30 جنوری 2020 2020-01-30

تعلیم کے عالمی دن 24جنوری کو محکمہ شماریات نے 2017-18کے مردم شماری رپورٹ جاری کر دی۔جس کے مطابق شرح خواندگی کے حوالے سے صوبہ پنجاب سب سے آگے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا سب سے کم شرح خواندگی کے ساتھ آخری نمبر پر ہے۔تعلیمی ایمرجنسی کے باوجود صوبہ خیبر پختونخوا شرح خواندگی میں چاروں صوبوں سے پیچھے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مجبوعی شرح خواندگی پنجاب 64.7فیصد کے ساتھ سرفہرست ہے ۔سندھ 62.2فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے ۔اسی طرح بلوچستان 55.5فیصد شرح خواندگی کے ساتھ تیسرے اور صوبہ خیبر پختونخوا 55.3فیصد شرح خواندگی کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔تحریک انصاف حکومت نے مالی سال 2020-19کے وفاقی بجٹ میں ہائر ایجوکیشن کے لیے بجٹ میں 40فیصد کٹوتی کرتے ہوئے 46ارب سے کم کرکے 29ارب روپے کر دیے ۔اس وجہ سے ایچ ای سی کے چھ پروگرام متاثر ہوئے۔یونیورسٹیاں مالی بحران کا شکارہوگئیں۔ریسرچ جرنلز میں مکالمہ جات کی اشاعت کے لیے اُمیدواروں سے رقوم لی گئی ۔یہ کمی پی ٹی آئی کی اُن دعووں کی نفی کرتی ہے ۔جس میں عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ تعلیم اور سماجی شعبے پر زیادہ رقوم خرچ کرے گی۔2017-18میں پنجاب شرح خواندگی کے حوالے سے چاروں صوبوں میں پہلے نمبر آنے کا کریڈٹ محمد شہبازشریف کو جاتا ہے ۔محمد شہباز شریف اپنی وزارت اعلیٰ کے دور میں تعلیم میں تاریخی اصلاحات کی تھیں۔طلبہ کے حوصلہ افزائی کے لیے چار لاکھ پچیس ہزار لیپ ٹاپ تقسیم کئے تھے۔تقریباً 12ارب کے تین لاکھ پچاس ہزار وظائف ، 8 دانش سکولز پسماندہ اضلاع میں قائم کیے گئے۔جنوبی پنجاب 600,000بچیوں کو تعلیم کے ماہانہ وظائف ،اور پوزیشن ہولڈر طلباء کو یورپ کے دورے کرائے گئے۔2لاکھ 50ہزر نئے اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی کی گئی۔8ہزار نئے کلاس رومز سکولز میں تعمیر کیے گئے۔محمد شہاز شریف نے لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے طلباء کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے سے بچانے کے لیے اور ان کی پڑھائی جاری رکھنے کے لیے ’’اُجالا پروگرام‘‘کے تحت دو لاکھ دس ہزار سولر لیمپس قابل محنتی اور ہونہار طلباء میں میرٹ کی بنیاد پر تقسیم کئے۔اس پروگرام کے تحت سرکاری سکولوں و کالجوں کے طلبہ میں سولر لیمپ تقسیم کئے۔ان سولر لیمپس کے خصوصیت یہ ہے کہ 18گھنٹے بلا تعطل بجلی کی تقسیم ممکن بنا سکتے ہیں۔صوبہ پنجاب کے پسماندہ اضلاع میں دانش سکولز غریب ہونہار طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے قائم کیے گئے۔جس میں ہزاروں غریب

طلباء مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔داخلے کے لیے جو شرائط عائد کئے گئے ہیں ماہانہ آمدنی جن کے والدین کی پندرہ ہزار سے زائد نہ ہو۔ کوئی جائیداد نہ ہو ، شہری علاقوں کا رہنے والا ہو ، مکان کچا ہو ، تحریری امتحان پاس کرنے والے طلباء کو داخلے دیئے جاتے ہیں۔ہر سکول میں (Self finance) بچوں کے لیے دس فیصد کوٹہ مختص ہے۔ انھیں سولہ ہزار پانچ سو روپے ماہانہ فیس اور دیگر اخراجات کے مد میں ادا کرنے ہوتے ہیں۔محمد شہباز شریف نے دانش سکولوں میں چاروں صوبوں ، گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر ، پاٹا اور قبائلی اضلاع کے لیے خصوصی نشستیں مختص کی ہے خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر ان اضلاع کی طلباء کو داخلے دیئے جاتے ہیں۔

محمد شہباز شریف 2008ء میں پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد غریب بچوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا اور پنجاب کے پسماندہ ترین اضلاع میں دانش سکول سسٹم

قائم کئے جس سے غریب ، نادار اور ہونہار بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں اور یہ ایک ایسا تاریخی منصوبہ ہے جو خاص طور پر کم آمدنی والے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے تاکہ پسماندہ طبقات کے بچوں کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر ہو سکے۔ دانش سکولوں میں انتہائی غریب بچوں کو نہ صرف مفت معیاری تعلیم دی جاتی ہے بلکہ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ عمارت اور ہاسٹل تعمیر کئے گئے ہیں ان سکولوںمیں تدریس کو موثر بنانے کے لیے بہترین لائبریری ، سائنس اور جدید ترین کمپیوٹرز پر مشتمل تجربہ گاہے ، ملٹی میڈیا و پروجیکٹرز سکولوں اور ہاسٹل دونوں جگہوں سے بذریعہ انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کر دی گئی ۔ سائنس لیبارٹریز جو سائنس اور ریاضی کے کٹ سے مزین ہیں قائم کی گئی اور سکولوں میں آرٹ روم تعمیر کئے گئے ہیں۔جہاں قابل اساتذہ مقرر کئے گئے ہیں ۔ متحرک کمپیوٹر جس میں خصوصی طور پر تیار کیا گیا سافٹ وییئر اور ہارڈ ویئر ترقی پذیر ممالک کی تعلیمی ضرورت کے مطابق استعمال ہوتا ہے ان میں ایک کمپیوٹر اساتذہ اور ہر طالب علم کے لیے علیٰحدہ کمپیوٹر کی سہولت فراہم کی گئی ۔طلباء کی جسمانی تربیت ذہنی اور جسمانی نشوونما کے لیے وسیع میدان تعمیر کئے گئے ہیں اور ان سکولوں میں طلبہ کی ڈویژن اور صوبائی سطحوں پر کھیلوں ، مباحثوں اور مضمون نویسی کے مقابلوں میں بھی پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں۔

محمد شہباز شریف جب 2008میں وزیر اعلیٰ منتخب ہو گئے ایک ارب کی خطیر رقم سے پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈز قائم کیا گیا اور دس سالوں کے بعد اس کا حجم بیس ارب روپے تک پہنچ گیا اور تقریباً دس سالوں میں دو لاکھ ہونہار طلباء کو تعلیمی وظائف دیئے گئے ہیں اور اس فنڈ میں چاروں صوبوں گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر ، پاٹا اور قبائلی اضلاع کے طلباء کو بھی تعلیمی وظائف دیئے جاتے ہیں۔انڈوومنٹ فنڈز میں بیس فیصد کوٹہ یتیم ،اقلیتی ، خصوصی بچوں اور گریڈ 1سے لے کر 4کے سرکاری ملازمین کے بچوں کے لیے مختص ہیں اور پاکستان میں اپنی نوعیت کا واحد پروگرام ہے جس کے لیے ایسا نظام بنایاگیا ہے کہ طلباء سے اُن کے گھروں پر رابطہ کیا جاتا ہے اور انھیں وظائف دیئے جاتے ہیں۔ تعلیم کے شعبہ میں انقلابی اقدامات اُٹھانے پر چاروں صوبوں کے طلبہ آج بھی محمد شہباز شریف کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور انھیں اچھے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔


ای پیپر