iftikhar hussain shah columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
30 جنوری 2021 (12:23) 2021-01-30

 دلدار پرویز بھٹی بنیادی طور پر کالج میں انگریزی کے لیکچرر تھے ۔ اب وہ فوت ہو چکے ہیں لیکن نہ جانے کیوں اتنے خوبصورت اور خوشیاں بکھیرنے والے آدمی کے نام کے ساتھ مجھ سے مرحوم لکھا نہیں گیا۔کالج میں پڑھانے کے ساتھ ہی وہ سٹیج اور ٹی وی کے بہت ہی اچھے کمپئیر (compare ) اور میزبان بھی تھے ۔ایک دفعہ الحمراء آرٹس کونسل کے ہال میں اُنھوں نے ایک واقعہ سنایا کہ اندرون لاہور کا ایک لڑکا لاہور آئے ایک انگریز کو اس ملک کے حالات سے آگاہی دینے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس لڑکے کو کوئی خاص انگریزی آتی نہیں تھی۔ پھر بھی اس نے انگریز کو سمجھانے کی خاطر انگریزی میں طبع آزمائی کی اور انگریز سے کہا کہ Blind woman is lying eveywhere ( یعنی ہر پاسے انی پئی ہوئی اے)۔موجودہ دور میں مختلف محکموں کے سرکاری افسران اور ملازمین کی تنخواہوں اور الاونسز میں تفاوت کا جان کر بے ساختہ دلدار پرویز بھٹی کا سنایا فقرہ مجھے یاد آگیا کہ ’’ ہر پاسے انی پئی ہوئی اے ‘‘۔ اس موضوع کی طرف میری توجہ مبذول ہونے کی وجہ کچھ یوں بنی کہ میں نے کچھ عرصہ ڈائریکٹوڑیٹ آف کچی آبادیز پنجاب میں بطور ڈائریکٹر جنرل کام کیا ہے۔ اس ڈائریکٹوریٹ کے افسران اور ملازمین گاہے بگاہے مجھ سے رابطہ میں رہتے ہیں ۔ اس ڈائریکٹوریٹ میں ڈائریکٹر جنرل کی پوسٹنگ صوبائی محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی (S&GAD ) کرتا ہے، جو دو یا تین سال کے لیے ہوتی ہے۔ باقی افسران اور ملازمین کی واضح اکثریت اسی ڈائریکٹوریٹ سے ہوتی ہے۔ آج اس ڈائریکٹوریٹ کے ایک آفیسر سے بات ہو رہی تھی ، گہری مایوسی اس کی آواز سے چھلک رہی تھی۔ پوچھا آپ اتنے مایوس کیوں ہیں! کہنے لگے سر ہمارا محکمہ تو تقریباً تباہ ہو گیا ہے۔ آپ تو جانتے ہیں اس محکمہ کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہوتاہے،لیکن آج حکومت پنجاب کا کوئی بھی آفیسر یہاں آنے کو تیا ر نہیں ہے۔ 

اس کی واضح وجہ موجودہ حکومت کی بد انتظامی ہے۔دیکھیں ایس اینڈ جی اے ڈی کے تمام افسران چاہے وہ فیلڈ میں کام کریں یا سیکریٹریٹ میں ، انہیں اپنی بنیادی تنخواہ کا 150% یعنی ڈیرھ گُنا بطور ایگزیکٹو الاونس(Executive allwance ) اپنی بنیادی تنخواہ کے علاوہ ملتا ہے۔ صاف ظاہر ہے اس سے ان کی ماہانہ آمدن بہت بڑھ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ افسران اگر کسی وجہ سے بغیر پوسٹنگ بھی رہیں یعنی بطور او ایس ڈی (OSD ) بھی، تو یہ ایگزیکٹو الاونس انہیں ملتا رہتا ہے۔ لیکن موجودہ حکومت کی بد انتظامی دیکھیں کہ ڈی جی کچی آبادیز کی پوسٹ جو ایک سینئیر پوسٹ ہے کے ساتھ انھوں نے ایگزیکٹو الاونس attach نہیں کیا ہے۔ظاہر ہے جس سینئر آفیسر کو بھی یہاں پوسٹ کیا جاتا ہے تو اُسے ہر ماہ تقریباً ساٹھ ستر ہزار روپے کا گھاٹا پڑنا شروع ہو جاتا ہے۔اولاً تو کوئی آفیسر یہاں آنا نہیں چاہتا اور اگر کوئی مجبوراً پہنچ جاتا ہے تو وہ بھاگم بھاگ یہاں سے اپنی ٹرانسفر کی تگ ودو میں لگا رہتا ہے۔اس لیے اس اہم ڈائریکٹوریٹ میں بالکل کوئی کام نہیں ہو رہا اور تمام دفتر ٹھپ پڑا ہوا ہے۔اسی طرح اس دفتر کے باقی تمام ملازمیں کے ساتھ بھی بے انصافی برتی گئی ہے، دیکھیں سول سیکریٹریٹ کے سکیل ایک سے لے کر سکیل سولہ تک کے ہر ملازم کو اپنی بنیادی تنخواہ کا پچاس فیصد بطور سیکریٹیریٹ الاونس کے اپنی بنیادی تنخواہ کے علاوہ ملتا ہے، لیکن باقی لاہور کے سرکاری دفاتر میںکام کرنے والے سب ملازمین محروم کے محروم۔، بد دلی سی بد دلی ہے اور مایوسی سی مایوسی۔آپ حیران ہونگے کہ جس طرف نظر ڈالیں سرکاری افسران اور ملازمین کی تنخواہوں اور الاونسز میں تفاوت ہی تفاوت نظر آتا ہے۔ ابھی آپ دیکھیں پنجاب میں سول سروس کے افسران کا ایگزیکٹو الاونس جاری بنیادی تنخواہ کا ڈیڑھ گُنا یعنی 150% ہے لیکن ساتھ کے صوبہ خیبر پختونخواہ میں یہی الاونس کسی افسر کے سکیل کا initial کا ڈیڑھ گنا یا 150% ہے۔ کیا یہ واضح تفاوت نہیں ہے۔ ہمیشہ سے جاری نظام یہ ہوتا تھا کہ چاروں صوبوں کے فنانس سیکریٹریز اور سیکریٹری فنانس آزاد کشمیر اکٹھے بیٹھ جاتے تھے اور ایسی چیزوں کا متفقہ فیصلہ کر لیتے تھے تاکہ کہیں تفاوت کا احتمال نہ رہے۔اب آپ اگر اس ملک کے مختلف محکموں کے افسران اور ملازمین کی تنخواہوں اور الاونسز کا جائزہ لیں توآپ حیران ہونگے کہ اس مالی طور پر مشکل دور اور حالات میں بھی تگڑے گروپس کے لوگ مختلف الاونسز کی شکل میں خوب مالی فوائد سے بہرہ مند ہو رہے ہیں۔ابھی میں سول افسران کے ساتھ ساتھ پولیس کے افسران اور ملازمین کے الاونسز پر نظر ڈال رہا تھا ۔ سی پی او اور ہیڈکوارٹرز کی مختلف پوسٹوں کے لیے پولیس ایڈمنسٹریشن الاونس بنیادی تنخواہ کا 1.2 times تھا اور پنجاب پولیس کے فیلڈ افسران کے لیے 0.8  times ان کے متعلقہ سکیل کی بنیادی تنخواہ کا۔اسی طرح آپ نیب اور ایف آئی اے کے افسران اور ملازمین کے الاونسز جو انہیں موجودہ دور میں دیئے گئے ہیں پر ایک نظر ڈال لیں، آپ کو ہر طرف خوشحالی نظر آئیگی۔ حتیٰ کہ اس ملک کے مختلف محکموں کے انجینزز کو بھی مختلف قسم کی مالی مراعات دی گئی ہیں۔ابھی حال ہی میں جوڈیشری کا سپیشل جوڈ یشیل الاونس جو کہ freeze تھا کو بھی unfreez کر دیا گیا ہے۔موجودہ حکومت کے مالی امور کی handling کو دیکھ کر انسان مایوس ہوئے بنا نہیں رہ سکتا۔ کہیں کہا جا رہا ہے کہ پنشن اور ملازمین کی تنخواہیں قوم پر بڑا بوجھ ہیں اور کہیں مختلف سرکاری محکموں کے افسران کو بے شما ر رقوم الاونسز کی شکل میں دی جا رہی ہیں ۔ موجودہ حکومتی دور میں نہ صرف سرکاری ملازمین مایوس ہیں بلکہ اس ملک کا ہر تنخواہ لینے والا شخص انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ہمارے ایک دوست جوحکومت پنجاب کے فنانس ڈیپارٹمنٹ میں اہم عہدوں پر رہے ہیں اور اب ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں انتہائی مایوسی کے عالم میں کہہ رہے تھے کہ لگتا ہے وزیراعظم کو فوڈ سے متعلقہ اشیاء پر موجودہ inflation کے اثرات بالکل نظر نہیں آتے یا وہ انتہائی بے حس انسان ہیں جنہوں نے پنشنرز کی پینشن تک نہیں بڑھائی ۔بہرکیف یہ دور بھی گزر جائیگا جسے لوگ لطیفہ کے طور پر یاد رکھیں گے۔ 


ای پیپر