہنگا سستا کرنا پڑے تو یہ نگرانوں کے دور میں ہی ہو جائے سو وہ ہو گیا۔ انتخابات آ گئے۔ سوچا کہ حکومت سازی میں زرداری جو بقول اُن کے بڑی بیماری ہے کا مرہون منت نہ ہونا پڑے۔ قدرت نے خود کفیل کر دیا خواہش کی کہ لیاری میں میرا بندہ پیپلزپارٹی کا پرانا ورکر بلاول کے مقابلے میں جیتے وہ بھی ہو گیا۔ شاہ محمود قریشی کے لیے عمران نے خواہش کی کہ ایسا نہ ہو کہ یہ وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے لیے ضد کریں قدرت نے اُن کو صوبائی سیٹ سے اور علیم خان کو قومی سیٹ سے ہرا دیا۔ عمران نے ابھی دعا کے لیے سوچا ہی تھا کہ وہ لوگ جو نواز شریف کا ساتھ نہ چھوڑیں اور جن کی زبانیں اس کی مخالفت میں بند نہیں ہوتیں اسمبلی سے باہر رہ جائیں قدرت نے ان کے لیے اسمبلی کا دروازہ بند کر دیا اور جو نواز شریف کو تبرا بولتے ہیں وہ اسمبلی میں آجائیں وہ آ گئے۔ کراچی میں قدرت نے کمال مہربانی کی کہ لیاری اور کیماڑی میں لوگ تیر اور بلے کا فرق ہی بھول گئے۔ فی الحال عمران خان پر قدرت مہربان ہے اور رہے گی جب تک وہ اپنے آپ کو قدرت کے سپرد کیے رکھیں گے۔ بہرحال نئے پاکستان میں داخل ہونے سے پہلے پرانے پاکستان کی چند روایات کو بحال ضرور کر دیں۔
افتخار محمد چوہدری کی بحالی سے پہلے ماتحت عدلیہ کی جو عزت تھی اس عزت کی بحالی اور وکلاء کی ماضی کی روایات کی واپسی۔
باہمی احترام اور رواداری کی روایات
دھرنے کی بجائے دلیل کی روایات
پارلیمنٹ کی بالادستی کی عملی روایات
پورے ملک سے ناجائز تجاوزات کا خاتمہ جس میں ادارے بھی شامل ہوں۔
ریلوے ، پی آئی اے اور سٹیل مل کو منافع بخش ادارے بنانا
عدالتی چھوٹے اہلکاروں میں نسل در نسل کی بجائے میرٹ پر بھرتی۔
وطن عزیز میں ٹریفک کے نظام کو ضوابط کے تابع کرنا بڑی ٹرانسپورٹ کے ٹریک پر رکشہ، موٹر سائیکل وغیرہ کا چلنا ٹریفک نظام کا بیڑہ غرق کردیتا ہے ۔
محکمہ جاتی ڈکٹیٹر شپ اور منافقت
غداری، حب الوطنی کافر اور مسلم کے سرٹیفکیٹ کا معیار مقرر کرنا
بیورو کریسی جو نائیلون کی ایسی جراب ہے کہ ہر پاؤں میں فٹ آتی ہے کو لگام دینا
ایک نظام تعلیم
پرائیویٹ سکولوں کالجوں کی فیسوں کا غریب توغریب امیر لوگوں کی پہنچ سے بھی باہر ہونا۔
پرائیویٹ ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کی فیسوں کا تعین
سرکاری ہسپتالوں کے نظام میں درستگی ایسے چند اقدامات جن کے اہتمام سے وطن عزیز کی کایا پلٹ سکتی ہے ۔
شہباز شریف نے جرائم کو پنجاب میں جس طرح نکیل ڈالی ہوئی تھی اور میرٹ کا جو نظام رائج کیا ہوا تھا اس میں بہتری کی ضرورت موجود ہے اور سب سے پہلے تو اپنی حکومت قائم ہونے پر پہلے 100 دن کا ایجنڈا مکمل کرنا ہو گا ورنہ جس طرح آپ تنقید کو ہتھیار بنا کر راہنما بنے اسی طرح دوسرے بھی آپ کو گرانے کو تیا رکھڑے ہیں۔
بنی گالہ کو چھانگا مانگا بننے سے روکنا ہو گا۔ ابھی ہتھ جوڑی ہوئی نہیں اور اسد عمر نے آئی ایم ایف کے در پر دستک کی نوید سنا دی ۔ چلیں اس بات پر چائنہ سے قرضے کی شرح سود نیچے رکھنے کی پیشکش بھی ہو مگر مجھے اس پر شہزاد قمر کا شعر یاد آتا ہے
یہی بہت ہے کہ تبدیل تو ہوا زندان
یہی بہت ہے کہ زنجیر تو نئی ہوئی
اللہ رب العزت، خان کو اسلام کے نام نہاد ٹھیکیداروں سے بھی بچائے اور قدرت بھی مہربان رہے کیونکہ لیڈر روز روز نہیں پیدا ہوتے اور نہ ہی روز روز بنتے ہیں۔ جناب بھٹو نے تو اسلامی ممالک کے سربراہان بلائے تھے خان صاحب کو چاہیے کہ اپنی حلف وفاداری کی تقریب میں دنیا بھر کے کرکٹرز بلائیں تا کہ فولوورز کا رانجھا بھی راضی ہو اور دنیا کو اچھا اور تبدیلی کا پیغام بھی جائے۔


ای پیپر