anbar shah columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
30 جنوری 2021 (12:13) 2021-01-30

قیامت کے بارے میں تو اللہ ہی جانتا ہے کہ کب آئے گی لیکن ہر نیا دن ایک نیا سانحہ اور عجیب واقعہ لے کر آتا ہے جس سے قرب قیامت کا اندیشہ ہونے لگتا ہے۔ ایسی خبریں تو اکثر پڑھی ہیں کہ غربت کے ہاتھوں لاچار ماں نے پانچ بچوں کو زہردے کر خود کشی کرلی۔  یا  باپ نے بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر بیوی بچوں کو قتل کردیا۔ اور افسوس تو اس بات کا ہے اور ہماری بے حسی کا یہ عالم ہو چکا ہے کہ اب ایسی خبریں ہمیں روز مرہ واقعات جیسی لگنے لگی ہیں۔ 

تاہم ایک خبر جس نے واقعی مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا وہ یہ تھی کہ ملتان کے نامور ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر اظہر حسین نے اپنی اکلوتی بیٹی کو گولی مار کر خود کشی کر لی کہا جاتا ہے کہ گھریلو جھگڑے پر ڈاکٹر نے اپنی اکلوتی بیٹی علیزہ  کو گولی مارنے کے بعد خودکشی کرلی، کچھ ذرائع کے مطابق نشتر ہسپتال کی ڈاکٹر علیزہ ماں کو بچاتے ہوئے جان کی بازی ہارگئیں، ٍڈاکٹر اظہر ماہر امراض دماغی نفسیاتی و منشیات تھے، مقتولہ ڈاکٹر علیزہ کے تین بچے ہیں اور اکلوتی بیٹی تھی، خاوند بھی نشتر ہسپتال میں ڈاکٹر ہے۔ واقعہ جسٹس حمید کالونی ملتان میں پیش آیا۔

بعد ازاں ڈاکٹر اظہر حسین کی بیوہ نے پولیس کو بتایا کہ اس کا شوہر کوروناوائرس میں مبتلا تھا اور اس بیماری کو لے کر شدید ڈپریشن کا شکار تھا، وقوعہ کے روز مقتولہ بیٹی علیزہ دوسرے کمرے میں ایف سی پی ایس کے ٹیسٹ کی تیاری کر رہی تھی کہ اچانک گولی چلنے کی آواز آئی، کمرے میں بھاگ کرجا کردیکھا تو جوان بیٹی خون میں لت پت پڑی تھی اور سانس بند ہوچکی تھی۔ اس کے شوہر نے خود کو کمرے میں بند کرکے دروازہ بند کرلیا اور خود کو گولی مار لی، دروازہ توڑ کردیکھا تو سب ختم ہوچکاتھا۔ وجہ جو بھی ہو، دونوں باپ بیٹی ماہر نفسیات تھے جن کا کام مایوس لوگوں میں نئی امنگ پیدا کرنا ہے۔لیکن وہ خود مایوس ہو کر ایسا انتہائی قدم اٹھا لے تو یہ ایک پراسرار معاملہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے روحانی 

مسائل کا حل ماہر نفیسات نہیں بلکہ صرف خالق کائنات ہی کرسکتا ہے۔ یہی نہیں ہمارے ایک نام نہاد روحانی مفتی قوی بھی ذہنی طور پر اتنے ناکارہ ہوچکے ہیں کہ انہیں  ان کے اہل خانہ نے اپنے گھر میں آئسولیٹ کردیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق مفتی قوی کے ذاتی معالج حافظ عبدالکبیر نے کہا ہے کہ پوری کوشش ہے کہ مفتی قوی کو عوامی اجتماعات سے دور رکھیں، کیوں کہ مفتی قوی کی سوچ ان کے کنٹرول سے نکل چکی ہے، اسی لیے مفتی قوی کو گھر میں آئسولیٹ کیا گیا ہے۔ مفتی قوی کے چچا عبدالواحد ندیم نے کہ ہمارا خاندان عزت والا خاندان ہے جس نے ہزاروں لوگوں کوتعلیم دی لیکن مفتی قوی نے خاندان کو بہت نقصان پہنچایا۔ جس کی وجہ سے ہمارا خاندان غم میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم مفتی قوی سے مفتی کا لفظ واپس لے رہے ہیں  اس لیے آج سے مفتی قوی کو مفتی نہ کہا جائے۔دوسری طرف ٹک ٹاک اسٹارحریم شاہ نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے مفتی عبدالقوی کو تھپڑ مارنے والی ویڈیو باقاعدہ منصوبہ بندی سے بنائی تھی، تاہم مفتی عبدالقوی کو میں نے نہیں بلکہ میری کزن نے تھپڑ مارا تھا، مفتی عبدالقوی کو تھپڑ مارنے والی لڑکی عائشہ شاہ میری کزن ہے، عائشہ شاہ سافٹ ویئر انجینئر ہے اور مفتی عبدالقوی سے یہ ان کی پہلی ملاقات تھی تاہم عبدالقوی نے غلط بات کی اسلئے اس نے تھپڑ مارا۔

 مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اسلام کی خدمت کے دعوے دار اسلام کو ہی متنازعہ بنانے پر کیوں تلے ہیں اور یہ اہم قومی موضوعات مسلمانوں پر ظلم اتحاد امت جہاد اسلامی اقدار کی ترویج کرتے کیوں نظر نہیں آتے کبھی ان کو فرقہ پرستی کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرتے نہیں دیکھا گیا۔ غامدی صاحب اپنی فکر کو مسلسل اپڈیٹ کرتے رہتے ہیں جبکہ عامر لیاقت بارہ موسموں کے حساب سے بارہ روپ دھار لیتے ہیں۔ مولانا طارق جمیل کو بھی بہت لوگ پسند کرتے ہیں لیکن جب ایک عالم دین ٹی وی پر ایک بیان دیتا ہے کہ میں نے اپنے دین کو نہیں بیچا تو پھر ذہن کسی اور رخ چلا جاتا ہے۔  

ہرمکتبہ کا مولوی اپنے حساب سے دین سکھاتا ہے۔ 

ہر کوئی دین میں نیا رنگ بھرنے کی کوشش میں اس کی روح کو بگاڑنے کا کام کر رہا ہے۔ 

قو م کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے 

اس کو کیا سمجھیں بے چارے دو رکعت کے امام

دکھ تو اس بات کا ہے کہ دو ہزار بیس میں کئی جید علماء کرام خالق حقیقی کے پاس جا پہنچے آخر ایسی کیا بات ہے کہ علماء کرام یکے بعد دیگرے دنیا سے رخصت ہوتے جارہے ہیں۔ آخر اللہ رب العزت کی ذات عالی ہم سے کس بات پر اتنی ناراض ہے کہ ہمارے درمیان سے اپنے برگزیدہ بندوں کو چن چن کر نکال رہی ہے اور ہم روز بہ روز تنہا ہوتے چلے جارہے ہیں۔

بخاری شریف کی روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالی علم کو بندوں (کے سینوں) سے کھینچ کر نہیں اٹھائے گا بلکہ علماء کی وفات سے علم اٹھائے گا، حتی کہ جب کوئی عالم نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے، جن سے مسائل پوچھے جائیں گے، وہ بغیر علم فتویٰ دیں گے، وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور (دوسروں کو بھی) گمراہ کریں گے۔‘‘ اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف الفاظ میں علماء کرام کی رحلت کو علم کے اٹھائے جانے سے تعبیر فرمایا ہے، یعنی جب اللہ تعالی دنیا سے علم کو اٹھانے کا ارادہ فرمائیں گے تو ایسا نہیں ہوگا کہ لوگوں کے سینوں سے علم نکال لیں، بلکہ اللہ تعالی علماء کرام کو ہی دنیا سے اٹھالیں گے اور دنیا علم سے محروم ہوجائے گی اور پھر ہر طرف گمراہی اور جہالت کا دور دورہ ہوگا۔ لوگ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ دور فتن میں گمراہی سے بچنے کا واحد طریقہ اور سکون کا منبع صرف اور صرف قرآن اور سنت پر عمل میں ہے۔ آپ کو کسی ماہر نفسیات یا پیر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ بس ایک سجدہ ندامت اور اس کی قربت!


ای پیپر