گرینڈ اپوزیشن الائنس کا وفاق میں حکومت بنانے کیلئے نمبر گیم آن رکھنے پر اتفاق
کیپشن:   Source : Yahoo
30 جولائی 2018 (18:21) 2018-07-30

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان قومی اسمبلی میں گرینڈ اپوزیشن الائنس کے قیام پر اتفاق رائے ہوگیا جبکہ مولانا فضل الرحمان نے ایم ایم اے کے پارلیمنٹ میں جانے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات میں دھاندلی کے بارے میں مشترکہ وائٹ پیپر ،حکومت بنانے کیلئے نمبر گیم آن رکھنے ، گرینڈ اپوزیشن الائنس کیلئے ایم کیو ایم اور بلوچستان کی جماعتوں کو اعتماد میں لینے اور شامل کرنےکی کوشش پر اتفاق کیا گیا ہے۔پیر کواسلام آباد میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی رہائش گاہ پر مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، ایم ایم اے اور اے این پی کے رہنماﺅں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں شہباز شریف، ایاز صادق، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، مشاہد حسین سید، عبدالقادر بلوچ، شاہد خاقان عباسی اور دیگر(ن)لیگی رہنماشریک ہوئے۔ پیپلزپارٹی کے وفد کی قیادت خورشید شاہ نے کی جس میں شیری رحمان، نوید قمر، قمر زمان کائرہ، راجہ پرویزاشرف اور یوسف رضا گیلانی شامل تھے جب کہ غلام بلور، میاں افتخار، مولانا فضل الرحمان اور مولانا انس نورانی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان قومی اسمبلی میں گرینڈ اپوزیشن الائنس کے قیام پر اتفاق ہوگیا ہے جب کہ پیپلزپارٹی بھی اس الائنس کا حصہ ہوگی۔ذرائع کا کہناہے کہ مشترکہ اجلاس میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اندر اور باہر سخت احتجاج اور آئندہ 2روز میں آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے حلف اٹھانے کے بارے میں کچھ تحفظات بھی ظاہر کیے تاہم وہ ایم ایم اے کے پارلیمنٹ میں جانے پر رضا مند ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے اصرار پر حکومتی نمبر گیم کو آن رکھنے پر بھی اتفاق ہوا ہے جب کہ انتخابات میں دھاندلی کے بارے میں اپوزیشن میں ایک وائٹ پیپر بھی جاری کرنے پر اتفاق کیاگیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ گرینڈ اپوزیشن الائنس کے لیے بلوچستان کی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینے اور شامل کرنےکی کوشش پر اتفاق کیا گیا ہے۔

مشاورتی اجلاس میں مولانا فضل الرحمن نے جے یو آئی کی مجلس شوریٰ مٰں ہونے والے فیصلوں سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ جے یو آئی کی شوریٰ نے تجویز پیش کی ہے کہ عمران خان کی چھوڑی ہوئی سیٹ پر پی پی اور مسلم لیگ سمیت دیگر جماعتوں سے بات کر لی جائے اور متفقہ امیدوار کھڑا کیا جائے۔جے یو آئی کی مجلس شوری کی رائے ہے کہ اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار برائے وزارت عظمی ،سپیکر وڈپٹی سپیکر لایا جائے اور حلف والے دن پارلیمنٹ کے اندر اور باہربھرپور احتجاج کیا جائے۔دوسری جانب مشترکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ 2018 الیکشن دھاندلی زدہ تھے جن کو ہم مسترد کرتے ہیں، ایسے دھاندلی زدہ الیکشن تاریخ میں کبھی نہیں ہوئے اور ہم ان کی مذمت اور مسترد کرتے ہیں، مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کیلئے حکمت عملی بنائیں گے، مشترکہ حکمت عملی مل کر طے کریں گے۔ میڈیا کے اوپر سنسر شپ لگانے سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہورہی ہے جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ، ریاستی اداروں نے الیکشن میں منفی کردار ادا کیا، ہم تمام امور کا جائزہ لیں گے، اور تمام جماعتوں سے مشاورت کے بعد پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کریں گے۔

اس موقع پر راجا ظفر الحق نے کہا کہ الیکشن کا انعقاد کرانا الیکشن کی آئینی ذمہ داری تھی جس پر وہ ناکام رہا۔ ہم نے گزشتہ حکومت میں الیکشن کمیشن کو مضبوط اور خود مختار بنایا لیکن الیکشن کمیشن نے ہمیں مایوس کیا، الیکشن کمیشن کے تمام ارکان اپنی ناکامی پر مستعفی ہوں ہم نے فضل الرحمان سے بھی درخواست کی کہ وہ تمام جماعتوں کے ساتھ رابطوں کو بڑھائیں اور اپنا لائحہ عمل ان تک پہنچائیں۔ اس موقع پر جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پوری دنیا ، قوم، اسٹیبلشمنٹ کو یہ بات نوٹ کرنی چاہیے کہ الیکشن کے خلاف جس طرح آج آوازیں اٹھ رہیں ہیں تاریخ میں ایسی نہیں اٹھیں، آج تک پوری قوم نے اس طرح متفق ہوکر انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دے کر رد نہیں کیا جیسے آج کیا جارہا ہے۔

الیکشن سے پہلے ہم سب ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑ رہے تھے لیکن سے اگلے روز ہی تمام جماعتوں نے متفق ہوکر کہا کہ الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی ہے۔ ان اداروں کو شرم آنی چاہیے جنہوں نے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر ملک کے اندر اضطراب کی فضاءقائم کی ہے۔ ہر ووٹر اپنی توہین پر سیخ پا ہے یورپی یونین مبصر گروپ نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا کہ الیکشن میں بدترین دھاندلی کی گئی ۔ میڈیا پر بھی پابندی لگائی ہے اور میڈیا کو بدترین سنسر شپ کا سامنہ ہے سارے ملک کے اندر الیکشن میں دھاندلی کے خلاف نعرے بازی ہورہی ہے لیکن میڈیا پر کوئی خبر نہیں آرہی ۔ صحافی حضرات بھی ہم سیاست دانوں کے ساتھ مل کر یہ جنگ لڑیں اور اس سنسر شپ کو ختم کرائیں۔

اس حوالے سے ہماری مشاورت کا عمل جاری ہے۔ ہم یہ جنگ مل کر لڑیں گے جس کیلئے حکمت عملی بنائی جارہی ہے۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام بلور نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے اس الیکشن میں جو کیا وہ ساری دنیا کے سامنے ہے۔ الیکشن میں پورے پاکستان کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے ۔ پاکستان کے نام پر اس الیکشن میں جو دھبہ لگا ہے اس کو دھویا نہیں جاسکتا۔


ای پیپر