30 جنوری 2020 2020-01-30

بھارت کی ریاست گجرات میں فروری اور مارچ 2002ء میں ہونے والے یہ فرقہ وارانہ فسادات اس وقت شروع ہوئے جب ریل گاڑی میں آگ لگنے سے 59 انتہاپسند ہندو ہلاک ہو گئے۔ اس کا الزام مسلمانوں پر لگایا گیا اور گجرات میں مسلمانوں کے خلاف یہ فسادات گجرات کی ریاستی حکومت کی درپردہ اجازت پر کیے گئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ مسلمانوں کی نسل کشی تھی۔ اس میں تقریباً 2500 مسلمانوں کو بے رحمی سے قتل کیا گیا یا زندہ جلا دیا گیا۔ سینکڑوں مسلمان خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ ہزاروں مسلمان بے گھر ہوئے۔

گزشتہ روز بھارتی سپریم کورٹ نے بھارتی ریاست گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث 17 مجرموں کو دو گروپوں میں تقسیم کر کے ضمانت پر رہا کرنے اور انہیں نوکریاں فراہم کرنے کا حکم دیا ہے تاہم مجرمان کے گجرات میں داخلے پر بھی پابندی ہوگی۔ ایک گروپ کو مدھیہ پردیش کے شہر اندور جب کہ دوسرے کو گجرات سے 500 کلو میٹر دور جبال پورہ میں رکھنے کا حکم سنایا گیا ہے۔ ان افراد پر یہ الزام ثابت ہو گیا تھا کہ انہوں نے 2002 میں فسادات کے دوران 33 مسلمانوں کو زندہ جلا کر ہلاک کر دیا تھا جن میں 22 خواتین بھی شامل تھیں۔

بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی 2002 میں ریاست گجرات کے وزیر اعلی تھے اور فسادات کو ہوا دینے میں نریندر مودی بھی ملوث تھے کیوں کہ فسادات کے دوران انہوں نے بلوائیوں کو روکنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے تھے بلکہ گجرات کی پولیس اور انتظامیہ نے آرایس ایس کے دہشت گردوں کوبھرپور مددفراہم کی تھی۔ تحقیقات کے بعد یہ سامنے آیا کہ آرایس ایس سے تعلق رکھنے والے ایک اعلی سیکورٹی اہلکار کی زیرنگرانی آرایس ایس نے ٹرین کو آگ لگا کر فسادات بھڑکانے کا منصوبہ تشکیل دیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد گجرات میں بلوائیوں نے بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے اور احمد آباد شہر سمیت نواحی قصبوں میں مسلمانوں پر حملوں کے واقعات بھی ر ونما ہوئے تھے جن میں ہزاروںافراد ہلاک ہو گئے تھے۔

فسادات کے بعد 76 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ گجرات کی ہائی کورٹ نے بعدازاں 14 افراد کو بری کر دیا تھا جبکہ اب بھارت کی سپریم کورٹ نے 17 مجرموں کو بھی مشروط طور پر رہا کرنے اور انہیں نوکریاں فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

گجرات کے مسلم کش فسادات کے حوالے سے بھارتی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ان فسادات میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی براہ راست ملوث تھے جنہوں نے ہندوؤں کو تین دن کی کھلی چھٹی دی اور زیادہ مسلمانوں کو شہید کرنے والے ہندوؤں کو پھولوں کے ہار پہنائے۔ وشواہند پریشد کے رہنما دھوال پٹیل نے اعتراف کیا ہے کہ 2002 ء کے فسادات کے دوران اس نے اپنے ہاتھوں سے بم بنائے۔ گجرات فسادات میں مسلمانوں کی شہادت پر بین الاقوامی انسانی حقوق گروپ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق نریندر مودی کی حکومت متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں ناکام رہی۔ حکومت کے اعلیٰ عہدیدار بھی ان فسادات میں ملوث پائے گئے مگر ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوئی۔

یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ گودھرا میں ٹرین پر حملہ پہلے سے تیار شدہ منصوبہ تھا۔ منصوبے پر عمل ہوتے ہی حکومت نے ذمہ داروں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی ہندوؤں کو بدلہ لینے پر ابھارا گیا۔ یہاں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ٹرین پر حملہ ہونے کے محض چند گھنٹوں کے اندر گجرات بھر سے مسلح انتہا پسند ہندو وہاںپہنچنا شروع ہو گئے۔ ان کے ہاتھوں میں مسلمانوں کے گھروں اور املاک کے بارے میں تفصیلی فہرستیں تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کئی سو مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا انہیں زندہ جلادیا گیا۔ خواتین کی عصمت دری کی گئی ان کے گھروں اور ان کی دکانوں کو لوٹ کر نذر آتش کر دیا گیا۔یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف پرتشدد واقعات سب سے زیادہ گجرات ہی میں پیش آتے ہیں۔ یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے۔

ہندو آج سے نہیں بلکہ سالہا سال سے غیر مذاہب سے متعصب چلا آرہا ہے خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ تو اس کا تعصب عروج پرہے۔ ہندوستان کے سیاستدانوں نے وہاں کے مسلمانوں کو ہمیشہ اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا اور مسلمانوں کو ہمیشہ نقصان پہنچایا۔ چنانچہ پہلے کانگریس نے سیکولر ازم کا نعرہ لگایا اور مسلمانوں کی ترقی کی قسمیں کھائیں۔ کبھی پنڈت نہرو پروہاں کے مسلمانوں کوفدا کیا گیا اور کبھی اندرا گاندھی کے ہاتھوں پر وہاں کے مسلمانوں کو بیعت کرنے پر مجبور کیا گیا۔ گجرات ہندو توا کی تجربہ گاہ کیسے بنا؟ اسے تجربہ گاہ میں راتوں رات نہیں ڈھالا گیا۔ سنگھ اور اس کے ہمدردوں نے آزادی کے فوراً بعد ہی گجرات کی فضاؤں میںنفرت کا زہر گھولنا شروع کر دیا تھا۔ کانگریس نے بھی گجرات کے آہستہ آہستہ خراب ہونے والے ماحول کا فائدہ اٹھایا اور انتخابات میں کامیابی کیلئے گجراتی معاشرے کو تقسیم کرنا شروع کر دیا۔

اندراگاندھی کے دور میں اور ہندوستان میں فرقہ ورانہ فسادات کی لہر چلی، بی جے پی اور آر ایس ایس تو فسادات کرواتی تھیں جبکہ دوسری طرف کانگریس پارٹی سیکولر ازم کا گن گاتی تھی۔ علی گڑھ، حیدرآباد غرض جہاں بھی فساد ہوتا تو مسلمانوں کی نعشیں انکی ہی زرعی زمینوں میں دبائی گئیں اورکچھ کی نعشیں نہروں میں بہا دی گئیں۔ اس کے باوجود انجہانی اندرا گاندھی یہی راگ الاپتی رہی کہ مسلمان بہت زیادتی کر رہے ہیں۔ آل انڈیا کانگریس کے دور اقتدار میں ہندوستانی مسلمانوں کو سیکولرزم کی یقین دہانیاں تو ضرور ملیں مگر اس کے بدلے ان کی جائیدادیں بھی گئیں اور اس کے ساتھ وہ فسادات کے دوران پولیس کے مظالم کا شکار بھی ہوئے۔

بھارتی مسلمانوںنے عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کے مطابق تمام مسلمان بے گناہ تھے۔ بھارت معروف تجزیہ نگاروں ، دانشورں اور مبصرین نے بھی عدالتی فیصلے کو غیر شفاف قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق انصاف کے تقاضے پورے نہیںکئے گئے۔ اس فیصلے کا اصل فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ گودھرا کے مسلمانوں کی ہندوؤں سے کوئی دشمنی نہ تھی۔ لگتا ہے سچائی سامنے نہیں آئی۔حقیقت یہ ہے کہ بھارتی سرکار اور بھارتی عدالتیں متعصب ہندوؤں کے ہاتھوں یرغمال ہو چکی ہیں ۔ ممبئی کیس ہو ، گودھرا کیس ہو یا کشمیر کی کوئی عدالت، ہر کیس کا مجرم صرف مسلمان ہی کیوں ٹھہرایا جاتا ہے ہر کیس کا فیصلہ صرف مسلمانوں کے خلاف ہی کیوں آتا ہے؟ کیا ہندو جرم نہیںکرتے؟


ای پیپر