30 جنوری 2020 2020-01-30

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم اور ٹرانسپیرنسی کے تناظر میں کرپشن انڈیکس کی چونکا دینے والی رپورٹ نے حکمرانوں کی صفوں میں غیرمعمولی اضطراب اور تشویش کی لہر دوڑادی ہے۔بین الاقوامی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 2018ء کے مقابلے میں 2019ء کے دوران کرپشن کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی اور 10 سال میں پہلی بار پاکستان کا سکور بڑھنے کی بجائے کم ہوگیا ہے اور 2018ء کی کرپشن پر سیپشن انڈیکس میں پاکستان کا سکور 33 تھا جو 2019ء میں خراب ہوکر 32 پر آگیا ہے۔جبکہ معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرپشن سے متعلق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ حکومت نے مسترد کردی ہے۔ امریکی میڈیا سے غیر رسمی گفتگو، خصوصی انٹرویو اور ملاقاتوں میں وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے کیس اور ملکی داخلی صورتحال پر سیر حاصل روشنی ڈالی لیکن ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے رولر کوسٹر کا کردار ادا کیا۔ چونکہ پاکستانی عوام جو عمران کے کرپشن کے خاتمے کے دلفریب نعرے، بیانیے اور حکمت عملی کو پاکستان میں شفافیت اور انتظامی تطہیر کا بگل سمجھتے تھے ہکا بکا رہ گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی ہے۔ اس عجیب حسن اتفاق نے بلاشبہ حکومت کے کرپشن اور احتساب کے جاری بیانیے پر کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی طرف سے ما ہِ روا ں کی تئیس تا ریخ بر و ز جمعرات، دنیا کے 180 ممالک میں کرپشن سے متعلق سال 2019ء کی رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 2018ء کے مقابلے میں 2019ء کے دوران پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی۔ 2018ء کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان کا سکور 33 تھا جو 2019ء میں خراب ہوکر 32 پر آگیا۔ رپورٹ کے مطابق 10 سال میں یہ پہلی بار ہے کہ کرپشن سے متعلق انڈیکس میں پاکستان آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے گیا ہے۔ زیادہ کرپشن والے ممالک میں پاکستان کا درجہ 117 سے بڑھ کر 120 ہوگیا ہے۔ سی پی آئی رپورٹ کے مطابق 2019ء میں پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا اور پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں مزید ایک درجہ تنزلی ہوگئی ہے۔ البتہ نیب کے موجودہ چیئرمین جاوید اقبال کی زیر قیادت قومی احتساب بیورو (نیب) کی کارکردگی بہترین رہی ہے۔ نیب انتظامیہ کی جانب سے ادارے کو فعال بنانے کے لیے کئی اقدامات جن میں انکوائریوں اور انویسٹی گیشنز کو میرٹ پر نمٹانے اور نیب کے سینئر افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا گیا، شامل ہے جس سے معیار میں بہتری آئی ہے۔ یوں

ٹرانسپیرنسی رپورٹ نے حکومت و نیب کی کارکردگی کے تقابل میں کئی اہم نکات بھی نمایاں کردیئے ہیں جو قابل غور بھی ہوں گے اور حکومت اور اس کی ٹیم کے لیے احتسابی عمل میں جھول ، کمزوری اورکرپشن کے ناسور کے معاشرے میں تیزی سے سرایت کرنے کے اسباب کا سراغ لگانا ایک اہم چیلنج بن جائے گا۔ رپورٹ کے اجرا سے حقیقت میں ماضی میں کرپشن کے سسٹم کے رگوں میں سرایت کرنے اور اس کے تناظر میں پی ٹی آئی حکومت کی کوششوں اور انسدادی کاوشوں کے باوجود شفافیت کو سپیس نہ ملنا ایک المیہ ہے۔ جس سے نہ صرف ملکی معاشی، مالیاتی اور سیاسی نظام میں مثبت تبدیلیوں پر عوامی حلقے حیران بھی ہوسکتے ہیں کہ حکومت کیا کہتی رہی اور کیا ہوگیا۔ اصل نقصان سسٹم کی بچی کھچی ساکھ، بلند بانگ حکومتی اعلانات، دعوئوں کے مضمرات کا ہوگا۔ رپورٹ پر بحث کے دروازے کھل گئے ہیں۔ اپوزیشن کا جارحانہ مزاحمتی لہجہ مزید تلخ ہونے کا عندیہ دے رہا ہے۔ بلاشبہ ملک میں کرپشن بڑھ جانے کا الزام اگر کسی مقامی ادارے کے سروے کا نتیجہ ہوتی تو اس پر تحفظات اور اعتراضات کے اظہار کی بہت گنجائش ہوگی۔ لیکن یہ سروے رپورٹ ورلڈ اکنامک فورم سے وابستہ اداروں کی محنت اور تحقیقات کا نتیجہ ہے۔ اس پر گرد اُڑانے کا نقصان اور سبکی بھی حکومت کی ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق نیب نے بدعنوان عناصر سے لوٹے گئے 153 ارب روپے برآمد کیے ہیں جبکہ احتساب عدالتوں میں بدعنوانی کے 530 ریفرنس دائر کیے ہیں۔ احتساب عدالتوں میں سزا دلوانے کی شرح تقریباً 70 فیصد ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے نیب کی شہریوں کو بدعنوانی کے مضر اثرات سے آگاہی کے لیے مؤثرمیڈیا مہم کو بھی قابل تعریف قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی گزشتہ برس کرپشن میں اضافہ ہوا جس کے بعد عالمی درجہ بندی میں ان ممالک کا سکور کافی نیچے چلا گیا ہے۔ کینیڈا کا 4 درجہ تنزلی کے بعد سکور 81 سے 77 ہوگیا ہے۔ گزشتہ برس فرانس میں بھی کرپشن میں اضافہ ہوا۔ فرانس کا سکور 3 درجہ تنزلی کے بعد 72 سے 69 ہوگیا۔ رپورٹ کے مطابق 180 ممالک کی دو تہائی تعداد نے کرپشن سے پاک ممالک میں 50 سے کم سکور کیا۔ ڈنمارک اور نیوزی لینڈ دنیا کے 180 ممالک میں سب سے کم کرپٹ ممالک قرار پائے ہیں۔ تاہم پہلے نمبر پر آنے کے باوجود ڈنمارک کی ایک درجہ تنزلی ہوئی اور اس کا سکور 88 سے 87 ہوگیا۔ جب کہ کم کرپٹ ممالک میں پاکستان کا 120 واں نمبر ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2019ء میں زیادہ تر ممالک کی کرپشن کم کرنے میں کارکردگی بہتر نہیں رہی اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس کے 180 رینکس میں پاکستان کا رینک 120 ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کرپشن کو روکنے کے لیے دی جانے والی اپنی سفارشات میں تجویز دی ہے کہ سیاست میں بڑے پیسے اور اثر و رسوخ کو قابو کیا جائے، بجٹ اور عوامی سہولیات ذاتی مقاصد اور مفاد رکھنے والوں کے ہاتھوں میں نہ دی جائیں۔ علاوہ ازیں دنیا بھر میں کرپشن روکنے کے لیے لابیز کو ریگولیٹ کیا جائے جبکہ الیکٹورل ساکھ مضبوط کی جائے اور غلط تشہیر پر پابندی لگائی جائے جبکہ شہریوں کو بااختیار کریں، سماجی کارکن، نشاندہی کرنے والوں اور صحافیوں کو تحفظ دیں اور کرپشن روکنے کے لیے چیک اینڈ بیلنس اور اختیارات کو علیحدہ کیا جائے۔

مگر ہما رے وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت شفاف ترین ہے۔ میں کسی سے گھبرانے والا نہیں اور نہ ہی اپنے نظریہ پر سمجھوتہ کروں گا۔ ڈیووس میں شدید رد عمل کو بھی وزیراعظم نے اپنے بیانات اور تقاریر کا حصہ بنایا۔ وہ پاکستانی میڈیا سے نالاں نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اخبار پڑھنا چھوڑ دیا ہے اور عوام کو تلقین کررہے ہیں کہ وہ چینلز کے ٹاک شو دیکھنا بند کریں، سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ کرپشن کا خاتمہ بڑا چیلنج ہے جبکہ اب ضرورت اسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے تحمل اور معروضیت پسندی کی ہے۔ ٹرانسپیرنسی کی رپورٹ چشم کشا ہے۔ حکمران جذبات کی بجائے ہوش سے کام لیں۔ اس سیٹ بیک کا ادراک کریں تاکہ ملک کرپشن کے ناسور سے دائمی نجات حاصل کرنے کی منزل پالے۔


ای پیپر