لگاہے ہوس کا بازار دیکھو!
30 جنوری 2021 2021-01-30

میراخیال تھا پاکستانی معاشرے بلکہ ”بدمعاشرے “ میں ہوس، حرص، طمع کا جورحجان تیزی سے بڑھتا جارہا ہے کورونا سے ہونے والی تباہی کے پیش نظر اُس میں اچھی خاصی کمی واقع ہوجائے گی۔ کورونا موت کے فرشتے کی صورت میں ہمارے سامنے کھڑا ہے، پوری دنیا اِس کی زدمیں ہے، نئے نئے کورونے نکل رہے ہیں، جو پہلے والے کورونوں سے زیادہ مہلک ہیں۔ پچھلے دنوں میں نے لندن میں مقیم بے شمار لوگوں کو جس گھبرائے ہوئے انداز میں شہرچھوڑتے دیکھا یوں محسوس ہورہا تھا شہر پر کوئی قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ قیامت کا اک دن مقررہے، پر جو لوگ کورونامیں مبتلاہورہے ہیں، اور اس کا شکار ہوگئے ہیں، اُن کے لیے اور اُن کے اہل خاندان کے لیے یہ قیامت ہی ہے،.... صد شکر پاکستان میں ایسے حالات ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ اِس کا ”کریڈٹ“ کوئی حکمران یا حکومت نہ لے، ہمارے حکمرانوں، ہمارے افسروں اور خود ہمارے جو اعمال ہیںاُن کے مطابق ہمارا حشریورپ ، امریکہ، برطانیہ اور دیگرکچھ ممالک کے کورونا سے پیدا ہونے والے حالات سے زیادہ بُرا ہونا چاہیے، اللہ اُن سب کے حال پر بھی رحم فرمائے، اِس موذی مرض، آزمائش یا عذاب سے پوری دنیا کو نجات عطا فرمائے، جواِس سے محفوظ ہیں اُنہیں ہمیشہ محفوظ رکھے، میں اصل میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں اللہ نے ہم پراگر خصوصی رحم یا ترس فرمایا ہوا ہے تو اللہ کا شکرادا کرنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے ہم لوگوں پر ظلم کرنا بند کردیں۔ لوگوں کے حق مارنابند کردیں، اپنے اندر کے لالچی انسان کا گلہ گھونٹ دیں، خصوصاً جو عزت،عہدہ یا مقام اللہ نے ہماری اوقات سے بہت بڑھ کر ہمیں عطا کررکھا ہے اُس سے خلقِ خدا کے لیے زیادہ سے زیادہ آسانیاں پیدا کرنے کی ہرممکن کوشش کریں، ہم واقعی اِس وقت موت کی پکڑ میں ہیں، ہمارے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے، قیامت کی ساری نشانیاں ہمارے سامنے ہیں، یہ توبہ کا وقت ہے، اِس وقت کو ہم ضائع کرتے جارہے ہیں، ہماری حرص ، ہماری ہوس ہماری طمع ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی، ہم اس یقین کامل میں مبتلا ہیں جتنا مال وزر جائز ناجائز طریقوں سے ہم بنا رہے ہیں یا چُھپا رہے ہیں، جتنی جائز ناجائز جائیدادیں ہم نے بنالی ہیں وہ سب قبر میں ہمارے ساتھ جائیں گی، ہوس کے مارے ہوئے لوگوں نے شاید ہی یہ دعا کبھی کی ہو ”مرتے وقت اللہ اُنہیں کلمہ نصیب کرے“....وہ یقیناً یہی سوچتے ہوں گے مرتے وقت اُن کے پاس مال وزر کتنا ہوگا، جائیداد کتنی ہوگی، بینک بیلنس کتنا ہوگا، ہیرے جواہرات کتنے ہوں گے؟ مرتے وقت وہ شاید یہ سوچیں حرام کی کمائی کا کس نے اُنہیں کتنا ایڈوانس دے رکھا ہے اور بقایا کتنا ہے؟ موت کا فرشتہ جب اُن کی جان نکالنے لگے وہ اُس سے درخواست کریں” ابھی ٹھہر جاﺅ ایک شخص میرا بقایادینے آرہا ہے“ ....گزشتہ کچھ کالموںمیں‘ میں نے لاہورپولیس کے کچھ کرپٹ افسران کا ذکر کیا تھا، اِس ملک کے تمام بے ایمان افسروں وحکمرانوں کو میں اِک واقعہ سنانا چاہتا ہوں، یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں ہے جو اکثر اپنی تحریروں کے لیے کچھ قلم کار خود ہی گھڑ لیتے ہیں، یہ واقعہ بلکہ عبرت ناک واقعہ گزشتہ روز میرے عزیز جہانگیر بارا نے مجھے سنایا، وہ اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں پر ناجائز قبضے چھڑوانے کے لیے بنائے جانے والے کمیشن لاہور کے سربراہ ہیں، میں یہ واقعہ اِس ملک کے تمام کرپٹ اور لالچی عناصر کو اِس جذبے کے ساتھ سنانا چاہتا ہوں شاید وہ عبرت پکڑ لیں، باقی زندگی ویسے نہ گزاریں جیسے گزشتہ زندگی اُنہوں نے بسر کی، ممکن ہے اُس کے بعد کچھ کرپٹ افسر مجھے میرے واٹس ایپ پر ایسے ویڈیو کلپ سینڈکرنا بند کردیں جس میں کسی مظلوم کو اُس کا حق دلانے کے عمل کو وہ اپنا فرض نہیں معاشرے پر ایک احسان سمجھ کے کررہے ہوتے ہیں، اِن” منتھلی بلکہ ڈیلی خورافسروں“ سے کوئی پوچھے کبھی کبھار ایک آدھ مظلوم کو اُس کا حق بھی آپ نے نہیں دلانا تو اتنے بڑے بڑے عہدوں پر آپ صرف امب چُوپنے یا صرف منتھلیاں وڈیلیاں اکٹھی کرنے بیٹھے ہیں اب ذرا وہ سبق آموزواقعہ سن لیں جو جہانگیر بارا نے مجھے سنایا، ”ایک ریٹائرڈ اعلیٰ افسر کی ساری سروس کرپشن کرتے ہوئے گزری، وہ اپنی ناجائز کمائی عارضی طورپر اپنے اُس منشی کو دیتا رہا جس پر اُسے اندھا اعتماد تھا، اپنی بہت سی جائیداد بھی اپنے اُس منشی کے نام اُس نے لگوادی، اِس کے علاوہ اُس نے اپنی بہت سی جائیدادیں اپنے بھتیجوں بھانجوں کے نام بھی لگوادیں، اُس کا ایک ہی بیٹا تھا جسے اُس نے امریکہ بھجوادیا، کچھ عرصہ بعد اُس اعلیٰ افسر کی بیگم کینسر میں مبتلا ہوکر انتقال کرگئی، وہ اعلیٰ افسر اب گھر میں اکیلا رہ گیا۔ ایک روز اُس کے منشی کی نیت خراب ہوگئی۔ اعلیٰ افسر سویا ہوا تھا، منشی نے اُس کا گلہ دبا دیا، اُس کی موت واقع ہوگئی، منشی نے اُس کے بیٹے اور دیگر عزیزواقارب کو اطلاع دی کہ ”صاحب کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہوگیا ہے“ ۔ اُس کے بیٹے نے منشی سے کہا ” میں امریکہ سے واپس آرہا ہوں ڈیڈی کی ڈیڈ باڈی فی الحال ڈیڈ ہاﺅس میں رکھوادو“۔منشی نے مگر اُسی روز اُسے دفنا کر اُس کے بیٹے سے کہا ”ڈاکٹرز کے مطابق ڈیڈ باڈی خراب ہونے کا خدشہ تھا لہٰذا فوراً دفن کرنا پڑا۔“....بیٹا واپس آیا ، اُسے شک گزرا اُس نے قبرکشائی کی درخواست دے دی، منشی نے کچھ دے دلا کرپوسٹ مارٹم رپورٹ میں لکھوادیا اُس کی موت کثرت شراب نوشی سے ہوئی ہے۔ اعلیٰ افسر کے بیٹے نے بہت کوشش کی پر منشی کے خلاف قتل کی ایف آئی آر کروانے میں کامیاب نہ ہوسکا، اُس نے منشی اور اپنے کزنوں سے اپنے والد کی جائیداد واپس لینے کی بھی بہت کوشش کی، تھانے کچہریوں کے دھکے کھاتا رہا، کہیں اس کی شنوائی نہ ہوئی، تھک ہارکروہ واپس امریکہ چلے گیا، باپ کی ناجائز کمائی و جائیداد سے پُھوٹی کوڑی بھی اُسے واپس نہ مِلی، تنہائی کے جس عالم میں اعلیٰ افسر کی موت اپنے ہی ایک بااعتماد منشی کے ہاتھوں سے واقع ہوئی، وہ الگ سے ایک المیہ ہے، .... یہ واقعہ ایسے ہی میں نے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے لکھا ہے، مجھے معلوم ہے ” ہوس زدہ معاشرے“ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔....حالی ہی میں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن کے حوالے سے جورپورٹ جاری کی ہے اُس کے مطابق پاکستان میں کرپشن چار درجے اُوپر چلی گئی ہے۔ ہمارے حکمران، ہمارے وزراءاور منہ کی بواسیر میں مبتلا ہمارے کچھ حکومتی ترجمان پل پل کی خبرہمیں یہ دے رہے ہیں پاکستان میں کرپشن کے خلاف ادارے بہت متحرک کردار ادا کررہے ہیں۔ اِن اداروں کے ”متحرک کردار“ کا نتیجہ اگر یہ نکلا ہے کہ پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی ہے تو اِن اداروں کو چاہیے اپنے ”متحرک پن“ میں تھوڑی کمی لائیں، شاید اِس سے ہی کرپشن کچھ کم ہوجائے۔ جیسے ہمارے ہاں یہ کہا جاتا ہے ملک سے جرائم ختم کرنے ہیں تو تھانے ختم کردیئے جائیں “ ....جو حالات بن رہے ہیں کل کلاں یہ بھی کہا جاسکتا ہے” ملک سے کرپشن ختم کرنی ہے تو کرپشن کے سدباب کے تمام حکومتی ادارے ختم کردینے چاہئیں“....ہمارے ہاں کرپشن نہیں ”کرپشن کا کاروبار“ ہوتا ہے، ہمارے اکثرادارے کرپشن کرنے والوں کے ”سہولت کار“ بنے ہوئے ہیں، اِن سہولت کاروں کی موجودگی میں ہمارے ”چاکے“ اِس قدر کھل چکے ہیں یہاں کسی معجزے کے تحت کرپشن کی سزاموت ہوبھی گئی کرپشن رُکے گی نہیں کرپشن کا ریٹ بڑھ جائے گا۔ یہاں ہوس کی دکان نہیں پورا بازار کُھلا ہے!!


ای پیپر