30 جنوری 2020 2020-01-30

سندھ اور وفاقی حکومت ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے ہیں۔ بظاہر معاملہ پولیس افسر کا ہے۔ وفاقی حکومت ایک منتخب حکومت کی رائے کو روندتے ہوئے پولیس افسر کا ساتھ دے رہی ہے۔ یہ صرف ایک واضح اور تازہ واقعہ ہے، جو سب کو نظر آتا ہے۔ لیکن سندھ کو کئی ناراضگیاں ہیں۔بلاول بھٹو جب کہتے ہیں کہ سندھ پنجاب کی کالونی ہے تو سندھ کے دانشور تو ان کی حمایت کرتے ہیں لیکن تمام اختلافات کے باوجود قوم پرست بھی اس بیانیے کی حمایت کرتے ہیں۔ سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ وجہ وفاق کی مسلسل سیاسی اور معاشی پالیسیاں اور فیصلے ہیں یا بعض سیاستدانوں کی چالاکیاں جو اپنا اقتدار اور سیاست پر غلبہ برقرار رکھنے کے لئے وفاق سے جھگڑتے رہتے ہیں۔ معاملات کو سمجھنے کے لئے پاکستان کی انتظامی، سیاسی، معاشی انتظامات کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنی پڑے گی۔

پچاس کے عشرے میں ہم آئین سازی اور قومی زبان کا مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہے۔ اکثریت رکھنے والے صوبے بنگال کی سیاسی،معاشی و ثقافتی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا۔ ون یونٹ بنا کر مساوی نمائندگی کے نام پر بنگالیوں کی اکثیرت ماننے سے انکار کیا گیا، جبکہ مغربی پاکستان کے صوبوں کی حیثٰت ختم کر کے ان صوبوں کی سیاست، معیشت پر کنٹرول کر کے وسائل وفاق نے اپنے ہاتھ میں لے لئے۔ ہم ثقافتی اور لسانی کثیر رنگی کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ سندھ سے اس کا دارلحکومت، بندرگاہ والا شہر کراچی چھین کر وفاقی حکومت کے حوالے کیا گیا۔ جہاں تقسیم ہند کے وقت ہجرت کر کے آنے والوں وجہ سے آبادی کے تناسب میں بڑی تبدیلی رونما ہو چکی تھی۔ یہ صوبائی خود مختاری پر وار تھا۔ پچاس کے عشرے میں سندھ کے وسائل، زرخیززمینوں پر قبضہ کرنے کے لئے جو کھیل کھیلا گیا اس کے نشانات تاریخ میں حکومتی تبدیلیوں اور سیاستدانوں کو نااہل قرار دینے کے واقعات کی شکل میں آج بھی تاریخ کے صفحات کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ یہ پالیساں ایوب دور میں بھی چلتی رہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو نے نیا فارمولا دیا جس کے تحت پنجاب کے لئے بعض مراعات مانی گئی، اور اس کے عوض سندھ کے بعض مطالبات مان لئے گئے۔ 1973 کا آئین ملک کا پہلی میکنزم ہے جس میں چھوٹ صوبوںکے حقوق کو تسلیم کیا گیا۔ اس میںبھٹو کی ذہانت کا کمال اپنی جگہ پر لیکن اس سے زیادہ بنگال کی آزادی کا تازہ واقعہ اصل اور بڑی وجہ تھی۔ آئین میں صوبوں کے تحفظ کے لئے مشترکہ مفادات کی کونسل قائم کی گئی۔ لیکن عملاً ہوا یہ کہ وفاقی بیوروکریسی اور عسکری اسٹبلشمنٹ کی مضبوط گرفت کی وجہ سے اس آئینی ادارے کے اکثرمطلوبہ اجلاس نہیں ہوسکے یا پھر ان اجلاسوں کے فیصلوں پر عمل نہیں کیا گیا۔پانی کا معاہدہ ہوا، تو اس پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے قائم ادارے ارسا سے سندھ کو شکایت ہی رہی کہ پیپلزپارٹی کا دور ہو یا نواز شریف کا یا پھر مشرف اور عمران خان کا اس کے فیصلے سندھ کے بجائے

پنجاب کے فائدے میں ہوتے رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں قومی اسمبلی اور سینٹ میں پیش کی گئی رپورٹس کے مطابق سرکاری ملازمتوں میں بھی سندھ کو اس کا جائز کوٹا نہیں ملا۔ یہی صورتحال وفاقی ترقیاتی پروگراموں کی رہی۔ جس کا اظہار ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لینے سے ہوتا ہے۔ یہ صورتحال صرف سندھ کے ساتھ نہیں دیگر صوبوں کے ساتھ بھی ہے۔ لیکن سندھ اس کا ظہار واضح کرتا رہا ہے کیونکہ سندھ کو ایک سیاسی شناخت حاصل ہے۔ پیپلزپارٹی نے اپنے عہدحکومت میں اگر کوشش بھی کی تو اس کو سبوتاژ کیا گیا۔

اگرچہ نواز لیگ کے دور حکومت میں بھی کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی تھی تاہم تحریک انصاف کے دور حکومت میں یہ صورت مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ تحریک انصاف کے احتساب کے عمل پر سندھ حکومت کو شدید اعتراضات اور تحفظات ہیں۔ اس کے علاوہ قدرتی وسائل ، پانی، گیس کی تقسیم، وفاقی اداروں میں ملازمتوں وفاق کے ترقیاتی منصوبوں میں سندھ کے حصے، ، اٹھارویں ترمیم پر عمل درآمد کے معاملات بھی سندھ اور وفاق کے درمیان الجھے ہوئے ہیں۔ یہ تمام مسائل وفاق اور صوبے کے درمیان، نیک نیتی کے ساتھ بامقصد رابطے کے ذریعے حل کئے جاسکتے ہیں۔ گیس اور تیل کا معاملہ اس وجہ سے بھی حساس ہے کہ ان دونوں کی پیداوار کا 69 فیصد حصہ سندھ پیدا کرتا ہے۔ جب بڑا حصہ پیدا کرنے والے کو منصفانہ حصہ نہیں ملے گا تو شکایات تو ہونگی۔ یہ درست ہے کہ صوبائی حکومت کو خراب انتظام کاری اور کرپشن کے شدید الزامات کا سامنا ہے۔ عام لوگوں کو تعلیم، صحت، پانی جیسی بنیادی سہولیات مہیا کرنے ،تھرے جیسے پسماندہ علاقوں کو ترقی دلانے میں ناکام رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وفاقی حکومت سندھ کے لوگوں کے حوالے سے بری الذمہ ہے۔ اس کے باوجود وفاقی حکومت آئینی طور رپ پابند ہے کہ وہ اپنی تمام وحدتوں کو بلا سیاسی امتیاز کے ترقی کے برابری کی بنیاد پر مواقع فراہم کرے۔

سندھ کے لوگوں کی وفاق سے نامیدی کے تاریخی اسباب موجود ہیں۔ جب نیا ملک بننے جارہا تھا، تو تمام بڑے جاگیردار، پیر مرشد مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ جب ہم قوم تعمیر کے صحیح راستے سے بھٹک گئے تو سیاسی جوڑ توڑ ہونے لگے، اس صورتحال میں یہی لوگ جو کل پاکستان بنانے والی مسلم لیگ میں تھے، اب ریپبلکن پارٹی یا کنوینشن مسلم لیگ میں شمولیت کو عیب نہیں سمجھا۔ کیونکہ اقتدار کی سیاست تو یہی تھی۔ بھٹو نے جب مقبولیت پسندی کی سیاست شروع کی تو تمام کنونشن لیگی پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے۔ اور وہ پارٹی کے اہم عہدوں اور اسمبلیوں میں براجماں ہو گئے۔ یوں درمیانہ طبقہ اقتدار میں حصہ داری سے رہ گیا۔ بھٹونے سیاستدانوں کو زیادہ اختیارات اور مراعات دیں۔ لیکن بھٹو جانتے تھے کہ اس کے سیاسی طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور جب تک اس عوام میں ان کی جڑٰیں مضبوط ہیں تب تک یہ جاگیردار اور بھوتار بھی ان کے ساتھ رہیں گے۔ تاہم بھٹو نے مختلف اقدامات کے ذریعے اس دیہی اشرافیہ کو مضبوط کیا

نوے کے عشرے میں نواز شریف کے دو ادوار میں وڈیروں کا گٹھ جوڑ کرکے جام صادق علی ٹائپ فارمولوںپر عمل کیا گیا۔ مختلف تلخ تجربات کی وجہ سے سندھ کے لوگ کسی ملک گیر سیاسی پارٹی پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی ایسی پارٹی جس میں ان کی مناسب اور موثر نمائندگی نہ ہو اس کی حمایت کرنے میں ہچکچا رہے ہیں۔ نواز شریف نے بھی سندھ کو کبھی اپنا سیاسی حلقہ انتخاب نہیں مانا اسی نقطہ نظر پر تحریک انصاف بھی چل رہی ہے، وہ سندھ میں سیاسی کارکنوں اور درمیانہ طبقے کی طرف جانے کے بجائے بدنام زمانہ وڈیروں کے کندھے تلاش کرتی ہے۔

تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اور پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کے درمیان ٹکرائو میں تیزی آرہی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ قدرتی خواہ مالی وسائل کی تقسیم، اہم وفاقی اداروں میں ان کی عدم موجودگی یا کم نمائندگی، اور ہزاروں کی تعداد میں ان کے حصے کی ملازمتوں سے محرومی برقرار ہے، ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے اس ناانصافی کو برقرار رکھتے ہوئے اس کو ادارہ جاتی شکل دی جا رہی ہے۔ حکمران جماعت تحریک انصاف کی پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کے ساتھ کتنی ہی ناراضگی یا تحفظات ہوں، اس کو بہرحال سندھ کے لوگوںکے ساتھ ایک قابل قبول حل پر آنا پڑے گا۔


ای پیپر