نئے پاکستان کا اصل ہیرو!
30 جولائی 2018 2018-07-30

تین ماہ قبل ایک کالم میں انتخابات پر رائے زنی کی جسارت کی تھی کہ عمران خان کے لیے 92 اور نواز شریف کے لیے 99 والا ماحول بن رہا ہے۔ انتخابات ختم ہوئے ، کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ نئے پاکستان والوں کو جو چاہئے تھا مل گیا۔ اب نیا پاکستان بنائیے!!
نیک نیتی سے اٹھایا گیا ہر قدم عوام میں پذیرائی بڑھائے گا اور نئے پاکستان کے کپتان اور پاکستان کو منزل مراد سے قریب تر کر دے گا لیکن اگر عہدوں کی بندر بانٹ میں ڈوب گئے تو نئے پاکستان کا سورج طلوع ہونے کی بجائے خان صاحب یہ تک بھول جائیں گے کہ بائیس سال پہلے انھوں نے جدوجہد شروع کیوں کی تھی۔ نئے پاکستان کے لیے ابتدائی کوشش نئے نظام اور نئے چہرے کے نعرے سے شروع ہوئی اور بہت مقبول ہوئی مگر روائتی سیاسی ماحول میں جکڑی عوام نے انتخابات میں عمران خان کو مسترد کردیا۔ گزشتہ سالوں میں کپتان پر عوام کا اعتماد بڑھنے کی وجہ وہ عوام کو ملک میں احتساب کے لیے محاذ پر ڈٹے ہوئے اس سپاہی کی طرح نظر آیا جس نے سر پر کفن باندھ رکھا ہواور جس کی جیت عوام کو اپنی جیت دکھائی دے رہی ہو۔ لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کہ نئے پاکستان کے کپتان نے پرانے پاکستان کے کپتان کے حربے سیکھے اور اسے چت کردیا۔
اتفاق کی بات ہے پاکستان میں یہ انتخاب پندھرواں انتخاب ہے ترکی میں پندھرواں انتخاب 2002 میں ہوا تھا جس کے نتیجے میں رجب طیب اردگان کی جماعت کو فتح ہوئی مگر وہ ایک ضمنی انتخاب میں 2003 میں فتح یاب ہوئے۔ ملک کی حالت ابتر تھی 1980 مارشل لاء کے بعد سے ترکی مکمل طور پر سیاسی خلفشار کا شکار تھا اور تو اور چودھویں انتخاب تک اکثرحکومتیں وقت سے پہلے تختہ الٹ دیے جانے کی وجہ سے مدت پوری نہ کرسکیں تھی۔ ترکی کی معیشت تباہ حال تھی آئی ایم ایف کے معاشی پھندے پاکستان کی طرح گردنیں دبوچ چکے تھے کمال اتاترک نے جو بویا تھا وہ اخلاقی ، عسکری ، جمہوری اور مذہبی تمام حوالوں سے قوم کاٹ رہی تھی۔ مگر رجب طیب اردگان نے ترکی کو پہلے تین سالوں میں اخلاقی ، مذہبی ، معاشی اعتبار سے ٹریک پر ڈال دیا تھا۔ احتساب کا عمل اسطرح شروع ہوا کہ طاقتور اور کمزور کی تفریق کی عینک اتار پھینکی گئی۔ طویل کہانی اختصار کے ساتھ یوں کہ ملک میں ذہین لوگوں کو سرمایہ کاری کرنے کے لیے مواقع فراہم کیے گئے اور بے روزگاری ، لوٹ کھسوٹ اور ملک سے غداری کا خاتمہ کر دیا گیا جبکہ عوام میں اخلاقی اور مذہبی بنیادوں پر وہ اقدامات کئے گئے کہ عوام کا اعتماد بڑھا۔ الغرض لوگوں نے ترکی کو نیا ترکی بنانے کی ٹھان لی۔ اور پھر وہ وقت آیا کہ 2003 میں وہ آئی ایم ایف جو ملکی معیشت کے گرد پنجے گاڑھے ملک کے وزیر اعظم کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنا ہواتھا اس کے سارے قرض اتار دیے گئے بلکہ آئی ایم ایف کو لکھا گیا کہ ترکی غریب ممالک کو قرض دینے کو تیار ہے۔ فوج کے ایک حصے نے بغاوت کی تو عوام جانوں کی پرواہ کئے بغیر ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے نہ صرف مارشل لاء کی کوشش ناکام بنا ئی بلکہ گزشتہ انتخاب میں ووٹر ٹرن آوٹ 83فیصد جا پہنچا جو کہ پندرہ سال پہلے رجب طیب کے آنے سے دوگناہ بڑھ گیا۔
ملک میں پندھرواں انتخاب ہوگیا۔ عمران خان کو نیا پاکستان بنانے کے لیے حکومت چاہئے تھی۔ کم از کم کپتان کی پہلی تقریر سے تو یہی لگتا ہے۔ نہ شیروانی ، نہ جیت کا غرور ، نہ حریفوں کے لیے ہرزہ سرائی بلکہ مزاج میں ٹھراو آنے والی حکومت کے بارے میں نیک شگون کے طور پر لیا جارہا ہے۔ لیکن عوام میں کسی لیڈر سے وابستہ توقعات اس لیڈر کے لیے سب سے بڑی حریف ہوتی ہیں۔ اس کا ایک ایک قدم دلوں میں چھپی اس سے وابستہ توقعات کا یا تو خون کرتا ہے یا عوام کا خون بڑھا دیتا ہے۔ عام حالات میں قائم ہونے والی حکومت اور آزمائے ہوووں سے عوام کی توقعات نہیں ہوتیں۔ ان میں سے اگر کوئی تھوڑا بہت کام کرجائے تو عوام میں مقبولیت حاصل کرلیتا ہے۔ لیکن عوام کے زخموں کو بھرنے اور ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کے نعرے لگا کر قائم ہونے والی حکومت کا ایک ایک دن ایک ایک سال کے برابر ہوتا ہے۔ لوگ ہر ہفتے حساب لگاتے ہیں کہ دعوے کرنے والے اقدام کیا اٹھا رہے ہیں پھر جن سے امید ہو ان پر تنقید بھی شدید ہوتی ہے ان کی چھوٹی چھوٹی غلطیاں بڑی لگتی ہیں اور رائے زنی کرنے والوں کے حدف میں ہوتی ہیں۔
حق یہ ہے کہ عمران خان کے دعوے لوگوں کو بھائے لیکن یہ حکومت انھیں روائتی سیاسی ہتھکنڈوں کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے جو اس سے پہلے اختیار کئے جاتے رہے ایلکٹایبلز کی سیاست ، سیاسی نعرے ، جذباتی دعوے عوام کے دلوں میں تیر ہوتے رہے ہیں۔ پرانے چہروں کے ساتھ نیا نظام نہ آیا تو نئے پاکستان والوں کی چھٹی ہو جائے گی مگرنئے پاکستان کی طرف اہم ترین پیش رفت یہ ضرور ہوئی ہے کہ پرانے فرسودہ نظام کے ٹھیکے داروں کی چھٹی ہو گئی ہے۔
عمران خان کے پاس کچھ کردکھانے کا موقع رجب طیب اردگان سے بھی زیادہ ہے۔ ملک کے مقتدر حلقوں سے لے کر غریب عوام تک عمران خان کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے یہاں تک کہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کی عمران خان کی مخالفت کی وجہ سے پاکستان کے دوست ممالک بھی عمران خان کی حکومت کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دینے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ ملک میں بظاہر انتہائی طاقتور دکھائی دینے والی اپوزیشن کرپشن کیسز کی وجہ سے انتہائی کمزور ہے اس حقیقت کو آشکار ہوتا عوام چند ہفتوں میں دیکھ لیں گے۔ لیکن حکومت سازی کے بڑے مرحلے سے فراغت ہوتے ہی عمران خان اور اس کی ٹیم کو پہلے ایک سال میں پاکستان کے عوام کی ترقی کے لیے جن اقدامات کو اٹھانا ہے ان کے بارے میں سیاسی نعرے تو موجود ہیں مگر منشور میں ان مقاصد کے حصول کے لیے کوئی متاثرکن اور جامع منصوبہ نہیں ہے۔
نئے پاکستان کے لیے یہی پہلا اور بڑا چیلنج ہے کہ کشتی پارلگانے کے لیے کیا چاہئے ‘اورکیا نہیں ’ یہ تو سب پتا ہے کشتی پار لگے گی کیسے اس کی منصوبہ بندی کا کچھ پتا نہیں۔ کوئی جامع منصوبہ یا تو عمران خان کے دماغ میں واقعی موجود ہے جس کا صرف ان کی ٹیم کو پتا ہے اور اس پر عمل درآمد ہوتا میں اور آپ آنے والے دنوں میں دیکھیں گے یا پھر یہ وہ نقطہ ہے جس پر غور و غوض عمران خان نے بھی حکومت قائم ہونے کے بعد کرنا ہے۔ اگر ایسا ہے تو عمران خان نیا پاکستان بنانے کے پہلے مرحلے کے ہیرو تھے اصل ہیرو کی تلاش عوام جاری رکھیں گے لیکن اگر عمران خان اس تاثر کو غلط ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے تو وہ پاکستان کے رجب طیب اردگان بن جائیں گے۔اللہ پاکستان کے لیے بہتری کرے۔ آمین ۔


ای پیپر