ch farrukh shahzad columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
30 جنوری 2021 (12:26) 2021-01-30

لداخ میں بھارت کے 40 فوجی چین کے ہاتھوں میں مارے گئے یہ گزشتہ سال کا واقعہ ہے حال ہی میں بھارت چین سرحد پر چین والوں نے پھر بھارتیوں کو مار مار کے بھگا دیا ہے۔ کشمیر میں جاری مزاحمت میں کمی کے آثار دور دور تک نظر نہیں آ رہے مگر مودی حکومت کے لیے اس وقت چیلنج لسٹ میں کشمیر چین یا پاکستان میں کوئی بھی نہیں ہے کیوں کہ اس وقت مودی حکومت گزشتہ کئی ماہ سے جاری کسان مزاحمتی تحریک کے سامنے اپنی بقاء کی  جنگ ہارتی دکھائی دیتی ہے۔ اس تحریک میں نیا  موڑ اس وقت آیا جب 26 جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ کے قومی دن کے موقع پر کسانوں نے انڈین فوجی ٹینکوں کے مقابل کسانی اندولن کے ٹریکٹر لا کھڑے کیے اور انڈین سسٹم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ ریاستی پسپائی کے بعد مشتعل کسان مظاہرین نے دہلی کے تاریخی لال قلعہ جو شاہ جہاں نے سترھویں صدی میں تعمیر کیا تھا اور برطانوی دور میں بھی جسے ریاستی اقتدار کی علامت سمجھا جاتا تھا اس کے میناروں پر انڈین قومی پرچم اتار کر وہاں کسان مزاحمتی تحریک کے پرچم لہرا دیئے جو کہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔ 

گزشتہ سال اکتوبر میں مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں زراعت کو ریگولیٹ کرنے کا نام پر ایسے قوانین پاس کروا لیے جن کے بارے میں پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں کو خدشہ ہے کہ اس سے ان کی فصلوں کی قیمت کم ہو جائے گی جس کا فائدہ ایک طرف مڈل مین اور کارپوریٹ سیکٹر کے تجارتی گروپوں کو ہو گا اور دوسری طرف کسانوں کے لیے حکومتی تحفظ یا سبسڈی ختم ہو جائے گی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت جب سے اقتدارمیں آئی ہے وہ طاقت کے نشے میں فیصلے زبردستی منوانے کی عادی ہو چکی تھی مگر اس نے کسان اندولن کی طاقت کا صحیح اندازہ نہیں لگایا مگر اب ہرگزرتے دن کے ساتھ مودی کی بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔ 

بھارت میں 85فیصد چھوٹا کسان ہے جس کا رقبہ 12ایکڑ سے کم ہے مگر اس 85 فیصد کے پاس زرعی زمین کا 47 فیصدشیئر ہے بھارت کی آبادی میں 150 ملین کسانوں کی زندگی کا دارو مدار زراعت پر ہے جو 15 کروڑ بنتے ہیں ان کی سب سے زیادہ تعداد پنجاب اور ہریانہ میں ہے۔ ڈیموگرافک پہلو سے دیکھیں تو یہ سکھ اکثریت کے صوبے ہیں جہاں خالصتان تحریک کے علیحدگی پسند سکھ آج بھی موقع کی تلاش میں ہیں یہ لوگ گولڈن ٹمپل واقعہ کو بھلا نہیں پائے جب ریاستی فوجوں نے سکھوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کی اور گولڈن ٹمپل کے فرش کو سکھوں کے خون سے لال کر دیا۔ مودی نے شروع میں کسان تحریک کو سنجیدگی سے نہیں لیا مگر لال قلعہ پر قبضے کے واقعہ کے بعد بھارت کے طاقت کے ایوانوں اور انتہا پسند ہندوؤں کے مندوروں کے آنگن میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی ہیں کہ کہیں کسان تحریک کے پس منظر میں خالصتان تحریک پھر نہ بیدار ہو جائے مگر بظاہر اس کے آثار کم ہیں یہ ایک غیر سیاسی غیر منظم اور غیر ارادی تحریک تھی جو ساری رکاوٹیں توڑ کر آگے بڑھ رہی ہے البتہ کچھ بعید نہیں کہ آگے چل کر یہ خونی انقلاب اور علیحدگی کا روپ دھار لے۔ 

26 جنوری کے لال قلعہ پر جھنڈا لہرانے کی  جو تفصیلات سامنے آ رہی ہیں اس کے مطابق انڈین پنجابی گلوکار دیپ سندھو نے اس گروپ کی قیادت کی تھی جنہوں نے لال قلعہ پر دھاوا بولا تھا دیپ سندھو کے ہاتھ میں مائیکرو فون تھا اور وہ ساتھیوں کو ہلہ شیری دے رہے تھے اب تک اس واقعہ کی 2 درجن ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں ۔ کسان تحریک نے دیپ سندھو کے ساتھ لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور مودی پر الزام لگایا ہے کہ یہ بندہ حکومت اور بی جے پی نے ہماری تحریک کو بدنام کرنے کے لیے ہمارے پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے لیے بھیجا ہے تا کہ کسانوں پر بغاوت اور غداری کے جھوٹے مقدمے قائم کیے جا سکیں۔ کسانوں نے دیپ سنگھ کی مودی کے ساتھ تصاویر شائع کی ہیں اور اسے مودی کا ایجنٹ قرار دیا ہے۔ البتہ یوم جمہوریہ کی فوجی پریڈ کے خاتمے اور انڈین پولیس کے سپاہیوں کو کسانی ٹریکٹروں کے آگے جانیں بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ 

گزشتہ ہفتے مودی حکومت نے کسانوں کو پیش کش کی کہ ہم نئے قوانین کو عارضی طور پر معطل کرنے پر تیار ہیں آپ حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں مگر کسان غیر مشروط منسوخی کا مطالبہ کرتے ہیں اور کسانوں کا پلہ بھاری نظر آتا ہے۔ حکومت نے غلطی یہ کی ہے کہ قانون سازی کرنے سے پہلے کسانوں سے مشاورت نہیں کی گئی بھارت میں اس وقت 40 سے زیادہ کسان تنظیمیں فعال ہیں جو ساری کی ساری اس وقت حکومت مخالف تحریک میں شریک ہیں۔ مودی حکومت آج تک کسی ایک تنظیم کو بھی تورنے یا لوٹا بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ حکومت کا اصرار ہے کہ مظاہروں کے دوران برگر اور پیپسی کھانے والے جینز پوش نوجوان کسان نہیں یں ان کے سیاسی عزائم ہیں مگر کسان کہتے ہیں کہ یہ حکومتی پراپیگنڈا ہے حکومت ایسے لوگوں کو جلسوں میں بھیجتی ہے البتہ یہ حقیقت ہے کہ کسان فیملیز میں فوج اور بیرون ملک مقیم ہندستانیوں کی بڑی تعداد تحریک میں شامل ہے اس کے علاوہ اربن ایریا کے کافی لوگ کسانوں کے حق میں ہیں مظاہروں میں ایمبولینس کھانے کا انتظام وغیرہ بڑے منظم انداز میں ہو رہا ہے۔ 

پاکستان میں آج تک کوئی ایک بھی Genunie کسان تحریک اٹھنے ہی نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسان کمیونٹی ہر جگہ مقامی سیاسی قیادت کے تابع ہے یہ لوگ تحریک انصاف کے جلسے میں بھی آتے ہیں اور پی ڈی ایم کو بھی رونق بخشتے ہیں مگر اپنے لیے کھڑے نہیں ہوتے۔ بھارت اور پاکستان کے کسان میں یہی فرق ہے۔ انڈین تھریک اس لیے کامیاب ہوئی ہے کہ وہاں کسانوں نے Do or die کا فیصلہ کیا وہ لوگ بریانی کی پلیٹ کے لیے نہیں بلکہ اپنی بقاء کے لیے باہر نکلے ہیں۔ 

مودی حکومت پر پارٹی کے اندر سے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ نئی قانون سازی کو واپس نہ لیا گیا تو دہلی اور ہریانہ میں خالصتان اور جسٹس فار سکھ JFS جیسی تحریکیں زور پکڑ سکتی ہیں مودی کی ناتجربہ کاری نے بھارت کو یہ دن دکھایا ہے۔ بھارت کی تاریخ گواہ ہے کہ معاشی ابتری ہر دور میں حکومتوں اور سلطنتوں کی صف لپیٹنے کی وجہ بنتی رہی ہے اور اس بار بھی یہی ہوا ہے ۔ 1947ء سے لے کر اب تک بھارت میں احتجاج اور حکومت مخالف تحریکوں کا ریکارڈ چیک کر لیں اتنی منظم متواتر اور شدید تحریک آج تک شروع نہیں ہوئی۔ اگر یہ بل منسوخ نہ کیے گئے تو دو میں سے ایک کام ہو گایا تو مودی حکومت رخصت ہو جائے گی یا پھر پنجاب اور ہریانہ بھارت کے تسلط سے آزاد ہو جائیں گے۔ 


ای پیپر