kaveh moussavi,awais ghauri columns,urdu columns,epaper
30 جنوری 2021 (12:09) 2021-01-30

جان ملٹن نے ’’جنت گم گشتہ‘‘ لکھنے سے پہلے اتنا مطالعہ کیا کہ وہ بینائی سے محروم ہو گیا اور اس نے اپنا مزید کلام اپنے شاگردوں کو بول کر لکھوایا ۔ اس نے اپنی اس شہرہ آفاق نظم میں ایک جگہ لکھا کہ ’’انسان کی سوچ کا ایک اپنا مقام ہے جہاں وہ زندگی کو جنت یا جہنم میں تبدیل کر سکتا ہے‘‘۔

براڈ شیٹ کی کھسیانی بلی تھیلے سے باہر کیا آئی اس نے اپنوں کو ہی پنجے مارنا شروع کر دئیے۔ ایسی ایسی کہانیاں ’’ہمارے اپنوں‘‘ کے راز کھولتی نظر آرہی ہیں کہ ’’سیاستدان چور ہیں‘‘ کا منجن اب ’’آخر چور ہے کون‘‘ میں تبدیل ہو گیا ہے ۔ اگر دماغ کو ہلکی سی بلوغت کا جھٹکا دیا جائے تو معلوم ہوگا کہ آخر کار اس ملک کی شریانوں سے چمٹی ہوئی جونکیں کون ہیں؟ معلوم نہیں سیاست میں کرپشن کارڈ کب تک کھیلا جاتا رہے گا لیکن اگر صرف براڈ شیٹ کو ہی ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لے لیا جائے اور اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی کوشش کی جائے تو بہتری کے پہلے زینے پر قدم رکھا جا سکتا ہے۔لیکن فی الحال تو یہ نقار خانے میں نہیں بلکہ پاگل خانے میں طوطی کی آواز ہی محسوس ہو رہی ہے۔

براڈ شیٹ معاملے میں ’’سیاستدان‘‘چور ہیں کی دھول اڑ رہی تھی تو گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ ’’براڈ شیٹ‘‘ کو مارشل لاء حکومت نے اس لئے فارغ کیا تھا کہ ان کے بقول وہ اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی تھی ’’اب برطانوی عدالت کا فیصلہ پبلک ہونے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ تو ’’ابتدائے عشق‘‘ تھی۔ 2016 کے فیصلے میں برطانیہ کی ثالثی عدالت کے فیصلے سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ ابتدائی طور پر  جس کمپنی سے نیب کی بات ہو رہی تھی وہ جمی جیمز  کی کمپنی ٹریونز ایل سی سی تھی۔ جنرل (ر)امجد امریکہ جاتے ہیں اور کولوراڈو دفتر کا دورہ کرنے کے بعد تسلی کا اظہار کرتے ہیں مگر جب معاہدہ ہوتا ہے تو جمی جیمز کی ٹریونز ایل ایل سی منظر عام سے غائب ہو جاتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ معاہدہ تو براڈ شیٹ ایل ایل سی سے ہوا ہے۔ 2016 والے فیصلے کے مطابق جب عدالت میں جنرل(ر) امجدسے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا ’’مجھے اس میں دلچسپی نہیں تھی کہ کمپنی کا نام کیا ہے؟ براڈ شیٹ نیب کو کوئی معلومات نہ دے سکا اور نہ پیسوں کی واپسی میں مدد دے سکا۔کولوراڈو کے دورہ میں بریفنگ غلط 

معلومات کی بنیاد پر تھی‘‘۔ اس وقت کے نیب پراسیکیوٹر جنرل فاروق آدم خان سے جب پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’’مجھے یادنہیں کہ کب ٹریونز ایل سی سی کی جگہ براڈ شیٹ ایل سی سی نے لے لی‘‘۔

جعلی کمپنی سے معاہدہ تو چلیں ہوگیا لیکن جب براڈ شیٹ نے ریکوری نہیں کی تو پھر ہرجانہ کس چیز کا دیا گیا؟۔ برطانیہ کی عدالت کے فیصلوں کے مطابق اس کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے مگر اس سے پہلے آپ کو کاوے موسوی کی کہانی سناتے ہیں۔ ہالی ووڈ کی ایک فلم میں ایک کردار تھا جو جان بوجھ کر گاڑی کے نیچے آجاتا تھا ٗ ہوٹل جا کر لال بیگ کھانے میں ڈال دیتا تھا اوردیگر مختلف بہانوں سے کمپنیوں پر ہرجانہ کرتا تھا۔کاوے موسوی بھی ایسا ہی کردار ہے۔ یہ نوے کی دہائی میں ایران سے برطانیہ آئے اور انہوں نے پیسے کمانے کا آسان اور اچھوتا طریقہ سوچا۔ انہوں نے امریکہ کی بڑی آئل اور انرجی کمپنی ’’ویٹول‘‘کیساتھ رابطہ کیا۔انہیں کہا کہ سنٹرل ایشین ممالک کو آئل کی برآمد کا مسئلہ ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی سمندری راستہ نہیں۔ وہ روس کو راہداری فیس نہیں دینا چاہتے۔انہیں کوئی متبادل روٹ چاہیے ہم ایران سے بات کرتے ہیں کہ وہ سمندری راستہ فراہم کریں تو یہاں سے بڑے پیسے کما سکتے ہیں۔

ان کی اس تجویز پر کمپنی والوں نے ان سے معاہدہ کر لیا مگر جب کاوے موسوی وعدے پورے نہ کر سکے تو ان سے معاہدہ ختم کر دیا گیا۔ اب کاوے موسوی کا اصل کام شروع ہوا انہوں نے معاہدہ ختم کرنے پر ’’ویٹول‘‘ کیخلاف برطانوی عدالت میں ہرجانہ دائر کر دیا۔ لیکن وہ لوگ نیب نہیں تھے۔ انہوں نے اپنا کیس لڑا اور وہ مقدمہ کاوے موسوی ہار گئے۔ عدالت نے حکم دیا کہ مقدمے کے اخراجات ادا کریں اور لاکھوں ڈالر کی ڈگری ہو گئی۔ کاوے موسوی نے پیسے دینے سے بچنے کیلئے خود کو بنک کرپٹ ظاہر کردیا۔کمپنی نے کہا کہ پیسے اس کے پاس ہیں ٗ یہ چھپا رہا ہے اس لئے ہمیں اس کا کمپیوٹر اور دیگر معلومات دی جائیں کیونکہ ہمیں شک ہے کہ اس کے پاس پیسے ہیں اور یہ دینا نہیں چاہ رہا۔موسوی نے انکار کر دیا جس کے بدلے میں انہیں توہین عدالت پر 8 ماہ تک جیل کی ہوا کھانا پڑی۔ ان کا گھر بک گیا اور وہ سڑک پر آگئے اور حیران کن  بات ہے کہ یہ 2001 کی بات ہے جب نیب کیساتھ  ان کے معاہدہ کو صرف ایک سال ہوا تھا۔اس مشکل وقت میں نیب کاوے موسوی کی مدد کو آیا اور اس نے ان کی ڈوبتی نیا کو پاکستانی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے سہارا دیا۔ 

برطانوی عدالت میں کیس چل رہا تھا  اور ایک بہت موٹا نکتہ تھا کہ جب براڈ شیٹ نے کرپشن کے پیسے ریکور ہی نہیں کرائے تو پھر اسے 20 فیصد کہاں سے دیا جائے مگر اس موقع پر پھر نیب براڈ شیٹ کی مدد کو آئی۔  پاکستان میں ’’سیاستدان چور ہیں‘‘ والے منجن کے تحت قوم کے ہیرو واجد ضیا نے پوری دنیا میں پھر کر شریف خاندان کیخلاف ثبوت اکٹھے کئے تو براڈ شیٹ نے وہی جے آئی ٹی رپورٹ برطانوی عدالت میں پیش کر دی اور موقف اختیار کیا کہ یہ دیکھیں کہ نیب خود کہہ رہا ہے کہ شریف خاندان کی 820 ملین ڈالر کی پراپرٹی ہے ٗاب انہوں نے سراغ لگا لیا ہے تو ان کو کہیں کہ ہمارا 20 فیصد دیں۔ نیب کو صرف ثالثی عدالت میں یہ کہنا تھا کہ یہ تو سیاسی کیس ہے ٗ ابھی معلوم ہوا ہے کہ شریف خاندان کی اتنی جائیداد ہے لیکن ابھی یہ ثابت ہونا باقی ہے کہ یہ کرپشن کے پیسوں سے بنی۔ لیکن اگر نیب برطانوی عدالت میں یہ بات کر دیتی تو’’سیاستدان چور ہیں‘‘ والا منجن جھوٹا پڑ جاتا۔برطانیہ کی ثالثی عدالت کے جج نے پاکستانی عوام پر رحم کھایا اور کہا کہ 820 ملین ڈالر کی جائیداد شریف خاندان نے کرپشن سے بنائی کیونکہ نیب کی جے آئی رپورٹ کہہ رہی ہے۔نیب 820 ملین ڈالر تو شاید وصول نہ کر سکے۔ لیکن ہم فرض کرلیتے ہیں کہ نیب کی کم از کم ممکنہ ریکوری 95 ملین ڈالر ہو گی اور اسی پر20 فیصد براڈ شیٹ کو ادا کریں۔ 

فاروق آدم خان جو نیب کے پراسیکیوٹر جنرل تھے وہ بعد میں براڈ شیٹ کے قانونی مشیر بن گئے اور آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ پانامہ میں رجسٹرڈ اس آف شور کمپنی ’’براڈ شیٹ‘‘ کا مالک ہے کون جسے یہ ہرجانہ پہنچا مگر  اس بات میں اب کوئی شک و شبہ نہیں رہا کہ براڈ شیٹ وہ ڈرامہ تھا جو پاکستان کا آئین توڑنے والے ایک آمر نے پاکستانی عوام کی توجہ مبذول کرانے کیلئے کیا۔ کھیل میں دونوں طرف سے کھیلنے والے ایک ہی تھے۔ معاہدہ کرنے والے بھی وہی تھے ٗ کمپنی رجسٹرڈ کرانے والے بھی وہی تھی اور ہرجانہ وصول کرنے والے بھی وہی تھے۔ کاوے موسوی آج جب نیب کیخلاف بیان دیتے ہیں تو بڑا افسوس ہوتا ہے انہیںکم از کم اپنی وہ حالت  یاد کرنی چاہیے جب وہ سڑک پر آچکے تھے اور اگر نیب ان کا ہاتھ نہ تھامتی تو وہ کس حال میں ہوتے ؟۔


ای پیپر