New Punjab Assembly
30 جنوری 2021 (15:42) 2021-01-30

اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے تعزیرات پاکستان سے بغاوت سے متعلق دفعہ کو حذف کرنے کے بل سمیت 5بل منظور کر لئے ، پاکستان پینل کوڈ ترمیمی بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ سیکشن 124اے ہمیں انگریزوں سے ورثے میں ملنے والے گورننس کے نو آبادیاتی ڈھانچے کا حصہ ہے ،سیکشن کا مقصد مقامی افراد کو آقائوں کے خلاف بغاوت سے بازرکھنا تھا ،اجلاس میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام سے متعلق آئینی ترمیمی بل پر غور کیا گیا، بل کے محرک سینیٹرزبہر ہ مند تنگی ، سکندر میندھرو اورکرشنا کماری نے بھی اجلاس میں شرکت کی ، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس بل کے حوالے سے ہم نے پبلک ہیئرنگ بھی کی تھی،سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہا کہ جنوبی پنجاب کا صوبہ بننے سے وہاں احساس محرومی ختم ہو جائے گی ۔

اجلاس میں بحث کرتے ہوئے بتا یا گیا کہ  بغاوت سے متعلق سیکشن کو سیاسی اختلافات کو کچلنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے اور عوام کو حق سوالات سے محروم کرکے اپنے تابع لانا ہے ،کمیٹی نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام سے متعلق بل آئندہ کے لئے موخر کر دیا اور سینیٹ کی نشستیں 100کرنے سے متعلق نیابل لانے کا فیصلہ کر لیا جبکہ اوورسیز پاکستانیز کے لیئے پارلیمنٹ میں خصوصی نشستیں مختص کرنے کے معاملے پر وزارت پارلیمانی امور سے رائے طلب کر لی۔

 کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جاوید عباسی کی صدارت میں ہوا، کمیٹی نے وزیر قانون اورسیکرٹری قانون کے اجلاس میں نہ آنے پر برہمی کا اظہار کیا تاہم اجلاس ختم ہونے سے قبل سیکرٹری قانون اجلاس میں شرکت کے لئے پہنچ گئے ۔

اجلاس میں جنوبی پنجاب صوبے کے قیام سے متعلق آئینی ترمیمی بل پر غور کیا گیا، بل کے محرک سینیٹرزبہر ہ مند تنگی ، سکندر میندھرو اورکرشنا کماری نے بھی اجلاس میں شرکت کی ، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس بل کے حوالے سے ہم نے پبلک ہیئرنگ بھی کی تھی،سینیٹر بہرہ مند تنگی نے کہا کہ جنوبی پنجاب کا صوبہ بننے سے وہاں احساس محرومی ختم ہو جائے گی ۔

 پی ٹی آئی اپنے وعدے کو پورا کرے ،کرشنا کماری نے کہا کہ عوام کی رائے لینا بھی ضروری ہے ، رکن کمیٹی مصطفٰی نواز کھوکھر نے کہاکہ جو حکومت کا جواب آیا ہے حکومت کی پوزیشن مبہم ہے، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں ، رکن کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے جو جواب دیا گیا ہے اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ حکومت اس کی حمایت نہیں کر رہی،سیکرٹری قانون نے کہا کہ بل کہ حمایت کرتے ہیں لیکن مشاورت کی ضرورت ہے، منظور احمد کاکڑ نے کہا کہ جو ترامیم سینیٹ کی طرف سے جاتی ہیں ان میں سے کم از کم 20 فیصد کو فنانس بل کاحصہ بنایا جائے، رکن کمیٹی سینیٹر ثناء جمالی نے بل کی حمایت کی جبکہ سینیٹر مصطفٰی نواز کھو کھر اور سینیٹرذیشان خانزادہ نے بل کی مخالفت کی جس کے باعث بل مسترد کر دیا گیا ، اجلاس میں سینیٹ میں سابقہ فاٹا کی آٹھ نشستیں صوبوں میں تقسیم کرنے سے متعلق معاملے پر بھی غور کیا گیا۔


ای پیپر